Print this page

قیام امن کا واحد ذریعہ...حدود اللہ کا نفاذ

Written by بنتِ بشیر 18 Apr,2021

 

رب العزت نے بنی نوع انساں  کی تخلیق فرمائی اور اس کی رہنمائی کے لیے اپنا دستور  آسمانی کتابوں اور صحیفوں کی صورت میں نازل فرمایا. اور انسانوں کی زندگیوں کو سنوارنے کے لیے انھیں  میں سے پیغمبر بھیج کر حجت تمام کر دی. دنیا میں اگر کوئی صانع کچھ ایجاد کرتا ہے جیسا کہ آج کا دور مشینی دور کہلاتا ہے اور ہر قسم کی مشینری ہم استعمال کرتے ہیں.. جب کوئی مشین خریدتے ہیں اس کے ساتھ ہمیں ایک کتابچہ(Booklet) ملتا ہے جس پہ ہدایات  (Instruction) ہوتی ہیں کہ اس مشین کو کیسے استعمال کرنا ہے اور ہم اس کی پیروی کرتے ہیں تاکہ کوئی خرابی پیدا نہ ہو. کائنات کا سب سے بڑا صانع اورکاریگر جس نے ہماری تخلیق کی تو ہمیں جو ہدایات صادر فرمائیں وہ قرآن حکیم کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہیں.آج اگر ہم پریشانیوں سے دو چار ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دستور اور قانون رحمت سے بغاوت کی ہے. ہماری حکومتوں نے حدود اللہ کو وحشیانہ نظام تک کہہ کر رب العزت کے اس دستور کی بے حرمتی کی ہے. جس کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں..اخلاقی قدروں کا جنازہ نکل چکا ہے۔ ننھے پھولوں اور کلیوں کو درندگی کا نشانہ بنانا روز کا معمول بن چکا ہے۔ ہماری اسی اخلاقی پستی کا تذکرہ بشیر بدر نے یوں کیا ہے:-

گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے

بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا

ان درندہ صفت، وحشیوں کا جو حد آدمیت پھلانگ چکے ہیں، کا واحد علاج حدود اللہ کا عملی نفاذ ہے۔

 آئیے!!! قرآن مجید اور فرمان نبوی کی روشنی میں ان فرمودات عالیہ کو دیکھتے ہیں کہ وہ کون سا نظام ہے جس نے برسوں سے جہالت میں لتھڑے معاشرے کو پر امن، با حیا اور اخلاقی قدروں کی پاسداری سکھادی. رب العزت کا فرمان ہے:

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ يُّقَتَّلُوْۤا اَوْ يُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَيْدِيْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ١ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌۙ۰۰۳۳

جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وه قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے۔(المائدۃ:33)

یہ حل  ہمارے خالق نے بتایا ہے معاشرے سے فساد کی بیخ کنی کے لیے. آئیے ایک اور مقام ملاحظہ فرمائیے :

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلٰى ١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِيَ لَهٗ مِنْ اَخِيْهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآءٌ اِلَيْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِيْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۰۰۱۷۸

اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد آزاد کے بدلے، غلام غلام کے بدلے، عورت عورت کے بدلے۔ ہاں جس کسی کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے اسے بھلائی کی اتباع کرنی چاہیے اور آسانی کے ساتھ دیت ادا کرنی چاہیے۔ تمہارے رب کی طرف سے یہ تخفیف اور رحمت ہے اس کے بعد بھی جو سرکشی کرے اسے درد ناک عذاب ہوگا۔(البقرة:١٧٨)

دوسرے مقام پر فرمایا:

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ يَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَـًٔا١ۚ وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَـًٔا فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ يَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِّيْثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ١ٞ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيْمًا حَكِيْمًا۰۰۹۲

کسی مومن کو دوسرے مومن کا قتل کر دینا زیبا نہیں مگر غلطی سے ہو جائے (تو اور بات ہے)، جو شخص کسی مسلمان کو بلا قصد مار ڈالے، اس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور مقتول کے عزیزوں کو خون بہا پہنچانا ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وه لوگ بطور صدقہ معاف کر دیں اور اگر مقتول تمہاری دشمن قوم کا ہو اور ہو وه مسلمان، تو صرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرنی لازمی ہے۔ اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہد و پیماں ہے تو خون بہا لازم ہے، جو اس کے کنبے والوں کو پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا بھی (ضروری ہے)، پس جو نہ پائے اس کے ذمے دو مہینے کے لگاتار روزے ہیں، اللہ تعالیٰ سے بخشوانے کے لئےاور اللہ تعالیٰ بخوبی جاننے والا اور حکمت والاہے۔(النساء:٩٢)

یہ قانون امت مسلمہ کو اس کے خالق نے دیا اور ساتھ اس کی اہمیت یہ کہہ کر واضح فرمادی:

وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيٰوةٌ يّٰۤاُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۰۰۱۷۹

عقلمندو! قصاص میں تمہارے لئے زندگی ہے اس باعث تم (قتل ناحق سے) رکو گے۔(البقرة:١٧٩)

اس کے علاوہ آج ہمارا معاشرہ ایک عام فرد سے لے کر حکومتی نمائندوں اور اہل اقتدار تک سب کے سب چور بنے ہوئے ہیں.ان کا علا ج بھی قران نے بتایا ہے: وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَيْدِيَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ١ؕوَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۰۰۳۸

چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھ کاٹ دیا کرو۔ یہ بدلہ ہے اس کا جو انہوں نے کیا۔ عذاب، اللہ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ قوت وحکمت والا ہے۔(المائدة:٣٨)

اور جب اس کو نافذ کرنے کی باری آئی تو نبی رحمت ﷺنے اعلان فرمایا: لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا

اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو وہ بھی اس سزا سے مبرا نہیں ہے۔ (صحیح البخاری : 3475 )

آج ہر طرف اخلاقی قدروں کا انحطاط ہے۔ شرم و حیا سے عاری افراد معصوم اور بے گناہ لوگوں کی عزتوں سے کھیل رہے ہیں اور دوسری طرف لوگ ماڈرن ازم اور اہل یورپ کی نقالی میں فحاشی و بدکاری کے فروغ  کے لیےنت نئے حربے آزما رہے ہیں ان کی درستگی کا طریقہ قران نے یوں بیان کیا:

اَلزَّانِيَةُ وَ الزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآىِٕفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۲

زناکار عورت و مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔ ان پر اللہ کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوئے تمہیں ہرگز ترس نہ کھانا چاہیئے، اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو۔ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہیئے۔(النور:٢)

اس کے علاوہ اگر شادی شدہ افراد معاشرے میں اسی بے راہروی اور گناہ کے مرتکب ہوں تو ان کو رسول اللہ ﷺنے اپنے عہد میں رجم کی سزا دی۔ ماعز اسلمی اور غامدی عورت کا واقعہ اس بات کا گواہ ہے کہ حکمرانوں کو قیام امن کے لیے اس حد کو بروئے کار لانا ہو گا، اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺکا فرمان  صحیح مسلم میں موجود ہے۔

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ كُرِبَ لِذَلِكَ، وَتَرَبَّدَ لَهُ وَجْهُهُ قَالَ: فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ، فَلُقِيَ كَذَلِكَ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَ: «خُذُوا عَنِّي، فَقَدْ جَعَلَ اللهُ لَهُنَّ سَبِيلًا، الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ، وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ، الثَّيِّبُ جَلْدُ مِائَةٍ، ثُمَّ رَجْمٌ بِالْحِجَارَةِ، وَالْبِكْرُ جَلْدُ مِائَةٍ، ثُمَّ نَفْيُ سَنَةٍ»

‏‏‏‏ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ پر جب وحی اترتی تو آپ ﷺکو سختی معلوم ہوتی۔ اور چہرہ مبارک پر مٹی کا رنگ آ جاتا۔ ایک دن آپ ﷺپر وحی اتری آپ ﷺکو ایسی سختی معلوم ہوئی جب وحی موقوف ہو گئی تو آپ ﷺنے فرمایا: ”سیکھ لو مجھ سے، اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لیے راستہ کر دیا اگر «ثيب» «ثيب» (شادي شده) سے زنا کرے اور «بكر» (كنواره) «بكر» سے تو «ثيب» کو سو کوڑے لگا کر سنگسار کریں گے۔ اور «بكر» کو سو کوڑے لگا کر وطن سے باہر کر دیں گے ایک سال تک۔‘‘(صحیح مسلم:1690)

 اور فرمایا: وَالَّذٰنِ يَاْتِيٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَاَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِيْمًا۰۰۱۶

تم میں سے جو دو افراد ایسا کام کر لیں انہیں ایذا دو اگر وه توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے منہ پھیر لو، بے شک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔(النساء:١٦)

اس کے علاوہ اگر کوئی دين اسلام سے پھر جائے تو اس کی سزا بھی اسلام نے مقرر فرمائی:

وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَاُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۰۰۲۱۷

اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پلٹ جائیں اور اسی کفر کی حالت میں مریں، ان کے اعمال دنیوی اور اخروی سب غارت ہوجائیں گے۔ یہ لوگ جہنمی ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں ہی رہیں گے۔(البقرة:٢١٧)

اور مرتد کی سزا کے بارے میں نبی کریمﷺنے ارشاد فرمایا :

 کہ جس نے اپنا دین بدل ڈالا اسے قتل کر ڈالو۔[صحیح بخاری:جلد سوم]

ہمارے معاشرے میں تباہی کا ایک اور سبب جھوٹی تہمت ہے۔محض گمان کی بنیاد پر دوسروں کے کردار کی دھجیاں بکھیر دی جاتی ہیں۔ اس جرم کے ذریعے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنانے والوں کو قرآن نے یوں سیدھا کرنے کا حکم دیا۔

وَ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ۰۰۴ اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۰۰۵(النور:4)

اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں اور چار گواہ نہ لا سکیں تو ان کو اسی (80) کوڑے مارو۔ اور آئندہ کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ اور یہ لوگ خود بدکار ہیں مگر جنہوں نے ایسا لگانے کے بعد توبہ کی اور اپنی حالت درست کر لی تو اللہ بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔

قارئینِ کرام!!

معاشرے کا ایک بہت بڑا ناسور اور امن کی راہ میں حائل رکاوٹ عاملوں،  جادوگروں، جعلی پیروں کا صفایا اور اسلام کے مطابق ان کو اگر قرار واقعی سزا دی جائے تو نہ صرف یہ قیام امن کے لیے ضروری ہے بلکہ لوگوں کے ایمان، عزتیں اورمال محفوظ ہونے کے ساتھ ایک کثیر تعداد کے گھر بھی اجڑنے سے بچ جائیں گے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ اس کے بارے میں اسلامی تعلیمات کیا کہتی ہیں:-

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

ہلاک و برباد کرنے والی (ان) چیزوں سے بچو، اللہ کے ساتھ شرک کرنے سے اور جادو (کرنے اور کرانے) سے۔(صحیح بخاری)

 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاموقف تھا کہ جادوگر کو قتل کردیا جائے،چنانچہ سیدناعمر رضی اللہ عنہ  نے اپنی شہادت سےایک سال قبل سرکاری فرمان جاری کیا تھا جس کے الفاظ یہ ہیں۔ راوی کہتا ہے ۔’’سیدناعمررضی اللہ عنہ کی  وفات سے ایک سال قبل ان کا خط ہمیں موصول ہوا۔ انہوں نے فرمایا، ہر جادوگر مرد اور عورت کو قتل کردو، چنانچہ ہم نےتین جادوگر عورتوں کو قتل کیا۔ (مسند امام احمد ،ص:۱۹۰،ج۱)

آج سے کچھ سال پہلے ایک انٹر نیشنل رپورٹ میں جرائم کی شرح کا تجزیہ کیا گیا اور وہ تجزیہ ماہ نامہ الاخوہ کے صفحات پر شائع ہوا تھا،اس میں اس بات کا اظہار کیا گیا تھا کہ جرائم کی شرح سب سے کم سعودی عرب میں  ہے کیونکہ وہاں شرعی حدود کا نفاذ ہے اور سب سے زیادہ شرح ان ممالک کی تھی جو مادر پدر آزاد معاشرے پر یقین رکھتے ہیں اور وہاں اخلاقی قدروں کا قحط  ہے۔

اے ارباب اقتدار اور عوام الناس!!! انسانیت کے لیے سکون کا حل وہی ہے جو خالق کائنات نے اتارا ہے..آج ہم تباہی کے دھانے پر کھڑے ہیں. ہماری نسلیں بربادی اور اخلاقی سطحیت کی ڈگر پر چل رہی ہیں. حدود اللہ کے نفاذ میں تاخیر اور رب تعالی کی نازل کردہ حدود کا مذاق کہیں ہمیں عذاب سے دو چار نہ کر دے اگر آپ بقا چاہتے ہیں تو حدود اللہ کا نفاذ کر دکھلائیے اور اس کے ثمرات بہت جلد ملنا شروع ہو جائیں گے..

 ان شاء الله. وما توفيقي إلا بالله

 

Read 34 times
Rate this item
(0 votes)

Related items