Print this page

قرآنِ کریم کی اُصولی باتیں قسط 6

Written by پروفیسر ڈاکٹرعمر بن عبد اللہ المقبل, ترجمہ: ابو عبدالرحمن شبیر بن نور 03 Jul,2016

چودہواں اصول :
فَاِنْ لَّـمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَکَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَھْوَائَ ھُمْ (القصص : 50)
’’پھر اگر یہ آپ کی بات نہ مانیں تو آپ یقین کر لیں کہ یہ صرف اپنی خواہش کی پیروی کر رہے ہیں ۔‘‘
قرآن ِ کریم کے محکم ترین اصولوں میں سے یہ ایک اصول ہے‘ جس کے اندر بڑے اہم اور عظیم معانی پائے جاتے ہیں‘ جن کا تعلق فرمانبرداری ‘ اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی اطاعت اور شرعی ا حکام مان لینے سے ہے ۔
یہ آیت کریمہ سورۃ القصص میں آئی ہے جہاںاہل شرک کے ساتھ جھگڑے کا بیان ہے ‘ جہاں ان کی طرف سے دشمنی اور عناد کے اُن اسلوبوں کا تذکرہ ہے جن میں انہوں نے شریعت کو ٹھکرایا ہے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ پر گھناؤنے الزامات لگائے ہیں۔
اسی اصول کو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری جگہ اِن الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّ  فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلاَّ الضَّلٰلُ  فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ (یونس 32)
 ’’وہ تمہارا اللہ ہی برحق ذات ہے ‘حق کے بعد کیا ہو سکتا ہے سوائے گمراہی کے؟ پھر تم کہاں بھٹکے جا رہے ہو!‘‘
امام ابن القیم رحمہ اللہ اس اصول کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’دو ہی راستے ہیں: نفس پرستی یا اطاعت ِ وحی‘‘- اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی  اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی
(النجم)
’’اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتا ہے‘ وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے ۔‘‘
جب شریعت کا فیصلہ آجائے اور آدمی پھر بھی اسے نہ مانے اور اس کے اُلٹ کام کرے‘ تو اس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی کی ۔
اس اصول کی یاددہانی کی فی زمانہ بڑی شدید اہمیت ہے۔ خاص طور پر اس زمانے میں جبکہ خواہشات کی کثرت ہو چکی ہے ‘شرعی احکامات کے ساتھ رنگ برنگا معاملہ کیا جاتا ہے۔ مختلف لوگوں کے مختلف دعوے ہیں‘ کوئی اپنی بدعت کی مدد کررہا ہے ‘کوئی ان نصوص کو لے کر اپنے خا ص طریقے کورواج دے رہا ہے‘ کوئی اپنی دلی تمنا کے مطابق آسانیاں تلاش کررہا ہے‘ اوراللہ اور رسول کی مرضی کا بالکل خیال نہیں۔
لوگوں پر ایک زمانہ ایسا تھا کہ آدمی کوئی کام کرنا چاہتا یا چھوڑناچاہتا ‘اس کے لیے یہی بات کافی تھی کہ یوںکہہ دیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ ہے ‘ رسول اللہﷺ کا فرمان یہ ہے یا صحابہ کرام کا قول یہ ہے‘ اور وہ بات مان جاتا۔ شاید ہی کوئی ایسا مسلمان ہوتا جو شرعی حکم سے جان بچانے کی کوشش کرتا۔ ایک آج کا زمانہ ہے کہ لوگوں پر معلومات کے دروازے کھل گئے ہیں ‘ فقہی مسائل میں بہت سارے اقوال اُن کے سامنے ہیں ۔ درحقیقت یہ مسئلے کی جڑ نہیں ہے ‘ مسائل میں اختلافات تو بہت پرانے ہیں ‘ اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے مقدر کردیا ہے اس کو ختم بھی نہیں کیا جاسکتا ۔بلکہ اصل مشکل یہ ہے کہ بعض لوگ کسی مسئلے میں متعدد اقوال کو پاتے ہیں (اورجو ان کی خواہش کے مطابق ہواُسے لے لیتے ہیں)
بھلے یہ قول فقہی اعتبار سے شاذ ہی کیوں نہ ہو‘ کیونکہ ان کو موقع مل گیاکہ اس کام کو حلال کرنے والا ایک قول موجود ہے۔ اور اس کے بالمقابل دوسرے قول کو چھوڑ دیتے ہیں خواہ دوسرا قول سلف صالحین کا اجماع ہی ہو جو اسی کام کو یا قول کو حرام قرار دے رہا ہو۔ کیا ایسے لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں حصہ نہیں بنتاجس میں فرمایا گیا ہے :
فَاِنْ لَّــمْ یَسْتَجِیْبُوْ ا لَکَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَھْوَآئَ ھُمْ  (القصص:۵۰)
’’(اے نبیﷺ!) پھر اگر یہ آپ کی بات نہ مانیں تو یقین کر لیں کہ یہ صرف اپنی خواہش کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘
اس مقام پر اس قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو یاد کروانا بھی بہت ضروری ہے:
بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ ( القیامۃ 14)
’’بلکہ انسان اپنے دل کے بارے میں خوب آگاہ ہے ۔‘‘
یہ قرآنِ کریم کا بہت مضبوط اصول ہے ‘جس کی شرح چوتھے اصول میں گزر چکی ہے ۔
اس موقع پر اس اصول کا ذکر کر دینا بھی بہت مناسب ہے جو حدیث شریف میں بیان ہوا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اَ لْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ اِلَیْہِ  النَّفْسُ وَاطْمَأَنَّ اِلَیْہِ الْقَلْبُ ، وَالاِثْمُ مَا حَاکَ فِی النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِی الصَّدْرِ وَاِنْ اَفْتَاکَ النَّاسُ (سنن الدارمی‘ کتاب البیوع۔ ومسند احمد‘ مسند الشامیین)
’’نیکی کی پہچان یہ ہے کہ روح کو سکون ملے اور دل مطمئن ہو جائے‘ اور گناہ یہ ہے کہ روح کو کھٹکا لگا رہے اور دل پریشان رہے‘ خواہ لوگ تمہیں (اس کے حق میں) فتویٰ بھی دے دیں۔‘‘
حدیث میں جو بات بیان ہوئی ہے یہ کیفیت وہی شخص محسوس کر سکتا ہے جس کے دل میں کچھ نہ کچھ نورِایمان باقی ہو ‘شہوات وشبہات میں پڑ کر بالکل بجھ نہ گیا ہو۔ البتہ جو شخص فسق وفجور کی وادیوں میں بھٹک رہا ہو‘ اُس کا دل تو وہی فتویٰ دے گا جو اس کی خواہشات کے مطابق ہوگا۔ (اس کا کوئی اعتبار نہیں۔)
ایک موقع پر (مطلب کے فتوے پر عمل کرنے والے) ایک شخص سے بات چیت کرنے کا موقع ملا جو جمہور علماء کی رائے کو چھوڑ کر شاذ اقوال پر عمل کر رہا تھا ۔ میں نے اُس سے کہا: ان فقہی موشگافیوں کو ایک طرف رکھو ‘مجھے اپنے دل کا حال سناؤ‘جب تم اِن باتوں پر عمل کررہے ہوتے ہو تو تمہارے دل کی کیفیت کیا ہوتی ہے؟ تو اس نے قسم اٹھا کر کہا :وہ تو بے چین ہوتا ہے۔ وہ تو اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا ہوتا ہے کہ فلاں عالم نے یہ فتویٰ دیا ہے اور وہ خود دل کی گہرائیوں سے اس فتوے سے مطمئن نہیں ہوتا۔ میں نے اس سے کہا کہ اے ساتھی! جس عالم نے یہ فتویٰ دیا ہے وہ تو معذور ہو سکتا ہے کیونکہ یہی اس کا مبلغ علم ہے ‘لیکن تم اپنے آپ کو بچانے کی فکر کر لو ‘کیونکہ تمارے اسی رویے کے بارے میں اہلِ علم نے فرمایاہے :’’یہ آسانیاں تلاش کرنے کا طریقہ ہے‘‘۔ اور اہل ِ علم نے ایسا کرنے والے کو قابل ِ مذمت کہا ہے‘ بلکہ اس کام کو نفاق اورخواہش پرستی کا حصہ قرار دیا ہے۔ اسی لیے سلف صالحین کی ایک بڑی جماعت کا فتویٰ ہے کہ ’’جس نے آسانیوں کا پیچھا کیا وہ بالآخر بے دین ہو جاتا ہے ‘‘۔
جس آدمی نے قرآنِ کریم میں مذکور لفظ ’’الھَویٰ‘‘ پر غور کیا ہو اُسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ لفظ ہمیشہ قابل ِ مذمت کاموں کے لیے آتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے انتہائی مقبول نبی(حضرت دائودؑ) کو اس دلی بیماری سے دور رہنے کی تاکید کی ہے ‘فرمایا:
 یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْہَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ  اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ (صٓ 26)
’’اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا‘ پس تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو‘ ورنہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔ یقینا جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں اُن کے لیے سخت عذاب ہے‘ اس لیے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے ۔‘‘
 اس کے بعد کون ہے جو ہوائے نفس سے محفوظ ہو سکتا ہے؟ مؤمن کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جب بندہ دین میں رخصتوں کو تلاش کررہا ہوتا ہے تو جو کچھ وہ کرتا ہے یا جو کچھ وہ چھوڑتا ہے وہ اللہ کی اطاعت میں کر رہا ہوتا ہے اور اپنے عظیم رب کے سامنے اپنی عبودیت کا فرض ادا کررہا ہوتا ہے ‘ اب وہ بندہ اس پر کیسے مطمئن ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے رب کی اطاعت ایسے دین کے ساتھ کرے جس کی بنیاد ’’نفس پرستی‘‘ ہو!
اس عظیم اصول پر گفتگو ختم کرنے سے پہلے میں دو باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں:
پہلی بات:جن شرعی مسائل میں اہل ِ علم کے درمیان معروف ومشہور فقہی اختلاف پایا جاتا ہے اس قاعدے اور اصول کو وہاں چسپاں کرنے سے احتیاط کی جائے۔
دوسری بات: یہاںجو بات قابل ِ مذمت ہے وہ فتویٰ دریافت کرنے میں خواہش نفس کی پیروی کرناہے کہ آدمی اہل ِ فتویٰ علماء کے درمیان چکر لگاتا رہے‘ اگر ایک عالم کا فتویٰ اس کی مرضی کے مطابق ہوا تو اسے مان لیا‘ ورنہ دوسرے عالم کے پاس چلا گیا۔ اسی طرح عالموںکے درمیان گھومتا رہے حتیٰ کہ اپنی مرضی کا فتویٰ پالے۔ اسی کو کہتے ہیں خواہش نفس کی پیروی کرنا ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے نفس پرستی کے شر سے پناہ چاہتے ہیں ‘ اور اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ ہمیں حق کا پیرو کار بنائے اور وہی ہماری منزل ہو۔
پندرھواں اصول:
وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ (القصص 83)
’’پرہیز گاروں کے لیے نہایت ہی عمدہ انجام ہے۔‘‘
قرآنِ کریم کا یہ ایک مضبوط ترین اصول ہے جو اہل ِ ایمان کے دلوںمیں اُمیدجگاتا ہے‘ اور اُن کے دلوں کو اعتماد اور یقین سے بھر دیتا ہے ۔
یہ قرآنی اصول ایک دفعہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے بیان ہوا جب کہ آپ اپنی قوم کے ان لوگوں کو خوشخبری سنا رہے تھے جو اسلام لائے تھے کہ آخرت سے پہلے دنیا کی کامیابی بھی انہی کے نصیب میں ہو گی اور زمین میں اُن کو حکمرانی ملے گی بشرطیکہ وہ تقو یٰ پر قائم رہیں۔ یہ خوشخبری ان الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی :
وَالْعَاقِبَۃُ لِلتَّقْوٰی(طٰہٰ 132)
’’ اچھا انجام (اہل) تقویٰ کا ہے ۔‘‘
 یہ بات بھی واضح رہے کہ یہاں ’’عاقبت‘‘ سے مراد صرف آخرت نہیں ہے‘ کیونکہ آخرت میں تو اللہ تعالیٰ نے متقین کے لیے نجات اور کامیابی کی ضمانت دی ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَاْلاٰخِرَۃُ عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُتَّقِیْنَ (ا لزخرف 35)
’’اور آخرت تو آپ کے رب کے نزدیک صرف پرہیزگاروں کے لیے ہی ہے۔‘‘
بلکہ یہ انجام دنیا اور آخرت دونوں میں ہے۔ کوئی آدمی یہ پوچھ سکتا ہے کہ آج کے زمانے میں یہ اصول عملاً کہاں پایا جاتا ہے؟ اس سوال کا جواب ایک دوسرے سوال کی شکل میں ہو گا ‘ پورے آداب وشرائط کے ساتھ تقویٰ پایا کہاں جا تا ہے؟ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تو غلط نہیں ہو سکتا۔
 انفرادی اور اجتماعی سطح پر حالات کو ہم بخوبی دیکھ رہے ہیں۔ اس اصول پر غور کرنا چاہیے کہ ہمیں اس کی کس قدر شدید ضرورت ہے۔ ہم بات کی ابتدا اجتماعی صورتِ حال کے مطالعہ سے کرتے ہیں۔ صدیوں سے امت ِ اسلام کمزوری ‘فرقہ بندی اور بہت سے مسلمان دشمنوں کے زیر تسلط حالات سے گزرر ہی ہے۔ ایسے حالات میں بہت سارے اسلام کے نام لیوا دائرئہ اسلام سے باہرقدم جمانے میں کوشاں ہیں۔ وہ دوسرے خیالات کی تلاش میں کبھی مغرب کی طرف دیکھتے ہیں اور کبھی مشرق کی طرف‘ اور دوسرے مذاہب میں بھی راہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں‘ جب کہ اس کا اسلام کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہیں ہے ‘ اس لیے کہ داخلی شکست کی وجہ سے اس کے احساس میں مایوسی چھاگئی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ امت ِ اسلام فرقہ بندی اور کمزوری کا شکار ہے اور دوسری طرف وہ مادّی ترقی کی چمک دمک سے ششدر اور حیران ہے۔ نیز اِن ملکوں میں اسے حقوقِ انسانی اور دوسرے معاملات کے حوالے سے خوبیاں اور اچھائیاں نظر آتی ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اِن لوگوں نے مشرق ومغرب کے معاشروں کی صرف خوبیاں ہی دیکھی ہیں‘ تاریک پہلو اُن کو نظر نہیں آتے یا جان بوجھ انہوں نے آنکھیں بند کر لی ہیں‘جبکہ یہ تاریک پہلو بے شمار ہیں۔ اس مادی تہذیب نے صرف جسم پرتوجہ دی ہے اور روح کو بھول بیٹھے ہیں‘ دنیاآباد اور آخرت برباد کر لی ہے ۔اور انہوں نے اپنی ساری طاقت اس بات پر خرچ کر ڈالی ہے کہ کسی طریقے سے کمزور قوموں پر غلبہ حاصل کیا جاسکے ‘ لہٰذا اپنی تہذیب اور فوجوں کو جس پر چاہیں مسلط کر دیں ۔
مثال:فرانسیسی انقلاب جس نے انسانی حقوق کی بنیاد رکھی اور انسانوں کے درمیان برابری کااصول متعارف کروایا (جیسا کہ اس نظام کے بانی کہتے ہیں) انہی لوگوں نے جزیرہ ’’ھائیٹی‘‘ کی ایک تہائی آبادی کو اس لیے ملیا میٹ کر دیا کہ انہوں نے غلامی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی طرح فرانسیسی انقلاب کا مشہور قائد ’’نابلون‘‘ (جوکہ فرانسیسی انقلاب کی پیدوار تھا) مصر آیا تاکہ اس پر قبضہ کر لے اوریہاں استعماری نظام قائم کرے ۔
انفرادی طور پر (بات کو سمجھنے کے لیے) صرف ایک مثال بیان کیے دیتا ہوں‘ جس کا ہماری روزانہ کی زندگی سے گہرا تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ (القصص)
’’پرہیز گاروں کے لیے نہایت ہی عمدہ انجام ہے ۔‘‘
یہ آیت قارون کا واقعہ بیا ن کرنے کے بعد آئی ہے‘ جو مال کی طلب وخواہش پر صبر نہ کرسکا۔
 اس آیت میں اشارہ ہے کہ چاہے انسان مرد ہو یا عورت اُسے اِس اصول پر غور کرنے کی ضرورت ہے‘ بالخصوص جبکہ وہ ایسے حالات میں زندگی گزار رہا ہو جہاں ہر طرف فتنے ہوں‘ بہکاوے کا سامان ہو اور اللہ کے دین سے گمراہ کرنے والی چیزیں ہوں‘ تاکہ اس کے لیے شہوات اور حرام لذت بازی پر صبر کرنا آسان ہو جائے۔ جب بھی اُس کا نفس تقویٰ کے خلاف چلنے کا کہے اُسے فوراً یاد آجائے کہ دنیا وآخرت کی کامیابی اہلِ تقویٰ کے لیے ہے ۔
اسی طرح دعوت الی اللہ کاکام کرنے وا لے کا معاملہ ہے۔ اُسے بھی اِس اُصول کی شدید ضرورت ہے۔ وہ دعوت کے طویل مشن پررواں دواں ہے ‘ جس میں خیر وشر سے بھرے مختلف امتحان آتے ہیں ‘ بالخصوص جب کہ اُسے کوئی معاون ومدد گار نہ ملتا ہو۔ ممکن ہے کہ اُسے مخالفین اوردشمنوں سے بھی واسطہ پڑے۔
اس قرآنی اصول کا خلاصہ یہ ہے کہ جو بھی اپنی زندگی اور کام میں متقی نہیں ہے اس کا انجام کبھی اچھا نہیں ہو سکتا‘ خواہ ایک وقت تک اُسے مہلت مل جائے یا ایک زمانے تک وہ سزا سے محفوظ رہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق میں یہی طریقہ چلاآرہا ہے ۔  
جس وقت تاتاریوں نے مسلمان ملک (شام) پر حملہ کیا تھا اس وقت امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس قرآنی اصول {وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ} ’’پرہیز گاروں کے لیے نہایت ہی عمدہ انجام ہے‘‘ اور دوسری آیات سے استدلال کرتے ہوئے ‘ قسم کھا کر فرمایا تھاکہ تاتاری کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے ‘ بلکہ شکست کھائیں گے اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ اُس وقت آپ نے جو کہا اس کے الفاظ یوں تھے: ’’اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کی اصلاح فرمائے ‘ خوب جان لو کہ کامیابی اہل ایمان کے لیے ہے اور اچھا انجام اہل تقویٰ کا ہے‘ اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اورجو اپنی منزل کی طرف محنت سے آگے بڑھتے ہیں۔ البتہ یہ لوگ (تاتاری) شکست کھاکر رہیں گے اور ان کو نیست ونابود کردیا جائے گا‘ اللہ تعالیٰ ان کے مقابلے میں ہماری مدد کرے گااور ان سے ہمارا انتقام اور بدلہ لے گا۔ کوئی ہمت اور طاقت اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح وکامیابی کی خوشخبری سن لو‘ اور اچھا انجام بھی اسی کی طرف سے ہے۔ اس حقیقت کا ہمیں یقین ہے اور یہ ہو کر رہنا ہے‘ اورسب تعریفیں اللہ ربّ العالمین کے لیے ہیں۔‘‘
۔۔۔۔

Read 445 times
Rate this item
(0 votes)

Related items