Print this page

کفار سے مشابہت

Written by 09 Sep,2011

مشابہت میں ایک بڑی خطر ناک صورت عورتوں کے ذریعے فتنہ انگیزی ہے اور یہ کفار ہی کی عادت ہے۔ عورتوں کے ذریعے فتنہ انگیزی کا مطلب ہے کہ انہیں چادر اور چاردیواری سے نکال کر شمع محفل بنا دیا جائے۔ پردہ نام کی چیز باقی نہ رہے تاکہ مرد حضرات نسوانی فتنہ کا شکار ہوں اس کام کے لیے عورتوں ہی کو خاص کرنے کی چند وجوہات ہیں ۔

٭ کیونکہ عورتیں دنیا کی ظاہری چمک دمک اور جھوٹی شان وشوکت سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔

٭ کیونکہ ان میں تقلید ونقل اور اس میں مبالغہ کا بہت زیادہ شوق ہوتاہے۔

٭ کیونکہ عورت کی جبلت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ مرد کا دل لبھائے اور اس کے لیے زیب وزینت کرے۔ جب عورت نمائش کے لیے زیبائش کرتے ہوئے بے پردگی اختیار کرتی ہے اور عزت ووقار اور حجاب کو چھوڑ بیٹھتی ہے تو مرد اپنی فطری کمزوری کی بناء پر اس کی طرف مائل ہوجاتاہے۔ زیادہ تر اہل کتاب اور کفار کی عادات واخلاق میں اور ان کے تہواروں میں عورتوں کو متوجہ کیا جاتاہے۔پھر بچوں اور عام بیوقوف قسم کے لوگ ں کو تاکہ ان پر وہ اپنے حسن کا رنگ جما سکیں۔

قابل افسوس امر یہ ہے کہ عورتوں کے ذریعے فتنہ انگیزی کی اس کافرانہ خصلت میں آج بہت سے مسلمان مبتلا ہوچکے ہیں جبکہ نبی ﷺ نے اس فتنہ سے ڈرایا اور خبردار فرمایا :

فاتقوا الدنیا واتقوا النساء فان أول فتنۃ بنی اسرائیل کانت فی النساء

’’دنیا اور عورتوں کے فتنہ سے بچو بیشک بنی اسرائیل میں پہلا فتنہ عورتوں ہی کا تھا۔‘‘(صحیح مسلم :حدیث :2742)

جب عورت خود مختار اور مکمل آزاد ہوجائے اور مرد اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے معاملہ میں عورتوں کے سامنے نرم پڑ جائیں عزت وحشمت شرم وحیا اور حجاب وغیرہ کی بنیادی صفات جاتی رہیں تو بس سمجھ لیجیے کہ یہی وہ راہ ہے جو فتنہ کی طرف لے جانے والی ہے اور جب بھی امت مسلمہ اس قبیح عادت کا شکار ہوگی تو اسے دین اور دینا دونوں سے ہاتھ دھونا پڑھیں گے اور اس میں فتنے پھوٹ پڑیں گے۔

(وضاحت: عورت کی عزت واحترام کا شریعت نے حکم دیا ہے لیکن اس عزت واحترام کا مطلب قطعاً یہ نہیں ہے کہ اس کی خوشی کے لیے اللہ کی نافرمانی کی جائے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جو مرد کو برتری دی ہے وہ اس صفت سے دستبردار ہوجائے۔)

٭ جن کاموں سے آپ ﷺ نے کفار سے مشابہ ہونے کی بنا پر روکا ان میں سے ایک یہ ہے کہ بڑھاپے کے سفید بالوں کو یہود ونصاریٰ کی مشابہت میں بغیر رنگے ہوئے یونہی چھوڑ دیا جائے۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :

ان الیہود والنصاری لا یصبغون فخالفوہم

(صحیح بخاری حدیث :3462۔ صحیح مسلم حدیث:2103)

’’یہودی اور عیسائی بالوں کو نہیں رنگتے پس تم ان کی مخالفت کرو۔‘‘

نوٹ : بالوں کو رنگنے میں یہ خیال ضرور رہے کہ انہیں سیاہ نہ کیا جائے جیسے یہ بات دوسری روایت سے ثابت ہے ۔

٭ داڑھی منڈوانے سے بھی منع کیا گیا ہے کیونکہ داڑھی منڈوا کر مونچھیں کٹوانا مشرکین ،مجوسی،یہودی اور عیسائی لوگوں سے مشابہت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی بہت سی احادیث میں یہ بات ثابت ہے کہ داڑھی کو معاف کر دیا جائے او رمونچوں کو صاف کیا جائے اور اس کی علت میں آپ نے فرمایا کہ یہ مشرکین اور مجوسی کی مخالفت ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :

خالفو المشرکین   أحفوا الشوارب وأوفوا اللحیٰ

’’مشرکین کی مخالف کرو، مونچھیں صاف کرو اور داڑھیوں کو معاف کرو۔‘‘(صحیح بخاری :5893،صحیح مسلم:259)

ایک روایت میں ہے:

’’ جزوا الشوارب‘‘ یعنی مونچھیں کاٹو ۔

ایک اور روایت میں ہے :

جزوا الشوارب وأرخو اللحیٰ خالفو المجوس

’’مونچھیں کاٹو داڑھی بڑھاؤ مجوسیوں کی مخالفت کرو۔‘‘

(صحیح مسلم :260)

٭ جوتے پہن کر نماز پڑھنے کو ممنوع خیال کرنا۔ اس بات میں بھی کفار کی مشابہت سے روکا گیا ہے اور یہاں خاص طور پر یہودی مراد ہیں کیونکہ وہ جوتوںیا موزوں سمیت نماز نہیں پڑھتے۔ لہٰذا یہودیوں کی مخالفت کی وجہ سے یہ جائز نہیں ہے کہ آدمی مستقل طور پر جوتوں سمیت نماز پڑھنا چھوڑ دے یا ننگے پاؤں ہی نماز پڑھنا ضروری سمجھے یہ ایسی صورت میں ہے جبکہ جوتے پہن کر نماز پڑھنا دوسروں کے لیے تکلیف کا سبب نہ بنے۔ اس کے متعلق فرمان رسول ﷺہے :

خالفو الیہود فانہم لا یصلون فی نعالہم ولا خفافہم

’’یہودکی مخالفت کرو بیشک وہ جوتوں اور موزوں وغیرہ میں نماز نہیں پڑھتے۔‘‘(أبوداؤد حدیث :652)

یہودیوں کی مخالفت میں اس سنت کی اتباع اکثر جہلاء اور بدعتی لوگوں پر ناگوار گزرتی ہے۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اہل علم جوتوں سمیت نماز ادا کرنے کو اس بات سے مشروط کرتے ہیں کہ یہ تکلیف واذیت کا باعث نہ بنے۔ مثال کے طور پر مسجد کے اندر چٹائی یا قالین وغیرہ بچھا ہوا ہو اور مسجد سے باہر کی زمین جہاں سے نمازی چل کر آیا ہے صاف نہیں جیسے عموماً شہروں میں ہوتاہے۔ ایسی صورت میں قالین یا چٹائی وغیرہ پر جوتوں سمیت نماز ادا کرنا درست نہیں۔ نبی علیہ السلام عام مٹی پر نماز ادا فرماتے کہ ان دنوں مسجد کی زمین پر کچھ بھی نہ بچھایا جاتاتھا۔

لہذا ایک مسلمان کو سنت نبویﷺ پر عمل پیرا ہونے کا مشتاق ہونے کے ناطے چاہیے کہ جب وہ مسجد کے بیرونی حصہ میں آئے جہاں کچھ بچھا ہوا نہ ہوتو سنت پر عمل کرتے ہوئے کبھی کبھی وہاں جوتوں سمیت نماز ادا کرے مگر مستقل ایسا نہ کرے کہ اس طرح سلف صالحین سے ثابت نہیں۔

(جاری ہے)

Read 1019 times Last modified on 16 Oct,2015
Rate this item
(0 votes)
الشیخ  محمد طاہر آصف

Latest from الشیخ محمد طاہر آصف

Related items