Print this page

سرورِ دو عالم علیہ السلام کا پیغام اقوام عالم کے نام

Written by 18 Aug,2019

قُلْ یَا أَ یُّہَا النَّاسُ إِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ إِلَیْکُمْ جَمِیْعًا

’’فرمادیجیے اے لوگو!بلاشبہ میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘ (الاعراف :185)

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ (سبا: 28)

’’اور اے نبی ہم نے آپ کو لوگوں کے لیے بشیراورنذیر بنا کر بھیجا ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘

وَبُعِثْتُ إِلَی کُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ(رواہ مسلم:کتاب المساجد)

’’میں ہر کالے اورگورے کی طرف رسول بنا کے بھیجا گیاہوں۔‘‘

وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ (سنن ابی داؤد)

 ’’میں خاتم النبیّین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔‘‘

چونکہ آپe ہر زمانے کے لوگوں کے لیے رسو ل بنائے گئے ہیں۔ اس لیے آپeنے اپنے دور کے تمام لوگوںکو مخاطب کیا اور بڑی بڑی اقوام کے ذمہ دار لوگوں اور حکمرانوں کو اپنی نبوت کے پیغام سے آگا ہ فرمایا ۔ جہاں آپe اس مشن کے لیے خود نہ پہنچ پائے وہاں اپنے نمائندوں کو خطوط دے کر بھیجا ۔یا د رہے اس زمانے کی دنیا سیاسی اعتبار سے دو بلاکوں میں تقسیم تھی۔ ایک بلاک روم کے زیر اثر اور دوسرافارس کے زیر نگین تھا۔ جسے آج ایران کہا جا تا ہے ۔آج کی ملاقات میںہم آپeکے خطوط میں سے روم کے فرما ں روا ہر قل کے نام لکھے جانے والے نامہ مبارک کا مضمون پیش کرتے ہیں ۔جس سے ثابت ہوتا ہے ۔کہ اہلِ کتاب اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اورسیدناعیسیٰ uکی رسالت کا اقرار کرنے کے باوجود شرک جیسے عظیم گناہ میں مبتلا تھے۔جس پر انہیں انتباہ کرتے ہوئے توحید ِ خالص کی طرف بلایا گیا ہے۔ من دون اللہ کے الفاظ میں اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب کی عبادت سے منع کیا گیا ہے ۔ اس سے ان بھائیوں کا مغالطہ دور ہوجا نا چاہیے جو یہ سمجھتے ہیںکہ قرآن مجید میں من دون اللہ سے مراد بت ہیں اور کلمہ پڑھنے والا شخص مشر ک نہیں ہوسکتا ۔ان بھائیوں کو جان لیناچاہیے کہ آپeکی نبوت سے پہلے لوگوںکو سیدناعیسیٰ uکا کلمہ پڑھنے کا حکم تھا۔عیسائی سیدنا عیسیٰu کی رسالت کا اقرار کرتے تھے مگر اس کے باوجودقرآن مجید اورنبی کریمeنے انہیں مشرک کی حیثیت سے مخاطب فرمایااور شرک سے منع کیا ہے ۔ حالانکہ اس دور میں عیسائی اور یہودی کسی بھی بت کی عبادت نہیں کرتے تھے۔البتہ عیسائی سیدناعیسیٰ u اور سیدہ مریم[ کے مجسمے اور تشبیہ کے طفیل اور حرمت سے دعا کرتے تھے۔اس کے ساتھ ہی عیسائی اور یہودی قبرو ں میں مدفون بزرگوںکی حرمت سے بھی مانگا کرتے تھے اور مانگتے ہیں۔ جس سے سرورگرامی eنے سختی سے منع فر مایا اورانہیں عقیدہ توحید کی طرف بلایا۔یہی انبیا ء کرامoکی دعوت کا خلاصہ اور توحید ِ خالص کا تقاضا ہے ۔توحید انسانی فطرت کی آواز ہے اس کے تقاضے پورے کرنے میں آدمی کی نجات اور یہی دنیوی مسائل کے حل کی کلید ہے۔آئیں!ہم فرقہ واریت کے پردے چاک کرتے ہوئے تعصب کے چشمے اتار کر آپe کے نامہ مبارک اور اس کے مندرجات قرآن مجید اورآپeکی احادیث کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں اور ٹھنڈے دل سے اس حقیقت پر غور کریں۔

بریلوی کے یقین اور اپنے آپ کو فرقہ واریت کے تعصب

سے پاک ثابت کرنے کے لیے ہم تمام آیات کا تر جمہ

پیر کرم شاہ صاحب بریلوی کے ترجمہ قرآن سے نقل کرتے ہیں اوراللہ تعالیٰ کے حضور دعا گوہیں ۔کہ ربِ کریم ہمیں شرک کو سمجھنے اور اس سے مکمل اجتناب کرنے اور توحید خالص کا عقیدہ اپنانے اور اس کا پرچار کرنے کی توفیق عنایت فرمائے ۔

نبی معظم کا روم کے بادشاہ ھرقل کے نام نامۂ مبارک

مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ: سَلاَمٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الهُدَى، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الإِسْلاَمِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الأَرِيسِيِّينَ " وَ {يَا أَهْلَ الكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لاَ نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلاَ نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلاَ يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ}(رواہ البخاری:کتاب بدء الوحی)

’’محمد eاللہ کے بندے اوراس کے رسول کی طرف سے بادشاہ روم ھرقل کی طرف۔ سلامتی ہواس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی ۔حمد وثناء کے بعد میں آپ کو اسلام کی طرف دعوت دیتاہوں ،اسلام لے آئو، سلامت رہو گے۔ اللہ تعالیٰ تجھے دوہر ااجر عطا فرمائے گا۔اگرآپ نے انکار کیا تو آپ کی رعایاکا گناہ بھی آپ پر ہو گا۔ اے اہل کتاب ایسے کلمے کی طر ف آجائو جوہمارے تمہارے لیے یکساں ہے۔کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اوراس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اورہم میں سے کوئی دوسرے کو رب نہ بنائے۔ اگر تم پھر جائو تو گواہ رہنا کہ ہم مسلمان ہیں ۔‘‘

آپ کے نامہ مبارک کے مندرجات

1قوم کا سربراہ نیک ہو ، لوگوں کو نیکی کا حکم دے تو اسے پوری قوم کی نیکیوں کے برابر اجر ملے گا۔

2  برے حکمران کواپنے اور قوم کے گناہوںکا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔

3  اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے اور اس  کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے ۔

4  اسلام اپنے ماننے والوں کو دنیا ،آخرت کی سلامتی کی ضمانت دیتا ہے۔

5  من دون اللہ سے مراد ہر چیز اور ذات ہے جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے ۔

6  اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو ’’رب‘‘کا درجہ نہ دیا جائے۔

7توحید کی دعوت دینے کیلئے سب کو اکٹھا ہونا چاہیے۔

من دون اللہ کی وضاحت قرآن مجیدکی روشنی میں 

قُلْ یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنْ کُنْتُمْ فِیْ شَکٍّ مِنْ دِیْنِیْ فَلَآ أَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلَکِنْ أَعْبُدُ اللّٰہَ الَّذِیْ یَتَوَفَّاکُمْ وَأُمِرْتُ أَنْ أَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (یونس:104)

’’فرمائیے اے لوگو! اگر تمہیں کچھ شک ہو۔میرے دین کے بارے میں ۔تو سن لو میں عبادت نہیں کرتا ان بتوں کی جن کی تم پوجا کرتے ہو اللہ تعالیٰ کے سوا ۔لیکن میں عبادت کرتاہوںاللہ تعالیٰ کی جو مارتا ہے تمہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ہو جائوں اہل ایمان سے۔‘‘

قُلْ إِنِّیْ نُہِیْتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ قُلْ لَا أَتَّبِعُ أَہْوَائَ کُمْ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَّمَا أَنَا مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ (الانعام:56)

’’آپ فرمائیے مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں پوجوں انہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے سوا۔آپ فرمائیے میں نہیں پیروی کرتا تمہاری خواہشوں کی ایسا کروں تو گمراہ ہو گیا میں ۔اور نہ رہا میں ہدایت پانے والوںسے۔‘‘

من دون اللہ سے مرادبت 

قُلْ أَنَدْعُوْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَلَا یَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلٰی أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَانَا اللّٰہُ  (الانعام:71)

’’آپ فرمائیے کیا ہم پوجیں اللہ تعالیٰ کے سوا اس کو جو نہ نفع پہنچا سکتاہے ہمیں اورنہ ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے اور کیا ہم پھر جائیں الٹے پائوں اس کے بعد کہ ہدایت دی ہمیں اللہ نے؟‘‘

من دون اللہ سے مراد فوت شدگان بزرگ

وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّہُمْ یُخْلَقُوْنَ أَمْوَاتٌ غَیْرُ أَحْیَائٍ وَمَا یَشْعُرُوْنَ أَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ (النحل:20-21)

’’اللہ کے سوا وہ نہیں پید اکرسکتے کوئی چیز۔بلکہ وہ خود پید اکیے گئے ہیں۔ وہ مردہ ہیں ،وہ زندہ نہیں اور وہ نہیں سمجھتے کہ کب انہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘

یہ الفاظ بتا رہے ہیں کہ ان سے مراد انبیاء،شہداء،صالحین اور فوت شدہ شخصیات ہیں ۔ جن کو ان کے عقیدت مندحاجت روااور مشکل کشاسمجھتے ہیں ۔یادر ہے قیامت کے دن پتھر او ر لکڑی وغیرہ کے بتوں کو نہیں اٹھایا جائے گااور نہ کوئی ان کے زندہونے کا قائل ہے ۔

قال ابن عباس e ان ھؤلاء کانوا قوما صالحین فی قوم نوح فلما ماتوا عکفوا علی قبورھم ثم صور واتماثیلہم فعبدوھم ثم صارت ھذہ الاوثان فی قبائل العرب (مستفاض من کتب التفاسیر والبخاری)

’’سیدناعبداللہ بن عباسw فرماتے ہیں کہ یہ سب وَدّ،سُواع وغیرہ’’ قومِ نوح ‘‘کے اولیا ء اللہ تھے۔جب وہ مر گئے تو لوگ ان کی قبروں سے وابستہ ہو گئے اور پھر ان کی عبادت کرنے لگے۔پھر انھیں کے مجسمے بتوں کی صورت میں عرب کے قبائل میں پھیل گئے۔‘‘

یہی بات پر وردگارِ عالم نے ارشاد فرمائی ہے ۔

إِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَادٌ أَمْثَالُکُمْ فَادْعُوْہُمْ فَلْیَسْتَجِیبُوْا لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ (الاعراف:194)

’’بے شک جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، وہ تمہاری طرح کے بندے ہیں،توانہیں پکارو، پس چاہیے کہ تمہاری پکار کوقبول کریں ،اگر تم سچے ہو(یعنی وہ تمہاری دعائوں اور پکار سے بے خبر ہیں۔ )‘‘(تفصیل کیلئے دیکھیں ہماری کتاب’’ انبیاء کا طریقہ دعا‘‘)

من دون اللہ سے مراد علماء اور اولیاء

اِتَّخَذُوْا أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ (توبۃ:31)

’’انہوںنے بنا لیا اپنے پادریوں کو راہبوںکو (اپنے پروردگار)اللہ کو چھوڑ کر اور مسیح مریم کے فرزند کو بھی۔‘‘

عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍt قَالَ أَتَیْتُ النَّبِیَّeوَفِی عُنُقِی صَلِیبٌ مِنْ ذَھَبٍ فَقَالَ  یَا عَدِیُّ اطْرَحْ عَنْکَ ھَذَا الْوَثَنَ مِنْ عُنُقِکَ قَالَ فَطَرَحْتُہٗ، وَانْتَہَیْتُ إِلَیْہِ وَھُوْ یَقْرَأُ فِیْ سُوْرَۃِ بَرَاءَۃَ فَقَرَأَ ھٰذِہِ الْآیَۃُ(اتَّخَذُوا أَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَہُمْ أَرْبَابًا مِن دُونِ اللَّہِ)قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، إِنَّا لَسْنَا نَعْبُدُھُمْ فَقَالَ أَلَیْسَ یُحَرِّمُوْنَ مَا أَحَلَّ اللّٰہُ فَتُحَرِّمُوْنَہٗ، وَیُحِلُّوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ فَتُحِلُّوْنَہٗ؟ قَالَ قُلْتُ بَلٰی قَالَ فَتِلْکَ عِبَادَتُہُمْ (تفسیر قر طبی:ج 14 والترمذی سُورَۃِ التَّوْبَۃِ)

’’ سیدنا عدی t بیان کرتے ہیں ۔میں نبی کریم eکی خدمت میں حاضر ہوا اورمیرے گلے میں سونے کی صلیب لٹک رہی تھی ۔آپ نے فرما یا اے  عدی اس بت کو اتار پھینکو تو میں نے اسے اتار پھینکا اورآپ کے قریب آگیااور آپ  سورۃ توبہ کی تلاوت فرما  رہے تھے۔ آپ  نے آیت تلاوت کی(اتَّخَذُوا أَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَہُمْ أَرْبَابًا مِن دُونِ اللہِ) تو میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ہم تو انکی عبادت نہیں کرتے تھے ۔آپ نے فرمایا کیا جسے وہ حرام قراردیتے تھے اسے تم حرام نہیں سمجھتے تھے اور جسے وہ حلال قرار دیتے اسے تم حلال نہیں سمجھتے تھے ؟میں نے کہا ہاں ـ! اللہ کے رسول آپ نے فرمایا یہی تو انکی عبادت ہے۔‘‘

حضرت سید پیر نصیر الدین صاحب آف گولڑہ کے الفاظ میںمن دون اللہ کی وضاحت

بعض درگاہی ملائوں اور خانقاہی زلہ خوروں کا کہنا ہے کہ ہم اپنے مشائخ اور علماء کو معبود تو نہیں سمجھتے ، ہم ان کی عبادت تو نہیں کرتے،پھر ہمیں کیوں موردِ الزام ٹھہرایا جاتاہے ۔آئیے ہم یہ کیس(Case) دربارِ رسالت میں پیش کرتے ہیں ،تاکہ آپe اس کا فیصلہ فرما دیں کہ کیا علماء و مشائخ پر بھی أَرْبَابًا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کے الفاظ کا اطلاق کیا جاسکتاہے یا نہیں؟اس سلسلے میں ایک روایت معتبرہ ملاحظہ ہو۔

’’سیدنا عدی بن حاتم tسے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ eکی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ میری گردن میں ایک سونے کی صلیب پڑی ہوئی تھی۔آپ نے ارشاد فرمایا اے عدی!اس بت کو اپنے سے اتار پھینکو اور میں نے یہ سنا کہ آپ سورہ براۃ کی یہ آیت تلاوت فرمارہے تھے کہ ’’جن لوگوں نے اپنے علماء و مشائخ کو اللہ کے سوا رب بنا لیا۔‘‘پس میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول !وہ لوگ (یہودونصاریٰ) اپنے بزرگوں کی عبادت تو نہیںکرتے تھے۔ آپ نے فرمایا کیا وہ بزرگ اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام نہیں کرتے تھے اور یہ معتقد انہیں حرام تسلیم کر لیتے ہیں اور کیا وہ بزرگ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلا ل نہیں کرتے تھے اور یہ انہیں حلال مان لیتے تھے۔میں نے عرض کی یارسول اللہ !ایساتو ہے پس آپ نے فرمایا یہی عبادت ہے۔‘‘

جن حضرات کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ جن آیات میں اصنام کو خطاب کیا گیاان آیات کو انبیاء واولیاء پر منطبق کرنا ناصرف جہالت ہے ،بلکہ تحریف قرآنی ہے۔وہ ہماری تحقیق بھی ذہن نشین کر لیں کہ غیر اللہ ،من دون اللہ ، شریک اور انداد کے الفاظ قرآن میں جہاں بھی آئے ہیں، ان سے مراد ہر وہ چیزہے جو اللہ تعالیٰ کے سوا ہو اور جو وصول الی اللہ میں رکاوٹ بنتی ہو۔ اگر اصنام رکاوٹ بن رہے ہوں تو ان الفاظ سے مراد اصنام ہوں گے اور اگر انسان بن رہے ہوں تو انسان مراد ہوں گے۔ اگر کوئی عالم یا شیخ اللہ کے راستے میں رکاوٹ بن رہا ہے تو وہ یصدون عن سبیل اللہ کے زمرے میں آئے گا۔پس ایسا شخص غیراللہ ،من دون اللہ ،شریک اور اندادا کے الفاظ کا مصداق ٹھہرے گا۔معلوم ہو ا کے جو چیز اللہ کے راستے میں رکاوٹ بنے وہ غیر اللہ ہے۔چاہے وہ اصنام ہوں یا کوئی انسان۔[اعانت واستعانت کی شرعی حقیقت ازقلم حضرت پیر سید نصیر الدین نصیرصاحب آف گولڑہ]

قبروں کے بارے میں سرور گرامی eکا ارشاد

لَعَنَ اللّٰہُ الْیَہُودَ وَالنَّصَارَی اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَائِہِمْ مَسْجِدًا (البخاری:کتاب الجنائز)

’’اللہ یہو د ونصایٰ پہ لعنت فرمائے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔‘‘

عَنْ اَبِی مَرْثَدَنِ الْغَنَوِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ e لَا تَجْلِسُوْا عَلٰی الْقُبُورِ وَلاَ تُصَلُّوا اِلَیْہَا [مسلم]

ٗٗ’’سیدنا ابو مرثد غنوی t بیان کرتے ہیں رسول اللہ e نے فرمایا کہ نہ قبروں پر بیٹھا کرو اور نہ ان کی طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرو۔‘‘

اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو سجدہ کرنے اور  روضۃ الرّسول کے بارے میں مولانا احمد رضا خان صاحب کا فتویٰ

قولہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم لا تتخذوا قبری وثنا یعبد بعدی ای لا تعظموہ تعظیم غیرکم لاوثانہم بالسجود لہ اونحوہ فان ذلک کبیرۃ بل کفر بشرطہ

[فتاویٰ رضویہ:ص486]

’’رسول اللہ eکا ارشاد ہے کہ میرے مزار اقدس کو پرستش کا بت نہ بنانا اس سے یہ مراد ہے کہ اس کی تعظیم سجدے یا اس کے مثل سے نہ کرنا جیسے تمہارے اغیار اپنے بتوں کے لیے کرتے ہیں کہ سجدہ ضرورکبیرہ گناہ ہے بلکہ نیت عبادت ہو تو کفر ہے۔والعیاذ باللہ تعالیٰ۔‘‘

لا یقبل الارض فانہ ای کل واحد (بدعۃ)غیر مستحسنۃ [فتاویٰ رضویۃ:ص745]

’’(ہمیں اللہ تعالیٰ دوبارہ روضۂ اطہر کی زیارت نصیب فرمائے بشرطیکہ قبولیت ہو۔)کے وقت نہ دیوار کریم کو ہاتھ لگائے،نہ چومے،نہ اس سے چمٹے،نہ طواف کرے، نہ جھکے،نہ زمین چومے کہ یہ سب بدعت قبیحہ ہیں۔‘‘

اما السجدۃ فلا شک انہا حرام فلا یغترالزرائر بما یری من فعل الجاھلین بل یتبع العلماء العاملین

’’رہا مزار انور کو سجدہ وہ توحرام قطعی ہے تو زائر جاہلوں کے فعل سے دھوکا نہ کھائے بلکہ علمائے باعمل کی پیروی کرے۔‘‘

’’عورتوں کی مزارات پر حاضری مکروہ ہے جب عورت گھر سے قدم باہر رکھتی ہے جب تک گھر نہیں لوٹ جاتی فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں ۔ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز کا رسالہ’’مزارات پر عورتوں کی حاضری ‘‘کا مطالعہ کریں۔ واللہ اعلم [فتاویٰ بریلی شریف:ص121]

 کسی بزرگ کی تعظیم کے لیے اس کے مزار کا طواف کرنا کیسا ہے؟

 ناجائز ہے جیساکہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاصاحب تحریر فرماتے ہیں۔ مزار کا طواف کہ محض بہ نیت تعظیم کیا جائے ناجائز ہے کہ تعظیم بالطواف مخصوص بخانۂ کعبہ ہے۔[فتاویٰ رضویہ جلد4 ص8]

نوٹ: احادیث سے ثابت ہے کہ عورتیں اپنے عزیز و اقرباء کی قبروں پر جا سکتی ہیں بشرطیکہ بدعات سے اجتناب کریں ۔ سیدہ عائشہrاپنے بھائی کی قبر پر تشریف لے گئیں ۔البتہ مزارات پر نہیں جانا چاہیے کیونکہ وہاںشرک وبدعت کے ساتھ بے پردگی اور بے حیائی ہوتی ہے۔

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْا إِلَّا إِبْلِیْسَ (البقرۃ:43) کے بارے میں اپنی تفسیر ضیاء القرآن میں فرماتے ہیں:

’’انبیاء oکی بعثت کا مقصداولین تھا ہی یہی کہ وہ انسانوں کوصرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور دوسروں کی عبادت سے منع کریں۔تو یہ کیونکر ہوسکتاہے کہ جس چیز سے روکنے کے لیے انبیاء تشریف لائے۔ اس فعل کا ارتکاب خود کریں یا کسی کو اجازت دیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جس کے سامنے سجدہ کیا جارہا ہے اس کی عزت واحترام کے لیے ہو،عبادت کے لیے نہ ہو تو اس کو سجدہ تحیہ کہتے ہیں ۔یہ پہلے انبیاء کرام کی شریعتوں میں جائز تھا۔ لیکن حضور کریم eنے اس سے بھی منع فرما دیا۔اب تعظیمی سجدہ بھی ہماری شریعت میں حرام ہے۔‘‘

صدقہ کیجیے مگر!

عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ قَالَ نَذَرَ رَجُلٌ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللہِeأَنْ یَنْحَرَ إِبِلاً بِبُوَانَۃَ فَأَتَی النَّبِیَّe فَقَالَ إِنِّیْ نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلاً بِبُوَانَۃَفَقَالَ النَّبِیُّ ھَلْ کَانَ فِیہَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاھِلِیَّۃِ یُعْبَدُ قَالُوْا لاَ قَالَ

ھَلْ کَانَ فِیہَا عِیدٌ مِنْ أَعْیَادِھِمْ قَالُوْا لا قَالَ رَسُوْلُ اللہِe أَوْفِ بِنَذْرِکَ فَإِنَّہُ لاَ وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ وَلاَ فِیمَا لاَ یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ)) [ابوداؤد:کتاب الایمان والنذور]

’سیدنا ثابت بن ضحاکt بیان کرتے ہیں رسولِ معظم eکے زمانہ میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ ’’بوانہ‘‘مقام پر اونٹ ذبح کرے گا۔ سرورِ دو عالمe نے اس سے دریافت فرمایا کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی پوجا کی جاتی رہی ہو؟ اس نے نفی میں جواب دیا۔ سرورِ کائنات e نے استفسار فرمایا بھلا وہاں جاہلیت کے میلوں میں سے کوئی میلہ لگتا تھا؟ اس نے عرض کی کہ نہیں۔ حبیبِ کبریا e نے فرمایا پھر تجھے نذر پوری کرنا چاہیے۔ اس نذر کو پورا نہ کیا جائے جس میں اللہ کی نافرمانی ہو اور نہ اسے جس کو انسان پورا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔‘‘

عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ قَالَ نَذَرَ رَجُلٌ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللہِeأَنْ یَنْحَرَ إِبِلاً بِبُوَانَۃَ فَأَتَی النَّبِیَّe فَقَالَ إِنِّیْ نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلاً بِبُوَانَۃَفَقَالَ النَّبِیُّ ھَلْ کَانَ فِیہَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاھِلِیَّۃِ یُعْبَدُ قَالُوْا لاَ قَالَ ھَلْ کَانَ فِیہَا عِیدٌ مِنْ أَعْیَادِھِمْ قَالُوْا لا قَالَ رَسُوْلُ اللہِe أَوْفِ بِنَذْرِکَ فَإِنَّہُ لاَ وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ وَلاَ فِیمَا لاَ یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ)) [ابوداؤد:کتاب الایمان والنذور]

’سیدنا ثابت بن ضحاکt بیان کرتے ہیں رسولِ معظم eکے زمانہ میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ ’’بوانہ‘‘ مقام پر اونٹ ذبح کرے گا۔ سرورِ دو عالمe نے اس سے دریافت فرمایا کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی پوجا کی جاتی رہی ہو؟ اس نے نفی میں جواب دیا۔ سرورِ کائنات e نے استفسار فرمایا بھلا وہاں جاہلیت کے میلوں میں سے کوئی میلہ لگتا تھا؟ اس نے عرض کی کہ نہیں۔ حبیبِ کبریا e نے فرمایا پھر تجھے نذر پوری کرنا چاہیے۔ اس نذر کو پورا نہ کیا جائے جس میں اللہ کی نافرمانی ہو اور نہ اسے جس کو انسان پورا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔‘‘

۔۔۔

 

 

 

Read 625 times
Rate this item
(0 votes)
میاں محمد جمیل

Latest from میاں محمد جمیل

Related items