Print this page

جنت تلواروں کے سائے تلے

Written by 03 Mar,2019

 

ڈاکٹر مقبول احمد مکی

 

رسول مکرم رحمت دو عالم کا  ارشاد گرامی ہےأَيُّهَا النَّاسُ، لاَ تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ العَدُوِّ، وَسَلُوا اللَّهَ العَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الجَنَّةَ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّيُوفِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الأَحْزَابِ، اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ(صحیح البخاری:2966)

’’لوگو! دشمن سے مقابلے کی آرزونہ کرو بلکہ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو۔ لیکن اگر دشمن سے مقابلہ ہو تو صبر کرو اورخوب جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔پھر آپ نے یوں دعا کی: "اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے، بادلوں کو چلانے والے، (کافروں کے)لشکروں کو شکست دینے والے، انھیں شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔ ‘‘  اس حدیث کے تناظر میں اصولی طور پر ہم امن پسند قوم اور امن کے خوہاں ہیں اور دونوں ملکوں میں غربت ،جہالت ،پسماندگی کے خلاف اپنی طاقت خرچ کرکے جہاد کرنا چاہتے ہیں تاہم انڈیا حملہ اور جارحیت پر ہی اترنا چاہتاہے تو پھر یادر کھیےکہ اسی حدیث کے آخر ی ایمانی اورنبوی فرمان پر عمل پیرا ہونے کیلئے آج پاکستان کا بچہ بچہ تیار ہے کہ جنت تلوار وں کے سائےتلے ہے۔ افواج پاکستان کے علاوہ ہر عام مسلمان پاکستانی کا بھی اس پر اتنا پختہ ایمان ہے کہ انڈیا کی طرف سے کسی بھی بزدلانہ حرکت پر سچی بات یہ ہے کہ یہاں کے مسلمانوں کے جذبات کو کنڑول کرنا مشکل ہوجاتاہے ہر پاکستانی مسلمان پاک آرمی کا سپاہی نظر آتاہے اورسیاسی پارٹیوں کے اندرونی اختلافات کے باوجو انڈیا کے خلاف پوری قوم متحد اور سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے اور میں ایک نفسیاتی غیر جذباتی اور حقیقت پسندانہ تجزیہ یہ پیش کرنا چاہتاہو ں کہ ایک اللہ پر بھروسہ اور ایمان رکھنے والے جہاد وشہادت کے غیر معمولی جذبہ سے سرشار ،صبح وشام قرآن مجید میں پانچ سو اٹھاون آیات جہاد کی تلاوت کرنے والے پاکستانی فرزندان توحید کا وہ بزدل مشرک ہندوستان کیسے مقابلہ کرسکتاہے جو موت سے ڈرتے ہوجبکہ مسلمان موت سے نہیں ڈرتاکیونکہ اس کا ایمان ہے کہ اصل زندگی تو موت کے بعد شروع ہوتی ہےبالخصوص کلمہ طیبہ کے نام پر بننے والے ، مقدس آئین ودستور رکھنے والے اسلامی ملک پر جان قربان کرنا ہر مسلمان اپنی عظیم سعادت سمجھتا ہے قرآن وحدیث میں جہاد وشہادت کی بیان کردہ ہزاروں فضیلت اپنی جگہ اس میں صرف ایک روایت مقداد بن معدیکرب جو کہ فضائل شہید سے متعلق ہے ۔

لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ سِتُّ خِصَالٍ: يُغْفَرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ، وَيَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الجَنَّةِ، وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ، وَيَأْمَنُ مِنَ الفَزَعِ الأَكْبَرِ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الوَقَارِ، اليَاقُوتَةُ مِنْهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَيُزَوَّجُ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الحُورِ العِينِ، وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَقَارِبِهِ(سنن الترمذی ابواب فضائل الشهيد ، باب في ثواب الشهيد، رقم الحدیث : 1663)اللہ کے نزدیک شہیدکے لیے چھ انعامات ہیں،1 خون کاپہلا قطرہ گرنے کے ساتھ ہی اس کی مغفرت ہوجاتی ہے ،2 وہ جنت میں اپنی جگہ دیکھ لیتا ہے،3 عذاب قبرسے محفوظ رہتاہے ،4 فزع اکبر (عظیم گھبراہٹ والے دن)سے مامون رہے گا ،5 اس کے سرپر عزت کا تاج رکھا جائے گاجس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہترہے ،6 بہتر (۷۲) جنتی حوروں سے اس کی شادی کی جائے گی، اور اس کے ستر رشتہ داروں کے سلسلے میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی ۔

شہادت کی فضیلت میں رسول معظم کا یہ بھی فرمان گرامی ہےمَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ، لَهَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ، يَسُرُّهَا أَنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى الدُّنْيَا، وَلَا أَنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، إِلَّا الشَّهِيدُ، فَإِنَّهُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ، فَيُقْتَلَ فِي الدُّنْيَا لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ(صحيح مسلم:1877) کوئی بھی ذی روح جو فوت ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لیے بھلائی موجود ہو، یہ بات پسند نہیں کرتا کہ وہ دنیا میں واپس جائے یا دنیا اور جو کچھ بھی دنیا میں ہے، اس کو مل جائے، سوائے شہید کے، صرف وہ شہادت کی جو فضیلت دیکھتا ہے اس کی وجہ سے اس بات کی تمنا کرتا ہے کہ وہ دنیا میں واپس جائے اور اللہ کی راہ میں (دوبارہ) شہید کیا جائے۔

 ان حالات میں ہرپاکستانی کو  افوا ج پاکستان کے لیے نیک دعاؤں اور تمناؤں کا اظہار کرنا چاہیےاور جذبہ جہاد سے سرشار ہوکر اپنی افواج کی آواز پر صف اول میں جاکر دشمن سے لڑنے اور جہاد کے لیے تیار رہے ۔

یہ تمام پاکستانیوں کے لیے ہمارا پیغام ہے اور یہی قرآن وحدیث کا حکم ہے ۔ویسے انڈیا کانام آتے ہی پورا پاکستان متحد ہوجاتاہے اس لیے انڈیا پاکستان سے جنگ کی ہمت ہرگز نہیں کرسکتا اور یہ بھی اس کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ پاکستان کے خلاف حملہ سعودیہ عرب کے خلاف حملہ ہوگا پاکستان کے خلاف جارحیت عالم اسلام کے خلاف جارحیت ہو گی پوری دنیا کے مسلم ممالک کے خلاف جنگ ہوگی اور اب مجھے بتائیے کیا یہ انڈیا پورے عالم اسلام سے جنگ کو برداشت کر سکتاہے ہرگز نہیں کرسکتاپاکستانی قوم علماء ، طلباء، مکاتب، اسکول ، یونیورسٹیز اور مدارس  دینیہ یہاں کی عوام اس سلسلے میں متحد اور متفق ہیں ۔ ہر سطح پر اتفاق نظر آتاہے اس لیے بہترین مشورہ یہی ہے کہ باز آئیں اور کشمیریوں کو حق آزادی دیں اور پاکستان کے خلاف مہم جوئی سے باز رہیں ۔ ورنہ انڈیا والوں یادرکھوں جس قوم کو مندرجہ قرآنی آیات واحادیث یاد ہوں تو ان سے تم کس طرح جنگ کر سکتے ہو۔اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے :وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ ( سورۃ انفال 60)

’’تم ان کے مقابلے کے لئے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو اور گھوڑوں کے تیار رکھنے کی کہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو خوف زدہ رکھ سکو اور ان کے سوا اوروں کو بھی، جنہیں تم نہیں جانتے اللہ انہیں خوب جان رہا ہے جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں صرف کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا۔‘‘

علامہ قرطبی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ امام ضحاک رحمہ اللہ نےوَخُذُوا حِذْرَكُمْ کی تفسیر میں فرمایا ہے یعنی اپنی تلواریں گلے میں لٹکا کر رکھا کرو کیونکہ یہی مجاہد کا حلیہ ( زیور ) ہے۔اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ قوت سے مراد اسلحہ اور تیر کمانیں ہیں ۔ (الجامع الاحکام القرآن ) یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لیجئے کہ شہسواری سیکھنا اور سیکھانا اور اسلحہ کا استعمال سیکھنا عمومی حالات میں فرض کفایہ ہے ۔علامہ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ کبھی فرض عین بھی ہو جاتا ہے جبکہ مسلمانوں کو اس کی سخت ضرورت ہو اور فرض کفایہ ادا کرنے والے بھی باقی نہ رہیں ( الجامع الاحکام القرآن )

 سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : میں قیامت سے پہلے تلوار دے کے بھیجا گیا ہوں تاکہ صرف اکیلے اللہ کی عبادت کی جائے جس کا کوئی شریک نہیں اور میری روزی میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھ دی گئی ہے اور ذلت اور پستی ان لوگوں کا مقدر بنا دی گئی ہے جو میرے لائے ہوئے دین کی مخالفت کریں اور جوکسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہیں میں سے ہے۔ ( مسند احمد )

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا جس جگہ جہاد کی ضرورت ہو وہاں نیزے بنانا نفل نماز سے افضل ہے ۔ (لفروسیتہ المحمدیہ)

 سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ر سو ل اکرم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو ایسے اعمال نہ بتاؤں جو تمھیں جنت میں لے جائیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ۔ ضرور ارشاد فرمایئے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : وہ اعمال یہ ہیں تلوار چلانا ، مہمان کو کھانا کھلانا ، نمازوں کے اوقات کا اہتمام کرنا ۔ ( ابن عساکر )

 سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالی مجاہد کی تلوار اس کے نیزے اور اسلحے پر فرشتوں کے سامنے فخر فرماتے ہیں اور جب اللہ تعالی کسی بندے پر فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے تو پھرا سے کبھی عذاب میں مبتلا نہیں فرماتا ۔ ( کتاب ترغیب لابی حفص بن شاہین و ابن عساکر )

 سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا دشمنوں کے علاقوں میں جنگ کے دوران اپنے ناخن بڑھاؤ کیونکہ یہ بھی اسلحہ ہے ۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ )

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہاد کے دوران دشمنوں کے علاقے میں ناخنوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے مثلاً رسی وغیرہ کھولنے اور دوسرے کاموں میں ۔ ( المغنی)

اللہ کے راستے میں جو تلوار سب سے پہلے سونتی گئی وہ سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کی تلوار تھی اور اس تلوار کے لیے رسول اکرم نے دعا بھی فرمائی ۔ واقعہ یہ ہوا ایک بار شیطان نے یہ افواہ اڑا دی کہ نبی اکرم کو گرفتار کر کے مکہ کے پہاڑوں پر لے جایا گیا ہے ۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اس وقت بارہ سال کے تھے یہ افواہ سنتے ہی وہ اپنی تلوار ہاتھ میں لے کر باہر نکل آئے۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ رسول اکرم کے پاس پہنچے تو آپ نے پوچھا کیا ہوا تمھیں کہ اس طرح ہاتھ میں تلوار لے کر پھر رہے ہو۔ کہنے لگے مجھے اطلاع ملی تھی کہ آپ کو گرفتار کیا گیا ہے ۔نبی اکرم نے پوچھا اگر ایسا ہوتا تو تم نے کیا کرنا تھا۔ کہنے لگے میں اس تلوار سے

آپ کے پکڑنے والوں کو ختم کر دیتا ۔ اس پرنبی اکرم نے خود انہیں اور ان کی تلوار کو دعائیں دیں ۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اسلام کے جانبازوں اور عظیم بہادروں میں تھے ۔ ( المستدرک )

 ابن ابی الزناد کہتے ہیں کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے عثمان بن عبداللہ بن مغیرہ کے سر پر تلوار ماری جو اس کے لوہے کے خود [ یعنی جنگی ٹوپی ] کو کاٹتی ہوئی گھوڑے کی زین تک سے گزر گئی۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ آپ کی تلوار کیا ہی عمدہ ہے اس پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے ان کا خیال یہ تھا کہ یہ تو ہاتھ کی طاقت کا کمال ہے تلوار کا نہیں ۔

علامہ طرطوشی رحمہ اللہ نے سراج الملوک میں لکھا ہے کہ کچھ پرانے اور بوڑھے مجاہدین نے یہ قصہ سنایا کہ ایک بار مسلمانوں اور کافروں میں لڑائی ہوئی تو انہوں نے میدان جنگ میں لوہے کے خود کا ایک ٹکڑا دیکھا جس کا ایک تہائی حصہ سر کے اندر گھسا ہوا تھا وہ کہتے تھے کہ ایسے زور دار وار کے بارے میں ہم نے کبھی نہیں سنا تھا۔ رومی اسے اٹھا کر لے گئے اور اپنے ایک گرجا گر میں لٹکا دیا۔ انہیں جب شکست پر عار دلائی جاتی تھی تو وہ یہی خود دکھایا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمارا مقابلہ ایسی قوم کے ساتھ تھا جن کے وار اس طرح کے تھے۔ ( سراج الملوک )

 جہاد کے لیے خریدے جانے والے اور تیار کئے جانے والے اسلحہ کی فضیلت ہے کہ رسول اکرم نے اپنی میراث میں نہ درھم چھوڑے نہ دینار ۔ اور نہ کوئی اور مال اور دولت ۔ البتہ آپ اپنی میراث میں امت کو علم اور جہاد کے ہتھیار عطاء فرما کر اس دنیا سے تشریف لے گئے ۔ مسلمانوں نے جب تک میراث نبوی کو تھامے رکھا اس وقت تک وہ واقعی مسلمان رہے اور دنیا کی کوئی طاقت ان پر غالب نہ آسکی ۔

 ہماری عسکری قوتیں چاہے فضائی،بحری اور بری ہوں ان کے لیے اپنے ملک کی تمام حدود کی حفاظت اپنے وجود کی بقاسے زیادہ معتبر اور مقدم ہے۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہم نے اپنا وطن پاکستان کتنی لازوال قربانیوں کے بعد حاصل کیا۔ ان قربانیوں میں ہم نے صرف اپنی جانیں نہیں گنوائیں بلکہ اپنے اہل و عیال،بزرگ،مال و مویشی اور اپنے گھر بار سب کچھ ایسے قربان کر دیئے جیسے قربان کرنے کا حق تھا۔ ہر مسلمان اللہ کا سپاہی ہے۔ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیف اور شاعرِ مشرق علامہ اقبال رحمہ اللہ کا شاھین ہے۔ جب بھی ہمارے وطن پہ مشکل وقت آیا تو ہماری افواج اور عوام نے اپنے فوجی بھائیوں کی اس طرح مدد کی کہ بچوں نے اپنے جیب خرچ ،ملک کی ماں بہنوں اور بیٹیوں نے اپنے زیور تک بیچ کر ملک کے خزانے میں جمع کروا دئیے اور یہ بات سب پر عیاں ہے کہ جنگیں صرف فوجیں نہیں بلکہ قومیں جیتا کرتی ہیں۔ کچھ محاذ ایسے ہوتے ہیں جو زمینی و آسمانی آفات کی بنا پر قوم کو یکجا کرتے ہیں اور قومیں ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہیں جیسے سیلاب،زلزلے اور کوئی بڑا حادثہ۔ سب سے بڑا محاذ جنگی محاذ ہوتا ہے جس میں دشمن اپنے ناپاک عزائم لے کر بزدلوں کی طرح رات کی تاریکی میں بنابتائے ہمارے ملک پہ حملہ آور ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ستمبر 1965میں بھارت جیسے ازلی دشمن نے بنا للکارے گیدڑوں کی طرح حملہ کر دیا مگر آفرین ہے ہماری افواج اور قوم پر کہ ناموافق بین الاقوامی حالات اور محدود وسائل کے باوجود جذبہ مسلمانی و ایمانی اور جذبہ جہاد کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے اور لازوال جذبے کے تحت ہم نے ایک ہو کر ان کو شکستِ فاش دی اور ان کی فتح کا جھنڈا ذلت کی پستیوں میں گاڑھ دیا۔ ہمارے دفاعی فرزند ایک ہی نظریے کے تحت میدانِ جنگ میں اترتے اور شہہ زوری سے لڑتے ہیں کہ اپنے دین اور قومی وجود کو کسی بھی طور باطل قوتوں سے مغلوب نہیں ہونے دینا۔ ہمارے نبی پاک نے خود مدینہ شریف کے دفاع کے لیے راتوں کو پہرہ دیا اور اپنے صحابہ کرام کو جو وہاں حفاظت کے لیے مامور تھے انہیں خفیہ ہدایات دیں۔

مملکتِ اسلامیہ پاکستان کو استحصالی قوتیں برداشت کہاں کرتی ہیں لیکن ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ مسلمان کی جنت تلواروں کے سائے تلے ہے،ویسے بھی اللہ کے راستے میں لڑنے کو مسلمان کے لیے فرض قرار دیا گیا ہے۔ 6ستمبر 1965 کو ہندوستانی کمانڈر انچیف جے۔این چوہدری نے پاکستان پر حملے کی نادانی تو کر لی مگر پھر اسے بری طرح

بھگتنا پڑا۔ وہ ہمارے وسائل سے تین گنا زیادہ ہتھیاروں کے ساتھ لیس ہو کر آئے تھے اور جم خانہ لاہور میں اپنی فتح کا جشن شراب کے نشے میں دھت ہو کر منانا چاہتے تھے مگر ہماری پاک زمین کا ایک ذرہ بھی ان کے نصیب میں نہ ہوا۔ سیالکوٹ میں جسور کے علاقے پہ انہوں نے قبضہ کرنے کوشش کی مگر ہماری افواج نے جب قدم آگے بڑھائے تووہ جوابی کارروائی کیے بغیر ہی سر پر پاؤں رکھ کے سرپٹ ہوئے۔ ہماری آزمائش کے اس دن کو آج پچاس سال گزر گئے مگر ہمارے ملک اور مذہب کا عزت و وقار آج بھی قائم ہے۔

 جس ملک کی مائیں وطن کی حفاظت کی خاطر اپنی گود خالی ہونے پر شکرانے کے نفل ادا کرتی ہیں اس وطن کا ہر فرد بوڑھا اور بچہ اللہ کی تلوار بنتا ہے۔ آج سے پچاس سال پہلے ہماری قوم میں مایوسی اور بزدلی کا شائبہ تک بھی نہ تھا، پوری قوم جذبۂ ایمانی، حوصلہ مندی اور نئی امنگوں کے جذبوں کے ساتھ متحرک تھی، ملک کا بچہ بچہ قربانی دینے کو یوں تیار تھا جیسے ماں کی گود میں سونے کے لیے تیار ہو رہا ہو۔ ہماری فضائیہ نے جب ہندوستان کا "پٹھان کوٹ" بیس (Base) تباہ کیا تو عوام کی خوشی دیدنی تھی وہ فضا میں لڑتے طیاروں کی جنگ دیکھنے کے لیے خندقوں اور اندھیرے کمروں سے نکل کر چھتوں پر آجاتے اور جب اپنی فضائیہ کا کوئی جوان دشمن کاطیارہ گراتا تو نعرہِ تکبیر بلند کرتے۔ اسوقت قوم کا جذبہ یہ تھا کہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقام پہ جاتے ہوئے اپنے گھروں کی چابیاں فوجیوں کو دے جاتے۔ ان کے ٹیوب ویل، ان کی دکانیں، ان کے مویشی سب افواجِ پاکستان کے لیے وہیں موجود رہیں تا کہ ضرورت پڑنے پر جو وہ استعمال کرنا چاہیں کر لیں۔ سڑک پہ روک روک کر جانے والے فوجیوں کو بوڑھی مائیں چنگیر میں گرم روٹی اور مکھن رکھ کر کھلانے کو کھڑی ہوتیں۔ دانے بھون کر اپنا پیٹ پالنے والے دانوں کو گٹھڑی میں باندھ کر فوجی گاڑیوں میں رکھ دیتے کہ جہاں ان کا سپاہی کچھ نہ ملنے پر بھوکا رہے گا وہاں اِن کو کھا کر اپنا پیٹ بھرے گا اور شاید اسی طرح ہم بھی اس جنگ میں وطن کی حفاظت کے لیے کچھ حصہ ڈال سکیں گے۔

جس دن سے انڈین وزیراعظم نے جنگ کی دھمکی دی ہے اس دن سے سوشل میڈیا پر ہر طرف صرف جنگ کے حوالے سے پوسٹس پڑھنے کو مل رہی ہیں، کوئی جگتیں کر رہا ہے تو کوئی دشمن کو للکار رہا ہے، ہم ماشاءاللہ پڑھے لکھے باشعور لوگ ہیں ہم نے جنگ کے حوالے سے کتابیں بھی پڑھی ہیں اور ہم میں سے اکثریت نے جاپان کے شہروں ہیرو شیما اور ناغا ساقی پر ایٹمی بم پھینکے جانے کے بعد کے حالات بھی پڑھے ہوں گے، سب کچھ جاننے کے باوجود ہم خیر اور امن کی دعا مانگنے کی بجائے غرور اور تکبر کر رہے ہیں مذاق سمجھ رہے ہیں اس چیز کو، یہ کوئی کرکٹ کا کھیل نہیں ہے کہ دو ٹیمیں کھیلیں گی اور باقی سب تماشائی ہوں گے یہ ایٹمی ہتھیاروں کی جنگ ہوگی اس کے بعد یہاں کیا بچے گا کیا نہیں یہ ہم سب جانتے ہیں، اس لیے امن کی دعا کیجئے اللہ تعالیٰ سے خیر مانگیں، گزارش ہے کہ اس مذاق کو بند کر دیجئے اللہ ہمارے ملک کو ہمیشہ امن کا گہوارہ بنائے۔ آمین

کرب وپریشانی کے عالم میں نبی کریم کی بتائی ہوئی دعائیں بطورِ خاص کرنی چاہئیں جیسا کہ ارشاد گرامی ہے:

اللّهُمَّ إِنِّي أسْأَلُكَ العَفْوَ وَالعافِيةَ في الدُّنْيا وَالآخِرَة ، اللّهُمَّ إِنِّي أسْأَلُكَ العَفْوَ وَالعافِيةَ في ديني وَدُنْيايَ وَأهْلي وَمالي ، اللّهُمَّ اسْتُرْ عوْراتي وَآمِنْ رَوْعاتي ، اللّهُمَّ احْفَظْني مِن بَينِ يَدَيَّ وَمِن خَلْفي وَعَن يَميني وَعَن شِمالي ، وَمِن فَوْقي ، وَأَعوذُ بِعَظَمَتِكَ أَن أُغْتالَ مِن تَحْتي [صحيح ابن ماجه 2/332]

  اے اللہ! میں تجھ سے دنیاو آخرت میں درگزر اور عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین ، اپنی دنیا، اپنے اہل اور اپنے مال میں درگزر اور عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میرے پوشیدہ امور پر پردہ ڈال اور میری گھبراہٹوں میں مجھے امن دے، اے اللہ! میرے سامنے سے، میرے پیچھے سے، میرے دائیں سے، میرے بائیں سے، میرے اوپر سے میری حفاظت فرما، اور میں تیری عظمت کے ذریعے پناہ چاہتا ہوں کہ میں اپنے نیچے سے اچانک ہلاک کردیا جاؤں۔

انسان جس جگہ اورخطے ملک یا شہر میں رہتا ہےاس جگہ سے قلبی لگا ؤ اورمحبت کا پیداہوناایک فطری عمل ہے امانت اور دیانت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ انسان جہاں رہے وہاں کی خیر خواہی ،تعمیر وترقی اور فلاح وبہبود کی کوشش میں لگا رہے اس لیے ہم اپنا یہ دینی فریضہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہمیشہ کی طرح پاکستان کی بقاء وسالمیت اور حفاظت کے لیے حکومت اور افواج پاکستان کے ساتھ دامے،درمے،قدمے اور سخنے ہر طرح سے ساتھ ہے جہاں افواج پاکستان کے پسینے کا قطرہ گرے گا وہاں پر ہمارہ خون بہے گا۔

اِن شاء اللہ تعالیٰ

 

Read 1483 times
Rate this item
(1 Vote)
ڈاکٹر مقبول احمد مکی

Latest from ڈاکٹر مقبول احمد مکی

Related items