ہر پھول کی قسمت میں کہاں نازِ عُروساں

کچھ پھول تو کھلتے ہیں مزاروں کے لیے بھی

جس کا والد بحکم ربی اس دنیا فانی سے رحلت فرما جائے، فوت ہو جائے اسے یتیم کہتے ہیں، اس حقیقت سے تمام انسان آشنا ہیں اورکسی کو بھی اس مسلّمہ حقیقت سے انکار نہیں ہے۔ لیکن جو جوڑا شیطان کے بہکاوے میں آ کر اور اپنے غصے پر تاب نہ لاتے ہوئے طلاق دے کر ایک دوسرے کے مابین خلیج حائل کر لیتا ہے اور اپنے والدین و عزیز و اقارب کے ارمانوں کا گلا گھونٹ دیتا ہے اور اولاد سے ماں کی ممتا اور باپ کی شفقت چھین لیتا ہے ، جو رب تعالیٰ کے اس ناپسندیدہ فعل کا ارتکاب کرتے ہیں۔ کیا وہ اس قبیح فعل کا نفاذ کرنے سے قبل اپنی فہم و فراست کو بھی استعمال کرتے ہیں کہ نہیں؟ لفظ ’’طلاق‘‘ گزشتہ سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں ،کروڑوں، اربوں اور کھربوں سیکنڈز کی ہمرکابی کو صرف ایک سیکنڈ میں محرم سے مجرم بنا دے گا۔

مفہوم حدیث ِ رسول اللہﷺ ہے کہ ابلیس روزانہ پانی پر اپنا تخت لگاتا ہے اور اپنے چیلوں سے استفسار کرتاہے کہ تم نے آج کیا کیا کام سرانجام دیے ہیں؟ سب اپنا اپنا ہوم ورک بتاتے ہیں کہ میں نے آج قتل کروائے، میں نے آج نمازوں سے روکا، میں نے آج فلاں فلاں گناہوں کا ارتکاب کروایا ، ایک سب سے پیچھے بیٹھا ہوتا ہے اس سے ابلیس پوچھتا ہے کہ تو نہیں بولتاتو وہ کہتا ہے کہ میں کوئی خاص کام نہیں کر سکا صرف ایک چھوٹا سا کام ہو پایا کہ آج میں نے خاوند اور بیوی کے درمیان طلاق دلوائی ہے، حدیث کے الفاظ ہیں ابلیس اسے گلے لگاتا ہے اور بہت خوش ہوتا ہے کہ اصل کام ہی تو نے کیا ہے۔ بہرکیف اس فرسٹ پوزیشن حاصل کرنے والے کی وجہ سے جو اولاد باپ کی شفقت سے محروم ہو جاتی ہے اس کو’’ مصنوعی یتیم ‘‘کہا جاتا ہے۔ میں موضوع ہذا کے لیے معلومات یکجا کر رہا تھا تو بہت کم ایسے واقعات سننے و پڑھنے کو ملے کہ جس کو سچی مچی کی لڑائیاں اور پھر طلاق کہا جا سکتا ہے ۔لیکن بیکراں انتہائی فضول باتوں پر ہی ازدواجی زیست کا انت کر لیتے ہیں یا ’’معرکے‘‘ لڑنے کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں۔مثلاً خاوند کہتا ہے کہ بیوی ٹوتھ پیسٹ کو آخر تک نچوڑ کر استعمال کرے مگر بیوی اس پر آمادہ نہ تھی اور دھیرے دھیرے لڑائی کے باعث طلاق ہو گئی۔ خاوند کہتا ہے کہ یہاں سے لاہور نزدیک ہے اور بیوی کہتی ہے کہ نہیں یہاں سے شیخوپورہ نزدیک ہے اور لڑائی ہو جاتی ہے۔ بیوی کہتی ہے کہ خاوند باتھ روم میں زیادہ دیر کیوں لگاتا ہے تو لڑائی ہو گئی اور طلاق کی بچت اس طرح ہوئی کہ ایک باتھ روم مزید بنا دیا گیا۔بیوی خاوند سے کہتی ہے کہ میری فلاں نند آئی تھی تو میرے بچے کو کچھ پیسے نہیں دے کر گئی تھی وغیرہ وغیرہ یہ اخباری رپورٹس کی کچھ جھلکیاں پیش کیں تھیں ۔

میاں بیوی کی فضول باتوںپر ’’جنگ‘‘ ہو یا پکی پکی لمبی جدائی ہو جائے تو معصوم پھولوں کا پُرسانِ حال کون ہو گا؟کبھی اس خاموش سوالیہ نشان کا کسی نے اپنے دماغ کے گوگل میں جواب تلاش کیاہے؟ اولاد کو مصنوعی یتیم یا ممتا سے مصنوعی دوری اور شیطان کے چیلے کو فرسٹ پوزیشن دلوانے والو! جوش میں آ کر ہوش نہ کھو دیا کرو۔ بیوی کی جائز باتوں کو خاوند اور شوہر کی اصولی باتوں کو بیگم برداشت کرنا سیکھے تا کہ زندگی کی گاڑی پٹڑی سے اتر نہ سکے۔اگر اولاد نہیں ہے اور بوجہ طلاق جدائی ہو گئی ہے تو پھر مرد مصنوعی خاوند ہونے کی اداکاری کر رہا تھا اور عورت بھی بیوی بن کر ڈھونگ رچا رہی تھی ۔ نکاح کے بعد تو اس مصنوعی جوڑے کوسنجیدگی سے ایک گھر کو چلانا چاہیے تھامگر یہ خود کو اور اپنے والدین کو صریحاً دھوکہ دے رہے تھے بلکہ حقیقت میں تو اپنے آپ کو ہی امن کاپیامبر اور ساوی ساوتری سمجھتے سمجھتے گہری کھائی میں گر ا لیتے ہیںجہاں سے واپسی بہت حد تک ناممکن ہوتی ہے۔جو فضول ’’جنگ ‘‘ کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اور طلاق یا صلح کی کشمکش میں علیحدہ علیحدہ گھروں میں کٹھن ایام گزار رہے ہوتے ہیں تو عموماً معصوم پھول اکثر والدہ کے پاس رہ رہے ہوتے ہیں اگر والد فون کرے تو بچوں کی باتیں اس طرح ہوتی ہیں: پاپا میرا فیڈر ٹوٹ گیا، پاپا میں نے بیگ نیا لیا، پاپا میرے دانت ٹوٹ گئے، پاپا میں نے رنگوں والی ڈبیہ نئی خریدی۔ یا ،ماما: میں نے چوڑیاں نئی خریدیں، ماما میری پونی گم ہو گئی، ماما میں نے اپنی گڑیا کو کنگھی کی تھی وغیرہ وغیرہ۔ یعنی کہ ان بچوں کو اس ’’سرد جنگ ‘‘ کا اندازہ ہی نہیں ہوتا وہ تو اپنی موج میں رہ رہے ہوتے ہیں لیکن ان کے جذبات و احساسات کی دلجوئی کون کرے گا؟ جو والدین فون یا ملاقات پر اس طرح نہیں سنتے کیا وہ تصور بھی نہیں کرتے کہ یقینا اسی طرح کی باتیں ہو سکتی ہیں؟

جو والدین حالات اور مہنگائی کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے اور طلاق جیسے پُر خار نہج پر چل نکلتے ہیں وہ یقینا ناولوں ، ڈائجسٹوں اور فلمی اداکار اور اداکارہ کی آسائش سے تو متاثر ہیں مگر اس کی ستائش پر دھیان نہیں دیتے۔اس کی خوشحالیوں کو اپنی زندگی میں لاگو کرنے کی تگ ودو میں اپنا حقیقی گھر سر پر اٹھا لیتے ہیں؟ اپنے سرتاج سے یا اپنی شریک حیات سے الجھاؤ پیدا کر لیتے ہیں ۔   جبکہ سلجھاؤ کا کردار ادا کرنے والے بھی سب سے بڑے سیانے تم خود ہی تو ہو۔ تم ایک دوسرے کے بِنا رہ نہیں پاتے تھے اب کیا ہوا ؟ شیطان کو تو 100میں سے 100نمبرز دلوا دیے اور خود 100میں سے صفر؟ یہ کیسا انصاف ہے؟ جو ازلی دشمن ہے جس کا مقصد ہی تمہاری تباہی ہے اس کے ساتھ اتنی مہربانی کیوں؟ جبکہ خود کے ساتھ، اپنے بچوں کے ساتھ، اپنے والدین کے ساتھ، اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ وہ ابلیس کا بچہ تو پہلے ہی انسانوں اور جنوں سے مقابلتاً اچھی پوزیشن پر ہے۔ الا ما شا ء اللہ۔

اللہ تعالیٰ کا ناپسندیدہ کام طلاق کا ارتکاب آپ سے سرزد ہو جاتا ہے تو اولاد میں سے اگر بیٹی ہے تو اسے ساری عمر والدین کی طلاق کے طعنے سننے کو ملیں گے اور اگر بیٹا ہے تو وہ والدین میں سے کسی ایک کا دشمن بن جائے گا اور بدلے کی آگ میں جلتا رہے گا۔ غلطیاں والدین کی اور سزا اولاد کو ، یہ کیسی رواداری ہے ؟ اس معاشرے میں طلاق کی شرح بہت زیادہ ہے اسے کم بھی آپ کر سکتے ہیں۔ ایک کڑوا سچ بڑی ہمت سے سماعت فرمائیں ۔ زوجین کے مابین ’’جنگ ‘‘اور پھر ان کو بند گلی میں پہنچانے میں جو انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کرتے ہیںوہ کوئی اور نہیںبلکہ زوجین کے والدین ہی توہیں۔بھلے آپ ناراض ہوں مگر میرے اس جراتمندانہ انکشاف کو قبول کرنا ہو گا۔ اگر بہو کو اپنی سگی بیٹی والا درجہ دیا جائے اور داماد کو سگے بیٹے جیسی عزت بخشی جائے( اور اسی طرح داماد بھی اپنے سسرالیوں کو اپنے سگے والدین جیسا ، اور بہو بھی اپنے سرتاج کے والدین کو اپنے سگے والدین جیسا رتبہ دے) تو مصنوعی یتیموں میں بہت حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ ورنہ معصوم پھول کسی ورکشاپ میں اور معصوم کلیاں کسی کے گھر میں برتن ماجھ رہی ہوں گی۔

پھول کی پتی سے کٹ سکتاہے ہیرے کا جگر

مرد ناداں پہ کلام نرم و نازک بے اثر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے