Print this page

آب زمزم کی اہمیت و فضیلت

Written by محمد سلیمان جمالی 09 Sep,2018

آب زم زم سبھی پانیوں کا سردار ہے اور سب سے زیادہ شرف وقدر کا بھی حامل ہے ۔پانی خواہ کسی بھی نوع کا ہو وہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ اللہ تعالی کی ان عظیم نعمتوں میں سے ہےجس سے تمام جاندار سیراب ہوتے ہیں اور ان کی حیات بھی اسی پر موقوف ہے لیکن آب زم زم کی شان کچھ الگ ہی ہے کیونکہ اس سے نہ صرف یہ کہ پیاس بجھایا جاتا ہے بلکہ بے شمار بیماریوں سے شفا یابی بھی ہوتی اور بطورِ غذا بھی استعمال ہوا ہے۔

قارئین کرام ! زمزم اللہ تعالی کی طرف سے اپنے پیارے نبی اسماعیل علیہ السلام کے لیے نکالا ہوا بابرکت پانی ہے ۔

اس پانی میں کتنی رحمتیں اور برکتیں پوشیدہ ہیںآئیے احادیث و آثار میں اس کا کس انداز میں ذکر آیا ہے مختصراً ملاحظہ فرمائیں ۔

bآبِ زم زم کی فضیلت

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوع روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :

خَيْرُ مَاءٍ عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ مَاءُ زَمْزَمَ

روئے زمین پر بہترین پانی آبِ زم زم ہے ۔(سلسلة الاحاديث الصحيحة : 1056)

bآبِ زم زم کی افادیت

سیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :

مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ

جس نیک مقصد کے لیے آب زم زم پیا جائے وہ مقصد پورا ہو جاتا ہے ۔ (سنن ابن ماجة : 3062)

b ابن مبارک کے جذبات

سوید بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں نے جناب عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کو دیکھا ، آپ زمزم کے کنویں پر آئے اور برتن بھر کر قبلہ رخ ہوئے پھر فرمايا : 

اے اللہ ! بیشک رسول اللہ نے فرمایا :

مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ وَهُوَ ذَا أَشْرَبُ هَذَا لِعَطَشِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ .

زمزم کا پانی جس نیک مقصد کے لیے پیا جائے وہ پورا ہو جاتا ہے اور میں اس مقصد کے لیے پی رہا ہوں کے قیامت کے دن کی پیاس سے محفوظ رہوں ۔(شعب الايمان : 3833)

b ایک دلچسپ واقعہ

امام حمیدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سفیان بن عیینہ کی خدمت میں حاضر تھے ۔ انہوں نے ہم سے زمزم کی فضیلت میں یہ حدیث بیان کی کہ :

مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ

جس نیک مقصد کے لیے آب زم زم پیا جائے وہ مقصد پورا ہو جاتا ہے ۔ یہ حدیث سن کر مجلس میں سے ایک آدمی

اٹھ کر گیا اور تھوڑی دیر بعد واپس آیا اور عرض کیا :

يا أبا محمد ! اليس الحديث بصحيح الذي حدثنا به في زمزم أنه لما شرب له

اے ابو محمد ! آپ نے جو حدیث بیان کی کہ زمزم کے پانی کو جس مقصد سے پیا جائے وہ مقصد پورا ہو جاتا ہے ، کیا یہ حدیث صحیح نہیں ہے ؟

سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے فرمایا : ہاں ! یہ حدیث صحیح ہے ۔ اس نے کہا :

إني قد شربت الآن دلوا من زمزم علي أن تحدثني بمأة حديث .

ابھی میں نے زمزم کا ایک ڈول پیا ہے اور دل میں نیت یہ رکھی کہ آپ مجھے سو حدیثیں سنائیں گے ۔ ( لیکن میرا مقصد تو پورا نہیں ہوا۔ )

سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے کہا : بیٹھو میں تمہاری مراد پوری کرتا ہوں ، چنانچہ آپ نے اسی وقت ایک سو حدیثیں بیان کر دیں اور وہ آدمی خوش ہوکر روانہ ہوا ۔

(الاذکیاء لابن جوزی ص / 138)

b آبِ زم زم میں شفا ہے

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوع روایت ہےکہ

خَيْرُ مَاءٍ عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ مَاءُ زَمْزَمَ فِيهِ طَعَامٌ مِنَ الطُّعْمِ وَشِفَاءٌ مِنَ السُّقْمِ

روئے زمین پر بہترین پانی آبِ زم زم ہے، اس میں كھانے كی قوت اور بیماری سے شفا ہے۔(سلسلة الاحاديث الصحيحة : 1056)

bآبِ زم زم سے بخار کا علاج

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

إِنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوهَا بِمَاءِ زَمْزَمَ

بخار کی شدت جہنم کی گرمی کی وجہ سے ہے اسے زمزم کے پانی سے ٹھنڈا کرو ۔(مسند احمد 2649)

bامام ابن قيم رحمہ اللہ کا ذاتی تجربہ

امام ابن قيم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

وَلَقَدْ مَرَّ بِي وَقْتٌ بِمَكَّةَ سَقِمْتُ فِيهِ وَفَقَدْتُ الطَّبِيبَ وَالدَّوَاءَ، فَكُنْتُ أَتَعَالَجُ بِهَا، آخُذُ شَرْبَةً مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، وَأَقْرَؤُهَا عَلَيْهَا مِرَارًا، ثُمَّ أَشْرَبُهُ، فَوَجَدْتُ بِذَلِكَ الْبُرْءَ التَّامَّ، ثُمَّ صِرْتُ أَعْتَمِدُ ذَلِكَ عِنْدَ كَثِيرٍ مِنَ الْأَوْجَاعِ، فَأَنْتَفِعُ بِهَا غَايَةَ الانتفاع .

مجھ پر مکہ مکرمہ میں ایسا وقت بھی آیا جب میں بیمار پڑا تو نہ طبیب میسر آیا نہ کوئی دوا ، میں فاتحہ کے ساتھ اپنا علاج کرتا ۔ میں زمزم کا ایک گھونٹ لیتا اور اس پر کئی مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھتا اور اسے پی لیتا ۔ مجھے اس کے ذریعے مکمل صحت حاصل ہوئی ۔ پھر میرا یہ معمول بن گیا کہ میں بہت سارے امراض و تکالیف میں اسی (سورہ فاتحہ و زمزم) پر اعتماد کیا کرتا اور اللہ کے فضل سے مجھے غایت درجہ فائدہ حاصل ہوتا ۔(الطب النبوي لابن القيم 1/132)

bپروفیسر عبدالجبار شاکر رحمہ اللہ کا ذاتی تجربہ

عالم اسلام کی عظیم شخصیت پروفیسر عبدالجبار شاکر رحمہ اللہ اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :

مجھے اپنی جوانی کے دنوں میں فم معدہ میں شدید تیزابیت کی شکایت رہی ۔ بیس سال تک مختلف نوعیت کے معالجوں سے معدے کے اس السر کا کوئی کامیاب علاج نہ ہو سکا ۔ 1990 ء میں میرے اس السر سے خون رسنے لگا ، جس سے کمزوری اپنی آخری حدود کو چھونے لگی۔ اسی عالم میں مجھے اپنی رفیقہ حیات کے ساتھ پہلی مرتبہ 1991 ءمیں حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی میں اخلاص نیت سے زمزم کے پانی کو جس قدر پی سکتا تھا، خوب پیا ، مسنون دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور اپنے رب کریم سے شفایابی کے لیے لرزتے ہوئے ہونٹوں سے شفایابی کے لیے دعائیں مانگیں ۔ الحمد للہ کے اس روز سے آج تک پندرہ سال گذر چکے ہیں ۔ پھر کبھی اس تکلیف کا اعادہ نہیں ہوا ۔(آب زمزم غذا دوا ، طبعہ نشریات ، ص : 15)

bزم زم بحیثیت ایک غذا

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

كنا نسميها شُباعة يعني زمزم وكنا نجدها نِعْمَ العونُ على العيالِ.

ہم زم زم کو شباعہ (پیٹ بھرنے والا ) کے نام سے یاد کرتے تھے اور اہل عیال کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہ ہمارے لیے بڑا مددگار ثابت ہوتا تھا۔ (صحيح ترغيب : 1163)

bسیدنا ابوذر نے تیس دن تک زم زم پر گزارا کیا

سیدنا ابوذر بیان کرتے ہیں کہ میں جب مکہ آیا تو ایک شخص سے پوچھا : وہ شخص کہاں ہے جس کو تم صابی (بےدین ) کہتے ہو؟ اس نے میری طرف اشارہ کیا اور کہا : یہ صابی ہے ( جب تو صابی کا پوچھتا ہے ) یہ سن کر تمام وادی والوں نے ڈھیلے اور ہڈیاں لے کر مجھ پر حملہ کر دیا، یہاں تک کہ میں بیہوش ہو کر گر پڑا۔

جب میں ہوش میں آ کر اٹھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ گویا میں لال بت ہوں ( یعنی سر سے پیر تک خون سے سرخ ہوں)۔ پھر میں زمزم کے پاس آیا اور میں نے سب خون دھویا اور زمزم کا پانی پیا۔ پس اے میرے بھتیجے ! میں وہاں تیس راتیں یا تیس دن رہا اور میرے پاس سوائے زمزم کے پانی کے کوئی کھانا نہ تھا ( جب بھوک لگتی تو میں اسی کو پیتا ) ۔ پھر میں موٹا ہو گیا یہاں تک کہ میرے پیٹ کی بٹیں ( موٹاپے سے ) جھک گئیں اور میں نے اپنے کلیجہ میں بھوک کی ناتوانی نہیں پائی۔

رسول اللہ تشریف لائے، یہاں تک کہ حجراسود کو بوسہ دیا اور اپنے ساتھی کے ساتھ طواف کیا اور نماز پڑھی۔ جب نماز پڑھ چکے تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا : اول میں نے ہی سلام کی سنت ادا کی اور کہا : السلام علیکم یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : وعلیک ورحمۃ اللہ پھر پوچھا : تو کون ہے؟ میں نے کہا : قبیلہ غفار کا ایک شخص ہوں۔ آپ نے ہاتھ جھکایا اور اپنی انگلیاں پیشانی پر رکھیں ( جیسے کوئی ذکر کرتا ہے ) میں نے اپنے دل میں کہا : شاید آپ کو یہ کہنا برا معلوم ہوا کہ میں ( قبیلہ ) غفار میں سے ہوں۔ میں آپ کا ہاتھ پکڑنے کو لپکا لیکن آپ کے ساتھی ( سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے جو مجھ سے زیادہ آپ کا حال جانتے تھے مجھے روکا، پھر آپ نے سر اٹھایا اور فرمایا : تو یہاں کب آیا؟ میں نے عرض کیا : میں یہاں تیس رات یا دن سے ہوں۔ آپ نے فرمایا : تجھے کھانا کون کھلاتا ہے؟ میں نے کہا : کھانا وغیرہ کچھ نہیں سوائے زمزم کے پانی کے۔ پھر میں موٹا ہوگیا یہاں تک کہ میرے پیٹ کے بٹ مڑ گئے اور میں اپنے کلیجہ میں بھوک کی ناتوانی نہیں پاتا۔ آپ نے فرمایا :

إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ، إِنَّهَاطَعَامُ طُعْمٍ 

زمزم کا پانی برکت والا ہے اور وہ کھانا بھی ہے اور کھانے کی طرح پیٹ بھر دیتا ہے۔ (صحیح مسلم : 2473)

امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

وأخبرني أنه ربما بقي عليه أربعين يوماً وكان له قوة يجامع بها أهله ويصوم ويطوف مراراً.

مجھے ایک شخص نے خبر دی کی کبھی کبھی وہ چالیس چالیس دن تک آب زمزم پر گزارا کرتا تھا ، پھر بھی اس میں اتنی طاقت ہوتی کہ وہ بیوی سے ہم بستری کرتا ، روزے رکھتا اور کئی مرتبہ طواف کرتا ۔(زاد المعاد : 4/319)

bطواف کے بعد سر پرآبِ زم زم ڈالنا مسنون ہے

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ( رسول اللہ  نے طواف کیا )

ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى زَمْزَمَ فَشَرِبَ مِنْهَا وَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ .

پھر آپ زمزم کی طرف گئے اس سے پیا اور اپنے سر پر ڈالا ۔(مسند احمد : 15243)

bحجاج کو زم زم پلانےکیلئےصحابی کا جذبہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ :

أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِي مِنًى، مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ .

سیدناعباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ سے اجازت مانگی کہ وہ ( زمزم پر حاجیوں کو ) پانی پلانے کے لیے منیٰ کی راتیں مکہ میں گزار لیں؟ تو آپ نے انھیں اجازت دے دی ۔(صحیح مسلم : 3177)

bرسول اللہ کا زمزم کے ڈول بھرنے کی خواہش وتمنا

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ کنویں سے پانی کھینچ رہے تھے اور کام کر رہے تھے۔ آپ نے ( انہیں دیکھ کر ) فرمایا :

اعْمَلُوا فَإِنَّكُمْ عَلَى عَمَلٍ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ لَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا لَنَزَلْتُ حَتَّى أَضَعَ الْحَبْلَ عَلَى هَذِهِ يَعْنِي عَاتِقَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَشَارَ إِلَى عَاتِقِهِ .

کام کرتے جاؤ کہ ایک اچھے کام پر لگے ہوئے ہو۔ پھر فرمایا : ( اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ آئندہ لوگ ) تمہیں پریشان کر دیں گے تو میں بھی اترتا اور رسی اپنے اس پر رکھ لیتا۔ مراد آپ کی شانہ سے تھی۔ آپ نے اس کی طرف اشارہ کرکے کہا تھا۔ (صحیح بخاری : 1635)

bآبِ زم زم سے رسول اللہ کا سینہ دھویا گیا

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :

فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَرَجَ صَدْرِي، ثُمَّ غَسَلَهُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي، ثُمَّ أَطْبَقَهُ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ .

میں مکہ میں تھا تو میرے گھر کی چھت کھولی گئی، جبریل علیہ السلام اترے، میرا سینہ چاک کیا ، پھر اسے زم زم کے پانی سے دھویا، پھر سونے کاطشت لائے جو حکمت اور ایمان سے لبریز تھا، اسے میرے سینے میں انڈیل دیا، پھر اس کو جوڑ دیا ، پھر میرا ہاتھ پکڑ ا اور مجھے لے کر آسمان کی طرف بلند ہوئے يعنی معراج کے لیے لے گئے ۔(صحیح مسلم : 415)

بعض اہل علم نے سینہ کو آبِ زمزم سے دھونے کی حکمت یہ بیان کی ہے کہ ، آپ کا سینہ زمزم کے پانی سے اس لیے دھویا گیا کہ اس کے ساتھ ساتوں آسمانوں اور جنت و جہنم دیکھنے کی طاقت حاصل کر سکیں ، اس لیے کہ زمزم کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ دل کو طاقت بخشتا ہے اور خوف کو ختم کر دیتا ہے ۔

bآب زم زم لے جانا مسنون ہے

ہشام بن عروہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ

أَنَّهَا كَانَتْ تَحْمِلُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، ‏‏‏‏‏‏وَتُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْمِلُهُ .

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زمزم کا پانی ساتھ مدینہ لے جاتی تھیں، اور بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ بھی زمزم ساتھ لے جاتے تھے ۔(سنن ترمذي : 963)

bزمزم کا پانی اور منافقین

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :

إِنَّ آيَةَ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُنَافِقِينَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّهُمْ لَا يَتَضَلَّعُونَ مِنْ زَمْزَمَ .

ہمارے اور منافقوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ وہ زمزم کا پانی سیر ہوکر نہیں پیتے ۔ (سنن ابن ماجة : 3061)

bزمزم کا پانی کھڑے ہوکر پینا مستحب ہے

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے

شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا مِنْ زَمْزَمَ

نبی نے زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔(صحيح بخاري : 5617) البتہ بیٹھ کر بھی پیا جا سکتا ہے۔

bزمزم کا پانی پینے کی دعا

جناب عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جب زمزم پیتے تو فرماتے :

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا وَاسِعًا وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ

اے اللہ ! میں تجھ سے نفع دینے والے علم ، وسیع رزق  اور ہر بیماری سے شفا کا سوال کرتا ہوں ۔ (دارقطني 2738)

bزمزم کا پانی پینے کے آداب

جناب محمد بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا ، تو انہوں نے پوچھا : تم کہاں سے آئے ہو ؟ اس نے کہا : زمزم کے پاس سے ، پوچھا : تم نے اس سے پیا جیسا پینا چاہیے ؟ اس نے پوچھا : کیسے پینا چاہیے؟ کہا :

إِذَا شَرِبْتَ مِنْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَقْبِلْ الكَعْبةَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَتَنَفَّسْ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏وَتَضَلَّعْ مِنْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا فَرَغْتَ فَاحْمَدِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ (سنن ابن ماجة : 3061)

جب تم زمزم کا پانی پیو تو کعبہ کی طرف رخ کرکے کھڑے ہو اور اللہ کا نام لو ، اور تین سانس میں پیو ، اور خوب آسودہ ہوکر پیو، پھر جب فارغ ہو جاؤ تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔

bزمزم کے پانی میں کفن دھونا

برصغیر پاک و ہند کے بعض حاجی صاحبان حج کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں تو وہاں سے کفن کا کپڑا لیکر اسے زمزم کے پانی سے دھو کر آتے ہیں اور وصیت کرتے ہیں کہ ہمیں اسی کپڑے میں کفن دیا جائے ، اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس سے انکی بخشش ہوگی ، اس چیز کی کوئی شرعی اصل نہیں بلکہ یہ بھی ایک بد عقیدگی ہے ۔

زمین کے پانیوں میں علی الاطلاق سب سے افضل، اشرف اور بہترین پانی آب زمزم ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سب مسلمانوں کو اس بابرکت پانی کی قدر کرنے اور اس سے دنیا و آخرت کے منافع اور فوائد سمیٹنے کی  توفیق عطا فرمائے۔آمین

۔۔۔

Read 881 times Last modified on 09 Sep,2018
Rate this item
(0 votes)

Related items