\

از طیب معاذ

امیر محترم مدیر الجامعہ جناب ڈاکٹر محمد راشد رندھاوا حفظہ اللہ تعالیٰ کی جامعہ میں آمد۔

جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کا شمارملک عزیز کی ان جامعات میں ہوتاہے جوکہ معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کی بیخ کنی کیلئے رجال کار کی تیاری میں مصروف عمل ہیں الحمد للہ جامعہ کے جملہ رفاعی ،دعوتی ،تبلیغی اور تعلیمی امور کی نگرانی کیلئے محترم جناب ڈاکٹر راشد رندھاوا حفظہ اللہ تعالیٰ (سابق چیئرمین وفاقی بیت المال پاکستان) جیسی بیدار مغزقیادت میسر ہے ڈاکٹر صاحب کی زیر نگرانی چلنے والے تعلیمی ادارے اپنی مثال آپ ہیں جوکہ مدیر جامعہ کے خلوص کا مظہر ہیں ۔ تقبل اللہ سعیہ
جامعہ کی تعلیمی ودعوتی سرگرمیوں کے بارے میں جاننے اور مزید بہتری کیلئے مدیر جامعہ گاہے بگاہے تشریف لاتے رہتے ہیں اسی سلسلے گزشتہ دنوں14 مئی 2009ء جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے مدیر لاہور سے یہاں پر تشریف لائے۔ بروز جمعرات بعد از نمازِ فجر انہوں نے جامعہ کی عظیم الشان مسجد میں جاری حلقات قرآنیہ کا معائنہ کیا اور اس میں مزید بہتری لانے کیلئے مفید تجاویز بھی دیں۔ ناشتہ کے بعد انہوں نے اسمبلی میں طلباکرام کو نصیحت کی اور کہا کہ کسی بھی ادارے کا نظم ونسق اس وقت حقیقی کامیابی حاصل کرتاہے جب اس کے متعلقین آپس میں تعاون اور ہمدردی کا مظاہرہ کریں انہوں نے طلبہ کو تعلیمی میدان میں محنت کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ کامیاب زندگی کیلئے بھرپور اور مسلسل محنت اولین شرط ہے اس لئے آپ محنت کادامن مضبوطی سے تھامیں۔
اسمبلی کے بعد گیارہ بجے تک جامعہ کی گورننگ باڈی کا اجلاس ڈاکٹرصاحب کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں جامعہ کی فروعات کے بارے میں متعدد اقدامات کا فیصلہ کیا گیا اور جامعہ میںجاری تعلیمی وتصنیفی امور میں جاری سرگرمیوں کے متعلق بھی متعدد فیصلے کئے گئے ۔ تقریباً گیارہ بجے مدیرمحترم نے اساتذہ جامعہ کیساتھ خصوصی نشست میں شرکت کی اور ہر استاذ کو جامعہ کی تعمیر وترقی کیلئے کام کرنے کی ہدایت کی نمازِ عصر کے بعد امیر محترم نے طلبہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے ساتھ ایک مجلس کی جس میں سب سے پہلے انہوں نے انتہائی معلوماتی اور تحقیقی درس بعنوان’’ اسلام اور جدید میڈیکل‘‘ ارشاد فرمایا انہوں نے اسلام میں صحت کی حفاظت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے قوی اور طاقتور مؤمن کو ضعیف اور کمزورمؤمن سے افضل قرار دیا ہے اور طاقت کا حصول اگر اطاعت الٰہی کی نیت سے ہوتو یہ بھی عبادت ہے۔ جدید میڈیکل نے برسوں تحقیق کے بعد جو نتائج بیان کئے ہیں رسول اللہ ﷺ نے وہی حقائق چندارشاروں میں آج سے چودہ صدیوں پہلے دنیا کو بتلا دئیی تھے اسی لئے رسول عربی ا کالا ئف سٹائل اور سلیقہ حیات دنیا کا کامیاب ترین سلیقہ حیات تھا۔انہوں نے طلبہ کو کھانے پینے میں احتیاط برتنے کی تلقین کی اور کہا کہ آپ بازار سے صرف دودھ اور دہی خریدیں مشروبات میں عرف عامہ میں مشہور پیپسی ، کوکاکولا وغیرہ معدے کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ مختصر سے درس کے بعد طلبا کو جامعہ کے نظام پر تعمیری تنقیداوربہتری کیلئے تجاویز بیان کرنے کی عام اجازت دی گئی تقریباً ہر طالب علم نے اپنی اپنی فہم وفراست کے مطابق تنقید اور تجویز دونوں چیزیں پیش کی ۔ ڈاکٹر صاحب نے مثبت اور تعمیری تجاویز پر عمل درآمد کرنے کیلئے فوری طور پر احکاما ت جاری کئے۔
اگلے دن جمعہ کا خطبہ ڈاکٹر صاحب نے جامعہ الاحسان الاسلامیہ (جوکہ بطلِ حریت فخرِ اہلحدیث علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کے نام پر منسوب ) میں ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے معاشرے میں موجود برائیوں کی نشاندہی کی اور ان کی بیخ کنی کیلئے قرآن وحدیث میں مذکور اقدامات کا تذکرہ بھی کیا انہوں نے کہا کہ ہر انسان بے سکون اور بے چین ہے جس کا واحد سبب دین اسلام کے احکامات سے دوری ہے دنیا اور آخرت میں چین اور سکون صرف اور صرف احکامات الٰہیہ کی بجاآوری میں ہے ارکان اسلام کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا نمازفجر اور عشاء میں سستی اور کاہلی نفاق کی علامت ہے جس میں آج ہم سب ہی مبتلا ہوچکے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جہالت کے اندھیروں کو ختم کرنے کیلئے مقدور بھر کوشش کریں ۔ محترم مدیر الجامعہ ہفتہ کی صبح 8 بجے واپس لاہور تشریف لے گئے ۔ اللہ سے دعاہے کہ محترم ڈاکٹرصاحب کی مساعی جمیلہ کو قبول ومنظور فرمائے ۔ آمین

الشیخ ضیاء الرحمن بھی داغ مفارقت دے گئے

گزشتہ دنوں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کی عظیم الشان لائبریری کے امین محترم ضیاء الرحمن صاحب طویل علالت کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔انا للہ وانا الیہ راجعون
مرحوم تقریباً بیس سال سے زیادہ عرصہ تک لائبریری کی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا رہے تھے۔ اللہ نے ان کو قوت حفظ کا خصوصی ملکہ عطا کیا تھا آپ کو لائبریری کی تقریباً تمام کتب کے نام زبانی یاد تھے ۔ انہوں نے ایک قابل رشک زندگی گزاری ، جب بھی کسی طالب علم یا استاد کو کسی بھی کتاب کی ضرورت ہوتی تو وہ بلا تردد اس کی اجازت مرحمت فرماتے تھے ۔ آپ ایک انتہائی صالح ،تقویٰ شعار اور شب زندہ دار شخصیت کے مالک تھے ۔ انکی نماز جنازہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے وسیع وعریض صحن میں نماز عصر کے بعد ادا کی گئی نما زجنازہ کی امامت کے فرائض بقیۃ السلف عالم باعمل پروفیسر محمد سلفی مدیر جامعۃ الستاریۃ الاسلامیۃ کراچی نے پڑھائی۔ نماز جنازہ میں جامعہ کے شیوخ عظام اور طلبہ کرام کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ ان کا چہرہ انتہائی تروتازہ اور نو رکا ہالانظر آ رہا تھا۔ جوکہ ان کے خاتمہ بالخیر کی دلیل بھی ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کی جامعہ کیلئے خدمات کو ان کیلئے حسنات بنائے اور بشری لغزشوں پر قلمِ رحمت پھیر کر جنت الفردوس کا مستحق بنائے۔ آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے