Print this page

فحش ویب سائٹس! فرد و معاشرے پر اثرات

Written by ڈاکتر مشعل بن عبد اللہ القدہی 17 May,2020

ہم امت ِ اسلام ہیں ۔ اللہ عز وجل کا ہم پر یہ عظیم احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنی کتاب ِکریم ، مضبوط ہدایت اور صراط ِمستقیم سے نوازا ہے۔کوئی خیر باقی نہیں جس سے اللہ عز وجل نے ہمیں آگاہ نہ کیا ہو اور کوئی شرباقی نہیں جس پراللہ عز وجل نے ہمیں متنبہ نہ کیا ہو۔ نیک بخت وہی ہے جو حبل اللہ کو تھامے اور سنت ِ مصطفی ﷺ کی اتباع کرے اور پھر دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کے ساتھ کامیاب ہوجائے ۔

 

یقیناًانٹر نیٹ کا استعمال دور ِ حاضر کے انقلاب اور مختلف فورمز کی جدت کا باعث ہے ۔ لیکن یہ دو دھاری تلوار ہے جسے خیر کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور شر کے لیے بھی ۔ اس کی نوعیت بالکل دیگر بیشتر عام مصالح کی مانندہے۔اس کا استعمال درحقیقت استعمال کرنے والے کے ارادوں اور مقاصد کے تابع ہے ۔ اگر ارادے نیک ہوں تو استعمال نیک ٹھہرتا ہے اوراگر ارادے برے ہوں تو استعمال برا قرار پاتا ہے ۔ انٹر نیٹ کا استعمال بلاشبہ بہت بڑے منافع کا باعث ہے ۔ کیونکہ یہ کئی قوموں اور گروہوں کے لیے اچھائی ، علم ، معرفت ، راہنمائی ، رابطہ و تعلق اور ترقی کاباعث ہے ۔لیکن فی الوقت جو اس کے برے استعمال پر مصر ہو ‘ اس کے لیے یہ کسی شر ِعظیم سے کم نہیں ۔ حقائق کا ادراک کرنے کے بعد ہم پر یہ ضروری ٹھہرتاہے کہ ہم اپنا یہ جائزہ لیں کہ ہم دونوں استعمالات میں سے کس کواپنے لیے منتخب کرتے ہیں ؟

ہم ملت ِ اسلام ہیں ۔ اللہ عز وجل نے ہمیں امت ِ وسط بنایا ہے۔ ہمارے لیے لائق ہی یہ ہے کہ ہم اپنے تمام امور میں غور وفکر اور توازن واعتدال کو ملحوظ ِخاطر رکھیں۔ لہٰذا کسی بھی مسئلہ میں نہ افراط سے کام چلے گااور نہ تفریط سے ۔ لیکن ہم مستقل طور پر اپنے بعض بھائیوں کودیکھتے ہیں جو اس افراط یا تفریط کے مرض کا شکار ہیں ۔ ہم ایسے لوگ جانتے ہیں جو انٹر نیٹ کو مکمل طور پر شر سمجھتے ہیں ۔ اِن کے بقول :جو کچھ اس میں ہے وہ شر ، جو اس کے تحت ہے وہ شر اور جو اسے لے آئے وہ شر وغیرہ وغیرہ۔  ہماری نظر میں ایسے لوگ بے حد تھوڑے ہیں ۔ یہاں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو انٹر نیٹ کو مکمل طور پر خیر جانتے ہیں ۔ البتہ یہ اس نفع مند وسیلہ میں پائے جانے والے شرکے مصادر کی بابت تجاہل ِعارفانہ سے کام لیتے ہیں ۔ یہ لوگ ہماری رائے کے مطابق بہت زیادہ ہیں ۔ کیونکہ انسانی نفس برائی پر بہت زیادہ اکساتاہے اور انسان اکثر و بیشتر جدال سے کام لیتا ہے اور انسانی طبیعت یہ ہے کہ وہ مناقشہ جات میں بے جابحث و مباحثہ کرتا رہتا ہے ۔

ہم اپنے قاری کے سامنے کچھ حقائق اور رپورٹس پیش کرتے ہیں ۔ تاکہ وہ سنبھل کربیدار دل اور گہرے غوروخوض کے ساتھ انہیں پڑھ سکے ۔ کسی لمبی چوڑی شرح کی کوئی ضرورت نہیں ۔ کھلے حقائق کے بعد ہمارے کلا م کی حاجت نہیں رہتی ۔ بلاشبہ ایک بھائی کا دوسرے بھائی پر یہ حق ضرور ہے کہ وہ اس کے ساتھ خیر خواہی کرے اور اسے ضرر رساں چیزوں کی بابت متنبہ کردے۔ خبردار! بچ جائیے ! بچ جائیے! نجات ! نجات!ہر ایک کواپنی بابت غور وفکر کرنی چاہیے اور اپنی رعایا کی بابت اللہ عز وجل سے ڈرتے رہنا چاہیے !

چند آیات و احادیث

عن أسامة بن زید رضی الله عنھما عن النبی ﷺ قال : (مَا تَرَکْتُ بَعْدِیْ فِتْنة أَضَرَّ عَلٰی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ)(بخاری)

سیدنااسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ،نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے اپنے پیچھے مرد وں پر عورتوں سے زیادہ نقصان دہ کوئی فتنہ نہیں چھوڑا ۔‘‘

عن أبی سعید الخدری رضی الله عنه عن النبی ﷺ قال: اِنَّ الدُّنْیَا حُلْوة خَضِرَةٌ وَاِنَّ الله مُسْتَخْلِفُکُمْ فِیْھَا فَیَنْظُرُ کَیْفَ تَعْلَمُوْنَ فَاتَّقُوْا الدُّنْیَا وَاتَّقُوْا النِّسَاءَ فَاِنَّ أَوَّلَ فِتْنة بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ کَانَتْ فِیْ النِّسَاءِ

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’بلاشبہ یہ دنیا میٹھی اور ہری بھری ہے ۔ اور یقینا اللہ عز وجل نے تمہیں اس دنیا میں کرتا دھرتا بنا دیا ہے ۔ بس وہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کرتے کیا ہو؟ بس (تمہیں اتنی نصیحت ہے کہ) تم دنیا اور خواتین (کے فتنوں ) سے بچتے رہنا ۔ کیونکہ بنی اسرائیل میں پہلا فتنہ عورتوں کا ہی ابھرا تھا۔‘‘(مسلم)

فرمان باری تعالیٰ ہے :

زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِيْنَ وَالْقَنَاطِيْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ  ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [آل عمران:14]

’’ مرغوب چیزوں کی محبت لوگوں کے لئے مزیّن کر دی گئی ہے جیسے عورتوں اور بیٹے اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے اور نشاندار گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی۔ یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے ۔ ‘‘

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ يَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ  ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ  اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ۰۰۳۰وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ يَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ

’’مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں۔ یہ ان کے لئے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالیٰ سب سے باخبر ہے ۔ مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں‘‘۔ [النور: 30 ،31]

دوسری جگہ ارشاد ہے :

اِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِيْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِيْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِيْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِيْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِيْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ۠ وَ الصَّآىِٕمِيْنَ۠ وَ الصّٰٓىِٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ ۙ   اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِيْمًا۰۰۳۵

’’بیشک مسلمان مرد اور عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں ، فرما نبرداری کرنے والے مرد اور فرما نبردار عورتیں ، راست باز مرد اور راست باز عورتیں ،صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں ، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں ،خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں،روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنی والی عورتیں ،اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والیاں بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیا ں (ان سب کے) لئے اللہ تعالیٰ نے ( وسیع  مغفرت) اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔‘‘[الاحزاب:35]

اور پھر فرمایا :

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ۰۰۱الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ۰۰۲ وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ۰۰۳وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ۰۰۴وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ۰۰۵اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُوْمِيْنَۚ۰۰۶فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ۰۰۷ [المومنون : 1تا7]

’’  یقینا ایمان والوں نے فلاح حاصل کر لی۔جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔جو لغویات سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ جو زکوٰ ۃ ادا کرنے والے ہیں۔جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔بجز اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے یقینا یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں۔  جو اس کے سوا کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کر جانے والے ہیں۔‘‘

اور ارشاد گرامی ہے :

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً  وَ سَآءَ سَبِيْلًا۰۰۳۲(الاسراء)

’’بدکاری کے قریب بھی مت بھٹکو۔کیونکہ یہ فحش کام ہے اور برا رستہ ہے ۔‘‘

عن أبي هریرة رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهﷺ قال: لِکُلِّ بَنِیْ آدَمَ حَظٌّ مِنَ الزِّنَا فَالْعَیْنَانِ تَزْنِیَانِ وَزِنَاھُمَا النَظْرُ وَالْیَدَانِ تَزْنِیَانِ وَزِنَاھُمَا البَطْشُ وَالْرِجْلَانِ یَزْنِیَانِ وَزِنَاھُمَا اَلمَشْیُ وَالْفَمُ یَزْنِیْ وَزِنَاه القُبَلُ وَالْقَلْبُ یَھْوٰی وَیَتَمَنّٰی وَالْفَرْجُ یُصَدِّقُ أَوْ یُکَذِّبُ (رواه أحمد فی مسنده )

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ہر بنی آدم کے لیے ضرورکچھ نہ کچھ زنا سے حصہ ہے ۔ آنکھیں بھی زنا کر بیٹھتی ہیں ، جن کا زنا (ممنوع کردہ اشیاء ) دیکھنا ہے ۔ ہاتھوں سے بھی زنا ہوجاتا ہے ، جن کا زنا (حرام کردہ چیزوں کو) پکڑنا ہے ۔ پاؤں سے بھی زنا سرزد ہوجاتا ہے ، جن کا زنا ( کسی غلط کاری کی جانب) چلنا ہے ۔ منہ سے بھی زنا کا ارتکاب ممکن ہے ، جس کا زنا ( ناجائز ) بوس وکنار کرنا‘ ہے ۔ دل میں خواہشات مچلتی ہیں اور تمنائیں ابھرتی ہیں۔البتہ شرم گاہ ان کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔ ‘‘

عن جریر رضی الله عنه قال : سَأَلْتُ رَسُوْلَ الله ﷺ عَنْ نَظْرَۃِ الْفَجْأَۃِ فَقَالَ اِصْرِفْ بَصَرَك

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔ کہتے ہیں : میں نے اچانک پڑ جانے والی نظر کی بابت رسول اللہ ﷺسے پوچھا ؟آپ ﷺ نے جواب دیا :’’ اپنی نظر پھیر لیا کرو !‘‘

عن الھیثم بن مالك الطائی رضی الله عنه عن النبی ﷺ قال : مَا مِنْ ذَنْبٍ بَعْدَ الشِّرْكِ أَعْظَمَ عِنْدَ الله مِنْ نُطْفَةٍ وَضَعَھَا فِیْ رِحْمٍ لَا یَحِلُّ لَهُ

اللہ عز وجل کے ہاں شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ وہ نطفہ ہے جسے کوئی مرد حرام کردہ رحم کے اندر ٹپکائے ۔

 فحش کاری کے فتنے کاپھیلاؤاور حجم

تمہید اور تاریخ

بلاشبہ فحش کاری اور جسم فروشی قدیم اور جدید معاشروں کے لیے بے حد خطرناک ترین چیزوں میں سے ہے ۔ ہم نے سب سے قبل رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان ذکر کیا ہے :

مَا تَرَکْتُ بَعْدِیْ فِتْنَةً أَضَرَّ عَلٰی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ

’’ میں نے اپنے پیچھے مرد پر عورتوں سے زیادہ نقصان دہ کوئی فتنہ نہیں چھوڑا ۔‘‘

امریکی محکمہ انصاف نے اپنی ایک رپورٹ میں یہ بات ذکر کی ہے(1) کہ فحش کاری اور جسم فروشی کی تجارت بے حد سود مند تجارت ہے ،جس کا بنیادی سرمایہ آٹھ ارب ڈالرکو پہنچ رہا ہے ۔ اس کا منظم جرائم کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے ۔ فحاشی ، عریانی اورجسم فروشی کی تجارت کئی وسائل پر مشتمل ہے مثلاً کتابیں ، رسائل ، وڈیو کیسٹیں، فحش سٹیلائٹ چینلز اور انٹر نیٹ وغیرہ ۔ امریکی انٹیلی جینس کے اعداد و شمار (FBI)سے مزیدآگاہی ملتی ہے کہ بدکاری اور جسم فروشی کی تجارت امریکی آمدنی کا تیسرا بڑا ذریعہ ہے جس کا نشہ آور اشیاء اور جوا بازی کے بعد منظم جرائم کے ساتھ بے حد گہرا واسطہ ہے (2)۔وہ اس طرح سے کہ گندی فلموں اور فحش رسائل کے منافع میں سے 85 % ان کے ہاتھوں میں پہنچتاہے (3)۔

اکیلے امریکہ کے اندر فی الوقت 900سے زائد سینما ہال ہیں جو فحش فلموں کے لیے مختص ہیں۔ 15000سے زائد ویڈیو سنٹر زاور بک اسٹالز ہیں جو گندی فلموں اور غلیظ رسائل کا کاروبار کررہے ہیں ۔ یہ تعداد میکڈونلڈکے ہوٹلز کی تعداد سے تین گنا زیادہ ہے (4)۔ ماضی میں امریکہ خوداپنے معاشرے میں فحش کاری کے پھیلاؤ کے خلاف کچھ قوانین اور نظام وضع کرکے ایک بڑی سطح کی جنگ لڑ چکا ہے ۔ لیکن قابل ِ غور بات یہ ہے کہ فحش کاری اور بدکاری کے پھیلاؤ پر قدغن لگانے والے اس جنگ میں ناکام ہوئے ۔ کیونکہ مختلف اسٹوڈیوز فلموں پر چیک اینڈ بیلنس کے معاملے میں تخفیف ونرمی لینے نیز اقدار دینے اور ٹرینڈز وضع کرنے والوں کے ہاں فحش کاری کا مفہوم تبدیل کرانے میں کامیاب ہوگئے۔ نتیجتاً جو فلمیں کسی زمانہ میں فحش کاری اور اباحیت کے فلمیں یعنی (X)کے تحت درج ہوتی تھی ، اب انہیں معمولی جان کر (R)کے تحت اندراج کیا جانے لگا۔ اس دوران فحش کاری کے اصل ہدف کو حاصل کرنے کے لیے درمیانہ طبقہ کے کئی سارے گروہ پیدا ہوگئے مثلاً (NC-17)کاگروہ۔ بالآخر امریکہ میں مواصلات میں پاسداری و لحاظ کا قانون (Communication Decency Act of 1996)کو لغو قرار دینا اور تبدیل کرنا ‘ بڑی کامیابی کے ساتھ طے پایا۔ تاکہ لوگ کسی قانونی رکاوٹ کے بغیر فحش کاری کے اعمال کو جاری رکھنے میں آزاد ہوں ۔

یہ بات معلوم ہے کہ اباحیت اور فحش کاری کے مواد کی پیدوار و صنعت کاری میں امریکہ پوری دنیا میں پہلے نمبر پر ہے ۔یہ اس نوعیت کے سالانہ 150رسائل صادر کرتا ہے یا 8000سالانہ شمارے نکالتاہے (5)۔ سن 1985 میں عریاں اور فحش فلموں کی تجارت75ملین پر تھی جو بڑھ کر سن1996 میں 665ملین تک پہنچ گئی ۔

اس تجارت کے مالکان حضرات بہت پہلے یہ پہچان چکے تھے کہ اگر لوگوں کو ایسے بدکاری کے بازاروں اور سینما گھر میں آتے جاتے دوسروں کی جانب سے کسی عار اور طعن وتشنیع کا خوف نہ ہوتو یہاں لوگوں کا ایک طبقہ ضرور ایسا موجود ہے جن کے دل ایسے امور میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ لہٰذا جتنا ممکن ہوسکا ان تاجروں نے لوگوں کی آسانی کی خاطریہ موادان تک ڈاک کے ذریعے سہولت دینا شروع کردیا۔ ان مقاصدکی تکمیل کی خاطر اور حکومت کی جانب سے دباؤ کے بعد اس مواد کوایسے لفافے اور غلاف میں ڈال کر دینے کی ٹھان لی جسے plain brown wrapper کے نام سے تیار کیا گیا۔ جس میں ترسیل سے قبل مواد چھپادیا جاتا ۔ اس سب کے باوجود لوگ ایسے لفافوں میں چھپے مواد کی حقیقت کو پہچاننے لگے ۔ یہ چیزپھر کچھ سلیم الفطرت اور طعن و تشنیع سے ڈرنے والے لوگوں کے لیے ایک ممانعت اور پیچھے ہٹنے کا باعث ثابت ہوئی ۔

فحاشی و عریانی کے بیوپاروں نے جب ان عوامل کا جائزہ لیا تو ان کے لیے لازمی ٹھہراکہ وہ لوگوں کے گھروں تک خفیہ اور براہِ راست طریقہ سے عریاں وفحش مواد کی فراہمی کی خاطر کچھ نئے طریقے ایجاد کریں۔ اس بنیاد پر براہ راست نشریات ، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سے استفادہ کیا گیا۔ اب اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے انٹرنیٹ سب سے زیادہ کامیاب طریقہ قرار پاچکاہے ۔ کیونکہ فحاشی اور عریانی سے جڑا عالمی نیٹ ورک پوری دنیا میں بلامبالغہ سب سے زیادہ دیکھا اورکھولاجانے لگا ہے۔  

انٹر نیٹ کیا ہے ؟

انٹر نیٹ کا مطلب ہے پوری دنیا میں کروڑوں اربوں کمپیوٹرز کا ایک دوسرے سے جڑ جانا۔کمپیوٹرز کی اتنی بڑی تعداد کا باہم جڑے ہونے کے باعث برقی چھٹیوں کی ترسیل پلک جھپک میں ممکن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فائلوں ، تصاویر ، ویڈیوز اور آڈیوز کا تبادلہ بھی کیا جاسکتاہے ۔ معلومات کی ان تمام اقسام کے تبادلے کے لیے اب فقط ایک ہی نظام پر اتفاق ہوچکاہے جسے ’’عالمی نیٹ ورک ‘‘کا نام دیا گیاہے ۔

فحاشی کے فتنے کی انٹرنیٹ کی جانب منتقلی اور گھروں میں اس کا داخل ہونا

انٹرنیٹ پر زائرین کی آمدکا پھیلاؤاور حجم یومیہ کی بنیاد پرسینکڑوں کے حساب سے دگنا چوگنا ہوتا جارہاہے (6)۔اس بات کی صراحت امریکی وزارت ِ تجارت نے کچھ اس طرح سے کی ہے کہ سن1997کے اختتام پرعالمی نیٹ ورک پرصفحات کی تعداد 200 ملین تک اور سن 1998کے اختتام پر 440ملین تک ہوگئی تھی ۔جبکہ سن 1998میں نیٹ ورک کے بنیادی ممبران کی تعداد 140 ملین پہنچ گئی تھی (7)(8)۔ان اعداد و شمار کا ’’جادو‘‘ میگزین (9)اور ’’ٹائم‘‘ میگزین( 10)کے اداروں نے بھی اقرار کیا ہے ۔ لیکن کچھ لوگ ان اعداد وشمار پر تحفظات کا شکار ہیں ۔ اِن کاخیال ہے کہ سن 1998میں صفحات (Pages) کی حقیقی تعداد 650تک پہنچ گئی تھی(11) ۔ متوقع یہ تھا کہ یہ تعداد سن 2002میں آٹھ بلین ہوجائے گی ۔انٹر نیٹ پرعریاں اور فحش صفحات کی تعداد انٹرنیٹ کے کل صفحات کے حجم کا 2.3فیصد ہیں(12) ۔فیصدی اعتبار سے یہ عدد شاید معمولی محسوس ہوجو اس فتنہ کے حجم کی حقیقی تصویر کشی نہیں کرتا ۔

تفہیم کے لیے اس کی مثال کچھ یوں دی جاسکتی ہے کہ کسی ایک شہر میں سو بازار ہوں۔ لیکن اکثر و بیشتر لوگ ان سو بازاروں میں سے ایک ہی بازار کا رخ کرتے ہوں۔ عملی طورپر ہم جو اعداد وشمار پاتے ہیں وہ اس تصور کو بے حد مضبوط کرتے ہیں ۔ مثلاً فحش کاری اوراباحیت کی ایک کارپوریشن Playboyیہ دعویٰ کرتی ہے کہ ایک ہفتہ میں 4.7 ملین ناظرین ان کے صفحات کو دیکھتے ہیں(13) ۔ بعض کارپوریشنز نے انٹرنیٹ پر فحش اور عریاں صفحات کے ناظرین کی تعداد کورپورٹ کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ «WebSite Story» کمپنی اس نتیجہ پر پہنچی کہ بعض عریاں اور فحش صفحات کو ایک دن میں 280034ناظرین وزٹ کرتے ہیں ۔ 100سے زائدملتے جلتے صفحات ایسے ہیں جن کا20،000سے زائدناظرین روزانہ رُخ کرتے ہیں ۔ 2000سے زائد ایسے ملتے جلتے صفحات ہیں جن کی 1400سے زائد ناظرین روزانہ زیارت کرتے ہیں ۔ ان صفحات میں سے فقط ایک صفحہ کو دوسالوں کے دوران 43613508ناظرین نے دیکھا ۔ ان میں سے فقط ایک فریق یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے پاس 300000سے زائد غلیظ ، عریاں اورفحش تصاویر ہیں جن کی ایک بلین سے زائد مرتبہ نشر و اشاعت ہوچکی ہے ۔ کارنیگی میلون یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے 917410تصاویرکی بابت ایک اعداد و شمار کی رپورٹ جاری کی کہ یہ تصاویرچالیس ممالک کے 2000 شہروں میں 8.5ملین مرتبہ چھاپی گئی ہیں ۔ مزید یہ اِس نتیجہ تک بھی پہنچے ہیں کہ انٹرنیٹ کی بحال شدہ تصاویر میں سے نصف فحش اور عریاں تصاویر ہیں۔ اور یہ کہ اخباری مجموعات میں متداول تصاویر میں سے 83.5 فیصد فحش و عریاں تصاویر ہیں (14)(15)۔

’’زوگبی‘‘ نام کے ادارہ نے اعداد وشمار کا ایک سروے کیا جومارچ 2000میں جاری کیا گیا، جس میں یہ بیان ہواکہ امریکہ کے رہائشیوں میں سے 20فیصد رہائشی فحش و ننگی تصاویر والے صفحات کا وزٹ کرتے ہیں۔اسٹیو واٹر (16)تحقیق کار کہتاہے کہ اکثر و بیشترفحش سائٹس کا وزٹ کا آغاز ایک فضول حرکت اور کھیل و مزاق کے طور پر ہوتاہے ۔ پھر اس کے بعد یہ عمل بڑے خطرناک عواقب لے کررفتہ رفتہ ایک عادت بن جاتا ہے مثلاً ازدواجی تعلقات کی خرابی اور اس کے بعد کے شرور۔

 عالمی نیٹ ورک کی مکمل سائٹس اورصفحات سے حاصل ہونے والی رقم کو جمع کرنے اور سمیٹنے کے معاملے میں تاجر حضرات کو شدید مشکلات کا سامنا ہے لیکن نیٹ ورک کاایک سیکشن ایسا ہے جہاں سے رقم بآسانی جمع ہوجاتی ہے اور وہ ہے گندے اور فحش صفحات کا سیکشن ۔ یہ بے حد نفع مند تجارت ہے(17) ۔ ان صفحات کا لوگ بڑی کثرت سے وزٹ کرتے ہیں ۔ اگرچہ یہ لوگ اس’ خدمت‘کے حصول کے لیے خطیر رقم خرچ کرنے پر مجبور ہوجائیں ۔ سن 1999میں انٹرنیٹ پر فحش سائٹس اورصفحات کے مواد کی خریداری کی مجموعی رقم برقی تجارت کا تقریبا8%حصہ تھی۔ جس کی کل رقم 18بلین ڈالرزبنتی  تھی ۔ دوسری جانب فحش سائٹس اور صفحات کے داخلہ پر خرچ کردہ مجموعی رقم 970ملین ڈالرز تک پہنچی ۔ جس کی بابت یہ توقع تھی کہ سن 2003میں 3بلین ڈالرز تک بڑھ جائے گی (18)۔ یہ صفحات بڑی خطرناک تیزی کے ساتھ بڑھتے ہیں ۔ ایک ایک ہفتہ میں سینکڑوں نئے فحش صفحات لانچ ہوتے ہیں۔بہتیرےصفحات یہ’خدمت‘مفت فراہم کرتے ہیں۔

امریکی وزارت ِ عدل نے ان الفاظ میں اس بات کی صراحت کی ہے: ’’امریکہ کے اندر میڈیا وسائل کی تاریخ کے کسی مرحلہ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ اتنے کثیر گھروں میں اتنے زیادہ بچوں کے سامنے کسی رکاوٹ کے بغیر اتنی بڑی موجودہ تعداد میں ایسی تصاویرپھیل گئی ہوں۔‘‘(19)

مزید اعداد وشمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نوعمر بچوں میں سے 63% بچے فحش تصاویر اور صفحات کی جانب بار بار رجوع کرتے ہیں ، جن کے سربراہان کو کچھ علم نہیں ہوتا کہ ان کے بچے انٹر نیٹ پر کس نوعیت کے مواد کو کھولتے ہیں (20) ۔ رپورٹس اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہیں کہ عریاں مواد کو استعمال کرنے والے اکثر و بیشتر وہ بچے ہوتے ہیں ، جن کی عمر 12سال سے 17سال کی رینج میں ہوتی ہے(21)  یہ فحش صفحات بلا مبالغہ انٹرنیٹ کے صفحات کے زمرہ جات میں سے سب سے زیادہ تلاش اور طلب کا مرکز بن چکے ہیں(22) ۔   

کیا ہم اپنے مشاہدات سے متأثر ہوتے ہیں ؟

جو شخص یہ کہتا ہے کہ ہم اپنے مشاہدات سے متأثر نہیں ‘ ہم اسے کہتے ہیں کہ نیچے درج کردہ حقائق پر ذرا غور کیجیے :

1۔تجارت کی عالمی کمپنیاں اپنی تجارت کے تسلسل و دوام کے لیے اوراپنی اشیاء پرلوگوں کی توجہ کے حصول کے لیے تشہیر اور میڈیا کی اہمیت کو خوب اچھی طرح جانتی ہیں ۔ مثلاً اکیلی میکڈونلڈ کی کمپنی سالانہ 287ملین ڈالرز میڈیا پر خرچ کرتی ہے ۔ اور سیئرز انکارپوریٹڈ کمپنی صرف اسی میدان میں سالانہ 225ملین ڈالرز خرچ کرتی ہے وغیرہ ۔ اگر لوگ اپنے مشاہدات سے متأثر نہ ہوتے ‘ تو یہ کمپنیاں اس مد میں سالانہ اتنی خطیر رقم خرچ نہ کرتیں۔

2۔ انتہائی گہری علمی رپورٹس یہ ثابت کرتی ہیں کہ ٹیلی ویژن اپنے دیکھنے والے لوگوں کی سوچ و فکر اور کردار و رویوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے ۔ مثلاً ڈاکٹر برینڈن سینٹروال ۔ووبائی امراض (Epidemiology) کے بنیادی اسباب کے مطالعہ کے خصوصی ماہر ہیں ۔اس بات کی صراحت کرچکے ہیں کہ اگر ٹیلی ویژن کا آلہ ایجاد نہ ہوتا تو امریکہ کے اندر اس زمانہ میں جرائم کا گراف انتہائی نیچے ہوتا ۔ قتل کے جرم سالانہ دس ہزار گُنا، جبری زنااور عصمت دری کے جرم ستر ہزارگُنا اور تشدد کے جرم سات لاکھ گُنا کم ہوتے ۔ ڈاکٹر برینڈن سینٹروال ان نتائج تک تقریبا تیس سال کے مسلسل مطالعہ کے بعد پہنچے ہیں (23)۔

ڈاکٹر برینڈن نے بغور جائزہ لیا کہ ٹیلی ویژن امریکہ اور کینیڈامیں سن  1945 میں پہنچ چکا تھا ۔ 1945سے 1974کے درمیانی وقفہ میں ان دونوں ممالک کے اندر قتل کا گراف بہت بلند رہا ۔ قتل و غارت امریکہ میں 93%اور کینیڈا میں 92%پر تھی ۔ جرائم کے پھیلاؤ میں میڈیا کے وسائل کا بڑا گہرا تعلق ہے ۔ اس تصور اور نظریہ کے ثبوت اور تائید کے لیے ڈاکٹر برینڈن نے سوچا کہ وہ جنوبی افریقہ کے معاشرے پر ایک تحقیق شروع کرے ۔

جنوبی افریقہ کی حکومت نے کچھ سیاسی اسباب کی بناء پر سن 1975تک اپنے ملک میں ٹیلی ویژن کے داخلے کو روک رکھا تھا ۔ لیکن میڈیا کے کچھ دیگر وسائل مثلاً کتب ، ریڈیوزاور رسائل وغیرہ وافر اور نئی معلومات سے لبریز حالت میں ضرور دستیاب تھے۔ ڈاکٹر برینڈن نے بغور ملاحظہ کیا کہ عین اسی وقت یعنی 1945ء سے 1975ء کے درمیانی وقفہ میں اُدھر جنوبی افریقہ میں قتل کی ریشو7% امریکہ اور کینیڈا کے بنسبت کم رہی جبکہ اِدھر امریکہ اور کینیڈا میں قتل کی ریشو کا گراف بہت اوپر چلا گیا تھا۔ سن 1975ء میں جنوبی افریقہ میں ٹیلی ویژن داخل ہوا ‘ ڈاکٹر برینڈن جان گئے کہ معاشرے کی اقدار اور کردار پراس کے بعد اس ٹیلی ویژن کے نتائج سامنے آئیں گے ۔

ڈاکٹر برینڈن نے خبردی کہ جنوبی افریقہ میں ٹیلی ویژن کے داخلے کے سن 1975کے بعددس سے پندرہ سالوں کے دوران یہی معاشرہ ثابت کرے گا کہ یہاں قتل و غارت کی ریشو بہت بڑھ گئی ہے ۔ پہلا طبقہ جو اس جرم کی جانب بہت جلدرُخ کرے گا ‘ گورے نوجوان ہونگے ۔ پھرکالے نوجوان تقریباتین سال بعداس جرم میں گورے نوجوانوں کے ساتھ شامل ہونگے ۔ عملی طور پر سن1989ء کورپورٹس جاری ہوئیں ۔ جن میں جنوبی افریقہ کے اندرسن 1987ء کے قتل کے جرم میں متأثرین کی تعدادنشر کی گئی ۔ ماہرین ِ شماریات اس نتیجہ تک پہنچے کہ سن 1975میں قتل کی جو نسبت تھی اس میں 130% اضافہ ہو چکا ہے ۔ یعنی قتل کے جرم میں متأثرین کی تعداد ان بارہ سالوں میں دو گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہے ۔

جب ڈاکٹر برینڈن سے پوچھا گیا کہ آپ نے کیسے معلوم کر لیا کہ گورے اس معاملہ میں کالوں سے کچھ سبقت لے جائیں گے ؟ ڈاکٹر نے یہ کہہ کر جواب دیا کہ اس وقت اگر جنوبی افریقی معاشرے میں کوئی صاحب ِ ثروت طبقہ ہے تو وہ گورے ہیں ۔ اس لیے میں جان گیا کہ ان نئے آلات یعنی ٹیلی ویژن کے سب سے پہلے خریدار یہی گورے لوگ ہونگے ۔ اور ان کے بچے ہی ‘وہ پہلے بچے ہونگے جن کو اس ٹیلی ویژن کے ساتھ سب سے پہلے واسطہ پیش آئیگا ۔ پھر تین سال بعد گالے ان گوروں کے استعمال شدہ ٹیلی ویژن وغیرہ خریدیں گے ۔ لہٰذاان جدید آلات یعنی ٹیلی ویژن وغیرہ سے اثرپذیری کا آغاز اِن گوروں سے ہوگا۔جب کم و بیش دس سال بیت جائیں گے اور ان ٹیلی ویژن کی سکرین کے سامنے تربیت یافتہ بچے جوان ہو جائیں گے تو ان پر ٹیلی ویژن وغیرہ کے اثرات نمودار ہونگے ۔ اور اسی طرح کالوں کے ساتھ معاملہ ہوگا۔ واقعتا معاملہ ڈاکٹر برینڈن کی توقعات کے عین مطابق پیش آیا۔

ڈاکٹر برینڈن نے جرائم کے اسباب کے معاملہ میں دیگر کئی بہت بڑے بڑے مؤثر اور احتمالی عوامل پر بھی تحقیق کی مثلاً تمدن کا فرق ، اسلحہ کی فراوانی ، معاشی حالات ، شراب نوشی ، انتقامی کاروائی ، سیاسی اور قومی ہنگامہ آرائیاںوغیرہ وغیرہ ۔ ڈاکٹر برینڈن کو اس حقیقت کا ادراک ہوا کہ حوادث و جرائم کے ساتھ ان عوامل کا  اتنا تعلق نہیں جتنا کہ اِن حوادث وجرائم کے ساتھ ٹیلی ویژن کے فتنے اور مصیبت کا تعلق ہے ۔

 ایسی کئی ساری ملتی جلتی رپورٹس موجود ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ انسان جوکچھ دیکھتاہے ، وہ اس سے ضرور متأثر ہوتاہے اور انسان کے کردار و سلوک پران وسائل کے منفی اثرات بھی پڑتے ہیں ۔ یاد رہے کہ درج بالارپورٹ ان رپورٹس میں سے فقط ایک ہے ۔

(جاری ہے اس مضمون کا بقیہ حصہ اگلے شمارہ میں ملاحظہ فرمائیں)

حوالہ جات:

عربی مضمون کا ویب سائٹس ایڈریس

http://www.khayma.com/fahad1390/din/agidh/36.htm

(1)Report of the Attorney Generals Task Force on Family Violence، U.S. Department of Justice، Washington، D.C.

(2)Federal Bureau of Investigation، reported inTalking Points: Important Facts About Pornography، Take Action Manual، Coalition for the Protection of  Children and Families، p.8

(3)Amerivan Family Association، “Outreach: Facts About Pornograghy،»

(4)»Effect of Pornograghy on Women and Children،” U.S. Senate Judiciary Committee، Subcommittee on Juvenile Justice، 98th Congress، 2nd Session، 1984

(5)Schlosser، Eric، “Business of Pornography،” U.S. News & World Report، 10، 1997

(6)Trainer Wortham،News and Noteworthy Market Commentary، Fourth Quarter 1999.

(7)U.S. Commerce Department

(8)ONeill، Edward، Characteristics of Web Accessible Information، IFLA JOURNAL 24 (1998p.114-116،1998 www.genmagic.com/Internet/ 1997.

(9)Rutkowski، Tony. “Internet Trends”، General Magic، February Trends (5- 14- 97)

(10)Wright، Robert. “The Man Who Invented the Web”. Time

(11)Gray، Matthew. “Web Growth Data” 19 March 1997.

(12)The Web Characterization Project، http://wcp.oclc.org/stats.htm

(13)G.A. Servi، ‘Sexy F Seeks Hot M’: A Mothers Tale Discovering a Childs X-Rated E-mail، Newsweek، July 3. 1995، 51

(14)آج پوری دنیا میں تقریبا 14000اخباری گروپس ہیں جونیٹ کو استعمال کرتے ہیں ۔

(15)Rimm، Marty، Marketing  Pornograghy on the Information Superhighway، Georgetown Law Journal، Issue 5، Volume83

(16)Steve Watters، an Internet research analyst at Focus on the Family

(17)C-Net; 4/28/99

(18)U.S. News & World Report، 3/ 27/2000

(19)U.S. Department of Justice Post Hearing Memorandum of Points and Authorities، at 1، ACLU vs. Reno، 929 (1996(

(20) Yankelovich Partner Study، September 1999

(21) Attorney Generals Commission of Pornography، 1986

(22) Dr. Robert Weiss، Sexual Recovery Institute، Washinton Times 1/26/2000

(23) Dr. Brandon S. Centerwall، “Television and violence : the scale of the problem and where to go from here.” the journal of the American Medical Association، June 10 1992. 267: 3059-3063

 

Read 340 times
Rate this item
(0 votes)