میرا مکمل نام محمد حسین بن محمد بن حسن ،کنیت ابو عبدالمجیدہے،میری جائے ولادت بلتستان کے علاقے خپلو کے نواح میں دریائے شیوک کے کنارے واقع گاؤں ’’ سلینگ‘‘ ہے جہاں میں نے 1961ء کو ایک نوربخشی گھرانے میں آنکھ کھولی۔میرے والدین نوربخشی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں فرقہ نوربخشی صرف بلتستان میں پایا جاتاہے، یہ سید امیر کبیر علی ہمدانی رحمہ اللہ کے ایک شاگرد سید نور محمد نور بخش کےپیروکار ہیں،اس وجہ سے ان کی طرف نسبت سے ’’نوربخشی‘‘ کہلائے جاتے ہیں۔

ابتدائی تعلیم :

اس زمانے میں بلتستان تعلیم کے حوالے سےنہایت پسماندہ علاقہ سمجھاجاتھا ،آمد ورفت اورتعلیم کے وسائل نہ ہونے کے برابر تھے،آج کے دور میں جو سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے وہ اس دور میں مہینوں ،دنوں میں طے ہوتاتھا،نہایت دشوار گزار پہاڑی راستوں سے کبھی پیدل کبھی سواری کے میسر آنے پر سفر کرکے پنڈی اور پاکستان کے مختلف علاقوں کےلیے سفر ہوتاتھا،اس دور میں پاکستان سے اس علاقے کی دوری اور دشوارگزار سفر کی وجہ سے بلتستان آنے والا کہتاہے کہ’’ میں پاکستان سے آیا ہوں‘‘۔ میں بھی علم کے حصول کےلیے میں اپنے ماموں جان فضیلۃ الشیخ مولانا بشیرالدین بن غلام رسول حفظہ اللہ(فاضل جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ) کے ہمراہ انھی دشوار گزار راستوں سے ہوتا ہوا سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرتاہوا اپنے وطن سے دورپنجاب آیا ،میرے ماموں جان پہلے سے پنجاب (مدرسہ دارالعلوم تقویۃ الاسلام اوڈانوالہ ضلع فیصل آباد)میں زیرتعلیم تھےوہیں سے1966ء میں سند فراغت حاصل کی،انھوں نے مدرسہ میں تعلیم کی بدولت اپنے مذہب نوربخشی کو خیرباد کہا ، مجھے مدرسہ دارالعلوم تقویۃ الاسلام اوڈانوالہ ضلع فیصل آباد میں تعلیم کے لیے داخل کرایا، یہ 1971ء کی بات ہے ۔ اسی مدرسہ میں لکھنا پڑھنا سیکھا اور یہیں اپنی جملہ تعلیم ابتدا سے انتہا تک مکمل کی۔

محترم قاری عبدالحکیم بنگالی حفظہ اللہ نے دست تربیت میں لیا،مکمل ناظرہ قرآن اور تقریباً سوا پارہ انھی کے پاس حفظ کیا۔1971ء-1972ء میں فضیلۃ الشیخ عبدالمجید فردوسی حفظہ اللہ نےابتدائی تعلیم اور خط نویسی کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی اسکول کی پانچویں کلاس تک کی کتابیں بھی انھوں نے پڑھائیں۔

اساتذہ کرام نے مجھے حفظ کی ترغیب دی لیکن مجھے اپنی قوم کی اصلاح عقیدہ کی فکر نے درس نظامی کی طرف راغب کیا۔

پہلےکچی کلاس میں داخلہ ہوا ،اس کلاس میں میرے استاد مولانا شمس الدین یا شمس الحق بنگالی تھے،پہلی کلاس فضیلۃ الشیخ عبدالحفیظ نیازی رحمہ اللہ(م2006ء) دوسری کلاس مولانا عبداللہ کشمیری ابوالعجائب رحمہ اللہ سے پڑھی۔تیسری کلاس میں مولانا عبدالمجید فرودسی سے ترجمہ قرآن ،مشکوٰۃ حصہ اول اور چوتھی کلاس میں مولانا خلیل احمد سنانوی رحمہ اللہ سے سنن نسائی مشکوٰۃ حصہ دوم پڑھی۔مجھے، شاہ محمد شگری اورعظیم کشمیری کو صحیح ابن خزیمہ مولانا خلیل احمدسنانوی مرحوم رات دو بجے پڑھایا کرتے تھے۔

پانچویں کلاس میں فضیلۃ الشیخ عبدالصمدرؤف رحمہ اللہ(م2005ء) سے صحیح مسلم،سنن ابن ماجہ، متنبی وغیرہ پڑھی۔

چھٹی کلاس میں شیخ الحدیث مولانا محمد یعقوب ملہوی a(م1981ء) سے صحیح بخاری،سنن ابی داؤد اور جامع البیان وغیرہ پڑھی۔

مولانا محمد یعقوب ملہوی رحمہ اللہ کے صاحبزادہ شیخ الحدیث مولانا حافظ محمد امین یعقوب حفظہ اللہ سے بھی پڑھنے کا موقع ملا،وہ اس طرح کہ جب مولانا یعقوب ملہوی رحمہ اللہ بیماری کی وجہ سے تدریس سے معذور ہوتے تو حافظ محمد امین صاحب ان کی جگہ سبق لیتے یوں ان سے بھی استفادے کی صورت میسر آگئی۔ الحمدللہ علی ذلک

اوڈانوالہ مدرسہ میں مجھ سے سینئر ساتھی محترم الشیخ رمضان سلفی حفظہ اللہ(سابق شیخ الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ المعروف جامعہ رحمانیہ) سے کافی استفادے کا موقع میسرآیا ،ان سے ہدایۃ النحو،کافیہ اور قرآن کریم کےآخری پندرہ پاروں کی ترکیب پڑھی۔

1979ء میں یہیں سے سند فراغت حاصل کی۔ میرے ساتھیوں میں حافظ امیر الہٰی(لیہ) حافظ بلال(قصور)،صوفی نذیر(مریدکے)،احمد یار (جھوک دادو) شامل ہیں۔

اوڈانوالہ سے فراغت کے بعدایک سال دارالعلوم بلتستان غواڑی میں مزید تعلیم حاصل کی، یہاں میرے اساتذہ میں مفتی بلتستان مولانا عبدالقادریوگوی رحمہ اللہ(م1983ء) مولانا عبدالوہاب حنیف رحمہ اللہ(م2002ء) وغیرہ شامل ہیں۔

یہاں میرے ساتھیوں میں الشیخ عبدالسلام ظفر رحمہ اللہ(م2010)،الشیخ یوسف نورجامی حفظہ اللہ،الشیخ جابر عزیز شامل ہیں۔

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ جانے سے قبل کچھ عرصہ مکتب الدعوۃ لاہور میں کام کرنے کا موقع ملا۔

1981ء میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ ہوا یہاں ثانویہ میں ایک سال اور اس کے بعد کلیہ حدیث میں چار سال تعلیم حاصل کی یہاں میرے اساتذہ میں الشیخ عمر فلاتہ رحمہ اللہ،الشیخ عبدالصمد الکاتب رحمہ اللہ، الشیخ محمد بن مطر الزھرانی رحمہ اللہ،الشیخ علی سلطان حکمی رحمہ اللہ،الشیخ عبدالعزیز آل عبداللطیف رحمہ اللہ،الشیخ محمد بن ربیع المدخلی حفظہ اللہ،الشیخ سعد ندیٰ رحمہ اللہ(مصر)،الشیخ عبدالرحمن بن ابوبکر جابر الجزائری ،شیخ عمر حویہ شنقیطی ،شیخ عبدالفتاح سلامہ،شیخ عبدالفتاح عشماوی وغیرہ شامل ہیں۔

میرے ساتھیوں ميں الشیخ عباس اختر رحمہ اللہ(م2010ء)، الشیخ عابد بن عبدالمجیدحفظہ اللہ(مدرس جامعہ سلفیہ فیصل آباد)،الشیخ مفتی محمدادریس سلفی حفظہ اللہ(مدرس ،مفتی جامعہ سلفیہ فیصل آباد) الشیخ رمضان اثری (فیصل آباد)الشیخ غلام محمدبٹ حفظہ اللہ (سری نگر،مقبوضہ کشمیر)الشیخ الدکتور مصلح حارثی حفظہ اللہ (سعودی عرب)، الشیخ الدکتور الامین الصادق،(سوڈان)،الشیخ مبار ک الہاجری ،الشیخ حامد العلی(کویت)شیخ عبدالشکور کاظم،الشیخ شیر زادہ وزیر محمد(دیر،سوات)اور عصر حاضر میں حدیث کے امام علامہ ناصرالدیں الالبانی رحمہ اللہ کے بیٹے الشیخ محمد وغیرہ شامل ہیں۔

1986ء میں جامعہ اسلامیہ سے فراغت کے بعد معالی الشیخ صالح بن عبدالرحمن الحصین رحمہ اللہ (رئیس شئون الحرمین الشریفین)کےحکم پر جامعہ ابی بکرالاسلامیہ گلشن اقبال کراچی میں میری تقرری ہوئی ،اس وقت یہاں مؤسس الجامعہ فضیلۃ الاستاذالشیخ ظفراللہ رحمہ اللہ کی سرپرستی میں الشیخ حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ،الشیخ حافظ محمد شریف حفظہ اللہ ،الشیخ حافظ عبدالغفارالمدنی حفظہ اللہ،الشیخ ڈاکٹر عبدالجوادمصری دیگر اساطین علم تدریسی فرائض سرانجام دے رہے تھے،ان اصحاب علم وفضل کے سایہ عاطفت میں تدریسی خدمات کا آغاز کیا۔تدریس کے ساتھ ساتھ جامعہ میں دیگر تربیتی امور میں ذمہ داریاں بھی نبھائیں ،کچھ عرصہ مدیر تعلیم کے منصب پر بھی رہا۔

جامعہ ابی بکر میں تدریسی خدمات کے علاوہ دیگر دینی اداروں میں بھی تدریس کا موقع ملا،فضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصر الرحمانی حفظہ اللہ نے جب المعہدالسلفی کا آغازابتدا میں جامع مسجد صراط مستقیم (تین ہٹی) میں کیا تو مجھے تدریس کے ساتھ وہاں ادارے میں شیخ صاحب نے مدیر تعلیم مقرر کیا۔شیخ افضل اثری حفظہ اللہ نے مجھے جامعہ احسان الاسلامیہ منظور کالونی میں اعزازی استاذ مقرر کیا،شیخ افضل اثری حفظہ اللہ کے بنات کے ادارے میں بھی تدریس کی۔جامعہ دارالحدیث رحمانیہ میں بھی کچھ عرصہ تدریس کی۔

جامعہ الدراسات الاسلامیہ میں بھی کچھ عرصہ تدریس کا موقع ملا۔

تنظیمی سرگرمیاں:

کراچی آمد کے بعد جامعہ ابی بکر کی وجہ سے یہاں کے کبار مشائخ وعلما سے تعارف ہوا محدث دیار سندھ حضرۃ الوالدعلامہ ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ نے خصوصی شفقتوں سے نوازا،یہ ان کا مجھ پر اعتماد تھا کہ انھوں نےمجھے اپنے نظم ’’جمعیت اہل حدیث سندھ‘‘ کی جانب سے کراچی شہر کا امیر مقرر کیا۔جمعیت اہل حدیث سندھ کی سالانہ مرکزی کانفرنس میں ہر سال مدعو کیاجاتااور اظہار خیال کا موقع بھی ملتا جوکہ تاحال جاری ہے۔

کراچی میں موجود جماعت اہل حدیث کی مختلف تنظیموں سے اچھے روابط رہے اور اب بھی ہیں، ان کے ذمہ داران نے بہت ہی عزتوں سے نوازا ،یہ ان کی ذرہ نوازی ہے ۔جزاھم اللہ خیرا

کئی سال قبل کراچی کی سطح پر علمائے کرام پر مشتمل ایک افتاء کمیٹی بنام ’’ لجنۃ الافتاء السلفیہ‘‘ کا قیام عمل میں آیا ،جس کی رکنیت میں مجھے بھی شامل کیاگیا۔

1991ء میں کراچی یونی ورسٹی سے ایم اے کیا ۔کراچی میں تبلیغی جماعت اہل حدیث کا سلسلہ شروع ہوا جو بعد میں حافظ محمد یحیٰ عزیز میر محمدی رحمہ اللہ کے تبلیغی نظم ’’ادارۃ الاصلاح پاکستان‘ ‘ میں ضم ہوگیا،اس نظم کی طرف سے مجھے صوبہ سندھ کا امیر مقرر کیاگیا۔

کراچی کی مختلف مساجد میں امامت وخطابت کی ذمہ داری نبھائی ہے ،شروع میں جامع مسجد نورالعلم(جہاں آج کل فضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصرالرحمانی حفظہ اللہ کا دارہ ’’المعھدالسلفی للتعلیم والتربية‘‘قائم ہے)میں رہا ،اس کےبعد ائیرپورٹ کے سامنے والے علاقے گرین ٹاؤن کی جامع مسجد محمدی میں 2004ء تک رہا،وہاں سےجامع مسجد رحمانیہ نیازمنزل ناتھ ناظم آباد منتقل ہوگیا جہاں 2004ء سے اب تک مسجد سے منسلک ہوں۔کچھ عرصہ چھبا گلی جوڑیا بازار کی مسجد میں بھی رہا۔

تصنیفی خدمات:

تصنیف کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے ،ایک آدھ مضمون کا ترجمہ کیاتھا ،اپنے تدریس کی تیاری کے حوالے سے کچھ مواد کاپیوں میں جمع کیاتھا جوکہ کافی ساری تعداد میں غیر مرتب ہیں ۔مختلف کتابوں پر تقاریظ لکھی ہیں ،جن میں فضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصر الرحمانی حفظہ اللہ کی وقیع کتاب ’’ توحید الہٰ العالمین‘‘( جو کہ تیسیرالعزیزالحمید شرح کتاب التوحید کا اردو ترجمہ ہے)بھی شامل ہے۔

تلامذہ:

جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں ذریعہ تعلیم عربی زبان ہے اس لیے 11/9کے المناک حادثے سے قبل یہاں تقریباً 45 ممالک کے طلبہ زیرتعلیم تھے اس حساب سے مجھے سے مستفید ہونے والے ملکی وغیر ملکی طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ہے تاہم کچھ چیدہ چیدہ طلبہ کےنام ذکر کیے دیتاہوں :شیخ ضیاءالرحمن بن شیخ ظفراللہ (مدیرجامعہ )،شیخ رضوان عبدالغنی(ملائشیا)اور ان کے پانچ بھائی،شیخ معاویہ جلو ، ان کے بھائی یوسف جلو(ٹوگو،افریقہ)،شیخ یاقوت عبداللہ (یوگنڈا،افریقہ)شیخ ہدایت اللہ مدقق(افغانستان)،شیخ ابراہیم طارق،ڈاکٹر عبدالحئی مدنی،ڈاکٹرطاہر آصف،شیخ شاہد نجیب،شیخ یحیٰ حفیظی(افغانستان)،شیخ خالد حسین گورایا،شیخ حمزہ حسین (یوگنڈا)اور ان کے پانچوں بھائی، مشہور معبر الشیخ عبدالقدوس بن یوسف،شیخ صاحب النصری(تھائی لینڈ)،شیخ ابوبکر (نائجیریا)،ڈاکٹر مسعوداحمد سندھی ،ڈاکٹر فرازالحق نجم الحق مدنی،شیخ محمدعبدالرحمن (صومالیہ)،شیخ عبیدالرحمن رشیداحمدخان، ڈاکٹر مقبول احمد مکی، ڈاکٹر افتخار احمد شاہد، ڈاکٹر فیض الابرار صدیقی، ڈاکٹر فضل الرحمن،حافظ عبیداللہ، حافظ عبدالوحید انور، حافظ عبدالستار عاصم، پروفیسر یوسف ضیاء، مولانا عبدالرحمن ثاقب، صلاح الدین سادات وغیرہ شامل ہیں۔ اور بھی بہت سے شاگرد اپنے اپنے ملکوں ،علاقوں میں خدمت دین میں مصروف ہیں۔تقبل اللہ جھودھم

شادی :

اوڈانوالہ سے فراغت کے بعد جامعہ اسلامیہ جانے سے پہلے میری شادی میرے گاؤں میں ہی ہوگئی تھی ،جامعہ اسلامیہ میں پہلا سال گزارنے کے بعد میں نے اپنی گھروالی کو بھی وہیں مدینہ بلالیا تھا چونکہ وہ نوبخشی فرقہ سے تعلق رکھتی تھی ، اس پر دین وعقیدہ کے حوالے سے محنت کی ،اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح عقیدہ کے فہم سے نوازا ،مدینہ آنے سے پہلے میرے بڑےبیٹے عبدالمجید کی ولادت ہوچکی تھی، قیام مدینہ کے دوران دوسرا بیٹا عبدالقیوم پیدا ہوا، کراچی منتقل ہونے کے بعد عبدالرؤف کی ولادت ہوئی ، پھر دو بیٹیوں کی ولادت ہوئی اس کے بعد دو بیٹے ابو بکر اور عبداللہ پیدا ہوئے پھر دو بیٹیاں پیدا ہوائیں۔

میری گھر والی 7ستمبر 2021ء کو بلتستان میں اچانک وفات پاگئی ،جو کہ وہاں اپنے رشتہ داروں سے ملنے گئی ہوئی تھی ، چھوٹا بیٹا عبدالقیوم لینے کےلیے گیا ہواتھا واپسی کےلیے تیاریوں میں تھی کہ پیغام اجل آگیا وہیں اس کے تدفین کے معاملات ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے حوالے کردیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون

میری سب سے چھوٹی بیٹی کے علاوہ سارے بچے شادی شدہ ہیں ۔بڑا بیٹا عبدالمجید اس کومیں نے تعلیم کےلیے اوڈانوالہ بھیجا ،وہاں اس نے اپنی دینی تعلیم مکمل کی ، اس کے بعد جامعہ ابی بکر میں ثانویہ میں دوسال پڑھا اس کے بعد جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے تعلیم حاصل کی آج کل جامعہ ابی بکر میں پڑھارہاہے اور شام میں المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹرمیں خدمات سرانجام دے رہاہے شادی شدہ پانچ بچے ہیں۔

دوسرا بیٹا عبدالقیوم ہے اس نے بھی جامعہ ابی بکر سے تعلیم حاصل کی آج کل اپنا کاروبار کررہاہے،شادی شدہ تین بچے ہیں۔

تیسرا بیٹا عبدالرؤف تھااس نے بھی دینی تعلیم حاصل کررکھی تھی ،شادی شدہ تھا دوبچے ہیں،2015ء میں ایک المناک حادثے میں چل بسا،جعلہ اللہ فی الشہداء۔

چوتھا بیٹا ابوبکر ہے اس نے معہدالقرآن سے حفظ مکمل کیا پھر جامعہ ابی بکر سے ثانویہ اورکلیہ مکمل کیا ،ساتھ ساتھ کراچی یونی ورسٹی اور وفاقی اردو یونی ورسٹی سے بھی اپنے تعلیمی مشاغل جاری رکھے، اس کےبعد اس کا داخلہ جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ میں ہوگیا جہاں اس نے کلیہ شریعہ مکمل کیا ابھی ایم فل کے مرحلہ میں ہے ،یہ بھی شادی شدہ ہے دو بچے ہیں اس وقت بچوں سمیت مکہ مکرمہ میں رہائش پذیر ہے۔

سب سے چھوٹا بیٹا عبداللہ ہے اس نےبھی جامعہ ابی بکر سے ثانویہ اور کلیہ مکمل کیاہے شادی شدہ ہے ،اپنے بھائی عبدالقیوم کے ساتھ کاروبارمیں شریک ہے۔

بیٹیوں نے بھی بحمداللہ دینی ودنیاوی تعلیم مکمل کی ہے،اپنے اپنے گھروں میں آباد ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحومین کی مغفرت فرمائے ، موجودین کی حفاظت فرمائے اور ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے آمین۔

By editor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے