Print this page

مولانا شاہ محمد اسمعیل شہید رحمہ اللہ کی تحریکی سرگرمیاں

Written by 30 Oct,2016

مولانا شاہ محمد اسمعیل شہید دہلوی رحمہ اللہ
برصغیر پاک وہند میں دین اسلام کی نشرواشاعت میں حضرت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (م 1176ھ/1762ء) اور ان کے صاحبزادگان عالی مقام حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (م 1239ھ/ 1822ء) حضرت شاہ رفیع الدین محدث دہلوی (م1233ھ/1818ء) حضرت شاہ عبد القادر دہلوی ( م 1230ھ/1815ء) حضرت عبد الغنی محدث دہلوی (1227ھ/1812ء) اور پوتے شاہ محمد اسمعیل بن شاہ عبد الٰہی دہلوی (1246ھ/1831ء) کی خدمات قدر کے قابل ہیں حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کا خاندان ’’ خاندان ولی الٰہی دہلوی‘‘ کے نام سے موسوم ہوا اس خاندان کا ہر فرد آسمان علم پر آفتاب وماہتاب بن کر چمکا۔
شاہ ولی اللہ دہلوی :
حضرت شاہ ولی اللہ بن حضرت شاہ عبد الرحیم دہلوی مفسر بھی تھے اور محدث بھی ، فقیہ بھی اور مجتہد بھی ، معلم بھی اور متکلم بھی، مؤرخ بھی اور محقق بھی ، عربی اور فارسی کے بلند پایہ مصنف تھے ان کا شمار برصغیر کے نامور اساتذہ اور مدرسین میں ہوتا تھا ان کے علم وفضل کا اعتراف حضرت مولانا سید نواب صدیق حسن خان ( م1307ھ) نے درج ذیل الفاظ میں کیا ہے ۔
’’انصاف ایں است کہ اگر وجود اور در صدر اول وزمانہ ماضی می بود امام الائمہ وتاج المجتہدین شمردہ می شد۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ ان کا وجود گرامی اگر دور اول اور زمانہ ماضی میں ہوتا تو ان کا شمار امام الائمہ اور سر برآوردہ مجتہدین کی جماعت میں کیا جاتا۔‘‘ ( اتحاف النبلاء ص 430)
علامہ سید سلیمان ندوی فرماتے ہیں ’’ شاہ صاحب (ولی اللہ) کا وجود اس عہد میں ہند کے لیے عطیہ کبری تھا۔(مقالات سلیمان 2/44)
امام العصر مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی لکھتے ہیں ’’ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی بلا نزاع 12 ویں صدی کے مجدد ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن فہمی میں ان کو خاص ملکہ عطا کیا تھا آپ کی تصانیف سے ہندوستان کی علمی دنیا میں ایک عظیم انقلاب پیدا ہوگیا۔ (تاریخ اہلحدیث ص 406)
مولانا شبلی نعمانی لکھتے ہیں کہ’’خیر زمانہ میں جب کہ اسلام کا نفس باز پسین تھا شاہ ولی اللہ جیسا شخص پیدا ہوا جس کی نکتہ چینیوں کے آگے غزالی،رازی،ابن رشد کے کارنامے بھی ماند پڑگئے۔‘‘ ( علم الکلام ص 109)
ولادت 1114ھ/1703ء وفات 1176ھ/1762ء
شاہ عبد العزیز دہلوی :
شاہ عبد العزیز علوم متداولہ اور غیر متداولہ اور فنون عقلیہ ونقلیہ میں کامل دستگاہ رکھتے تھے علم تفسیر،حدیث، فقہ، سیرت اور تاریخ میں شہرہ آفاق تھے میدان علم وفضل کے شہسوار تھے بڑے زندہ دل اور حاضر جواب تھے۔ (تاریخ اہلحدیث ص 409 ۔ رود کوثر ص 589)
ولادت 1159ھ/1745ء
وفات 1239ھ/1822ء
شاہ رفیع الدین دہلوی :
حضرت شاہ رفیع الدین کا علمی تبحر اور فضل وکمال ہر گوشہ علم میں قابل توصیف ہے جامع الکمالات تھے علم ربانی میں ان کو خاص ورک حاصل تھا عبادت وریاضت میں بلند مقام کے حامل تھے بڑے سنجیدہ، ذہین وفطین، رحم دل، انصاف پسند راست باز، حلیم وبردبار اور جودوسخا کی صفات سے متصف تھے ۔ ( شاہ عبد العزیز اور ان کی علمی خدمات ص 144) 
ولادت : 1163ھ / 1749ء
وفات : 1233ھ / 1818ء
شاہ عبد القادر دہلوی:
حضرت شاہ عبد القادر فاضل اجل، عالم کامل ، محدث، مفسر، فقیہ، واعظ، متقی وپرہیزگار، منکسر المزاج اور خلق وتواضع میں بے مثل تھے ان کی کرامات او روحانی جذبات کا چرچا زبان زد خاص تھا۔(شاہ عبد العزیز اور ان کی علمی خدمات ، ص153)
ولادت : 1167ھ/1753ء
وفات : 1230ھ / 1815ء
شاہ عبد الغنی دہلوی : 
شاہ عبد الغنی حدیث وتفسیر کے علم میں یکتائے روزگار تھے علمی کمالات میں آپ ایسے تھے کہ ان کی نظیر ملنی مشکل ہے دنیا اور اہل دنیا کی زیب زینت سے دور رہے۔ (تراجم علمائے حدیث ہند ص 63 ۔ شاہ عبد العزیز اور ان کے علمی کارنامے ص 158)
ولادت : 1170ھ / 1756ء
وفات : 1227ھ / 1812ء
خاندان ولی الٰہی دہلوی :
مولانا سید نواب صدیق حسن خان حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے صاحبزادگان عالی مقام کے بارے میں فرماتے ہیں : 
وكلهم كانوا علماء نجباء حكماء فقهاء كأسلافهم وأعمامهم كيف وهم من بيت العلم الشريف والنسب الفاروقي المنيف( ابجد العلوم ص 914)
اور اس خاندان کاہر فرد اپنے اسلاف اور اعمام کی طرح عالم دین صاحب مرتبت حکیم وفقیہ تھا کیوں نہ ہوتا یہ حضرات علم وعمل میں یکتائے زمانہ ہونے کے ساتھ نسب عالی فاروقی کے بھی تو حامل تھے۔
حضرت نواب صاحب اپنی دوسری کتاب ’’اتحاف النبلاء‘‘ میں لکھتے ہیں :
ہر یکے از ایشاں بے نظیر وقت وفرید ودہر وحید عصر درعلم وعمل وعقل وفہم وقوت تقریر وفصاحتِ تحریر ور ع وتقوی ودیانت وامانت ومراتب ولایت ۔۔۔۔ ایں سلسلہ از طلائے ناب است۔
یعنی اس خاندان کا ہر فرد علم وعمل،عقل وفہم، زورِ تقریر،فصاحتِ تحریر ورع وتقوی، دیانت وامانت اور مراتب ولایت میں یگانہ روزگار، فرید دہر اور وحید عصر تھا ان کی اولاد کی اولاد بھی انہی بلند درجات بلند پر فائز تھی۔ (اتحاف النبلاء ص 430)
مولانا سید ابو الحسن علی ندوی فرماتے ہیں کہ
اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے فرزند وجانشین عطافرمائے جو ’’ نعم الخلف لنعم التلف‘‘ کے صحیح مصداق ہیں اور جنہوں نے حضرت شاہ صاحب کے جلائے ہوئے چراغ کو نہ صرف روشن رکھا بلکہ اس سے سینکڑوں چراغ جلائے پہر ان دونوں چراغوں سے وہ چراغ جلتے رہے جن سے اس پورے براعظم(ہندوستان) اور ہندوستان سے باہر بھی کتاب وسنت،عقائد حقہ، اشاعت توحید خالص، رد شرک وبدعت، اصلاح رسوم، تزکیہ نفس، حصول درحہ احسانی، اعلائے کلمۃ الحق، جہاد فی سبیل اللہ ، حمیت دینی ، تاسیس مدارس دینیہ ، دین کی صحیح تعلیمات کی ترجمانی وتبلیغ کے لیے تصنیف وتالیف اور تراجم قرآن وکتب حدیث وفقہ کا مبارک سلسلہ اس وقت سے لے کر اس وقت تک جاری رہا۔ ( تاریخ دعوت وعزیمت 5/343)
مولانا شاہ محمد اسمعیل شہید دہلوی :
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ(البقرۃ :154)
’’اور اللہ کی راہ کے شہیدوں کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں سمجھتے۔‘‘
شہداءکومردہ نہ کہنا ان کے اعزاز اور تکریم کے لئے ہے، یہ زندگی برزخ کی زندگی ہے جس کو ہم سمجھنے سے قاصر ہیں یہ زندگی اعلٰے قدر مراتب انبیاء و مومنین، حتیٰ کہ کفار کو بھی حاصل ہے۔ شہید کی روح اور بعض روایات میں مومن کی روح بھی ایک پرندے کی طرح جنت میں جہاں چاہتی ہیں پھرتی ہیں۔(ابن کثیر، احسن البیان ص 62)
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ (آل عمران : 169)
’’جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو ہرگز مردہ نہ سمجھیں، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس روزیاں دیئے جاتے ہیں ‘‘۔
شہداء کی زندگی حقیقی ہے یا مجازی، یقینا حقیقی ہے لیکن اس کا شعور اہل دنیا کو نہیںپھر اس زندگی کا مطلب کیا ہے؟ بعض کہتے ہیں کہ قبروں میں ان کی روحیں لوٹا دی جاتی ہیں اور وہاں اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ جنت کے پھلوں کی خوشبوئیں انہیں آتی ہیں جن سے ان کے مشام جان معطر رہتے ہیں لیکن حدیث سے ایک تیسری شکل معلوم ہوتی ہے اس لئے وہی صحیح، وہ یہ کہ ان کی روحیں سبز پرندوں کے جوف یا سینوں میں داخل کر دی جاتی ہیں اور وہ جنت میں کھاتی پھرتی اور اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتی ہیں (فتح القدیر بحوالہ صحیح مسلم کتاب الامارۃ)(احسن البیان ص188)
جہاں تک مولانا شاہ محمد اسمعیل دہلوی کا تعلق ہے وہ ان اولو العزم، عالی ہمت،ذکی،جری اور غیر معمولی افراد میں تھے جو صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں وہ مجتہدانہ دماغ کے مالک تھے اور اس میں ذرہ بھی مبالغہ نہیں کہ ان میں بہت سے علوم کو از سر نو مدون کرنے کی قدرت تھی مولانا شاہ اسمعیل شہید خدائی خدمت گار تھے وہ خدا کی زمین پر خداکی بادشاہت قائم کرکے دنیا میں عدل وانصاف ، حق وصداقت اور اس کی حکومت کا قیام چاہتے تھے لیکن ان کی چلائی ہوئی تحریک کامیابی کے مراحل طے نہ کر سکی۔
اللہ تعالیٰ نے ان کو زبان اور قلم کی تمام خوبیوں سے سرفراز کیا تھا آپ ایک عالم باعمل، مفسر،محدث،فقیہ، مجتہد، مصنف، مدرس، خطیب مبلغ، واعظ، مقرر، مجاہد اور عابد وزاہد تھے ان کا شمار ائمہ دین اور بلند پایہ محدثین میں ہوتاہے آپ نسباً فاروقی تھے ان میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بہت سی صفات موجود تھیں بہت زیادہ ذہین وفطین تھے اللہ تعالیٰ نے ان کوذہانت وذکاوت میں اعلیٰ وارفع بنایا تھا اور ان کی ذہانت وذکاوت کا شہرہ تمام شہر(دہلی) میں تھا۔ (آثار الصنادید)
ولادت وتعلیم :
شاہ محمد اسمعیل شہید 1193ھ/1779ء کو پیدا ہوئے۔6 سال کی عمر میں ان کے والد محترم حضرت شاہ عبد الغنی دہلوی نے ایک بزرگ معلم کے پاس قرآن مجید پڑھانے کے لیے بٹھادیا ۔ 8 سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی علوم عالیہ وآلیہ کی تحصیل اپنے والد محترم حضرت شاہ عبد الغنی دہلوی اپنے تایا شاہ عبد القادر دہلوی اور بڑے تایا حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی سے حاصل کی۔
فراغت تعلیم کے بعد :
فراغت تعلیم کے بعد درس وتدریس میں مشغول ہوئے لیکن آپ نے درس وتدریس کا مشغلہ زیادہ عرصہ جاری نہ رکھا بلکہ وعظ وتبلیغ کی طرف زیادہ توجہ کی آپ بہت بڑے خطیب ومبلغ تھے خطابت میں بے مثال تھے اور خطابت میں مرتبہ ومقام بہت بلند تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ مرتبہ عطا فرمایا تھا کہ لوگ ان کا وعظ بڑے ذوق وشوق سے سنتے تھے اور ان کا وعظ بہت پُر تأثیر ہوتا تھا اسی دوران ( جب کہ حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی ابھی حیات تھے) کہ امیر المؤمنین حضرت سید احمدبریلوی نے تحریک جہاد کاآغاز کیا تو مولانا محمد اسمعیل اور مولانا عبد الحی بڈھانوی دونوں نے مسند تدریس چھوڑی اور صفِ جہاد میں کھڑے ہوگئے اور آزادی وغلبۂ اسلام کے لیے اپنی جان جان آفرین کو سونپ دی۔
حاصل عمر نثار سریارے کردم
شادم از زندگی خویش کہ کارے کردم
(ہندوستان میں اہلحدیث کی علمی خدمات ص 111۔112)
منکرات کا انسداد اور بدعات ومحدثات کی تردید:
مولانا شاہ محمد اسمعیل دہلوی نے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے جامع مسجد دہلی میں وعظ وتبلیغ کا سلسلہ شروع کیا اور شریعت محمدی کے احکام سنانے کے لیے اپنی مخصوص وشہرہ آفاق جرأت وشجاعت سے شرک وبدعت اور محدثات کا رد کیا اور توحید وسنت کی منادی کی دوسری طرف آپ نے اپنے گھر میں بھی توحید الٰہی اور سنت نبوی ﷺ کا غلغلہ بڑ ے زور وشور سے بلند کیا اس لیے ان کے گھر میں کچھ ایسی رسومات جاری تھیں جن کی شریعت محمدیہ میں اجازت نہ تھی مثلاً بیوہ عورت کا نکاح ثانی غیر مروج تھا چنانچہ آپ نے بیوہ کے نکاح ثانی کی ترویج کا دوبارہ اجراء فرمایا۔ ( کاروانِ ایمان وعزیمت ص 22)
حضرت سید احمد رائے بریلوی سے بیعت:
1234ھ/1818ء میں حضرت سید احمد رحمہ اللہ دہلوی تشریف لائے حضرت سید احمد اسلامی فقہ کے متعلق خاص علم رکھتے تھے آپ ایک باکردار، مخلص ،متقی وپرہیزگار اور صاحبِ علم وفضل تھے حضرت سید احمد کے حلقہ ارادت میں سب سے پہلے مولانا محمد یوسف پھلتی نے بیعت کی(مولانا محمدیوسف رحمہ اللہ حضرت شاہ ولی اللہ کے برادراکبر شاہ اہل اللہ کے پوتے تھے، بڑے زاہد،متوکل اور منکسر المزاج تھے حضرت سید صاحب کے منظور نظر تھے اور سید صاحب نے تمام انتظامی امور ان کو سونپ رکھے تھے جنگ شیدومیں بیمار ہوگئے آخر اللہ تعالیٰ نے ان کو پاس بلا لیا قاضی احمد اللہ نے تجہیز وتکفین کا بندوبست کیا حضرت سید صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی اور ان کو سپرد خاک کر دیاگیا) ان کے بعد حضرت مولانا عبد الحی (م1243ھ/1828ھ) اور مولانا محمد اسمعیل دہلوی نے حضرت سید صاحب کی بیعت کی۔
دعوتِ جہاد :
حضرت شاہ محمد اسمعیل جب حضرت سید احمد کی معیت میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد ہندوستان واپس تشریف لائے تو ان کے فرمان کے مطابق جہاد کے لیے دعوت وتنظیم میں ہمہ تن مصروف ہوگئے مولانا عبد الحی بڑہانوی بھی آپ کے ساتھی تھے۔
مولانا عبید اللہ سندھی لکھتے ہیں کہ ’’مولانا محمد اسمعیل دہلوی گلی کوچوں میں اور مولانا عبد الحی بڑہانوی مسجدوں میں وعظ وارشاد فرمایا کرتے تھے۔‘‘(شاہ ولی اللہ اور اُن کی سیاسی تحریک ص 64)
جب حضرت سید احمد نے سکھوں سے جنگ کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا تو شاہ محمد اسمعیل سے تمام جنگوں میں حضرت سید صاحب کے رفیق کار اور مشیر تھے جنگ اکوڑہ،جنگ شیدو، جنگ پنج تار، جنگ زیدہ اور جنگ بالا کوٹ میں شامل تھے۔
شہادت :
آخر بالاکوٹ میں سکھوں سے شدید جنگ ہوئی اس جنگ میں حضرت امیر المؤمنین سید احمد شہید اور آپ شہادت سے سرفراز ہوئے۔
تاریخ شہادت : 24 ذی قعدہ 1246ھ/ 5 مئی 1831ء
بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کندایں عاشقانِ پاک طینت را

Read 172 times
Rate this item
(0 votes)
عبدالرشید عراقی

Latest from عبدالرشید عراقی