اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے اپنی مخلوقات کے لیے اس کائنات کو بےحد حسین بنایا اور کائنات کی ایک ایک چیز کو ایسے تناسب، اعتدال اور کمال انداز سے ترتیب دیا ہے کہ اس سے بہتر کمال اور جمال کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ معلوم یوں ہوتاہے کہ خالق کائنات کو اپنی تخلیقات پر بڑا ناز ہے ، یہی وجہ ہے کہ اپنی قدرت کے اس شاہکار آسمان کی طرف اس نے اپنی توجہ مبذول کراتے ہوئے فرمایا :

الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا   ۭ مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ۭ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ ہَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ    o   ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ اِلَيْکَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّہُوَ حَسِيْرٌ   (الملک:۳۔۴)

’’جس نے تہ بر تہ سات آسمان بنائے۔ تم رحمان کی تخلیق میں کسی قِسم کی بے ربطی نہ پائو گے، پھر پلٹ کر دیکھو،کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟بار بار نگاہ دوڑائو، تمہاری نگاہ تھک کر نامراد پلٹ آئے گی ۔ ‘‘

شمس وقمر اور لیل ونہار کے نظام کے استحکام کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :

لَا الشَّمْسُ يَنْۢبَغِيْ لَہَآ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّہَارِ ۭ وَکُلٌّ فِيْ فَلَکٍ يَّسْبَحُوْنَ   (یس:۴۰)

ــ’’نہ سورج کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے ۔ سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں ۔‘‘

انسان کی توجہ اس کے اپنے وجود کی طرف مبذول کراتے ہوئے فرمایا:

الَّذِيْ خَلَقَکَ فَسَوّٰىکَ فَعَدَلَکَ  فِيْٓ اَيِّ صُوْرَۃٍ مَّا شَاۗءَ رَکَّبَکَ (الانفطار:۷۔۸)

’’جس نے تجھے پیدا کیا (خَلَقَ) ، پھر تیرے نوک پلک، سنوارے (سوّیٰ) تجھے متناسب (بالکل موزوں کیا) بنایا، (عدل)اور جس صورت میں چاہا تجھ کو جوڑ کر تیار کیا۔‘‘

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ(التین:۴)

’’ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔‘‘

انسان اپنی تخلیق کے جن ارتقائی مراحل کو طے کرکے دنیا میں جلوہ افروز ہوتاہے ، اللہ رب ذوالجلال نے قرآن مجید میں اسے کئی ایک مقامات پر بیان کرکے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے اور پھر اختصار اور جامعیت کے ساتھ فرمایا:

 وَفِيْٓ اَنْفُسِکُمْ ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ(الذاریات:۲۱)

’’اور خود تمہارے اپنے وجود میں (الدین یعنی جزا و سزا کی نشانیاں) ہیں ۔ کیا تم کو سُوجھتا نہیں؟(ضمیر کی عدالت)۔‘‘

الغرض اللہ رب العالمین نے اس کائنات کو پیدا فرمایا، کائنات کی ہر ہر چیز کو بڑے ہی حسن وجمال، کمال اور اعتدال کے ساتھ پیدا فرمایا اور پھر اس نے اس سارے کار خانہ قدرت کو حضرت انسان کے لیے سجایا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

 وَسَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْہُ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِکَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَکَّرُوْنَ   

’’اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا ، سب کچھ اپنے پاس سے۔ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غورو فکر کرنے والے ہیں۔‘‘(الجاثیۃ:۱۳)

یعنی اس ساری کائنات کو اس نے انسان کی خدمت ومنفعت کے لیے پیدا کیا، جب کہ انسان کو اس نے صرف اور صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ

’’میں نے جن اور انسانوں کواس کے سوا کسی کام کے لیے پیدانہیں کیا ہے کہ وہ میری ہی بندگی (یعنی نہ صرف پرستش و بندگی بلکہ غلامی و اطاعت بھی ) کریں۔‘‘(الذاریات:۵۶)

انسان کو معلوم نہیں تھا کہ اللہ کی عبادت کس طرح کی جاتی ہے ، اس لیے اس نے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرماکر اپنی طرف سے کتابیں اور صحیفے نازل فرماکر انسان کو اپنی عارضی اور فانی زندگی اپنے رب کی عبادت اور بندگی میں بسر کرنے کے ضابطے سکھا دیئے ، انہی ضابطوں کو ’’دین‘‘ کہا جاتاہے اور اس ’’دین‘‘ کا نام ’’اسلام‘‘ ہے۔

 إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللہِ الْإِسْلَامُ (آل عمران:۱۹)

ــ’’دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہے۔‘‘

اللہ احکم الحاکمین نے انسان کو اپنی مادی خواہشوں کی تسکین کے لیے جیسے اس کائنات اور اس میں ودیعت کی  گئی بے شمار نعمتوں کو پیدا کیا، اسی طرح اس نے انسان کی روحانی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے دین عطا فرمایا، جیسے کائنات کی ایک ایک چیز اپنی جگہ بے حد حسین وجمیل، باکمال وبے مثال اور مضبوط ومستحکم ہے ، اسی طرح دین کا بھی ایک ایک حکم اور ضابطہ انسان کی دنیا وآخرت کی ہدایت اور نجات کا مکمل سامان اپنے دامن میں رکھتاہے۔

یہی وجہ ہے کہ دین پر چلنے کا نام صراطِ مستقیم ہے ، کبھی اسے روشنی قرار دیاگیا ہے ، کبھی اسے حیات ِ طیبہ سے موسوم کیا گیا ہے اور کبھی دین کے ضابطوں اور دین کے دستور ومنشور کی کتاب قرآن مجید کے بارے میں فرمایاگیا۔

اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ يَہْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمْ اَجْرًا کَبِيْرًا   (الاسراء:۹)

’’حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے ۔ جو لوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے۔‘‘

اب ہم یہاں اپنے قارئین کرام کی توجہ ایک اور اہم بات کی طرف مبذول کرائیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے تو اس کائنات کو ، اس کے اندر بسنے والی تمام مخلوقات کو بہت احسن انداز میں پیدا فرمایا ہے ، جیسا کہ ابتداء میں عرض کیا گیا مگر انسان کے ازلی وابدی دشمن ابلیس کی یہ خواہش ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی مخلوقات مثلاً حیوانوں وغیرہ کے کان چیر دے اور ان کی صورتوں کو بگاڑ دے جیسا کہ اس نے خوددربار الٰہی میں سرکشی وبغاوت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا :

وّلَاُضِلَّنَّھُمْ وَلَاُمَنِّيَنَّھُمْ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَيُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ  ۭ وَمَنْ يَّتَّخِذِ الشَّيْطٰنَ وَلِيًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِيْنًا(النساء : ۱۱۹)

میں انہیں آرزوئوں میں اُلجھائوں گا ، میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں ردو بدل کریں گے ‘‘۔ اس شیطان کو جس نے اللہ کے بجائے اپنا ولی و سر پرست بنا لیا وہ صریح نقصان میں پڑ گیا۔

شیطان نے اپنے ماننے والوں کو حکم دیا کہ جانوروں کے کان نشانی اور علامت کے طور پر چیر پھاڑ دو اور انہیں بتوںکے نام پر وقف کردو اورٖپھر ان جانوروں کے اس نے ان لوگوں سے بحیرہ ، سائبہ، وصیلہ ، حامہ جیسے نام رکھوائے  اور ان کے ذہن میں یہ بات ڈال دی تھی کہ اس طرح کرنے سے اللہ تعالیٰ تقرب حاصل ہوتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ سب جھوٹ اور اس کی ذات پر بہتان ہے۔ اس نے نہ جانوروں کے یہ نام رکھے ہیں نہ ایسا کرنے کا اس نے حکم دیا ہے اور نہ اسے تقرب الٰہی کے حصول کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

مَا جَعَلَ اللہُ مِنْۢ بَحِيْرَۃٍ وَّلَا سَاۗىِٕبَۃٍ وَّلَا وَصِيْلَۃٍ وَّلَا حَامٍ ۙ وَّلٰکِنَّ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰہِ الْکَذِبَ ۭ وَاَکْثَرُہُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ(المائدۃ:۱۰۳)

’’ اللہ نے نہ کوئی بحیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام ۔ مگر یہ کافر اللہ پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بے عقل ہیں( کہ ایسے وہمیات کو مان رہے ہیں)۔‘‘

اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوقات سے بڑا پیار ہے ، اسے اپنی تخلیقات پر بڑا ناز ہے ، وہ ہر اس بات کو پسند نہیں فرماتاکہ اس کی بنائی ہوئی صورت کو بدل دیا جائے، اس کی بنائی ہوئی صورت میں تبدیلی کرنے سے وہ چیز ویسے بھی بد صورت ہوجاتی ہے۔ غور فرمائیے ! اگر کسی انسان کی آنکھوں یا کانوں کو ان کی اپنی جگہ سے بدل کر کسی اور جگہ لگادیا جائے تو کیا حال ہوگا، انسان کے دو دو ہاتھ اور پاؤں کے بجائے ایک ایک کردیا جائے تو کیسی صورت ہو گی یا ان میں اضافہ کرکے تین تین یا چار چار کردیا جائے تو کیسی شکل ہوگی ، یا انسان کے چہرے کو آگے کے بجائے پیچھے کی طرف کردیا جائے تو کیا حال ہوگا ، کچھ لوگوں کے ساتھ ایسا کیا جائے گا لیکن سزا اور عذاب کے طور پر ، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : 

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْہًا فَنَرُدَّھَا عَلٰٓي اَدْبَارِھَآ اَوْ نَلْعَنَھُمْ کَمَا لَعَنَّآ اَصْحٰبَ السَّبْتِ  ۭوَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ مَفْعُوْلًا (النسائ: ۴۷)

 اے کتاب والو! قبل اس کے کہ ہم لوگوں کے چہروں کو بگاڑ کر ان کو پیٹھ کی طرف پھیر دیں یا ان پر اس طرح لعنت کریں جس طرح ہفتے والوں پر کی تھی ہماری نازل کی ہوئی کتاب پر جو تمہیں دی گئی کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے ایمان لاؤ اوراللہ تعالی نے جو حکم فرمایا سو (سمجھ لو کہ) ہو چکا۔

اللہ تعالیٰ کے نزدیک جس طرح یہ بات انتہائی ناپسندیدہ بلکہ قابل نفرت ہے کہ اس کی بنائی ہوئی مخلوق میں تبدیلی کی جائے اور اس کی عطا کردہ صورتوں کو بدل دیا جائے، اس سے کہیں زیادہ اس کے نزدیک ناپسندیدہ اور قابل نفرت بات یہ ہے کہ اس کے دین میں کمی بیشی یا تبدیلی کر دی جائے ، اس نے اس سے سختی کے ساتھ منع فرمایا اور اسے دین میں غلو قرار دیا ہے ۔ ارشا د فرمایا :

يٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِکُمْ وَلَا تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰہِ اِلَّا الْحَقَّ ۭاِنَّمَا الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَکَلِمَتُہٗ ۚ اَلْقٰىہَآ اِلٰي مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِّنْہُ  ۡ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ  ڟ وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَۃٌ  ۭاِنْتَھُوْا خَيْرًا لَّکُمْ ۭاِنَّمَا اللّٰہُ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۭسُبْحٰنَہٗٓ اَنْ يَّکُوْنَ لَہٗ وَلَدٌ  ۘ لَہٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭوَکَفٰي بِاللّٰہِ وَکِيْلًا(النسائ: ۱۷۱)

 اے اہل کتاب اپنے دین (کی بات) میں حد سے نہ بڑھو اور اللہ تعالی کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح (یعنی) مریم کے بیٹے عیسیٰ (نہ  اللہ تعالیتھے نہ  اللہ تعالی کے بیٹے بلکہ)  اللہ تعالی کے رسول اور اس کا وہ کلمہ (بشارت) تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے تو  اللہ تعالی اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور (یہ) نہ کہو (کہ  اللہ تعالی) تین (ہیں۔ اس اعتقاد سے) باز آؤ کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔  اللہ تعالی ہی معبود واحد ہے اور اس سے پاک ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور  اللہ تعالی ہی کارساز کافی ہے ۔

دوسرے مقام پر فرمایا: 

قُلْ يٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِکُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوْٓا اَہْوَاۗءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَاَضَلُّوْا کَثِيْرًا وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ (المائدۃ:۷۷)

کہو کہ اے اہل کتاب ! اپنے دین (کی بات) میں ناحق مبالغہ نہ کرو، اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) پہلے گمراہ ہوئے اوردیگر لوگوں کو گمراہ کر گئے اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے ۔

غلو کی صراحت کے ساتھ ممانعت تو انہی دو آیات کریمہ میں ہے لیکن اس مفہوم کی قرآن مجید میں آیات کریمہ بہت کثرت کے ساتھ ہیں جن میں دین میں غلو سے منع کردیا گیا ہے۔ مثلاً : ملاحظہ فرمائیں ، سورۃ المائدۃ : ۷۲،۷۳ ، سورۃ التوبۃ : ۳۰ ، سورۃ الکھف : ۲۸ ، اور دیگر بہت سی آیات لیکن سوال یہ ہے کہ دین میں یہ غلو ہے کیا جس سے اس قدر سختی کے ساتھ منع کر دیا گیا ہے۔

غلو کا مفہوم :

غلو کے لغوی معنی توحد اعتدال سے تجاوز، افراط وتفریط اور کسی کے مقام ومرتبہ میںکمی و بیشی کرنے کے ہیں۔ جیسا کہ ائمہ لغت نے صراحت فرمائی ہے ۔ (ملاحظہ فرمائیں : الصحاح ۶/۲۴۴۸ ، المقاییس ۴/۳۸۸ ، المفردات : ۳۷۵ ، اللسان  : ۵/۳۲۹۰ ، التاج : ۲۰، ۲۲ ، المصباح ۱۷۲)

اور اس کے اصطلاحی معنی بقول علامہ مناوی رحمہ اللہ ’’ دین میں تعلب ، تشدد اور حد اعتدال سے تجاوز کے ہیں ۔ ( التوقیف : ۲۵۳)

علامہ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’ دین میںغلو کے معنی افراط وتفریط کے ہیں ، جیسا کہ یہودیوں نے اور عیسائیوں نے سیدنا عیسی علیہ السلام کے بارے میں افراط وتفریط سے کام لیا۔ یہودیوں نے ان کی شان اس قدر گھٹا دی کہ وہ انہیں ایک شریف انسان بھی نہیں سمجھتے تھے اور عیسائیوں نے ان کی شان اس قدر بڑھا دی کہ انہیں انسان کی بجائے اللہ سمجھنا شروع کر دیا ۔

(تفسیرالقرطبی ۶/۷۷)

غلو کی انواع واقسام :

غلو کے بارے میں وارد آیات واحادیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ دین میں غلو کی کئی قسمیں ہیں ۔ ان میں سے چند اقسام کی طرف اشارہ کیا جاتاہے۔

عقائد میں غلو :

عقائد میں غلو سے مراد یہ ہے کہ قرآن وسنت میں ہمیں جن عقائد کی تعلیم دی گئی ہے ان کو چھوڑ کر ہم خود ساختہ عقائد کو اختیار کرلیں۔ خود ساختہ یا انسانوں کے بنائے ہوئے عقائد پر کتنا ہی خوشنما لیبل کیوں نہ لگا دیا جائے ، دین وشریعت کے نقطہ نظر سے وہ عقائد بہر حال باطل قرار پائیں گے ۔ جیسا کہ اہل کتاب نے ازراہِ کذب وافتراء اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ کہا :

 اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ  (المائدۃ:۷۳)

’’ اللہ تین کا تیسرا ہے۔‘‘

یا جیسے عیسائیوں نے سیدنا عیسی علیہ السلام کے بارے میں یہ عقیدہ گھڑ لیا کہ اللہ یا اللہ کے بیٹے ہیں، یا یہودیوں نے اس بات کو عقیدہ کے طور پر اختیار کر لیا کہ سیدنا عیسی علیہ السلام تو ایک شریف انسان بھی نہیں ہیں ( معاذ اللہ) یا جیسے بعض نام کےمسلمانوں نے بھی بعض عظیم شخصیتوں کے بارے میں اس قدر غلو سے کام لیا کہ ان کو بھی ان تمام صفات سے موصوف قرار دے دیا جو صرف اللہ وحدہ لاشریک لہ کی ذات گرامی کے ساتھ مخصوص ہیں۔ مشکل کشا اور حاجت روا صرف اللہ کی ذات ہے ، نفع ونقصان صرف اسی کے قبضہ اختیار میں ہے۔ دعائیں اور فریادیں صرف وہی سنتا ہے اولاد دینا یا نہ دینا صرف اسی کی مرضی ومشیئت پر منحصر ہے ۔ الغرض یہ تمام صفات جو اللہ کی ذات پاک سے مخصوص ہیں انہیں غیر اللہ میںتسلیم کیاجائے تو یہ دین میں غلو کی بدترین شکل ہے، جسے شرک کے نام سے بھی موسوم کیاجاتاہے اور شرک اللہ تعالیٰ کے ہاں ناقابل معافی گناہ ہے۔

اِنَّ اللّٰہَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَکَ بِہٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ  ۚوَمَنْ يُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا   (النساء:۴۸)

 اللہ اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کر دے اور جس نے اللہ کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا

دین میں غلو سے سختی کے ساتھ ممانعت کے باوجود افسوس کہ بہت سے مسلمانوں نے بھی دین میں غلو کو اختیار کرلیا، مولانا حالی نے ایسے ہی غالی مسلمانوں کا شکوہ کرتے ہوئے فرمایا تھا۔

کرے گر غیر بت کی پوجا تو کافر

جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر

کہے آگ کو اپنا قبلہ تو کافر

کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر

مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں

پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں

نبی کو چاہیں خدا کر دکھائیں

اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں

نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے

نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے

قرآن مجید میں غلو:

قرآن مجید میں غلو سے بڑی سختی کے ساتھ منع کیاگیا تھا مگر افسوس کہ قرآن مجید کے بہت سے ماننے والوں نے خود قرآن مجید ہی میں غلو سے کا م لیناشروع کردیا۔ قرآن مجید میں کئی طرح سے غلو سے کام لیا گیا۔مثلاً :

(۱) غلو کی ایک صورت تو یہ اختیار کی گئی کہ بعض لوگوں نے یہ شوشہ چھوڑا کہ اس کا ترجمہ کرنا گناہ ہے بلکہ اسے کفر قرار دیا گیا اور اس سے درحقیقت وہ اپنی ان خرافات اور بدعات پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں جسے انہوں نے دین کے نام سے ایجاد کر رکھا ہے۔ جبکہ دین میں اس کا نہ صرف یہ کہ قطعا کوئی حکم نہیں بلکہ قرآن وسنت میں ان سے سختی سے منع فرمایا گیا ہے۔

(۲) قرآن مجید میں غلو کی ایک صورت یہ ہے کہ اپنی مرضی ومشیئت کے مطابق اس کی تفسیر بیان کی جائے۔ پہلے سے تصورات ونظریات قائم کر لئے جائیں اور پھر قرآنی آیات کو توڑ مروڑ کر ان کی تائید میں پیش کیا جائے۔ قرآن مجید نے اس بیماری کا نام ’’تحریف‘‘ بھی رکھا ہے اور یہودیوں اور عیسائیوں کی اس بیماری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

 يُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِہٖ (المائدۃ:۴۱)

’’(صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت ہونے) کے بعد بدل دیتے ہیں۔‘‘

افسوس بعض مسلمانوں نے اپنے ائمہ وفقہاء کی تائید کرتے ہوئے ان کے افکار ونظریات کو دین کا درجہ دے دیا، خواہ وہ قرآن وسنت کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔ غلو سے کام لیتےہوئے یہاں تک کہہ دیاگیا۔

کل آیۃ أو حدیث یخالف ما علیہ أصحابنا فہو مؤول أو منسوخ ۔ ( أصول الکرخی)

’’ہر وہ آیت اور ہر وہ حدیث جو ہمارے بزرگوں کے مذہب کے خلاف ہو گی ، ہم اس کی تاویل کریں گے یا اسے منسوخ قرار دے دیںگے۔‘‘

یعنی اسے مانیں گے نہیں، یہ ذہنیت غلو پر مبنی ہے جب کہ صحیح فکر یہ ہے کہ اگر کوئی بات قرآن وحدیث سے ثابت ہوجائے یا کسی بات کی تائید آیت وحدیث سے ہوجائے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کردیا جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

اِنَّـمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَى اللّٰہِ
وَرَسُوْلِہٖ لِيَحْکُمَ بَيْنَہُمْ اَنْ يَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا
وَاَطَعْنَا  ۭ  وَاُولٰۗىِٕکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ  وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَيَخْشَ اللّٰہَ وَيَتَّقْہِ فَاُولٰۗىِٕکَ ہُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ (النور:۵۱۔۵۲)

’’مومنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب اللہ تعالی اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے (حکم) سن لیا اور مان لیا اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔اور جو شخص اللہ اور اسکے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اور اس سے ڈرے گا تو ایسے ہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں۔‘‘

قرآن مجید صحیفہ ہدایت ہے ، ہدایت ومعرفت الٰہی کا اصلی ذریعہ ہے اور شریعت کے احکام ومسائل کا پہلا بنیادی ماخذ ہے ۔ لہذا اسے معرفت الٰہی اور ہدایت حاصل کرنے ہی کے لئے پڑھا جائے، دین وشریعت کے احکام ومسائل اس سے سیکھے جائیں اور ان کی تشریح وتوضیح رسول اللہ ﷺ کی سنت مطہرہ سے معلوم کی جائے۔ اگر آپ نے قرآن وسنت کے بجائے آراء الرجال یعنی لوگوں کی قیل وقال کو دین وشریعت کا درجہ دینا شروع کردیا اور قرآن وسنت میں تأویل وتحریف سے کام لینا شروع کردیا یا بلا تحقیق احکام قرآن وسنت کو منسوخ قرار دے دیا تو بلاشبہ یہ شدید ضلالت وگمراہی ہے ، ایسی گمراہی جو آپ کو دین سے بہت دور لے جائے گی کیونکہ جو شخص اپنے فساد طبیعت کے باعث علاج کو ہی بیماری بنا لے گا وہ کب اس بات کا حق دار ہے کہ اسے شفا نصیب ہو جو شخص گلہائے رنگ رنگ کی بہار دکھانے والے کسی چمن زار میں جاکر بھی پھولوں کی بجائے کانٹوں سے اپنے دامن کو بھرتا ہے تو وہ کب اس بات کا سزاوار ہے کہ پھولوں کی بوئے عطر بیز سے اس کے مشام جان معطر ہوں اور جو شخص بیت اللہ میں جاکر بھی بتوں ہی کو یاد کرے وہ کب اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے دل میں اللہ کی محبت کا چراغ جلے یا توحید کے نور سے اس کے دل میں کرن کرن اجالاہو بعینہ جو شخص دین وشریعت کے احکام ومسائل کے سلسلہ میں آراء الرجال یعنی لوگوں کے قیل وقال کو قرآن وسنت پر ترجیح دیتا ہے ، وہ کب اس بات کا سزاوار ہے کہ اسے دین کا فہم نصیب ہو۔

(۳) بہر حال قرآن مجید کے بارے میں غلو کی ایک بدترین صورت یہ بھی ہے کہ قرآن مجید کے صریح احکام کو ماننے کے بجائے اور رسول اکرم ﷺ کی سنت مطہرہ سے کسبِ فیض کے بجائے ائمہ وفقہاء کرام کے اقوال کو ترجیح دی جائے، حالانکہ تمام ائمہ کرام اور فقہاء عظام نے قرآن وسنت کے دامن سے وابستگی کی بے حد تاکید فرمائی ہے۔

(۴) ہمارے ان بہت سے قراء کا قرآن مجید کی قرأت وتلاوت کا انداز بھی غلو ہی کے ضمن میں آئے گا، جو قرأت وتجوید کے اصولوں سے تجاوز کرتے ہوئے بے حد تطویل، تکلف اور مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں اور خوش الحانی کے مظاہرہ میں قواعد وضوابط کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔

اسی طرح کچھ لوگ قرآن مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی بجائے پانچ سات ریشمی غلافوں میں لپیٹ کر اسے اتنا اونچا رکھ دیتے ہیں کہ اس تک کسی کا ہاتھ نہ پہنچنے پائے۔ یہ اور اس طرح کی دیگر بہت سی صورتیں ہیں جو ہم نے قرآن مجید میں غلو کے باب میں اختیار کر رکھی ہیں۔

غلو کے نتائج :

علامہ ابن المنیر رحمہ اللہ نے بڑی خوبصورت بات لکھی ہے کہ ’’ہم نے اور ہم سے پہلے لوگوں نے بھی یہ دیکھا ہے کہ جو شخص دین میں غلو سے کام لیتاہے وہ حقیقت میں دین سے محروم ہوجاتاہے۔ یہ بات ممنوع نہیں ہے کہ عبادت کے سلسلہ میں اکمل انداز کو اختیار کیاجائے کیونکہ یہ بات تو دین میں انتہائی قابل ستائش ہے۔ ممنوع یہ ہے کہ ایسا افراط اختیار کیاجائے جس کا نتیجہ یہ ہوکہ انسان اکتاجائے اور پھر اس عبادت کو بجاہی نہ لاسکے یا وہ نفل عبادت ہی میں ایسا مبالغہ کرے کہ فرض عبادت ترک ہوجائے یا فرض عبادت کا وقت ہی ختم ہوجائے۔ مثلاً ایک شخص ساری رات تہجد گزاری اور شب زندہ داری میں گزارے اور پھر رات کے آخری حصہ میں اس پر نیند کا اس قدر غلبہ ہو جائے کہ نمازِ فجر باجماعت ادا نہ کرسکے یا وہ بیدار ہی طلوع آفتاب کے بعد ہوتو نفلی عبادت میں ایسا مبالغہ شریعت میں ممنوع ہے، جس سے فرائض کے ادا کرنے میں کوتاہی ہو ۔ (الفتح ۱/۱۱۷)

دین میں کمی و بیشی ممنوع ہے :

حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : ’’ شریعت میں جو بات مقرر کردی گئی ہے اس پر اپنی طرف سے اضافہ کرنے سے نبی اکرم ﷺ نے منع فرمادیا ہے ۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ بندہ اگر از خود اپنے آپ پر سختی کا سبب بنے گا مثلا جو لوگ وضو یا غسل کے مسئلہ میں وسوسوں کا شکار رہتے ہیں اور اس سلسلہ میں بے پناہ تکلیف اٹھاتے ہیں اور وضو وغسل میں اس طرح مبالغہ سے کام لیتے ہیں کہ ان کا وضو اورغسل کبھی مکمل ہوتاہی نہیں ۔ شرعی طور پر سختی کی مثال انسان کاکسی کام کے لئے نذر ماننا ہے ، نذر مان کر انسان خود اپنے آپ ہی کو سختی میں مبتلا کرلیتا ہے کہ شرعا نذر کا پورا کرنا ضروری ہوجاتاہے ۔ ( إغاثۃ اللہفان ۱/۱۳۲)

غلو باعث ہلاکت ہے :

تشدد اور غلو کے ذریعہ انسان اپنے آپ کو بے جا طور پر سختی اور مصیبت میں ڈال لیتاہے۔ اسی وجہ سے شریعت میں غلو سے منع کر دیاگیا ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ نے تو اسے سابقہ قوموں کی ہلاکتوں کا سبب بھی قرار دیا ہے ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حج میں رمی جمار کے لئے رسول اللہ ﷺ نے مجھے کنکریاں لانے کا حکم دیا تو میں چھوٹی چھوٹی سی کنکریاں چن کر لایا اور جب میں نے انہیں آپ کے دست مبارک پر رکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : 

 بِأَمْثَالِ ہَؤُلَاءِ وَإِيَّاکُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ فَإِنَّمَا أَہْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ( النسائی ، حدیث: ۲۸۶۳ ، سنن ابن ماجہ : ۳۰۲۹)

’’ اس طرح کی کنکریاں ہونی چاہئیں توتم دین میں غلو کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں غلو ہی نے ہلاک کردیا تھا۔‘‘

آپ ﷺ کے فرمانے کا مقصد یہ تھا کہ رمی جمار کے لئے بس چھوٹی چھوٹی ہی کنکریاں کافی ہیں۔ تکلف اور تشدد سے کام لیتے ہوئے بڑے بڑے کنکر استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ افسوس کہ بہت سے حجاج کرام رمی جمار کے وقت اس ارشاد نبوی ﷺ کو بھول جاتے ہیں اور وہ کنکریوں کے بجائے بڑے کنکر بلکہ پتھر استعمال کرتے ہیں اور بعض حضرات تو غلو کی انتہاء کردیتے ہیں کہ وہ کنکریوں کے بجائے جوتے استعمال کرنے لگ جاتے ہیں۔ اپنی دانست میں یہ حضرات شاید اپنی غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہیں حالانکہ ایمان کا اولین تقاضا یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ نے جو حدود مقرر فرمادی ہیں انہی کی پابندی کی جائے اور ان سے سر موتجاوز نہ کیاجائے کیونکہ حدود شریعت سے تجاوز دنیا میں ہلاکت کا سبب بنتاہے اور آخرت میں یہ شافع روز جزاء رسول اللہ ﷺ کی شفاعت سے محرومی کا سبب بنے گا جیسا کہ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

صنفان من أمتي لن تنالہما شفاعتي ولن أشفع لہما ولن يدخلا في شفاعتي: سلطان غشوم عسوف، وغال مارق في الدين(الترغیب والترہیب لقوام السنۃ :۳/۷۶)

’’ میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں ، جن کو میری شفاعت نصیب نہیں ہوگی۔ ظالم اور غاصب بادشاہ اور دین میں غلو کرنے والے لوگ ۔‘‘

دین تو آسان ہے :

انسان اپنی مرضی سے دین کو ہوا بنا لے تو الگ بات ہے ورنہ اللہ رب ذوالجلال نے اپنے دین کو بہت آسان بنایا ہے ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلاَّ غَلَبَہُ  (صحیح البخاری مع الفتح ۳۹/۱ )

بے شک دین آسان ہے اور جوشخص دین میں سختی کرے گا تو دین اس پر غالب آجائے گا۔‘‘

ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے زیادہ تفصیل کے ساتھ فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے کچھ فرائض مقرر کیے ہیں انہیں ضائع نہ کرو کچھ حدود مقررکردیئے ہیں ان سے تجاوز نہ کرو کچھ چیزوں کو حرام قرار دے دیاہے ان کے قریب نہ جاؤ اور کچھ چیزوں کو بھولے بغیر ترک کر دیا ہے ان کے بارے میںکریدنہ کرو۔ (جامع الاصول ۵/۵۹)

جیساکہ صحیح بخاری کی مذکورہ بالا حدیث میں ہے اللہ کا دین آسان ہے ، دین کے احکام کو پورا کرنا اس وقت مشکل ہوگا جب کوئی انسان از خود اپنے اوپر ایسی پابندیاں عائد کرلے جن کا دین میں حکم نہ ہو ۔ بطورِ مثال ہم یہاں صحیح بخاری ہی کی ایک حدیث پیش کرتے ہیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ایک بوڑھے انسان کو دیکھا جسے اس کے دوبیٹے گھسیٹ کر (بیت اللہ کی طرف) لے جارہے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا کیا ماجرا ہے ’ انہوں نے جواب میں عرض کیا کہ اس نے نذر مانی تھی کہ یہ پیدل چل کر بیت اللہ جائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس بات سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنے آپ کو عذاب میں ڈالے ‘ اور پھر آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ سواری پر سوار ہوجاؤ۔ ‘‘ ( بخاری ، حدیث : ۱۸۶۵)

اسی طرح سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتےہیں

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى اللہ عليہ وسلم يَخْطُبُ إِذَا ہُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فَسَأَلَ عَنْہُ فَقَالُوا أَبُو إِسْرَائِيلَ نَذَرَ أَنْ يَقُومَ ، وَلاَ يَقْعُدَ ، وَلاَ يَسْتَظِلَّ ، وَلاَ يَتَکَلَّمَ وَيَصُومَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى اللہ عليہ وسلم مُرْہُ فَلْيَتَکَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ وَلْيُتِمَّ صَوْمَہُ.

کہ نبی مکرم ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ آپ ﷺ نے دیکھا کہ ایک شخص کھڑا ہے ، آپ ﷺ نے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے عرض کیا ، اس کا نام ابو اسرائیل ہے اس نے نذر مانی ہے کہ یہ کھڑا رہے گا ، بیٹھے گا نہیں ، نہ یہ سا یہ استعمال کرے گا اور نہ کسی سے بات کرے گا اورروزے سے رہے گا یہ سن کر نبیﷺ نے فرمایا : ’’اسے حکم دو کہ یہ بات کرے، سایہ استعمال کرے اور بیٹھ جائے اور اپنے روزے کو پورا کرے۔ (بخاری ، حدیث : ۶۷۰۴)

روزہ رکھنا حکم شریعت ہے لیکن اس میں اس قسم کی اپنے اوپر پابندیاں عائد کر لینا، جس طرح ابو اسرائیل نے اپنے اوپر عائد کی تھیں ، دین میں غلو ہے اور دین میں غلو اختیار کرکے انسان اپنے آپ کو از خود مشکلات میں مبتلا کرلیتاہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بار خطبہ میں ارشاد فرمایا :

يَا أَيُّہَا النَّاسُ إِنَّ اللَّہَ تَعَالَى فَرَضَ عَلَيْکُمُ الْحَجَّ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَفِي کُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللہِ ثَلاَثَ مِرَاتٍ فَجَعَلَ يُعْرِضُ عَنْہُ ، ثُمَّ قَالَ لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ مَا قُمْتُمْ بِہَا ، ثُمَّ قَالَ دَعُونِي مَا تَرَکْتُکُمْ فَإِنَّمَا أَہْلَکَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِکُمْ سُؤَالِہِمْ وَاخْتِلاَفِہِمْ عَلَى أَنْبِيَائِہِمْ فَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَہَيْتُکُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوہُ

 ’’لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض قرار دیا ہے ۔ لہٰذا حج کیا کرو۔‘‘ایک شخص نے عرض کیا ’’ یا رسول اللہ ﷺ کیا ہر سال ، اس نے سوال تین بار دوہرایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں یہ کہہ دیتا ہاں تو ہر سال حج ادا کرنا واجب ہوجاتا اور تمہیں اس کی استطاعت نہ ہوتی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا ’’مجھے چھوڑ دو جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں، تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء سے کثرت سوال اور اختلاف کے باعث ہی ہلاک ہوئے تھے، جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو مقدور بھر استطاعت بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو اسے چھوڑ دو۔‘‘  ( صحیح مسلم ، حدیث : ۱۳۳۷)

غلو شرک تک پہنچا دیتاہے :

قرآن مجید کےمطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ غلو انسان کو شرک جیسی مہلک بیماری میں مبتلا کردیتاہے۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے انبیاء کرام کی شان میں اس قدر غلو سے کام لیا کہ انہوں نے سیدناعزیر اور سیدنا عیسی علیہما السلام کو اللہ کے بیٹے قرار دے دیا ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی جو لم یلد ولم یولد کے اوصاف سے اتصاف پذیر ہے ، کوئی انسان خواہ وہ مقام ومرتبہ کے اعتبار سے کتنے ہی اونچے مقام پر کیوں فائز نہ ہو‘ اس کا بیٹا کیسے ہوسکتاہے مگر غلو کی کرشمہ سازی ملاحظہ کیجئے کہ اس نے انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیا ہے اور خالق ومخلوق کے درمیان فرق کو ملحوظ نہ رہنے دیا ۔ قوموں کو تباہ وبرباد کرنے والا یہ ایسا شدید مرض ہے کہ رحمۃ للعالمین ، سرور دنیا ودین ﷺ فکر مند رہے کہ سابقہ امتوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آپ کی امت بھی کہیں اس میں مبتلا نہ ہوجائے۔ آخر وقت تک آپ ﷺ کو یہ فکر دامن گیر رہا حتی کہ دنیا سے رخصت ہوتے وقت بالکل آخری لمحات میں آپ ﷺنے ارشاد فرمایا :

لَعْنَۃُ اللہِ عَلَى الْيَہُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِہِمْ مَسَاجِدَ (البخاری ، حدیث : ۴۳۵ ، ومسلم ، حدیث : ۵۳۱)

’’یہود ونصاریٰ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا تھا۔‘‘

اس حدیث کے راوی ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم نے اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد فرمایا : یحذر ما صنعوا ‘‘ کہ رسول اللہ ﷺ اپنی امت کو یہود ونصاریٰ کے ان جیسے افعال کے ارتکاب سے ڈرارہے تھے کیونکہ انبیاء واولیاء کی شان میں غلو ان کی عبادت کا سبب بن جاتاہے اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :

لاَ تُطْرُونِي کَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُہُ فَقُولُوا عَبْدُ اللہِ وَرَسُولُہ(صحیح البخاری ، حدیث : ۳۴۴۵)

’’میری شان میں اس طرح مبالغہ نہ کرنا جیسے عیسائیوں نے ابن مریم کی شان میں مبالغہ سے کام لیا تھا۔ میں تو اللہ کا بندہ ہوں لہذا مجھے عبد اللہ اور رسول اللہ کہو۔‘‘

 آپ ﷺ نے اپنی امت کو بڑی سختی کے ساتھ غلو سے منع فرمایا ہے ۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور تین بار ارشاد فرمایا : 

ہلک المتنطعون (صحیح مسلم ، حدیث : ۲۶۷)

’’غلو کرنے والے ہلاک ہوگئے۔‘‘

’’متنطعون‘‘ ان لوگوں کو کہتے ہیں جو حد اعتدال سے تجاوز کرتےہوئے اپنے اقوال وافعال میں بے حد مبالغہ اور غلو سے کا م لیں۔

اسلام دین اعتدال ہے :

اسلام دین جمال وکمال ہے ، یہ راہ اعتدال ہے ، جس میں کوئی افراط وتفریط نہیں ۔ امام جعفر طحاوی رحمہ اللہ نے اسلام کا تعارف کرواتے ہوئے لکھا ہے :

’’ ارض وسماء میں اللہ کا دین ایک ہی ہے اور وہ ہے دین اسلام ، جو غلو وتقصیر ، تشبیہ وتعطیل، جبر وقدر اور امن ومایوسی (امید وخوف) کے درمیان ہے ۔‘‘ ( شرح عقیدۃ طحاویہ ص : ۵۸۵)

ابن عقیل نے ایک دلچسپ بات لکھی ہے اور وہ یہ کہ مجھ سے ایک شخص نے پوچھا کہ پانی میں بے شمار غوطے لگانے کے باوجود مجھے یہ شک ہوتاہے کہ معلوم نہیں کہ غسل صحیح ہوا بھی ہے یا نہیں ، تو اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ، میں نے کہا جناب! میری رائے یہ ہے کہ جائیں آپ سے تو نماز ہی ساقط ہوگئی ہے ، اس نے پوچھا وہ کیسے ، میں نے کہا اس لئے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے :

رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاَثَۃٍ عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنِ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَبْرَأَ وَعَنِ الصَّبِىِّ حَتَّى يَکْبَرَ

’’ تین شخص مرفوع القلم ہیں ۔ مجنون حتی کہ صحت یاب ہوجائے ۔ سویا ہوا حتی کہ بیدار ہوجائے اور بچہ حتی کہ بالغ ہوجائے۔‘‘(ابوداود)

اور جوشخص پانی میں بار بار غوطہ لگانے کے باوجود یہ شک کرے کہ معلوم نہیں اس کے جسم کو پانی لگا ہے یا نہیں تووہ مجنون ہے اور مجنون مرفوع القلم ہے اور اس سے نماز (اور دیگر تمام فرائض وواجبات ) ساقط ہیں۔ (اغاثۃ اللہفان ، امام ابن القیم ج ۱،ص:۱۵۴)

ہمارے بہت سے صوفی منش احباب جو طہارت ‘ وضو اور غسل کے بارے میں اسی قسم کی تشکیک میں مبتلا رہتے ہیں ، انہیں اپنے طرز عمل پر خاص غور فرمانا چاہیے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شریعت نے ہر قسم کے غلو اور تشدد سے منع کیا ہے خواہ اس کا تعلق عقائد سےہویا اعمال سے ۔ ( فتح المجید ، ص:۲۲۷)

امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شیطان بڑا عیار ہے اور اس کی ایک بہت عجیب تدبیر یہ ہے کہ وہ انسانی نفوس کو ٹٹول کر یہ جائزہ لے لیتاہے کہ کس کی طبیعت افراط کی طرف مائل ہے اور کس کی تفریط کی طرف اور پھر جس کی طرف کسی کی طبیعت کا میلان ہوتاہے وہ اپنی دسیسہ کاریوں سے اسے اسی طرف لگا دیتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت یا تو وادی تقصیر میں سرگرداں ہوتی ہے یا وادی مبالغہ وغلو میں حیران یعنی یا تو وہ احکام شریعت پر عمل کرنے میں کوتاہی اور دون ہمتی کا ثبوت دیتے ہیں یا اس قدر مبالغہ اور غلو سے کام لیتے ہیں کہ حد اعتدال سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جب کہ بہت قلیل سعادت مند ہی ایسے ہوتے ہیں جو صراط مستقیم پر رہتے ہیں، جس کا رسول اللہ ﷺ نے تعین فرمایا ہے اور بلاشبہ آپ ﷺ کا عمل اور طریقہ ہی راہِ اعتدال ہے۔ (اغاثۃ اللہفان ، ج۱،ص:۱۳۷)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص دینی اعمال میں غلو سے کام لے گا اور نرمی کے پہلو کو ترک کرے گا تو بالآخر وہ عاجز ودرماندہ ہوجائے گا۔ آپ نے مزید فرمایا کہ یہ بھی غلو ہے کہ انسان رخصت کی جگہ عزیمت کو اختیار کرے ۔ مثلاً اگر کوئی شخص اپنی کسی مجبوری ومعذوری اور بیماری کی وجہ سے پانی کے استعمال سے عاجز وقاصر ہے اور اس صورت میں اسے تیمم کرنے کی ضرورت ہے مگر وہ اس رخصت سے فائدہ نہیں اٹھاتا اور تیمم نہیں کرتا بلکہ پانی ہی کے استعمال کرنے پر اصرار کرتاہے تو وہ یقینا نقصان اٹھائے گا۔ (فتح الباری ۱/۱۱۷)

خلاصہ کلام :

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسلام دین اعتدال ہے اس کی پاکیزہ تعلیمات میں حسن وجمال ہے ، جن کے مطابق بلاکم وکاست عمل ہی میں دنیا وآخرت کی کامیابی وکامرانی کا راز مضمر ہے جبکہ دین میں اپنی طرف سے افراط وتفریط کا نام غلو ہے اور غلو حرام ہے۔ کیونکہ غلو کے درج ذیل نقصانات ہیں۔

۱) غلو انسان کو شرک میں مبتلا کرکے اللہ تعالیٰ سے دور کردیتاہے اور جہنم میں پہنچا دیتاہے۔

۲) غلو کے نتیجہ میں انسان نہ صرف یہ کہ اپنے عمل کو ہمیشہ جاری نہیں رکھ سکتا بلکہ تنگ آکر بسا اوقات ترک بھی کردیتاہے۔

۳) غلو اس بات کی علامت ہے کہ انسان کا ایمان اور اس کی عقل کمزور ہے اور اس پر شیطان نے تسلط جمالیا ہے۔

۴) غلو انسان کی جہالت اور فہمِ دین میں نقص کی دلیل ہے۔

۵) غلو انسان کو شیطانی وسوسوں میں مبتلا کردیتاہے۔

۶) غلو کرنے والے کا دل تنگ ہوکر حزن وملال میں مبتلا ہوجاتاہے ۔

اللہ ربّ ذوالجلال والاکرام سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنے فضل وکرم کے ساتھ غلو سے محفوظ رکھے اور افراط وتفریط کے بغیر اعتدال یعنی اپنے پسندیدہ دین اسلام کے صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا ربّ العالمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے