قرادادِ پاکستان کے وقت مسلمانوں کے خواب ………… اور موجودہ پاکستان
موجودہ حالات میں اخبارات و رسائل کے مطالعہ کے بعد روزانہ ایک ہی سوال ذہن میں خلش بن کر ابھرتا ہے کہ آخر یہ صورتحال کب تک رہے گی؟ چوری، قتل و غارت گری، مذہبی و لسانی فسادات،گرتی ہوئی اخلاقی کیفیت،معشیت کی زبوں حالی، نوجوان نسل کا تباہ کن مستقبل، ہر ادارہ زوال پذیرہے، مذہبی آزادی ہے نہ شخصی آزادی الغرض عوام الناس میں سے ہر کوئی پریشانی اور الجھنوں کا شکار نظر آتاہے۔ آزادئ پاکستان کا دن بہت ہی شاندار طریقہ سے منایا جاتا ہے جبکہ امن و امان کی حقیقی صورتحال کچھ اس طرح ہے کہ مسجد و محراب میں درس و تدریس کے لئے جانے والا ہو یا روزگار کے لئے صبح گھر سے نکلنے والا مزدور، تجارت کے شعبے سے منسلک تاجر و دوکاندار ہو یا قوم کی مسیحائی کرنے والا ڈاکٹر،کالج یا اسکول کا طالب علم ہو یا ملازمت پیشہ افراد کوئی بھی طبقہ جرائم پیشہ عناصر کی نظر سے بچ نہیں سکتا۔ ایسی صورت حال میں قرادادِ پاکستان مناتے ہوئے ہر پاکستانی کے دل میں ایک بات ضرور آتی ہوگی کہ: قائد اعظم نے قرادادِ پاکستان کے وقت کیا کہا تھا: آل اِنڈیا مسلم لیگ نے اپنا سالانہ اجتماع منٹو پارک لاہور میں 22 تا 24 مارچ 1940ء کو منعقد کیا ۔ پہلے دن قائد اعظم محمد علی جناح نے خطاب کرتے ہوئے کہا :’’ہندوستان کا مسئلہ راہ و رسم کا مقامی معاملہ نہیں بلکہ صاف صاف ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور اس کے ساتھ اسی طرز سے سلوک کرنا لازم ہے ۔

مسلمانوں اور ہندوؤں میں اختلافات اتنے شدید اور تلخ ہیں کہ ان دونوں کو ایک مرکزی حکومت کے تحت اکٹھے کرنا بہت بڑے خطرے کا حامل ہے ۔ ہندو اور مسلمان واضح طور پر علیحدہ قومیں ہیں اسلئے ایک ہی راستہ ہے کہ انہیں اپنی علیحدہ علیحدہ ریاستیں بنانے دی جائیں ۔ کسی بھی تصریح کے مطابق مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگ اپنے عقیدہ اور فہم کے مطابق جس طریقے سے ہم بہترین سمجھیں بھرپور طریقے سے روحانی ، ثقافتی ، معاشی ، معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے ترقی کریں یہ ترقی اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ آج ملک کے ہر کونے میں لاشیں اٹھانے والے کندھے تھک گئے ہیں، خون کی ندیوں سے سرزمینِ پاک لہو لہان ہے، راہ گیر سے لیکر دوکاندار تک حتیٰ کہ بسوں میں سفر کرنے والے مسافر بھی رہزنوں سے نہیں بچ سکتے۔ اس سے امن و امان کی ترقی کا نتیجہ سامنے آتا ہے۔ لسانی و مذہبی منافرت و عصبیت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ پاکستان بالخصوص کراچی کی تاریخ سرخ قلم سے لکھی جارہی ہے۔ اس سے ہمیں باہمی اتفاق و اتحاد کی روح جھلکتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ سیاسی آزادی و ترقی اس قدر عروج پر ہے کہ دوکانداروں سے سیاسی جماعتوں کے لئے باقاعدہ ماہانہ خرچہ لیا جاتا ہے، تعلیمی اداروں میں سیاسی جماعت میں شامل ہوکر طالب علم ہر وہ کام کرسکتا ہے جو عام حالات میں نہیں کرسکتا، ہر محکمے میں ملازمت کے لئے بھی سیاسی وابستگی ضروری ہوجاتی ہے ورنہ نوکری سے ہاتھ بھی دھونا پڑھ جاتا ہے۔ اور یہی سیاسی جماعتیں ضرورت پیش آنے پر عسکری ونگ کا استعمال کرکے دوسری سیاسی جماعت کے افراد کو ’’شہید ‘‘ کرنے کا ٹارگٹ بھی پورا کرتی ہیں۔ پولیس کا ادنیٰ سپاہی ہو یا اعلیٰ عدلیہ کے ارکان انصاف کی فراہمی کے لئے مٹھیاں گرم کئے بغیر عدل و انصاف کا دروازہ نہیں کھولتے اور انصاف کی ندیا ں اسی طرف ہی بہتی ہیں جس طرف سے خدمت زیادہ کی جائے۔ چاہے جائز کام ہی کیوں نہ ہو مگر چائے پانی کے بغیر ان ’’بے چارے فقیروں‘‘ سے اٹھا بھی نہیں جاتا ۔ اس سے عدل و انصاف کی ترقی کی اعلیٰ مثال واضح ہوتی ہے۔ دیانتداری و امانت داری میں بھی قائد اعظم کے پاکستانی کسی سے کم نہیں ! ارضِ پاک کے حکمرانوں کی تاریخ میں شاید ہی کوئی حاکم ایسا آیا ہو جس نے حکومتی خزانے کی پاسداری کے دوران مکمل دیانتداری و امانت داری کا ثبوت دیا ہو۔ ورنہ ہر حاکمِ وقت یہ سمجھتا رہا کہ یہ خزانہ صرف میرا ہے، لہٰذا اس سوچ کے تحت وہ خزانہ جلد از جلد اپنی مدت حکومت میں بیرونِ ملک منتقل کرنے کے مشن پر عمل کرتا رہا، اس کا اثر وزیروں ،مشیروں اور افسروں پر پڑا ، چنانچہ وہ سب بھی اپنی اپنی بساط کے مطابق’’کمانے‘‘میں مگن نظر آتے ہیں۔ امانت داری و دیانت کے اس عملی نمونے کی بدولت کئی ادارے کھوکھلاپن اور دیوالیہ پن کا شکار ہوگئے۔ مذہبی و معاشرتی ترقی اس عروج پر پہنچ چکی ہے کہ آج معاشرہ ’’مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے‘‘ کا مصداق بن چکا ہے۔ دینی تعلیم کا حصول ایک عیب بنتا جارہا ہے، دینی رجحانات کا حامل شخص معاشرے کا ’’مُلّا‘‘ کہلایا جاتا ہے تاکہ وہ اس سے عار محسوس کرتے ہوئے اپنے دائرے سے نکلنے کی کوشش کرے۔ عورتیں مغربی طور و طریقہ اپنا کر اپنے ’’مذہب ‘‘ کی وضاحت کرتی ہیں اور ان کے اہل خانہ اسے فیشن کانام دیکر اپنے دیوثی ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ حالانکہ انہی کے آباؤ و اجدادنے اس قراداد کی روشنی میں اپنا تن من دھن سب کچھ لٹاکر اپنے مذہبی تشخص کو قائم کرنے کے لئے ہر قسم کی مصیبتیں جھیلیں، صعوبتیں اٹھائیں، قتل ہوئے اور انہی کی مائیں تھیں جن کی عصمت دری صرف اس بنیاد پر کی گئی کہ یہ اپنی مذہبی ترقی کی خواہش رکھتی ہیں۔ معاشرتی ترقی میں بھی ہم کسی سے کم نہیں ہیں ۔چرس، افیم، اور ہیروئین پینا کوئی معیوب بات نہیں رہی لہٰذا یومیہ ہزاروں نوجوان اس دلدل میں پھنستے جارہے ہیں اور یوں معاشرہ کا قیمتی سرمایہ عروج سے قبل ہی زوال پذیر ہورہاہے،والدین اور بزرگوں کی خدمت اولاد کو مشکل محسوس ہوتی ہے ، چنانچہ اسی مشکل کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض فلاحی اداروں نے ’’اولڈ ہاوس‘‘ بنالئے ہیں تاکہ معاشرہ اپنی ’’ترقی کی جانب گامزن ‘‘رہے۔ قائد صاحب! ہم نے معاشی ترقی بھی خوب کی ہے، آج ۶۵ سال بعد بھی ہمارا بچہ بچہ مقروض ہے، مہنگائی، غربت، افلاس پاکستانیوں کا مقدر نظر آتا ہے ۔معاشی بدحالی کا الزام ہر حکومت اپنے سے سابقہ حکومت کو مورودِ الزام ٹھہراتی ہے۔ اور یوں غریب کا چولہا آہستہ آہستہ بجھتا جارہا ہے، اسی وجہ سے کئی غریب اپنی زندگی کادیا بھی خود اپنے ہاتھ سے بجھا دیتے ہیں۔ اور رہی ثقافتی آزادی ! تو جنابِ قائد کے فرمان کے عین مطابق ہماری ثقافت، کلچر ہمیں تاریخی و نصابی کتابوں میں ضرور نظر آتی ہے، مگر رہن سہن، طور طریقے میں ثقافت کی جھلک نظر نہیں آتی، قومی زبان کے ساتھ وہ کھیل کھیلا جارہا ہے جس سے عنقریب وہ ایک ایسی ’’تیسری‘‘ زبان کہلانے کےلائق ہوجائے گی، جس میں کافی مقدار میں انگریزی اور کچھ حد تک اردو کی آمیزیش ہوگی۔ کیونکہ اس وقت بھی اگر کوئی خالص اردو میں بات کرے تو اسے وہ پاکستانی جن کی قومی زبان ہی اردو ہے، اس شخص کو دقیانوسیت کی صف میں کھڑا کردیتے ہیں اور جب کوئی شخص مکس اردو میں بات کرے بلکہ اس میں کچھ زیادہ مغربی ثقافت کی جھلک دکھائے تو اسے حقیقی ماڈرن پاکستانی تصور کیا جاتا ہے اور لباس، وضع قطع میں بھی کچھ ایسی کیفیت نظر آتی ہے ۔ قارئین کرام ! آپ بخوبی جانتے ہیں کہ 1941میں قرادادِ پاکستان کے وقت مسلمانوں کی خوشی کی انتہا نہ رہی تھی، اور ہر مسلمان ایک ایسی سرزمین کا خواب دیکھ رہا تھا جس میں سبھی اخوت و باہمی ہمدردی سے سرشار ہونگے، غربت مٹ جائے گی، رزق و نعمتوں کی فراوانی ہوگی۔ مگر 2012 میں یہی سرزمین ہے کہ بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے، مساجد قتل گاہوں کا منظر پیش کر رہی ہیں، باہمی پیار و محبت نفرت و دشمنی کی فضا میں بدل گئی ہے، تعلیم ایک تجارت کی شکل میں فروخت ہوتی ہے، امیر و غریب میں اتنا فرق پیدا ہوگیا ہے کہ امراء کے کتوں کا علاج تو یورپ میں ہوتا ہے مگر غریبوں کے بچے علاج کے لئے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرجاتے ہیں۔ ایک طرف حکمران عیاشی کی زندگی بسر کر رہے ہیں تو دوسری طرف غریب فاقوں سے مر رہے ہیں۔ امراء کے بچے تو بیرونی ممالک میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں مگر غریبوں کے بچے فٹ پاتھوں پر اخبار بیچتے نظر آتے ہیں۔ اب یہ پاکستان امیروں کا پاکستان بن چکا ہے یہاں حکمرانوں کے گھوڑے سیبوں پر پلتے ہیں مگر غریبوں کے بچے بھوک سے بلک بلک کر مرتے ہیں۔ شہداء کی مقدس روحیں، مملکت کے دردمند شہری اور معاشرے کے حساس افراد یہی سوال کرتے ہیں کہ

کیا اس لئے تقدیر نے چنوائے تھے

تنکے کہ بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے