Print this page

سچ ہی در اصل نیکی ہے

Written by الشیخ ضیاء الرحمن مکی 12 Aug,2018

سچ ہی در اصل نیکی ہے۔

دین دراصل اخلاق حسنہ سے موسوم ہے نبی کریم ﷺ نے ہمیں ہر اچھے اخلاق کی نشاندہی فرمادی اور ہر برے اخلاق سے خبردار کردیا تو اچھا اخلاق کیا ہے ؟ اخلاق حسنہ دراصل نیکیوں کو کہا جاتاہے جبکہ برا اخلاق گناہوں کو کہا جاتاہے اور نیکیاں یا تو حقوق اللہ سے متعلق ہیں یا پھر حقوق العباد سے متعلق ۔ جب ہم نبی کریمﷺ کی احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک نیکی ایسی ہے اگر اس پر عمل کریں تو باقی تمام نیکیوں پر عمل کرنا آسان ہوجاتاہے اور ایک برائی ایسی ہے کہ جس کو ترک کر دیا جائے تو سارے ہی گناہ چھوڑےجاسکتے ہیں وہ نیکی سچ بولنا ہے اور وہ برائی جھوٹ بولنا ہے۔ نبی کریم ﷺ ہر خطبہ میں یہ آیت تلاوت فرمایا کرتے تھے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَيَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا (الاحزاب70۔71) ’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناہ معاف فرما دے اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺکی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی۔‘‘ سچ بولنے سے تمہارے تمام معاملات سنور جائیں گے خواہ ان کا تعلق حقوق اللہ سے ہو یا حقوق العباد سے ۔اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺکی فرمانبرداری کرتا ہے فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا دراصل کامیابی اسی کے قدم چومتی ہےاور کامیابی بھی کوئی چھوٹی اور معمولی نہیںبلکہ عظیم کامیابی ہے ۔ بطور مثال ہم حقوق اللہ کو لے لیں تو سب سے بڑی نیکی توحید کا دامن تھامنا جبکہ سب سے بڑی برائی توحید کے دامن سے بیزارہوکر شرک کی دلدل میں اپنے آپ کو لت پت کر لیناجو کہ سب سے بڑا ظلم ہے۔ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (لقمان13) ظلم تو بہت ہوتے ہیں مگر شرک سے بڑا ظلم اور زیادتی کوئی نہیںتوحید کہتے ہی سچے معبود کی عبادت کو ہیں جبکہ شرک جھوٹے معبودوں کی عبادت ہے۔ لاالہ میں تمام جھوٹ کی نفی کر دی گئی اور الا اللہ میں سچ کا اثبات کیاگیا ہے۔ توحید کی بنیاد میں آپ کو ہمیشہ سچ نظر آئے گا اور شرک کی بنیاد میں جھوٹ نظر آئے گا اور توحید میں بنیادی بات اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص ہونا ہے ۔اخلاص سے مراد دل کا سچے طریقے سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہونا ۔اخلاص کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کس قدر قیمت ہے کہ جب سچائی ہو تو ’’الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ (صحيح البخاري:7492)کا انعام ملتاہے ۔ جب سچے دل سے روزہ رکھا جائے تو اس کا صلہ میں ہی ہوں اس سے اندازہ لگائیں کہ سچ کی کس قدر اہمیت ہے ۔جہاں تک صدق کا تعلق حقوق العباد سے ہےتو جھوٹے تعلق کو بدکاری جبکہ سچے تعلق کو نکاح کہا جاتاہے۔ نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث کے مطابق شرم گاہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے صدقہ رکھا ہے، صحابہ نے تعجب کیا کہ ایک شخص اپنی شہوت پوری کرتا ہے تو اللہ نے اس کے لیے بھی اجر رکھا ہے ؟ فرمایا کہ اگر یہی کام وہ حرام طریقہ سے کرتا ہے تو کیا اس میں گناہ نہیںہے ؟ جس طرح بدکاری کرنے میں گناہ ہے اسی طرح میاں بیوی کے حقوق ادا کرنے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے۔ جھوٹی ملکیت خواہ چوری،ڈاکہ ، دھوکہ کی صورت میں ہو خواہ مدرسے کا مال ناجائز استعمال کرنا ہو ، خواہ وہ مسجد کے مال میں خیانت ہو یا ملک وقوم کے مال میں خیانت کی شکل میں ہو یا قومی وسائل کے استعمال میں ہو یا مذہبی نام سے مال جمع کرکے الیکشن میں حصہ لینا ہو جس میں عوام سے زیادہ ذاتی مفاد وابستہ ہو ان سب کی بنیاد میں آپ کو جھوٹ نظر آئے گاجو مالوں میں خيانت کرتا ہے روزِ قیامت وہ اس مال کو سروں پر لادے ہوئے آئے گا تو جھوٹی ملکیت کسی قسم کی ہی کیوں نہ ہو؟ اور اگر حلال ہے تو یہ آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔ غریب صحابہ نبی کریم ﷺ کے پاس آتے ہیں کہتے ہیں کہ ’’ جن کے پاس مال ہے وہ تو اجر کے حصول میں سبقت اور بازی لے گئےتو حلال مال تو یہ کمال عطا کرتاہے۔الغرض چھوٹی سے چھوٹی یا بڑی سے بڑی نیکی کو لے لیں اس میں آپ کو سچائی دکھائی دے گی اور اس کے برعکس بدی کو لے لیں اس میں جھوٹ ہی جھوٹ دکھائی دے گانبی کریم ﷺ کی پیروی حقیقت میں سچ کی پیروی ہے جبکہ اس کے علاوہ سب جھوٹ ہے۔ شَرَّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا (صحيح مسلم:867)سفید جھوٹ ہے ، جس کا ثبوت نہ کتاب اللہ میں اور نہ سنت رسول اللہ میں ملتا ہو جسے شریعت میں بدعت سے موسوم کیا جاتاہے جس کی کوئی اصل وبنیاد نہیں۔ سچ اللہ کی جانب سے ہے اس کے علاوہ سب باطل کہ جس کی بنیاد ہی نہیں ہے تو ہر نیکی کی بنیاد میں سچ اور برائی کی بنیاد میں جھوٹ نظر آئے گا ۔ نبی کریم کا فرمان ہے : سچائی کو لازم پکڑو، سچائی سے نیکیاں کھلتی ہیں  اور نیکی آپ کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں لے جائے گی۔ جو انسان سچ بولتا ہے، سچ پر جما رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں اسے صدیق لکھ دیا جاتاہے ، اور فرمایا ’ لوگو! جھوٹ سے بچو، جھوٹ گناہوں کی طرف لے جاتاہے ، جھوٹ سے برائیاں جنم لیتی ہیں اور گناہ جہنم میں لے جاتے ہیں۔‘‘اور فرمایا ’’بندہ جھوٹ بولتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں اسے جھوٹوں میں لکھ دیا جاتاہے ‘‘۔ صدق وسچائی کو آپ معمولی بات نہ سمجھیں ، اللہ کی قسم! راہ شہادت سے مشکل ہے راہ صداقت۔ راہ شہادت سے اعلیٰ درجہ راہ صداقت کا ہے۔ سیدناعمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے ، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے لیکن مقام ومرتبہ کے اعتبار سے سیدنا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ کو فوقیت وافضلیت حاصل ہے کیونکہ وہ صدیق تھے۔اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ مرتبہ نبیوں کا رکھا پھر صدیقین کا پھر شہداء کا اور کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِکَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِيقًا (النساء: 69) ’’اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور رسول کی فرمانبرداری کرے، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ، یہ بہترین رفیق ہیں ۔‘‘ مزید ارشاد فرمایا : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ حَدِيثًا (النساء: 87) ’’اللہ کی بات سے سچی بات کس کی ہوسکتی ہے؟‘‘۔ یہ سچ بولنا باری تعالیٰ کی صفات میں سے ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے تو نبوت سے قبل بھی کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ سچ صرف بولنے کا نام نہیں ہے ۔ بولنے کے ساتھ عمل کا بھی نام ہے۔سچوں کا ساتھ دینے کا نام ہے، سچ پر صبر کا نام ہے۔ گواہی اللہ کے لیے ہونی چاہیے۔ بھلے وہ گواہی آپ کے اپنے ہی خلاف ہی کیوں نہ ہو؟ یا آپ کے والدین کے خلاف ہو اور چاہے آپ کے قرابتداروں کے خلاف ہو۔ نہ کسی امیر کی امارت سے مرعوب ہونا چاہیے نہ کسی غریب کی غربت پر ترس آنا چاہیے۔ اس کی امارت اور اس کی غربت کو اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ کسی قوم کی دشمنی آپ کو راہ عدل سے نہ ہٹا دے۔ ہمارے ہاں پنجابی پنجابیوں کے ساتھ ، اردو بولنے والے اردو والوں کے ساتھ ، فوجی فوجی کے ساتھ، وکیل وکیل کے ساتھ، اساتذہ اساتذہ کے ساتھ ہمارے ہاں تو یہ معیار ہے۔علی الاعلان سورج کی روشنی میں مساجد ومدارس پہ قبضہ کیا جاتاہے ، سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود حق کا ساتھ نہیں دیا جاتا۔جبکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ (التوبة: 119) اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جدھر سچ دیکھو اس طرف ہوجاؤ۔ سیدنا ابو بکر کی زندگی اسی مقصد پر رہی ہے۔ نبی کریم ﷺ پہلے دن نبوت کا اعلان کرتے ہیں ، سیدنا ابو بکر پہلے دن ہی اقرار کرلیتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تو کئی سالوں بعد ایمان لاتے ہیں۔ حدیبیہ میں سیدنا عمر کی طرف سے اعتراض ہوتاہے کہ اے نبی کریم ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں لیکن سیدنا ابو بکر کی طرف سے اعتراض نہیں آتا ، وہ سیدنا عمر کو سمجھا رہے ہوتے ہیں کہ دیکھو فیصلہ کس کا ہے ؟ بناچوں چراں نبی کریم ﷺ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

واقعہ افک میں بیٹی پوچھتی ہے کہ بابا! آپ جواب دیجیے ، وہاں پر بھی سیدنا ابو بکر کہتے ہیں اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے ، منکرین زکوۃ کا فتنہ، جیش اسامہ سب لوگ کہتے ہیں کہ لشکر بھیجنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، وہ کہتے ہیں کہ جس لشکر کو اللہ کے نبی ﷺنے روانہ کیا میں اسے نہیں روک سکتا۔ یہ جو ہم تنزلی کا شکار ہیں یہ ہم راہ صداقت سے ہٹ گئے ہیں ، لوگ سمجھتے ہیں ذہین ہونے سے دنیا کی ترقی ملتی ہے، سمجھتے ہیں دولت آجانے سے دنیا آجاتی ہے۔

ترقی اگر ہوتی ہے تو اخلاقی اقدار سے ہوتی ہے ، اگر اخلاقی اقدار کو اپنایا جائے تو ترقی ہوتی ہے ، جب اخلاق اقدار کو نظر انداز کر دیا جائے تو دنیا بھی برباد ہوجاتی ہے اور آخرت میں تو فیصلہ ہونا ہی اسی بنیاد پر ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے: قَالَ اللَّهُ هَذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُهُمْ (المائدة : 119) یہ وہ دن ہے جس دن سچوں کو ان کی سچائی نفع دے گی۔ سب سے پہلے جنہیں جہنم میں ڈالا جائے گا وہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے ساری زندگی جھوٹ پر بسر کی ہوگی ، جھوٹ بول کر مال ودولت جمع کیا ہوگا ، جھوٹ سے عزت،شہرت، منصب ، عہدہ اور کرسی حاصل کی ہوگی اور اس قدر جھوٹے ہوچکے ہوں گے کہ جب باری تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں گے وہاں پر بھی جھوٹ بول رہے ہوں گے۔ کہیں گے باری تعالیٰ ہم نے ساری عمر قرآن پڑھنے اور پڑھانے میں گزاری ہے، ساری عمر جہاد میں گزاری ہے ، ساری عمر روتےہوئے گزاری ہے فیصلہ ہوگا ’’کَذَبْتَ ‘‘ تم جھوٹ بولتے ہو، اور منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

ڈرئیے اس دن سے جب یہ کہا جائے گا ’’کَذَبْتَ‘‘ آپ نے جھوٹ بولا ہے ، بڑے خوش نصیب اور خوش بخت ہوں گے وہ لوگ جن سے کہا جائے گا کہ آپ سچ بول رہے ہیں۔سچائی میں اللہ تعالیٰ نے اطمینان رکھا ہے اور جھوٹ میں پریشانی رکھی ہے ۔ سچائی ہی نجات دیتی ہے جبکہ جھوٹ سے ناکامی ہوتی ہے۔

دنیا وآخرت دونوں میں اور جھوٹ ہلاکت کر دیتاہے برباد کر دیتاہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچ بولنے اور سچ سننے کی طاقت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

Read 363 times
Rate this item
(0 votes)

Related items