Print this page

اظہار محبت کے لیے صرف ایک دن

Written by بشریٰ بنت بدرالدین قریشی 16 Feb,2014

محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو ہر دل میں پروان چڑھتا ہے کوئی دل اس سے خالی نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ محبت کے جذبے کو اللہ کے حکم کا پابند رکھتے ہیں اور کچھ لوگ اس جذبے کو اللہ کے حکم سے آزاد کرکے سرکش بندوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔

آج دنیا میں ’’دن‘‘ منانے کی روایت جڑ پکڑتی جا رہی ہے۔ ’’Mother day, Father day, Chidren day ‘‘وغیرہ وغیرہ اسی طرح ایک دن 14 فروری ہے جو ’’محبت‘‘ کرنے والوں کے لیے منایا جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ رسم مسلمانوں میں تیزی سے جڑ پکڑ رہی ہے حالانکہ اس جذبے کو اللہ کے حکم کا پابند ہونا چاہئے تھا مگر اس بات کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا۔ صرف عارضی خوشی کے حصول کیلئے نوجوان تیزی سے اللہ سے بغاوت کے اس راستے کو اپنا رہے ہیں۔ یہ دن ہمارے قومی تہوار کا دن بھی نہیں ہے۔ ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہم صرف اس ’’دن‘‘ اظہار محبت کر کے یا اس کو’’celebrate ‘‘کر کے کہیں کافروں سے ’’محبت‘‘ کا ثبوت تو نہیں دے رہے۔ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے:

جو جس قوم کی مشابہت کرے گا قیامت کے دن انہی کے ساتھ ہو گا۔

14 فروری سرح گلابوں کا، لال ربن کے پھولوں ودلوں کا عشقیہ شاعری کا محبت کا سب سے بڑھ کر پوری دنیا میں منایا جانے والا دن۔ جب اسکی گہرائی میں جا کر ہم دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اصل میں اس کی حقیقت کتنی کڑوی ہے۔

Valentineکی ابتداء کیسے ہوئی ۔۔۔؟؟ یہ سوال آج ہم میں سے کتنے لوگوں کے ذہنوں میں اٹھتاہے؟ ہم تو بھاگ رہے ہیں یہود ونصاریٰ کی اندھی تقلید میں۔۔۔۔! وہ گوہ کے بل میں داخل ہونگے تو ہم بھی ہو جائیں گے۔۔۔! ایسا ہی ہے نا۔۔۔۔؟؟؟

Valentine کے بارے میں بہت سی روایات ہیں مگر دو قابل بھروسہ روایات جو ہمیں Encyclopedia Britonica میں ملتی ہیں پہلی وہ روایت ہے جس میں Saint Valentine کو شاہ Caludies نے 14 فروری کو قتل کروا دیا تھا کیونکہ وہ ایسے فوجیوں کی شادیاں کروا دیا کرتا تھا جن کو دراصل شادی کی اجازت نہ تھی۔ قید کے دوران بشپ کو داروغے کی بیٹی سے عشق ہو گیا بشپ نے اس لڑکی کو خط لکھا جس کے آخر میں اس نے دستخط کئے تھے ’’ your Valentine‘‘ پھر یہی طریقہ بعد میں رواج پا گیا۔

دوسری روایت جو ہمیں ملتی ہے وہ یہ کہتی ہے کہ Valentine کا تعلق Saint Valentine سے نہیں بلکہ قدیم رومیوں کے دیوتا Luppercallaکے مغربانہ تہوار سے ہے جو کہ پندرہ فروری کو June Februllaکے آغاز میں ہوتا ہے۔ اس موقعہ پر لڑکیوں کے نام ایک برتن میں ڈال دیئے جاتے ہیں اور مرد بنا دیکھے جس لڑکی کا نام نکالتے ہیں وہی تہوار کے ختم ہونے تک ان کی ساتھی بن جاتی ہے اس طرح یہ فحش تہوار عروج پانے لگا۔

496ء میں پاپائے روم Gelusiusنے سرکاری طور پر 15 فروری کے مشرکانہ تہوار کو Saint Valentine day میں تبدیل کر دیا۔

یہ ہے اس خوشنما منظر کے پیچھے چھپی وہ بھیانک تصویر جسے ہم دیکھنا نہیں چاہتے یا جان بوجھ کر سب جانتے ہوئے بھی ہم چپ ہیں، خاموش ہیں۔ ہمارا میڈیا خاموش ہمارے نیوز پیپرز اور میگزین خاموش ہم کس کا ساتھ دے رہے ہیں؟

ان سب باتوں کو ایک سائیڈ پر رکھ کر میرا آپ سب سے جو جو اس تہوار کو منا رہے ہیں ایک سوال ہے کہ کیا ’’محبت جیسے خوبصورت جذبہ کے اظہار کے لیے ایک دن کافی ہے۔۔۔۔؟‘‘

’’محبت‘‘ کے بارے میں ابن قیم رحمہ اللہ فرماتےہیں:

’’عبادت کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی محبت ہے۔۔۔بلکہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی سے محبت ہے اس کے علاوہ کسی سے محبت نہ ہو اگر کسی سے محبت ہو تو۔۔۔۔ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی خاطر ہو۔۔۔۔!

میں اللہ سے کتنی محبت کرتا ہوں/ کرتی ہوں اور کیا۔۔۔ میری محبت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے ۔۔۔؟؟

ایمان کی تکمیل اس وقت تک ہو نہیں سکتی یا دوسرے لفظوں میں آپ اس وقت تک مومن بن نہیں سکتے جب تک آپ کے دل میں تمام محبتوں پر حاوی اللہ رب العزت کی محبت ہوگی۔

اللہ کی محبت ہی ایسی محبت جو آپ کو سکون و اطمینان اور طاقت عطا کرتی ہے۔

جبکہ اس کے برعکس دنیاوی محبتیں آپ کا چین و سکون لوٹ لیتی ہیں اور آپ کی سب سے بڑی کمزوری بن جاتی ہیں۔

اگر میں خالق سے محبت کرتا ہوں تو بدلے میں مجھے اللہ رب العزت دنیاوی محبتیں و عزتیں پر مخلوق کو ترجیح دی اور رب العزت کی محبت کی ذرا پروا نہ کی تو ۔۔۔ تو محبتیں کتنی ہی شدید کیوں نہ ہوں میرے لیے روز آخرت خسارہ کا باعث بن جائیں گی۔

ہمارے دل میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی کتنی محبت ہے آیئے اس بات کا جائزہ لیں۔

امام ابن قیم رحمہ اللہ نے دس امور کا ذکر فرمایا ہے اگر میں ان چیزوں کا عامل ہوں تو الحمد للہ میں میرے دل میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی محبت ہے۔

وہ مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ غور و فکر سے تلاوت کرنا

2۔ نوافل کی کثرت

3۔ ذکر الٰہی

4۔ اللہ کی محبوب چیزوں کو اپنی پسند پر ترجیح دینا

5۔ اللہ کے اسماء وصفات پر غور کرنا

6۔ اللہ کے احسانات و نعمتوں کا مشاہدہ کرنا

7۔ تضرع وخشوع کے ساتھ دعا کرنا

8۔ آسمان دنیا پر نزول الہی کے وقت اللہ کو یاد کرنا اور تلاوت کا اہتمام کرنا

9۔ نیک اور صالح لوگوں کی مجلس اختیار کرنا

10۔ ہر اس چیز سے دوری اختیار کرنا جو اللہ اور اس کے بندے کے درمیان حائل ہو

اللہ سبحانہ وتعالیٰ بے نیاز ہے اسے کیا میری محبت کی ضرورت ہے۔۔۔ یاد رکھے اس میں بذات خود ہمارا اپنا فائدہ ہے۔ اللہ رب العزت نے تو قرآن پاک میں فرما دیا ہے کہ اگر تم نے اللہ سے محبت نہ کی اس کی محبت کا انکار کیا دین سے چھڑگئے تو اللہ دوسری قومیں دوسرے لوگ لے آئیگا جو اللہ سے محبت رکھے گی۔۔۔!!! (المائدہ 54)

اللہ سے محبت کا حصول بہت آسان ہے احادیث میں یہ بات واضح بتائی گئی ہے اگر انسان دنیا اس میں موجود ہر چیز سے بے نیاز ہو جائے تو اللہ کی محبت کا حصول بہت آسان ہے بات تو طلب کی ہے اگر دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کی طلب ہے تو اللہ ضرور ہمارے دلوں میں اپنی محبت اجاگر کر دیگا۔ عمل کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لیے دعائیں بھی بہت ضروری ہیں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مجھے اور آپ کو اپنی سچی و خالص محبت عطا کرے۔ تمام محبتوں میں اپنی محبت حاوی کردے۔ آمین یا رب العالمین

اللہ سے حصول محبت کی دعا:

اللَّهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَالْعَمَلَ الَّذِى يُبَلِّغُنِى حُبَّكَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَىَّ مِنْ نَفْسِى وَأَهْلِى وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ (سنن الترمذى (12/ 464)

آمین یا رب العالمین

Read 869 times
Rate this item
(0 votes)

Related items