اللہ رب العزت ہر چیز کا تنہا خالق اور منفرد مالک ہے ، اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہے دوسروں پر فضیلت عطا فرماتا ہے ۔ بعض انسانوں کو دوسروں سے اعلیٰ ٹھہرایا، بعض مقامات کو دوسری جگہوں سے افضل قرار دیا اور بعض زمانوں اور اوقات کو دوسرے زمانوں اور اوقات پر فوقیت اور برتری عطا فرمائی۔
اسی سنت الٰہیہ کا ایک مظہر یہ ہے کہ اللہ مالک الملک نے ماہ ذو الحجہ کے ابتدائی دس دنوں کو سارے سال کے دوسرے دنوں کے مقابلے میں اعلیٰ ، افضل ، بالا اور برتر قرار دیا۔ ذیل میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ان دنوں کے متعلق تین پہلوؤں سے گفتگو کی جا رہی ہے ۔
-۱- عشرہ ذو الحجہ کے فضائل
-۲- عشرہ ذو الحجہ کے اعمال
-۳- عشرہ ذو الحجہ میں اعمال حج
-۱- عشرہ ذو الحجہ کے فضائل
قرآن وسنت میں ان دس دنوں کی شان وعظمت کے متعدد دلائل وشواہد ہیں ۔ مولائے کریم کی توفیق سے ان میں سے چھ دلیلیں ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں :
۱۔﴿وَالفَجرِ ٭ وَلَیَالٍ عَشرٍ﴾-الفجر:الآیتان –
’’ قسم ہے فجر اور دس راتوں کی ۔‘‘
امام بغوی رحمہ اللہ نے تحریر کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ﴿ وَلَیَالٍ عَشرٍ﴾سے مراد ذو الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں اور یہی قول امام مجاہد ، قتادہ، ضحاک ، سدی اور کلبی رحمہم اللہ کا ہے ۔ -ملاحظہ ہو : تفسیر البغوی ۴/۴۸۱-

اور بلاشک وشبہ اللہ تعالیٰ کا ان دنوں کی قسم کھانا ان کی شان وعظمت پر دلالت کرتا ہے ۔
۲۔ ان دس دنوں کے ساتھ حج کے مہینوں کا اختتام ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَلحَجَّ أَشہُرٌ مَعلُومَاتٍ﴾-البقرۃ:۱۹۷-
’’ حج کے مہینے معلوم ہیں ۔‘‘
حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے لکھا ہے :’’ ذوالحجہ کے دس دنوں کے فضائل میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ وہ معلوم مہینوں کا آخری حصہ ہیں اور وہ مہینے حج کے ہیں ، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿اَلحَجَّ أَشہُرٌ مَعلُومَاتٍ﴾-البقرۃ:۱۹۷-
’’اور وہ شوال ، ذوالقعدہ اور ذو الحجہ کے دس دن ہیں ۔‘‘ -لطائف المعارف ص:۴۷۱-
۳۔ اللہ تعالیٰ نے ان دس دنوں میں اپنے ذکر کرنے کا خصوصی طور پر تذکرہ فرمایا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے

﴿وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ فِی أَیَّامٍ مَعْلُومَاتٍ ﴾-الحج :۲۸-

’’ اور معلوم دنوں میں اللہ تعالیٰ کا نام یاد کریں ۔‘‘
امام بخاری رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے ، کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا ، کہ ان معلوم دنوں سے مراد عشرہ ذو الحجہ کے دس دن ہیں ۔
-ملاحظہ ہو : صحیح البخاری:۲/۴۵۷-
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرات ائمہ حسن ، عطاء ، عکرمہ، مجاہد ، قتادہ اور شافعی رحمہم اللہ نے بھی اس آیت کریمہ کی یہی تفسیر بیان کی ہے ۔
-ملاحظہ ہو : زاد المسیر:۵/۴۲۵-
ذکر الٰہی تو ہر روز بندوں پر لازم ہے ، لیکن مولائے کریم کا اپنی یاد کیلئے کچھ دنوں کا خصوصی طور پرذکر فرمانا، یقینا ان دنوں کی رفعت وعظمت کو اجاگر کرتا ہے ۔
۴۔ان دس دنوں میں کیا جانے والا اچھا کام اللہ تعالیٰ کو سال کے باقی دنوں میں کیے ہوئے نیک اعمال سے زیادہ پیارا ہے ۔ حضرات ائمہ ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ رحمہم اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی ہے ، کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا

’’ما مِنْ أَیَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِیہِنَّ أَحَبُّ إِلَی اللَّہِ مِنْ ہَذِہِ الْأَیَّامِ الْعَشْرِ فَقَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ وَلَا الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَا الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ فَلَمْ یَرْجِعْ مِنْ ذَلِکَ بِشَیْءٍ۔‘‘-ملاحظہ ہو : صحیح سنن أبی داؤد۲/۴۶۲، وصحیح سنن الترمذی ۱/۲۲۹، وصحیح سنن ابن ماجہ ۱/۲۸۹-

’’کسی بھی دن میں [کیا ہوا] اچھا کام اللہ تعالیٰ کو ان دس دنوں میں [کیے جانے والے نیک] عمل سے زیادہ پیارا نہیں ۔ انہوں نے [صحابہث] نے عرض کیا :’’ یا رسول اللہا ! -دوسرے دنوں میں کیا ہوا- جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ؟‘‘
آپ نے فرمایا :’’ -دوسرے دنوں میں کیا ہوا- جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ۔ ہاں ، مگر وہ شخص جو اپنی جان ومال کے ساتھ[راہ جہاد میں ] نکلے اور کچھ واپس لیکر نہ آئے ۔ -یعنی اپنی جان ومال اسی راہ میں قربان کر دے -۔‘‘
حافظ ابن رجب نے اس حدیث کی شرح میں تحریر کیا ہے :’’ جب ان دس دنوں میں کیا ہوا اچھا کام، بارگاہ الٰہی میں سال کے باقی سارے دنوں میں کیے ہوئے نیک اعمال سے زیادہ فضیلت والا اور محبوب ہے ، تو ان دنوں کی کم درجہ کی نیکی، دوسرے دنوں کی بلند درجہ والی نیکی سے افضل ہو گی، اسی لئے جب حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا، کہ کیا سال کے بقیہ دنوں میں کیا ہوا جہاد بھی دربار رب العالمین میں ان دنوں کے عمل سے زیادہ عظمت والا اور عزیز نہیں ؟ تو آپ نے جواب میں فرمایا :’’ نہیں ‘‘ ۔-لطائف المعارف :۴۵۸۔۴۵۹-
حافظ ابن حجر نے عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھا ہے ’’ عشرہ ذوالحجہ کی امتیازی شان کا سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں میں بنیادی عبادات جو کہ نماز ، روزہ ، صدقہ اور حج ہیں وہ سب اکٹھی ہوجاتی ہیں اور وہ ان کے علاوہ کسی اور دنوں میں جمع نہیں ہوتیں ۔ -فتح الباری ۲/۴۶۰-
۵۔ عشرہ ذوالحجہ کے فضائل میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ ان میں سے نواں دن یوم عرفہ ہے اور یہ وہی دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو مکمل فرمایا اور اہل اسلام پر اپنی نعمت کو پورا فرمایا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک یہودی نے ان سے کہا :’

’یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ آیَۃٌ فِی کِتَابِکُمْ تَقْرَء ُونَہَا لَوْ عَلَیْنَا مَعْشَرَ الْیَہُودِ نَزَلَتْ لَاتَّخَذْنَا ذَلِکَ الْیَوْمَ عِیدًا

‘‘ ’’اے امیر المؤمنین ! تمہاری کتاب میں ایک آیت ہے جس کو تم پڑ ھتے ہو ، اگر ہم یہودیوں پر وہ نازل ہوتی ، تو ہم اس کے یوم نزول کو عید بنالیتے ۔‘‘
انہوں نے دریافت کیا :’’اَیُّ آیَۃٍ‘‘ کون سی آیت ؟‘‘
اس نے کہا

﴿الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمْ الْإِسْلَامَ دِینًا ﴾-المائدہ:۳-

’’آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔‘‘
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’

’قَدْ عَرَفْنَا ذَلِکَ الْیَوْمَ وَالْمَکَانَ الَّذِی نَزَلَتْ فِیہِ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَۃَ یَوْمَ جُمُعَۃٍ‘‘ -صحیح البخاری ۱/۱۰۵-

’’ جس دن اور جس جگہ نبی کریم پر وہ [آیت] نازل ہوئی ، ہم اس سے آگاہ ہیں ۔ جمعہ کا دن تھا اور آپ ا عرفات میں کھڑ ے تھے ۔‘‘
اور یہ وہ عظیم دن ہے ، کہ اس میں اللہ تعالیٰ سال کے سارے دنوں میں سے ہر دن کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزادی عطا فرماتے ہیں ۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے ، کہ انہوں نے بیان کیا کہ ’’یقینا رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:’

مَا مِنْ یَوْمٍ أَکْثَرَ مِنْ أَنْ یُعْتِقَ اللَّہُ فِیہِ عَبْدًا مِنْ النَّارِ مِنْ یَوْمِ عَرَفَۃَ‘‘ -صحیح مسلم۲/۹۸۳-

’’کوئی دن ایسا نہیں ، کہ اس میں اللہ تعالیٰ عرفات کے دن سے زیادہ لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہو۔‘‘
۶۔ عشرہ ذوالحجہ کے فضائل میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ اس کاآخری اور دسواں دن ’’یوم النحر‘‘ [قربانی کا دن] ہے جس کے بار ے میں رسول کریم نے فرمایا :’’أفضل الأیام عند اللہ یوم النحر ویوم القر‘‘ -المسند۴/۳۵۰، والاحسان إلی تقریب صحیح ابن حبان ۷/۵۱ ، والمستدرک ۴/۲۲۱-
’’بارگاہ الٰہی میں سب سے فضیلت والا دن یوم النحر اور یوم القر ہے ۔‘‘
گیارہ ذوالحجہ کو ’’یوم القر‘‘ کہتے ہیں کہ حجاج اس دن منیٰ میں ٹھہرتے ہیں ۔ -ملاحظہ ہو : النہایہ فی غریب الحدیث والأثر ۴/۳۷-
-۲- عشرہ ذو الحجہ کے اعمال
رب رحمن ورحیم کی طرف سے عشرہ ذوالحجہ اہل ایمان کیلئے اجر وثواب حاصل کرنے کا عظیم الشان اور سنہری موقع ہے کہ ان دنوں کی معمولی درجہ کی نیکی بھی دوسرے دنوں کے اعلیٰ درجہ کی نیکیوں سے افضل ہے ۔ اس لئے اللہ والے ان دنوں میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کر کے زاد آخرت جمع کرنے کی شدید جدوجہد کرتے تھے ۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کے متعلق نقل کیا ہے :جب عشرہ [ذوالحجہ] داخل ہوجاتا تو سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ تاحد استطاعت شدید عبادت کرتے ۔
-سنن دارمی ۱/۳۵۷-
ان ایام میں درج ذیل اعمال کرنے کا احادیث شریفہ میں خصوصی طور پر ذکر آیا ہے ۔
۱۔کثرت سے تہلیل ، تکبیر اور تحمید کہنا
امام احمد رحمہ اللہ نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم نے فرمایا :

’’مَا مِنْ أَیَّامٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّہِ وَلَا أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنْ الْعَمَلِ فِیہِنَّ مِنْ ہَذِہِ الْأَیَّامِ الْعَشْرِ فَأَکْثِرُوا فِیہِنَّ مِنْ التَّہْلِیلِ وَالتَّکْبِیرِ وَالتَّحْمِیدِ‘‘ -المسند ، حدیث نمبر :۵۴۴۶، ۷/۲۲۴ ط : دار المعارف مصر-

’’کوئی دن بارگاہ الٰہی میں ان دس دنوں سے زیادہ عظمت والا نہیں اور نہ ہی کسی دن کا [اچھا] عمل اللہ تعالیٰ کو ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب ہے ۔ پس تم ان دس دنوں میں کثرت سے [ لا الہ إلا اللہ ] ، [ اللہ اکبر] اور [الحمد للہ] کہو۔‘‘
سلف صالحین اس بات کا بہت اہتمام کیا کرتے تھے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے :

’’ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ وَأَبُو ہُرَیْرَۃَ یَخْرُجَانِ إِلَی السُّوقِ فِی أَیَّامِ الْعَشْرِ یُکَبِّرَانِ وَیُکَبِّرُ النَّاسُ بِتَکْبِیرِہِمَا وَکَبَّرَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ خَلْفَ النَّافِلَۃِ‘‘ -صحیح البخاری ۲/۴۵۷-

’’ان دس دنوں میں ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم تکبیر پکارتے ہوئے بازار نکلتے ، اور لوگ بھی ان کے ساتھ تکبیر کہنا شروع کر دیتے ۔ محمد بن علی رحمہما اللہ تعالیٰ نفلی نماز کے بعد تکبیر کہتے ۔‘‘
محمد بن علی سے مراد حضرت ابو جعفر باقررحمہ اللہ ہیں ۔ -ملاحظہ ہو : فتح الباری ۲/۴۵۸-
۲۔ نوذوالحجہ کا روزہ رکھنا
امام مسلم رحمہ اللہ نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ

’’وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَرَفَۃَ فَقَالَ یُکَفِّرُ السَّنَۃَ الْمَاضِیَۃَ وَالْبَاقِیَۃَ‘‘
-صحیح مسلم۲/۸۱۹-

’’رسول اللہ سے یوم عرفہ [نوذوالحجہ] کے روزے کے متعلق سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا : گذشتہ اور آئندہ سال کے گناہ دور کر دیتا ہے ۔‘‘
رسول کریم خود بھی اس دن کا روزہ رکھا کرتے تھے ۔ امام ابوداؤد اور امام نسائی رحمہما اللہ نے نبی کریم کی ایک زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا:’’

کَانَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصُومُ تِسْعَ ذِی الْحِجَّۃِ وَیَوْمَ عَاشُورَاءَ وَثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ‘ ‘ -ملاحظہ ہو: صحیح سنن ابی داؤد۲/۴۶۲، وصحیح سنن النسائی ۲/۵۰۸-

’’رسول اللہ نو ذوالحجہ ، یوم عاشوراء -دس محرم- اور ہر ماہ میں سے تین دن روزہ رکھتے تھے ۔‘‘
نبی کریم نے حجۃ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں اس دن کا روزہ نہیں رکھا تھا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدتنا ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے کہ

’’ أَنَّ نَاسًا اخْتَلَفُوا عِنْدَہَا یَوْمَ عَرَفَۃَ فِی صَوْمِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعْضُہُمْ ہُوَ صَائِمٌ وَقَالَ بَعْضُہُمْ لَیْسَ بِصَائِمٍ فَأَرْسَلْتُ إِلَیْہِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَہُوَ وَاقِفٌ عَلَی بَعِیرِہِ فَشَرِبَہُ‘‘
-صحیح البخاری ۳/۵۱۳-

’’یقینا کچھ لوگوں نے ان کے سامنے عرفہ کے دن نبی کے روزے کے بارے میں اختلاف کیا :کچھ نے کہا کہ ’’وہ روزے سے ہیں ، اور کچھ نے کہا کہ ’’ ان کا روزہ نہیں ہے ۔‘‘
پس میں نے آپ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا اور تب آپ اونٹ پر تھے ، آپ نے اسے پی لیا۔
حضرات خلفائے ثلاثہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم بھی حج کے موقع پر اس دن کا روزہ نہیں رکھتے تھے ۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اور امام عبد الرزاق رحمہ اللہ نے ابی نجیح رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے کہ عرفہ کے روزے کے متعلق سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا

:’’ حَجَجْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ یَصُمْہُ وَمَعَ أَبِی بَکْرٍ فَلَمْ یَصُمْہُ وَمَعَ عُمَرَ فَلَمْ یَصُمْہُ وَمَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ یَصُمْہُ وَأَنَا لا أَصُومُہُ وَلَا آمُرُ بِہِ وَلَا أَنْہَی عَنْہُ‘‘ -جامع الترمذی ۲/۵۶ ، ط: دار الکتاب العربی بیروت ، والمصنف

: کتاب الصیام ۴/۲۸۵، الفاظ حدیث جامع الترمذی کے ہیں –
’’ میں نے نبی کریم کے ساتھ حج کیا ، آپ نے [ اس دن کا] روزہ نہ رکھا ، ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی – میں نے حج کیا- ، انہوں نے یہ روزہ نہ رکھا ، عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی -حج کیا- انہوں نے بھی یہ روزہ نہ رکھا ، عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی -حج کیا- ، انہوں نے بھی یہ روزہ نہ رکھا ، اور میں بھی -حج کے موقع پر – یہ روزہ نہیں رکھتا ، اور -حج کے دوران- اس کے رکھنے کا حکم بھی نہیں دیتا اور روکتا بھی نہیں ۔‘‘
نوٹ: ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ ’’ نبی کریم نے عرفات کے مقام پر یوم عرفہ[نوذوالحجہ] کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا لیکن یہ حدیث ضعیف ہونے کی بنا پر دلیل نہیں بن سکتی ۔ -تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو : سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ ، حدیث نمبر :۴۰۴، ۱/۳۹۷-
۳۔ دس ذوالحجہ کو قربانی کرنا
عشرہ ذوالحجہ کے آخری دن کانام [یوم النحر] قربانی کا دن ہے اور اس دن قربانی کرنا بہت بڑ ے اجر وثواب والاعمل ہے ۔ -قربانی کی اہمیت کے بارے میں تفصیلی گفتگو راقم السطور کی کتاب [مسائل قربانی، ص۱۹۔۲۵] میں ملاحظہ فرمائیے –
تنبیہ: قربانی کرنے والے ہلال ذوالحجہ کے بعد سے قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ چھیڑ یں ۔ -اس بارے میں تفصیل اسی کتاب کے ص۲۵ تا ۲۸ میں دیکھئے –
-۳- عشرہ ذو الحجہ میں اعمال حج
ان دس دنوں میں کچھ اعمال صرف حجاج کے کرنے کے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ذیل میں ان اعمال کا اختصار کے ساتھ ذکر کیا جا رہا ہے ۔
۱۔ آٹھ ذوالحجہ کو منیٰ روانہ ہونا
حج کے اعمال پانچ یا چھ دنوں میں ادا کیے جاتے ہیں ۔ ان اعمال کی ابتداء آٹھ ذوالحجہ ہی سے ہوتی ہے ۔ اس دن کو -یوم الترویہ- اونٹوں کو پانی پلانے کا دن کہتے ہیں ، کہ اس دن سفر حج کی تیاری کیلئے اونٹوں کو پانی پلایا جاتا تھا۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے آنحضرت کے حجۃ الوداع کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرمایا

:’’ فَلَمَّا کَانَ یَومُ التَّروِیَۃِ تَوَجَّہُوا إِلَی مِنٰی ۔‘‘ -صحیح مسلم ۲/۸۸۹-

’’جب یوم الترویہ [۸ ذوالحجہ] آیا ، تو وہ منی کی طرف روانہ ہوئے ۔‘‘
۲۔ نو ذوالحجہ کو وقوف عرفات کرنا
نو ذوالحجہ کو میدان عرفات میں نماز ظہر سے غروب آفتاب تک ٹھہرنا حج کا رکن اعظم ہے ۔ نبی کریم نے فرمایا :’’ اَلحَجُّ عَرَفَۃٌ‘‘ -ملاحظہ ہو : صحیح سنن ابی داؤد ۱/۳۶۷، وصحیح سنن الترمذی ۱/۲۶۵ ، وصحیح سنن النسائی ۲/۶۳۳ ، وصحیح سنن ابن ماجہ ۲/۱۷۳- ’’ حج تو [وقوف]عرفات ہے ۔‘‘
اس موقع پر کی ہوئی دعاؤں کے بار ے میں رسول اللہ نے فرمایا ’’خَیرُ الدُّعَائِ دُعَائُ یَومِ عَرَفَۃ‘‘ -ملاحظہ ہو : صحیح سنن الترمذی ۳/۱۸۴- ’’بہترین دعا یوم عرفہ کی دعا ہے ۔‘‘
۳۔ دس ذوالحجہ کے اعمال حج
حضرات حجاج نو ذوالحجہ کا دن عرفات میں گزار کر اور اس کے بعد رات مزدلفہ میں بسر کر کے دس ذوالحجہ کو منیٰ میں پہنچتے ہیں اور درج ذیل چار کام کرتے ہیں
۱۔ جمرۃ عقبہ کو سات کنکریاں مارتے ہیں ۔
۲۔ حج تمتع اور حج قران والے قربانی کرتے ہیں ۔
۳۔ حجامت کرواتے ہیں ۔
۴۔ طواف زیارت کرتے ہیں ۔
حج تمتع والے صفا اور مروہ کی سعی بھی کرتے ہیں ۔ حج قران کرنے والے جن لوگوں نے طواف قدوم کے ساتھ سعی نہ کی ہو وہ سعی بھی کرتے ہیں ۔
اللہ مالک العلام سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان ایام میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے