Print this page

امت محمدیہ” علی صاحبھا افضلُ الصلاۃ والسلام “کے بوڑھے قسط 2

Written by 15 Jan,2017

بوڑھوں کی بڑھتی تعداد:
جنگ عظیم اول ، دوم کے علاوہ بھی گذشہ کئی دہائیوں سے دنیا بھر کے انسانوں کو بہت سی جنگوں کا سامنا رہا جس میں بطور ایندھن استعمال ہونے والے انسانوں میں سب سے زیادہ نوجوان تھے،جسکے باعث بہت سے انسانی معاشرے نوجوانوں کی قلت کا شکار ہوچکے ہیں، جبکہ بوڑھوں اور خواتین کی کثرت ہے،جرمنی میں ”لیڈیز فرسٹ“کا نعرہ بھی اسی تناظر میں لگایا گیا تھا کہ وہاں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے،اسکا اندازہ ذیل میں دیئے گئے جائزے سے بھی ہوتا ہے:
1982 میں 142 ممالک کے مندوبی اجتماع میں اقوام متحدہ نے ”عمر رسیدہ“افراد کے متعلق خصوصی اعلان کیا،اور صحت کی عالمی تنظیم ”ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن“نے 1983 میں ”بوڑھوں کو زندگی دیں“کو اپنا ”موٹو“ قرار دیا اور اپنی تمام شاخوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس موٹو کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کوئی عملی منصوبہ پیش کریں،نیز اقوام متحدہ کی جانب سے کئے جانے والے جائزے کہتے ہیں کہ: 1950 میں بوڑھوں کی تعداد250 ملین (25کروڑ)تھی، جو 1975 میں :350 ملین(35 کروڑ) تک ،اور 1995 میں: 590 ملین(59 کروڑ) تک جا پہنچی، اور جلد ہی ایک ارب دس کروڑ سے بڑھ جائے گی ،اور 2025 تک یہ اضافہ 224 فیصد تک بڑھ جائے گا،جبکہ اُسوقت انسانی آبادی  1975 کے مقابلے میں 102 فیصد بڑھ چکی ہوگی،یعنی جس قدر آبادی میں اضافہ ہوگا اسی قدر بوڑھوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا، اس طرح 1995 تک ہر گیارہواں فرد 60 سال کی عمر کو پہنچ چکا تھا، جبکہ 2025 تک ہر ساتواںفرد اس عمر تک پہنچ چکا ہوگا۔(مجلۃ المسنین،4/30)
یاد رہے! یہ اندازہ ”کل انسانی آبادی“ جس میں بچے ، جوان ،بوڑھے ، مرد و خواتین سبھی شامل ہیںکے مطابق لگایا گیا ہے،اگر بچوں کو الگ کردیا جائے اور صرف جوانوں(مذکر و مؤنث)اوربوڑھوں (مذکر و مؤنث) کی آبادی کا تقابل کیا جائے تو یقیناً بوڑھے مرد و خواتین کی مجموعی تعدادجوان مرد و خواتین کی مجموعی تعداد کے برابر نہیں تو قریب ضرور ہوگی،جبکہ دور حاضر میں بھی جنگوں کے شعلے بھڑک رہےہیں اور انسانوں کا قیمتی ترین سرمایہ ”نوجوان“اس بھڑکتی آگ کی نذر ہورہا ہے۔
یہ صورت حال مزید کچھ عرصہ جاری رہی تو ”نوجوانوں“کا قحط ہوجائے گا،پھر بوڑھے مردوں کو جنگوں کی بھینٹ چڑھانا شروع کیا جائے گا ،پھر بڑے بچوں کو حتی کہ دنیا میں صرف عورتیں اور کچھ چھوٹے بچے رہ جائیں گے،جبکہ جوان اور بوڑھے مرد خال خال ہی ہوں گے۔
٭نبی آخر الزماں محمد ﷺ نے اسی جانب اشارہ کیا ہے ،جیسا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ، وَيَفْشُوَ الزِّنَا، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ، وَيَذْهَبَ الرِّجَالُ، وَتَبْقَى النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ
قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ ،علم اٹھ جائے گا،جہالت بڑھ جائے گی،زنا عام ہوگا،اور شراب نوشی بکثرت ہوگی،مرد جاتے رہیں گے جبکہ عورتیں رہ جائیں
گی،آخر کار پچاس خواتین کا ایک مردسرپرست ہوگا۔
(صحیح مسلم:2671)
اگرچہ یہ مستقبل کا منظر نامہ ہے لیکن یہ دور حاضر سے زیادہ دور نہیں ،ایسا ہونے سے پہلے ہی اگر معاشرہ اپنے بوڑھے افراد کو بوجھ سمجھنے لگے اور انکے حقوق کو فراموش کرنے لگے تو اس تاریک دور کو بہت جلد آنے سے کوئی روک نہیں سکے گا۔
بوڑھوں اور بزرگوں کا احترام اور انکے معاشرتی و شرعی حقوق:
آجکل کے مادّہ پرست معاشرے میں بوڑھوں اور بزرگوں کو” عضو فاضل“ بلکہ معاشرے پر ”بوجھ“ سمجھا جاتا ہے،خصوصاً مغربی معاشرے میں بوڑھوں کے ساتھ بدترین سلوک کیا جاتا ہے انہیں اولڈ ہوم میں پھینک دیا جاتا ہے ،حتی کہ انہیں بعض بنیادی حقوق تک سے محروم کردیا جاتا ہے ۔
جب اولاد جوان اور خود کفیل ہو جائے اور بوڑھے تجربہ کار والدین انہیں اچھے برے کی تمیز سکھانا چاہیں ،یا روک ٹوک کریں تو انہیں بری طرح جھڑک دیا جاتا ہے اور اسے” ذاتیات میں دخل اندازی“ قرار دیا جاتا ہے، بلکہ بذریعہ عدالت اسطرح کی دخل اندازی کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔
جو ماں باپ تکالیف سہہ کر، خون پسینے کی محنت سے پال کر، اولاد کو کسی قابل بناتے ہیں، بوڑھا اور محتاج ہونے پر یہی اولاد انہیں یا تو گھر کے کسی کونے میں پھینک کر انہیں فراموش کردیتی ہے یا گھر سے بے دخل کرکے اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آتی ہے۔
مغربی معاشرے کی بالعموم یہی حالت زار ہے ،اور مسلم معاشرے بھی اب اسی روش کا شکار بنتے جارہے ہیں، آئے روز ساس بہو کا جھگڑا اور بیٹے کا بیوی کی بے جا حمایت کرنا،بیوی بچوں کی تفریح طبع کی خاطر دل کھول کر خرچ کرنا لیکن بوڑھے والدین کی دوائی وغیرہ ضروری اخراجات کے لئے ٹال مٹول سے کام لینا،بیمار ہونے پر انکی مناسب دیکھ بھال نہ کرنا ،انکی خدمت نہ کرنا ،زیادہ روک ٹوک کرنے پر ان سے بدتمیزی کرنا،گھریلو و کاروباری امور میں ان سے مشاورت نہ کرنا،گھر میں ہونے کے باوجود ان سے بات چیت نہ کرنا بلکہ انکی خیرت تک دریافت نہ کرنا، اسطرح کی بہت سی خرابیاں ہمارے معاشرے میں بھی پیدا ہو چکی ہیں۔
 ٭اسلام میں اس بات کی قطعاً اجازت نہیں کہ بوڑھوں اور بزرگوں کے ساتھ اسطرح کا سلوک کیا جائے ، بالخصوص بوڑھے والدین کے ساتھ اسطرح کی بد سلوکی تو کجا ،والدین کی طرف سے زیادتی کی صورت میں بھی انہیں ”اُف“ تک کہنے کی اجازت نہیں،اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا  وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا  (الاسراء:23-24)
آپکے رب نے فیصلہ کیا کہ تم اسکے سوا کسی کی عبادت نہ کرو،اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو،جبکہ ان میں سے ایک یا دونوں ہی بڑھاپے کو پہنچ جائیں،تو ان کے سامنے ”اف“تک نہ کہو،نہ ہی انہیں جھڑکو،اور ان سے ادب والی بات کہو،اور شفقت و مہربانی کا بازوانکے لئے جھکادو،اور کہتے رہو:اے میرے پروردگار،ان دونوں پر رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھ پر رحم کیا۔
اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنی عبادت کے ساتھ والدین کے حقوق کو ملادیا کیونکہ حقوق اللہ میں سب سے بڑا حق اللہ کی عبادت ہے،جبکہ حقوق العباد میں سب سے بڑا حق والدین کے ساتھ حسن سلوک ہے۔
نیز اس آیت میں مذکور ” شفقت و مہربانی کا بازوانکے لئے جھکادو“کی تفسیر میں عروہ بن زبیر؆نے کہا:
لاَ تَمْتَنِعْ مِنْ شَيْءٍ أَحَبَّاهُ
جس شے کو وہ دونوں پسند کریں انہیں اس سے روکو مت۔(الادب المفرد:9)
٭ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے والدین کا شکر ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
 أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ
میرا شکر ادا کر اور اپنے والدین کا اور میری جانب ہی لوٹ آنا ہے۔(لقمان:14)
اس آیت میں اللہ تعالی نے ”شکر“میں والدین کو بھی شریک کردیا،لیکن یہ شراکت عبادت کے معنی میں نہیں بلکہ لغوی معنی کے اعتبار سے ہے،یعنی اللہ تعالی نے وجود عطا کیا اور اسکی نشوونما اور افزائش کے لئے رزق مہیا کیا،اور والدین کو اس سلسلے میں ذریعہ بنایا،لہذا اللہ کا شکر اسے خالق اور معبود مانتے ہوئے ادا کرنا ہے جبکہ والدین کا شکر انکے ساتھ حسن سلوک سے پیش آکر کرنا ہے،نیز والدین کا شکر ادا کرنا دراصل اللہ کاشکر ادا کرنا ہے،جیسا کہ نبی ﷺ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے ، ارشاد فرمایا:
مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللهَ
جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا۔ (ترمذی:1955،الصحیحۃ:667)
٭والدین کا شکر ادا کرنے کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ انکی قدر کی جائے،کیونکہ وہ تعلیم و تربیت کے علاوہ اللہ کی رضا اور جنت کے حصول کا بھی ذریعہ ہیں،جیسا کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:
 رِضَى الرَّبِّ فِي رِضَى الوَالِدِ، وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ
اللہ کی رضا والد کی خوشی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔(ترمذی:1899،الصحیحۃ:516)
امام زین العراقی نے اس حدیث کی شرح میں کہا:
 أخذ من عمومه أنه تعالى يرضى عنه وإن لم يؤد حقوق ربه أو بعضها إذا كان الوالد مسلما
اس حدیث کے عموم سے استدلال کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالی ایسے(والدین کے خدمتگار) شخص سے راضی ہوجائے گا اگرچہ اس نے رب تعالیٰ کے بعض حقوق میں کوتاہی برتی ہو،بشرطیکہ اسکا والد مسلمان ہو۔(التنویر شرح الجامع الصغیر: 6/257)
٭نیز بوڑھے والدین یا ان میں سے کسی ایک کا سایہ سر پر سلامت ہونے کے باوجود انکی خدمت نہ کرنے کو دنیا و آخرت میں رسوائی کا سبب قرار دیتے ہوئےنبی کریم ﷺ نے فرمایا:
رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ . قِيلَ مَنْ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ :مَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ  (صحیح مسلم:2551)
اس شخص کی ناک خاک آلود ہو،اس شخص کی ناک خاک آلود ہو،اس شخص کی ناک خاک آلود ہو،(یعنی وہ ذلیل و رسوا ہو)عرض کی اے اللہ کے رسولﷺ !وہ کون ہے تو فرمایا : جس نے اپنے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کو پالیا،پھر جنت حاصل نہ کرسکا۔
٭نیز والدین کا ایک خاص حق بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِه(سنن ابن ماجہ:2137،ارواء الغلیل:838)
سب سے پاکیزہ رزق جو انسان کھاتا ہے وہ ہے جو اس نے خود کمایا ہو ،اوراسکی اولاد بھی اسکی ”کمائی “ہی ہے۔
٭جب اسکی اولاد اسکی کمائی ہے تو اولاد کی کمائی بھی دراصل اسی کی کمائی ہوئی اور اولاد کی کمائی کھانا گویا اپنی کمائی کھانا ہی ہے،جیسا کہ درج ذیل واقعہ سے معلوم ہوتا ہے،سیدنا جابربن عبد اللہ ؆نے کہا:
أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا  وَإِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي , فَقَالَ:  أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ
ایک شخص نے کہا:اللہ کے رسولﷺ میرے پاس مال ہے اور میری اولاد بھی ہے،اور میرے والد میرا مال لینا چاہتے ہیں ؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:تو اور تیرا مال دونوں تیرے والد کا ہی ہے۔(سنن ابن ماجہ: 2291، ارواء الغلیل:838)
اس حدیث کی وضاحت ایک اور حدیث میں ہے،نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ أَوْلَادَكُمْ هِبَةُ اللهِ لَكُمْ{يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا، وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ}  فَهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ لَكُمْ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَيْهَا
تمہاری اولاد تمہارے لئے اللہ کی عطا ہے،”وہ جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے،جسے چاہتا ہے لڑکے عطا فرماتا ہے“،پس وہ اور انکے اموال تمہارے ہیںجبکہ تمہیں انکی ضرورت پڑے۔ (المستدرک:3123،الصحیحۃ: 2564)
اس حدیث کے ذیل میں علامہ البانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
 وفي الحديث فائدة فقهية هامة , قد لَا تجدها في غيره، وهي أنه يُبَيِّنُ أن الحديث المشهور: " أنت ومالك لأبيك " ليس على إطلاقه، بحيث أن الأب يأخذ من مال ابنه ما يشاء، كلا، وإنما يأخذ ما هو بحاجة إليه
اس حدیث میں ایک اہم فقہی مسئلہ بیان ہوا ہے جو آپکو اور کہیں نہیں ملے گا،وہ یہ کہ،مشہور حدیث،”تو اور تیرا مال دونوں تیرے والد کا ہی ہے“عام نہیں ہے کہ والد جو چاہے اپنے بیٹے کے مال سے لےلے،ہرگز نہیں، دراصل وہ صرف اتنا لے سکتا ہے جسکی اسے ضرورت ہو۔ الصحیحۃ:2564)
امام غزالی نے کہا:
وآداب الولد مع والده: أن يسمع كلامه ويقوم بقيامه ويمتثل أمره ولا يمشي أمامه ولا يرفع صوته فوق صوته ويلبي دعوته ويحرص على طلب مرضاته ويخفض له جناحه بالصبر ولا يمتن بالبر له ولا بالقيام بأمره ولا ينظر إليه شزرًا ولا يقطب وجهه في وجهه
اولاد پر والدین کا ادب یہ ہے کہ،وہ انکی بات سنیں، انکے کھڑا کرنے پر کھڑے ہوجائیں،انکے حکم کی تعمیل کریں،ان سے آگے نہ بڑھیں،ان پر آواز اونچی نہ کریں،انکے بلاوے پر حاضر ہوں،انہیں خوش رکھنے کی کوشش کریں،برداشت سے کام لیتے ہوئے انکے آگے جھک جائیں،ان پر حسن سلوک کا احسان نہ جتائیں،نہ ہی فرمانبرداری کا،نہ ہی انہیں گھور کر دیکھیں،اور نہ ہی انکے سامنےناک بھوں چڑھائیں۔(التنویر شرح الجامع الصغیر:6/257)
٭دین اسلام میں والدین کی نافرمانی کو” حرام“ اور” کبیرہ گناہ“ اور اخروی خسارے کا سبب بتایا گیا ہے چنانچہ عبداللہ بن عمرو بن عاص ؆ نے کہا:
جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الكَبَائِرُ؟ قَالَ: الإِشْرَاكُ بِاللهِ قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ عُقُوقُ الوَالِدَيْنِ، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: اليَمِينُ الغَمُوسُ
ایک دیہاتی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا:کبیرہ گناہ کون سے ہیں؟آپ نے فرمایا:اللہ کے ساتھ شرک کرنا،اس نے پوچھا:پھر کونسا؟آپ نے فرمایا:والدین کی نافرمانی کرنا،اس نے پوچھا:پھر کونسا؟آپ نے فرمایا:جھوٹی قسم ۔(صحیح بخاری:6522)
٭جس کے والدین اس سے خوش ہوں وہ جنت کے سب سے بہتر دروازے سے جنت میں داخل ہوگا،جیسا کہ عبدالرحمن السلمی  نے کہا:
كَانَ فِينَا رَجُلٌ لَمْ تَزَلْ بِهِ أُمُّهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ حَتَّى تَزَوَّجَ ثُمَّ أَمَرَتْهُ أَنْ يُفَارِقَهَا فَرَحَلَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ بِالشَّامِ فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي لَمْ تَزَلْ بِي حَتَّى تَزَوَّجْتُ , ثُمَّ أَمَرَتْنِي أَنْ أُفَارِقَ , قَالَ: مَا أَنَا بِالَّذِي آمُرُكَ أَنْ تُفَارِقَ وَمَا أَنَا بِالَّذِي آمُرُكَ أَنْ تُمْسِكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ  صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ  فَإِنْ شِئْتَ فَأَضِعْ ذَلِكَ الْبَابَ أَوْ احْفَظْها قَالَ: فَرَجَعَ وَقَدْ فَارَقَهَا
ہم میں ایک شخص کے پیچھے اسکی ماں لگی رہتی کہ وہ شادی کرلے ،جب اس نے شادی کرلی تو اسکی ماں اسے طلاق کا کہنے لگی،چنانچہ وہ سفر کرکے شام گیا وہاں سیدناابو الدرداء ؄ سے ملا اور پوچھاکہ میری ماں میری شادی کے لئے میرے پیچھے پڑی رہی پھر جب میں نے شادی کرلی تو وہ کہنے لگی کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دوں؟
سیدناابوالدرداء ؄ نے جواب دیا:
نہ میں تجھے یہ کہتا ہوں کہ طلاق دے نہ ہی یہ کہتا  ہوں کہ طلاق نہ دے،البتہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ:والد جنت کے دروازوں میں ”اوسط“دروازہ ہے-ایک روایت میں ہے-اگر تو چاہے تو یہ دروازہ چھوڑ دے چاہے تو اسکی حفاظت کر۔
ابو عبد الرحمن نے کہا:وہ شخص واپس آیا اور اس نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی۔(سنن ترمذی:1900،مسند احمد:27511،الصحیحۃ:914)
عربی زبان میں”اوسط“درمیانے کو بھی کہتے ہیں اور بہترین کو بھی۔
ضروری تنبیہ: والدین یا ان میں سے کسی ایک کے کہنے پر بیوی کو طلاق دینے کا مسئلہ نہایت ہی نازک مسائل میں سے ہے،اس سلسلے میں والدین اور اولاداور انکی ازواج سبھی کو اللہ تعالی سے ڈرنا چاہیئے،کیونکہ کسی بھی فریق کے ساتھ زیادتی قابل مؤاخذہ ہوگی،البتہ اس سلسلے میں شرعی ضابطہ یہ ہے کہ:
٭اسباب کو دیکھا جائے گاکہ والدین جس سبب سے یہ مطالبہ کررہے ہیں شریعت میں وہ طلاق دینے کا سبب ہے یا نہیں،اگر ہے تو سبب جواز ہے یا سبب وجوب۔
٭نیز والدین کی خیر خواہانہ حیثیت اور دور اندیشی و دینی مرتبت کو بھی دیکھا جائے گا۔
پھر اگر وہ اسباب ایسے ہوں جن کی موجودگی میں طلاق دینا شرعاًواجب ہو تو والدین کی اطاعت واجب ہو گی جیسا کہ سیدنا ابن عمر ؆ نے اپنی بیوی کو اپنے والد کے کہنے پر طلاق دی تھی ،کیونکہ طلاق کا مطالبہ کرنے والی شخصیت سیدناعمرفاروق؄تھےایسے ہی سیدنا اسماعیل ؈نے اپنے والد سیدنا ابراہیم؈ کے کہنے پر اپنی بیوی کو طلاق دی تھی،یہاں بھی ایک تو شخصیت سیدنا ابراہیم؈ تھے، دوم، ان کا مطالبہ طلاق  شرعی وجوہ کی بناء پر تھا،ایسی صورت میں والدین کی اطاعت کی جائے،جیسا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي المَعْرُوفِ (صحیح بخاری:7145)
اطاعت صرف معروف(جو شرعاً جائزہو)میں ہے۔
اور اگر والدین کا مطالبہ ایسے اسباب کی بنا پر ہو جن میں طلاق دینا شرعاً جائز ہو ،واجب نہیں ،تو اس صورت میں مصلحت راجحہ کو دیکھا جائے گا اگروالدین کی اطاعت میں مصلحت ہو تو والدین کی اطاعت کی جائے اور اگر طلاق دینے سے غالب فساد کا اندیشہ ہو ،مثلاً: بدکاری میں پڑنے کا خوف ہو،تو طلاق دینے سے گریز اولیٰ ہے،جیسا کہ ابو بکر صدیق ؄نے اپنے بیٹے محمد؄کو طلاق کا حکم دیا لیکن جب بیٹے کی حالت دیکھی تو اپنے فیصلے سے رجوع کرلیا۔
اور اگر والدین کا مطالبہ طلاق ،اسبابِ طلاقِ شرعیہ کے موافق نہ ہو ،مثلاً:وہ غیرت یا غصہ یا حسد یا ناپسندیدگی وغیرہ منفی جذبات کے زیر اثراس نوع کا مطالبہ کررہے ہوںتو خواہ وہ کتنے ہی خیر خواہ ہوں اس معاملے میں انکی اطاعت خالق کی نافرمانی تصور ہوگی اور مخلوق کی اطاعت سے اگر خالق کی نافرمانی ہو تو مخلوق کی اطاعت جائز نہیں جیسا کہ نبی معظمﷺ نے فرمایا:
لا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيةِ الخَالِقِ
||’’خالق کی نافرمانی ہو تو مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘
(طبرانی کبیر:ج: 18،ص:170،ح:381،صحیح الجامع 7520 ، المشکاۃ: 3696،مسئلہ کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو:مجموع الفتاویٰ:33/ 112،الآداب الشرعیۃ لابن مفلح:1/447، فتاوی جات کی دائمی کمیٹی، فتوی نمبر: 17332،دارلعلوم دیوبند: فتوی: 788=911/ ب)
٭نیز والدین کی خدمت کا کوئی متبادل نہیں،حتی کہ یہ جھاد فی سبیل اللہ سے بھی افضل عمل ہے،اور حصول جنت کا بہت ہی آسان راستہ ہے، جیسا کہ معاویہ بن جاہمہ السلمی ؄نے کہا کہ:
جَاءَ جَاهِمَةُ - رضي الله عنه - إِلَى النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَجِئْتُكَ أَسْتَشِيرُكَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم :  هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَالْزَمْهَا فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا-وفی روایۃ-فَارْجِعْ إِلَيْهَا فَبَرَّهَا
سیدناجاہمہ ؄نبی اکرمﷺ کے پاس آکر کہنے لگے: اللہ کے رسول ﷺ میں غزوہ میں شریک ہونا چاہتا ہوںاور آپکے پاس مشورہ لینے آیا ہوں؟نبی کریمﷺ نے اس سےپوچھا:کیا تیری ماں ہے؟اس نے کہا:جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا:اسکے پاس جا،بے شک جنت اسکے قدموں تلے ہے-ایک روایت کے الفاظ ہیں- اسکے پاس جااسکی خدمت کر۔(سنن نسائی:3104، سنن ابن ماجہ:2781،صحیح الجامع:1248،الارواء:1199)
٭ایک اور حدیث میں والدین کی خدمت کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
 نِمْتُ  فَرَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ، فَسَمِعْتُ صَوْتَ قَارِئٍ يَقْرَأُ فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : كَذَلِكَ الْبِرُّ كَذَلِكَ الْبِرُّ وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّهِ (مسند احمد:25337،الصحیحۃ:913)
میں سویا ہوا تھا کہ میں نے جنت میں کسی کو قرآن پڑھتے سنا،میں نے پوچھا:یہ کون ہے؟انہوں(فرشتوں)نے کہا:یہ حارثہ بن نعمان؄ ہیں،تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:نیکی ایسی ہوتی ہے،نیکی ایسی ہوتی ہے۔اس حدیث کی راویہ سیدہ عائشہ ؅نے کہا:حارثہ ؄ اپنی ماں کی سب لوگوں سے بڑھ کر خدمت کیا کرتا تھا۔
٭نیزوالدین کی خدمت کرنے سےاللہ تعالی کا انتہائی قرب حاصل ہوتاہے اور اس سےبڑے بڑے گناہ مٹ جاتے ہے، جیسا کہ درج ذیل واقعات سے معلوم ہوتا ہے،سیدنا عبد اللہ بن عمر؆ نے کہا:
أَتَى رَجُلٌ إلَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا كَبِيرًا، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٌ؟ فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: أَلَكَ وَالِدَانِ؟قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَكَ خَالَةٌ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَبِرَّهَا إِذًا
ایک شخص نبی کریمﷺ کے پاس آکر کہنے لگا:اللہ کے رسول ﷺ میں نے کبیرہ گناہ کیا ہے،کیا میری توبہ کا کوئی راستہ ہے؟آپ ﷺنے اس سے پوچھا: کیا تیرےوالدین ہیں؟اس نے کہا:نہیں،آپﷺ نے پوچھا:کیا تیری خالہ ہے؟اس نے کہا :جی ہاںآپ ﷺنےفرمایا : پھر اسکی خدمت کر۔(مسند احمد:4624، صحیح الترغیب:2504)
٭نیزعطاء بن یسار نے کہا کہ:
 أَتَى رَجُلٌ لابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما فَقَالَ: إِنِّي خَطَبْتُ امْرَأَةً، فَأَبَتْ أَنْ تَنْكِحَنِي، وَخَطَبَهَا غَيْرِي، فَأَحَبَّتْ أَنْ تَنْكِحَهُ، فَغِرْتُ عَلَيْهَا فَقَتَلْتُهَا، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: أُمُّكَ حَيَّةٌ؟ قَالَ: لاَ، قَالَ: تُبْ إِلَى اللهِ - عز وجل - وَتَقَرَّبْ إِلَيْهِ مَا اسْتَطَعْتَ , قَالَ عَطَاءٌ: فَذَهَبْتُ فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: لِمَ سَأَلْتَهُ عَنْ حَيَاةِ أُمِّهِ؟ فَقَالَ: إِنِّي لاَ أَعْلَمُ عَمَلاً أَقْرَبَ إِلَى اللهِ - عز وجل - مِنْ بِرِّ الْوَالِدَةِ
سیدناعبد اللہ بن عباس؆ کے پاس ایک شخص آکر کہنے لگا:میں نے ایک خاتون کو نکاح کی پیشکش کی ،اس نے انکار کردیا،پھر کسی اور نے اسے نکاح کی پیشکش کی تو وہ مان گئی،مجھے اس پر بڑی غیرت آئی،میں نے اسے قتل کردیا،کیا میری توبہ کا کوئی راستہ ہے؟ابن عباس ؆نے اس سے پوچھا:کیا تیری ماں زندہ ہے؟اس نے کہا :نہیں،ابن عباس ؆نے کہا:اللہ سے توبہ کر،اسکا قرب حاصل کرجسقدر کرسکے۔
عطاء نے کہا:میں ابن عباس ؆کے پاس آیا،میں نے کہا:آپ نے اس سے اسکی ماں کا کیوں پوچھا؟انہوں نے جواب دیا:مجھے ایسے کسی عمل کا علم نہیں جو والدین کی خدمت سے زیادہ اللہ کے قریب ہو۔ (الادب المفرد:04،الصحیحۃ:2799)
٭بلکہ والدین کی خدمت سے گناہ مٹنے اور جنت ملنے کے ساتھ جنت میں بلند درجے بھی ملتے ہیں اگرجنت میں اولاد کادرجہ والدین کے درجے سے کم ہوتو اللہ تعالی والدین کی بدولت اولاد کو بھی اونچا درجہ عطا فرمائے گا ، جیسا کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
إن الله ليرفع ذرية المؤمن إليه في درجته و إن كانوا دونه في العمل ، لتقربهم عينه ثم قرأ : والذين آمنوا و اتبعتهم ذريتهم بإيمان الآية ثم قال: و ما نقصنا الآباء بما أعطينا البنين
اللہ تعالی مومن کی اولاد کو اس تک بلند فرماتا ہے،اگرچہ وہ عمل کے اس سے نیچے درجے میں ہوں،تاکہ انکے ذریعے اسکی آنکھوں کو ٹھنڈا کرے،پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی۔
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمانٍ أَلْحَقْنا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَما أَلَتْناهُمْ مِنْ عَمَلِهِمْ مِنْ شَيْءٍ كُلُّ امْرِئٍ بِما كَسَبَ رَهِينٌ
”جو لوگ ایمان لائے اور انکی اولادایمان میں انکے نقش قدم پر چلی،ہم انکی اولاد کو انکے ساتھ ملادیں گے،اور ہم انکے عمل میں کچھ کمی نہ کریں گے،ہر شخص اپنے اعمال کے عوض مرہون ہوگا “
پھر آپ ﷺ نے فرمایا:یعنی ہم اولاد کو جو کچھ (زائد)عطاکریں گے اسکی وجہ سے آباء کے اجور میں کچھ کمی نہ کریں گے۔(القضاء والقدر للبیہقی :637، مشکل الآثار للطحاوی:911،کشف الاستار عن زوائد البزار:2260،الصحیحۃ:2490)
٭نیز والدین کے ساتھ حسن سلوک کا رد عمل دنیا میں ہی سامنے آجاتا ہے،جو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے وہی اپنے لئے بھی اپنی اولاد سے اسی حسن سلوک کی امید کرسکتا ہے،جیسا کہ درج ذیل فرمان الٰہی میں اس جانب اشارہ کیا گیا ہے،ارشاد فرمایا:
وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ
ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کا تاکیدی حکم دیا،اسکی ماں نے اسے تکالیف کے باوجود اٹھائے رکھا،اسے جنا،اور اسکی مدت حمل و رضاعت 30 ماہ ہے،پھر جبکہ وہ اپنی قوت کو پہنچا اور 40 سال کا ہوگیا،تو کہنے لگا:میرے مالک،مجھے ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق دے جو تونے مجھ پر اور میرے والدین پر کیں،اور اس بات کی توفیق کی میں نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو،اور میری اولاد کی اصلاح کرتے رہنا،میں تیری جانب توبہ کرتا ہوں،اور میں فرمانبردار ہوں۔(الاحقاف:15)
یعنی والدین کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے جو شخص خود بڑھاپے کے آغاز 40 سالہ عمر کو پہنچا ہے تو وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے لئے اپنے والدین کے لئے اور اپنی اولاد کے لئے دعاگو ہوجاتا ہے۔
نیز ایک ضعیف روایت میں واضح الفاظ میں یہ کہا گیا ہے کہ :”اپنے والدین کی خدمت کرو تمہاری اولاد تمہاری خدمت کریگی،اور خود پاک دامن رہو تمہاری بیویاں بھی پاک دامن رہیں گی“۔(طبرانی اوسط،المستدرک)
٭نیز نبی کریمﷺ والدین کی وفات کے بعد بھی انکے حقوق بیان فرماتے ،جیسا کہ درج ذیل واقعہ سے معلوم ہوتا ہے،سیدنا ابو اسید مالک بن ربیعہ ؄نے کہا:
 بينما نحن جلوس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ جاء رجل من بني سلمة فقال : يا رسول الله هل بقي من بر أبوي شيء أبرهما به بعد موتهما؟ قال :  نعم الصلاة عليهما  والاستغفار لهما وإنفاذ عهدهما من بعدهما وصلة الرحم التي لا توصل إلا بهما وإكرام صديقهما
ہم اللہ کے رسول ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ بنو سلمہ کاایک شخص آکر کہنے لگا:اللہ کے رسول ﷺ کیا میرے والدین کا کوئی حق باقی ہے،جو میں انکی موت کے بعد ادا کروں؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہاں، انکے لئے رحمت کی دعا کرنا،اور انکے لئے مغفرت کی دعا کرنا،اورانکے کئے ہوئے وعدوں کو انکے بعد بھی پورا کرنا،اور وہ رشتہ جو انکے ہونے سے جڑتا تھا انکے بعد بھی اسے جوڑے رکھنا،اور انکے دوستوں کا احترام کرنا۔
(سنن ابوداؤد:5144۔اس حدیث کی سند کے متعلق فضیلۃ الشیخ عبد المحسن بن حمد آل بدرنے کہا:فالحديث وإن كان في إسناده رجل مقبول، إلا أن له شواهد تدل عليه،یعنی اس حدیث کے شواھد ہیں۔شرح سنن ابی داؤد)
٭حق تو یہ ہے کہ والدین کے اولاد پر اسقدر حقوق ہیں جنہیں کبھی ادا نہیں کیا جاسکتا،جیسا کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
 لَا يَجْزِي  وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا, فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ (صحیح مسلم:1510)
اولاد کبھی اپنے والد کا حق ادا نہیں کرسکتی،ا لاّیہ کہ وہ اسے کسی کا مملوک”غلام“پائے پھر اسے خرید کر آزاد کر دے۔
نیزسیدناابو بردہ؄ نے کہا:میں سیدناابن عمر؆ کے پاس آیا،دیکھا کہ ایک یمنی شخص بیت اللہ کا طواف کررہا ہے،اس نے اپنی ماں کو اپنی پشت پر اٹھا رکھا ہے،اور کہہ رہا ہے:
 إِنِّي لَهَا بَعِيرُهَا الْمُذَلَّل
إِنْ أُذْعِرَتْ رِكَابُهَا  لَمْ أُذْعَرْ
 اگر میری ماں کا اونٹ اسے لے کر چلنےسے تھک گیا تو کیا؟میں اسکا فرمانبردار اونٹ ہوں میں نہیں تھکا۔
پھر وہ کہنے لگا:اے ابن عمر؆ آپکا کیا خیال ہے ،کیا میں نے اسکا حق ادا کردیا؟ابن عمر؆ نے اسے جواب دیا:
لاَ، وَلاَ بِزَفْرَةٍ  وَاحِدَةٍ
نہیں،وضع حمل کے وقت اسے ہونے والی تکلیف کی ایک سانس کا بھی نہیں۔(صحیح الادب المفرد:11)
٭والدین کے علاوہ بھی خاندان و جان پہچان اور انجان بوڑھوں اور بزرگوں کے احترام کادین اسلام حکم دیتا ہے بلکہ انکے احترام کو اللہ سبحانہ و تعالی کا احترام قرار دیتا ہے چنانچہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
إِنَّ مِنْ إِجْلَالِ اللهِ إِكْرَامَ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ (سنن ابوداؤد:4845،حسنہ الالبانی فی الضعیفۃ تحت حدیث ، رقم:3249)
ہر مسلمان بوڑھے کا احترام کرنا اللہ کو تعظیم دینا ہے۔
علامہ شمس الحق عظیم آبادی نے کہا:
بتوقيره في المجالس والرفق به والشفقة عليه ونحو ذلك، كل هذا من كمال تعظيم الله لحرمته عند الله (عون المعبود:13/132)
یعنی مجالس میں انہیں عزت دینا،انکے ساتھ نرمی برتنا،ان پر مہربانی کرنا،وغیرہ،یہ سب اللہ کی کمال تعظیم ہے کیونکہ اللہ کے ہاں اس بوڑھے کی عزت ہے۔
٭خود رسول اکرمﷺ بھی بوڑھوں بزرگوں کا احترام کرتے تھے :
أَرَانِي أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ، فَجَاءَنِي رَجُلاَنِ، أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الآخَرِ، فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الأَصْغَرَ مِنْهُمَا، فَقِيلَ لِي: كَبِّرْ، فَدَفَعْتُهُ إِلَى الأَكْبَرِ مِنْهُمَا (بخاری:246)
میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مسواک کررہا ہوں،کہ میرے پاس دو آدمی آئے،ان میں سے ایک دوسرے سےبڑا تھا،میں نے مسواک چھوٹے کو دی تو مجھ سے کہا گیا:بڑے کو دو،میں نے مسواک بڑے کو دے دی۔
٭اور اگر کبھی بزرگوں اور بوڑھوں کو جوانوں اور بچوں پر مقدم کرنے میں کوئی مانع شرعی حائل ہوتا تو آپ ﷺاسے دور کرنے کے لئے شرعی راستہ اپنانے کی کوشش کی کرتے ،جیسا کہ درج ذیل واقعہ سے معلوم ہوتا ہے،سیدنا سھل بن سعد ؄نے کہا کہ:
 أنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِشَرابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلاَمٌ ، وَعَنْ يَسَارِهِ الأشْيَاخُ ، فَقَالَ لِلغُلاَمِ :  أتَأذَنُ لِي أنْ أُعْطِيَ هؤُلاء؟  فَقَالَ الغُلامُ : لاَ وَاللهِ يَا رسولَ الله ، لا أُوْثِرُ بِنَصِيبي مِنْكَ أحَداً . فَتَلَّهُ رسولُ الله صلى الله عليه وسلم  في يَدِهِ
رسول اللہ ﷺ کے پاس پینے کی کوئی شے لائی گئی، آپ ﷺنے اس میں سے پیا،آپکی دائیں جانب ایک بچہ تھا اور بائیں جانب کچھ بوڑھے،آپﷺ نے بچے سے پوچھا:کیا آپ اجازت دیتے ہو کہ میں یہ ان بزرگوںکو دوں؟بچے نے جواب دیا:نہیں، اللہ کی قسم، اللہ کے رسول ﷺ آپکے جھوٹے پر میں اپنے سوا کسی کو ترجیح نہ دوں گا،پھر آپ ﷺ نے وہ مشروب اس بچے کو تھمادیا۔(بخاری:2451)
٭نہ صرف خود احترام کرتے بلکہ لوگوں کو بھی اسکا حکم دیتے اور اسکے فضائل بیان کرتے ،اور مسلمان بوڑھوں اور بزرگوں کو سب کے لئے برکت کا باعث قرار دیتے،جیسا کہ ارشاد فرمایا:
مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا فَلَيْسَ مِنَّا (سنن ابوداؤد:4945،الصحیحۃ:2196)
جو ہمارے بچوں پر شفقت نہ کرے اور ہمارے بوڑھوں کی عزت نہ کرے وہ ہم سےنہیں۔
نیز فرمایا:
الْبَرَكَةُ مَعَ أَكَابِرِكُمْ (صحیح ابن حبان:559، الصحیحۃ:1778)
برکت تمہارے بڑوں کے ساتھ ہے۔
نیز ایک ضعیف روایت میں کہا گیا ہے کہ:جو نوجوان کسی بوڑھے کی اسکے بڑھاپے کے باعث تکریم کرتا ہے تو اللہ تعالی اسکے بڑھاپے میں اسے ایسا شخص عطا فرماتا ہے جو اسکی تکریم کرے۔(ترمذی)
٭نیز عمر رسیدہ مسلمانوں کو معاشرے کے بہترین افراد قرار دیتے ،جیسا کہ ارشاد فرمایا:
 أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا وَأَحْسَنُكُمْ أَخْلَاقًا۔وفي روايۃ۔ وَأَحْسَنُكُمْ أَعْمَالًا
کیا میں تمہیں تمہارے بہترین افراد کا بتاؤں؟صحابہ نے کہا:ضرور ،آپ ﷺ نے فرمایا:تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جنکی عمر تم سے زیادہ ہو اور اخلاق تم سے اچھے ہوں۔دوسری روایت میں۔اعمال تم سے اچھے ہوں۔ (مسند احمد:9235،صحیح ابن حبان:2981،الصحیحۃ:1298-2498)
٭نیز عمر رسیدگی اور بڑھاپے کو ”سعادت“قراردیتے ، جیسا کہ ارشاد فرمایا:
لَا تَمَنَّوْا الْمَوْتَ، فَإِنَّ هَوْلَ الْمَطْلَعِ شَدِيدٌ، وَإِنَّ مِنَ السَّعَادَةِ أَنْ يَطُولَ عُمْرُ الْعَبْدِ، وَيَرْزُقَهُ اللهُ الْإِنَابَةَ (حسنہ الارناؤط،مسنداحمد:14604،14564)
موت کی تمنا نہ کرو،کیونکہ ابتدائی ہولناکی شدید ہے،جبکہ سعادت یہ ہے کہ بندے کی عمر دراز ہو اور اللہ تعالی اسے ”انابت“کی توفیق دے۔
”انابت“کا معنی ہے رجوع کرنا،یعنی دل کو شبہات کے اندھیروں سے پاک کرلینا،اپنے تمام امور میں اللہ سبحانہ و تعالی کی جانب رجوع کرنا،غفلت کے بجائے ذکر اور وحشت کے بجائے انسیت میں مشغول رہنا۔ (التعریفات)
٭نیزبزرگوں کےادب کی تعلیم دیتے:
يُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الكَبِيرِ، وَالمَارُّ عَلَى القَاعِدِ، وَالقَلِيلُ عَلَى الكَثِيرِ
چھوٹا ،بڑے کو سلام کرے،پیدل بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور کم زیادہ کو سلام کریں۔(صحیح بخاری:6231)
٭نیز بزرگوں کے احترام کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی تعظیم قرار دیتے:
إِنَّ مِنْ إِجْلاَلِ اللهِ إِكْرَامَ ذِى الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ وَحَامِلِ الْقُرْآنِ غَيْرِ الْغَالِى فِيهِ وَالْجَافِى عَنْهُ وَإِكْرَامَ ذِى السُّلْطَانِ الْمُقْسِطِ
بوڑھے مسلمان کی تکریم کرنا،حامل قرآن جو اس میں غلو نہ کرے(یعنی متشابہات کے پیچھے نہ پڑے) نہ ہی اسے ترک کرے، (یعنی جاننے کے باوجود عمل نہ کرے) اور عادل حاکم کی تکریم کرنا اللہ کی تعظیم کرنا ہے۔(سنن ابوداؤد:4845،صحیح الجامع:2199)
٭نیزانکی بے ادبی سے منع کرتے:
لَيْسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَمْ يُجِلَّ كَبِيرَنَا , وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا , وَيَعْرِفْ لِعَالِمِنَا حَقَّهُ
وہ میری امت کا فرد نہیں ہوسکتا جو ہمارے بڑوں کا ادب نہ کرے اور ہمارے بچوں پر شفقت نہ کرےاور ہمارے عالم کا حق نہ جانے۔(مسند احمد:22755،الصحیحۃ: 2196-6753،صحیح الجامع:5443)
٭بلکہ نماز جیسے فریضے کی ادائیگی میں بھی بوڑھوں کا خیال کرنے کا حکم دیتے چنانچہ ایک روزسیدنا عثمان بن ابو العاص؄ نے کہا :
يَا رَسُولَ اللهِ اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي , فَقَالَ: أَنْتَ إِمَامُهُمْ , وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا
اللہ کے رسول ﷺ مجھے میری قوم کا امام بنادیں،آپ ﷺ نے فرمایا:تو انکا امام ہے اور ان میں جو کمزور ہوں انکی رعایت کرنا،اور مؤذن اسے بنانا جو آذان کی اجرت نہ لے۔(سنن ابو داؤد:531،ارواء الغلیل:1492)
٭نیز نماز میں بوڑھوں اور بیماروں کا خیال؛ نہ کرنے والوں پر ناراضگی کا اظہار کرتے،جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہےسیدنا ابو مسعود انصاری ؄نے کہا:
وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلاَةِ الغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلاَنٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالكَبِيرَ وَذَا الحَاجَةِ
ایک شخص نے کہا :اللہ کے رسول اللہ کی قسم میں فلاں شخص کی وجہ سے نماز فجر میں لیٹ جاتا ہوں کیونکہ وہ ہمیں لمبی نماز پڑھاتا ہے،راوی نے کہا:میں نے رسول اللہ ﷺ کو کسی وعظ میں اتنا غصہ نہیں دیکھاجو اس دن تھا، آپ نے فرمایا:تم میں کچھ لوگ متنفر کرنے والے ہیں،تم میں سے جو بھی لوگوں کو نماز پڑھائے وہ ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ مقدیوں میں کمزور ،بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔(صحیح بخاری:702)
٭نیز امامت کا حق کن لوگوں کو حاصل ہے انکی ترتیب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً، فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً، فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً، فَأَقْدَمُهُمْ سِنّاً، وَلَا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ
لوگوں کی امامت وہ کروائے جو اُن میں کتاب اللہ کا بڑا قاری ہو،اگر وہ قراءت میں برابر ہوں توجو اُن میں سنت کا بڑا عالم ہو،اگر وہ سنت کے علم میں برابر ہوں تو جو ان میں ہجرت میں مقدم ہو،اگر وہ ہجرت میں برابر ہوں تو،جو عمر میں بڑا ہو،اور کوئی شخص کسی امیر کی موجودگی میں امامت نہ کروائے نہ ہی اسکی نشت پر بیٹھے مگر اسکی اجازت سے۔ (صحیح مسلم،بروایۃ الاشج:673)
٭اور جو بزرگوں کا حترام نہ کرے یا انکا خیال نہ کرےاسکی مذمت کرتے اور اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے،جیسا کہ انس بن مالک؄ نے کہا:
جَاءَ شَيْخٌ يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْطَأَ القَوْمُ عَنْهُ أَنْ يُوَسِّعُوا لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا-وفی روایۃ- وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا
ایک بوڑھا شخص آیا جو نبی کریمﷺ تک پہنچنا چاہتا تھا،لوگوں نے اسے جگہ دینے میں تاخیر کی تو آپ ﷺ نےفرمایا:جو ہمارےچھوٹوں پرشفقت نہ کریں اور ہمارے بڑوں پر مہربانی نہ کریں -ایک روایت میں ہے اور ہمارے بڑوں کا حق نہ پہچانیںوہ ہم میں سے نہیں۔ (سنن ترمذی:1919،سنن ابو داؤد:4945،الصحیحۃ:2196)
٭نیز ہر اہم موقع پر بزرگوں کو مقدم کرنے کی ترغیب دیتے جیسا کہ درج ذیل واقعہ سے معلوم ہوتا ہے، سیدناجابر بن عبد اللہ ؆نے کہا:
قَدِمَ وَفْدُ جُهَيْنَةَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ غُلَامٌ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَهْ، فَأَيْنَ الْكِبَرُ
قبیلہ جہینہ کا وفد نبی کریمﷺ سے ملاقات کے لئے آیا،تو ایک بچہ بات کرنے کے لئے اٹھا تو نبی کریم ﷺنے فرمایا:ٹھہرجاؤبڑا کہاں ہے؟(بیہقی،شعب الایمان:10486)
ایسے ہی ایک موقع پر عبدالرحمن بن سھل؄ نامی ایک لڑکے نے بولنے میں پہل کی تو نبی ﷺ نے فرمایا:
كَبِّرْ كَبِّرْ
بڑے کو لاؤ،بڑے کو موقع دو۔(صحیح بخاری:3173)
نیزقیس بن عاصم السعدی؄ جنہیں رسول اللہ ﷺ نے ”هَذَا سَيِّدُ أَهْلِ الْوَبَرِ“یعنی اہل بادیہ کا سردار قرار دیا،جب وہ فوت ہونے لگے تو انہوں نے اپنی اولاد کو جمع کرکے چند نصیحتیں کیں جن میں سے ایک یہ بھی تھی کہ:
اتقوا الله وسودُوا أكبركم؛ فإن القوم إذا سودوا أكبرهم خلفوا أباهم، وإذا سودوا أصغرهم أزرى بهم ذلك في أكفائهم
اللہ سے ڈرتے رہنا،اور اپنے بڑوں کو اپنا سردار بنانا،کیونکہ جب لوگ اپنے بڑوں کو سردار بناتے ہیں تو وہ اپنے آباء کے جانشین بنتے ہیں،لیکن جب وہ اپنے چھوٹوں کو سردار بنالیں تو وہ انہیں ذلیل کرکے یہ منصب اپنے ہم عمروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔(صحیح الادب المفرد:277)
٭نیز اللہ سبحانہ و تعالی نے کسی بھی فرد یا قوم کا مذاق اڑانے سے منع کیا ہے ،جیسا کہ ارشاد فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ عَسَى أَن يَكُونُوا خَيْراً مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاء مِّن نِّسَاء عَسَى أَن يَكُنَّ خَيْراً مِّنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
اے ایمان والو کوئی قوم کسی دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہو وہ ان سے بہتر ہوں ، نہ ہی خواتین دیگر خواتین کا مذاق اڑائیں ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں،اور اپنے ہی نفوس کے عیب نہ ٹٹولو،نہ ہی ایک دوسرے کو برے ناموں سے پکارو کیونکہ ایمان کے بعد سب سے برا نام ”فاسق“ہے اور جو لوگ باز نہ آئیں گے تو وہ ظالم ہوں گے۔(الحجرات)
اگرچہ یہ آیت عام ہے لیکن ہمارے معاشرے میں خاص طور پر بوڑھوں کے ساتھ یہ بدسلوکی اختیار کی جاتی ہے جبکہ بوڑھوں کا دین اسلام میں کسقدر ادب و احترام ہے یہ گذشتہ سطور سے واضح ہے،لہذا بوڑھوں کے ساتھ سلوک میں یہ آیت ہمیشہ ملحوظ خاطر رہنی چاہیئے۔

Read 1204 times Last modified on 15 Jan,2017
Rate this item
(0 votes)
ایڈیٹر

Latest from ایڈیٹر

Related items