اسم: قدرت اللہ ولد عنایت اللہ ولد عبد الحکیم ولد محمود ہے۔

ولادت : 1969ء یونین کونسل کے ریکارڈ میں یہ سال درج ہے۔

پرائمری تک تعلیم گاؤں کے قریب جاتری کہنہ قصبہ کے مڈل اسکول میں حاصل کی۔

ناظرہ قرآن کریم اپنے چچا مولانا عطاء اللہ صاحب جو کہ گاؤں کی مسجد میں تا وقت کتاب سطور ھذا امام وخطیب ہیں، سے پڑھا اور کچھ سورتیں تیسویں پارے کی ان سے حفظ کیں۔

والد صاحب مرحوم کا پیشہ کھیتی باڑی تھا۔ خاندان کے اکثر لوگ اس سے وابستہ ہیں۔

مڈل تک اسکول کی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول منڈی فاروق آباد ضلع شیخوپورہ میں حاصل کی اور ساتھ ہی دار العلوم رحمانیہ اہلحدیث اڈہ منڈی فاروق آباد میں دورانِ قیام قرآن کریم کے اٹھارہ پارے مختلف اساتذۂ کرام سے حفظ کیئے۔

مڈل کی تعلیم کے امتحان کے بعد چند ماہ میں باقی بارہ پارے دار العلوم محمدیہ اندرون پرانا اڈہ لاریاں شیخوپورہ میں حفظ کیئے۔ اور حافظ محمد یحییٰ عزیز میر محمدی رحمہ اللہ نے مکمل قرآن کا امتحان لیا۔ یہ غالباً 1981ء کی بات ہے۔

اور اس مناسبت سے حضرت قاری عبد الخالق رحمانی رحمہ اللہ آف کراچی نے جمعہ پڑھایا اور موضوع خطبہ’’قرآن کریم کی فضیلت اور اس کے حقوق‘‘ تھا۔

چند باتیں اب بھی ذہن میں ہیں، حضرت قاری عبد الخالق رحمانی رحمہ اللہ کا قرآن پڑھنے کا انداز بڑا انوکھا اور دلنشین تھا۔

پھر جمعہ کے بعد تقسیم اسناد اور انعامات حضرت علامہ محمد عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ کے دست مبارک سے حفظ مکمل کرنے والے طلباء میں تقسیم کیئے گئے، اور مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ نے قرآن کریم کی کتابت، جمع وتدوین پر مفصل درس دیا تھا۔

اسی اثناء میں دار العلوم محمدیہ شیخوپورہ میں منزل کی پختگی کی نیت سے مزید قیام کیا اور گورنمنٹ جامع ہائی اسکول شیخوپورہ میں آرٹس کے ساتھ میٹرک کیا۔

اور امتحان دینے کے بعد واپس اپنے گاؤں آگیا، اب والد صاحب مرحوم کسی بڑے دینی مدرسہ میں بھیجنا چاہتے تھے اور مختلف علماء جو علاقے میں تھے ان سے مشاورت بھی جاری تھی۔

جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں داخلہ:

بالآخر اللہ تعالیٰ نے جامعہ ابی بکر اسلامیہ میں داخلے کے اسباب پیدا کیئے، اور میاں چنوں کے قریب سولہ چک ضلع ساہیوال کے ایک عالم دین اور صالح بزرگ صوفی محمد صاحب رحمہ اللہ کی وساطت سے ان کے بیٹے حبیب الرحمن صاحب کی رفاقت میں بذریعہ ٹرین کراچی پہنچے اور جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں پہلی مرتبہ حاضری کا موقعہ ملا۔یہ 1984ء کی بات ہے، جامعہ میں غیر ملکی طلباء کرام کی اکثریت تھی اور شروع سے ہی اس جامعہ میں ذریعہ تعلیم عربی ہے جو کہ ایک اعزاز ہے۔ان ایام میں فضیلۃ الشیخ عطاء اللہ ساجد صاحب حفظہ اللہ مدیر الامتحانات تھے ۔

اس وقت مرکز اللغۃ العربیۃ کا شعبہ نہیں تھا لہذا ’’معہد اللغۃ العربیۃ‘‘ کے پہلے سال میں داخلہ لیا اور رہائش کا انتظام ہوگیا۔

معہد اللغہ کے اس وقت مدیر فضیلۃ الشیخ خلیل الرحمن لکھوی حفظہ اللہ تھے۔ معہد کے پہلے سال میں حضرت قاری ادریس صاحب حفظہ اللہ(بھائی پھیرو ضلع قصور) سے قرآن کریم کے کچھ پاروں کا اردو میں ترجمہ پڑھا، اور الشیخ شبیر احمد نورانی صاحب سے صرف اور نحو کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ کافی بڑی کلاس تھی، مگر آہستہ آہستہ کم ہوتی گئی۔

مولانا عبد الرحمن صاحب وارڈن تھے ، ڈاکٹر عبد اللطیف مرحوم کم وبیش پچاس سال کے بزرگ کلیۃ الحدیث میں زیر تعلیم تھے۔ ماحول بہت اچھا تھا مگر ابتداء میں غیر نصابی سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی البتہ ساتھیوں کو دیکھ کر محنت کا شوق ہوا اور تمام سالوں میں امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔

جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں تعلیم کی غرض سے قیام فروری 1992ء تک رہا، اس دوران درج ذیل اساتذہ کرام سے استفادہ کا موقعہ ملا، درساً بھی اور عمومی طور پر بھی۔

الشیخ شبیر احمد نورانی صاحب ، آجکل ریاض کے قریب دوادمی میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

الشیخ قاری محمد ادریس صاحب آف بھائی پھیرو(حالیہ پھولنگر)

فضیلۃ الشیخ عطاءاللہ ساجد صاحب سے شرح ابن عقیل درساً پڑھی، کچھ مباحث نہ پڑھ سکے، اور ان سے بخاری شریف کے کچھ ابواب بھی پڑھے۔

فضیلۃ الشیخ خلیل الرحمن لکھوی صاحب سے تفسیر جلالین کا کچھ حصہ اور دیگر اسباق بھی پڑھے۔

فضیلۃ الشیخ الحافظ عبد الغفار المدنی صاحب سے باقاعدہ درسی کوئی کتاب نہیں پڑھی۔

فضیلۃ الشیخ یحییٰ عزیز مرحوم سے ادب کی کتاب ’’العبرات‘‘ کا کچھ حصہ پڑھا۔

فضیلۃ الشیخ حسین مصری صاحب سے پہلے سال میں عربی زبان کی کتاب (نام یاد نہیں)پڑھی۔

فضیلۃ الشیخ نور البصیر برمی صاحب سے حفظ وتجوید کا سبق پڑھا۔

اسی طرح فضیلۃ الشیخ ولایت برمی صاحب سے بھی غالباً نحو کے کچھ اسباق پڑھے۔

فضیلۃ الشیخ عبد اللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ سے باقاعدہ کوئی سبق نہیں پڑھا۔البتہ کلاس خالی ہوتی تو کبھی تشریف لے آتے اور قیمتی نصیحت سے نوازتے اور جب تک الشیخ عبد اللہ ناصر صاحب کورٹ روڈ میں جمعہ پڑھاتے رہے کوشش ہوتی کہ جمعہ وہاں پڑھا جائے۔

فضیلۃ الشیخ الحافظ محمد شریف صاحب حفظہ اللہ سے تفسیر فتح القدیر للشوکانی کا کچھ حصہ باقاعدہ پڑھا اور کچھ ابواب سنن أبی داود کے اور کچھ دیگر کتب بھی پڑھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پڑھنے کا شوق، لائبریری میں مطالعہ، کتاب سے محبت اور اپنے وقت کو نظم وضبط کے ساتھ گزارنے کا جذبہ اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بعد الشیخ شریف صاحب سے سیکھا، چائے والا تھرمس ساتھ لائبریری میں لے آتے اور رات دیر تک مطالعہ میں مشغول رہتے اور شہد کی مکھیوں کی طرح طلبہ ان کے پاس بیٹھے راہنمائی لیتے رہتے اور فتح الباری کا مطالعہ کرتے رہتے۔

فضیلۃ الشیخ الحافظ مسعود عالم حفظہ اللہ سے عقیدہ طحاویہ کا کچھ حصہ اور تیسیر العزیز الحمید شرح کتاب التوحید کے کچھ مباحث اور بخاری شریف کا ابتدائی حصہ اور اسی طرح علم حدیث اور علم فقہ میں تفریق کے اسباب، ہر فن کے ماہرین اور ان کے مناہج اور صحیح بخاری میں امام بخاری رحمہ اللہ کی شرائط حدیث اور محدثین کا منہج پر دروس اب بھی تحریریں موجود ہیں۔ اور خصوصاً حضرت الشیخ سے فقہ الخلاف اور علماء کا احترام اور کتب فقہ المقارن کی مراجعت اور دلائل کا استحضار اور ترجیح بین المسائل الخلافیہ بناءً علی الأدلۃ میں فضیلۃ الشیخ کا انداز بڑأ ہی مؤثر ہے۔ وسعتِ علمی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انہیں وسعتِ ظرفی بھی عطا فرمائی ہے اور الشیخ علم نافع اور عمل صالح کی عظیم خوبی سے متصف ہیں۔ الشیخ یحفظہ اللہ قد جمع بین الحدیث والفقہ، ان سطور میں تمام خوبیوں کا ذکر مشکل ہے۔ اور الشیخ حفظہ اللہ سے بخاری کی کتاب بدء الوحی اور کتاب الإیمان کے منتخب أبواب پڑھے۔

فضیلۃ الشیخ ابو عبد المجید حفظہ اللہ سے مختلف سبق پڑھے، الشیخ حفظہ اللہ کی عربی زبان بڑی پختہ ہے، اللہ یفتح علیک/ فتح اللہ علیک جیسے دعائیہ کلمات طالب علم سے خوش ہوکر فرماتے۔

فضیلۃ الشیخ محمد یعقوب طاہر مرحوم ، الشیخ رحمہ اللہ مدینہ یونیورسٹی سے ماجستیر(ایم فل) مکمل کرنے کے بعد جامعہ میں تشریف لائے، آیات الاحکام کی تفسیر سورۃ النور سے لے کر آخری پاروں کی ایسی آیات اُن سے پڑھیں، عربی زبان وادب سے گہری دلچسپی رکھتے تھے، اور روانی کے ساتھ فصیح عربی بولتے تھے۔ اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں درجات بلند فرمائے۔آمین

فضیلۃ الشیخ دکتور عبد الجواد خلف عبد الجواد مصری تھے،کلیۃ الحدیث کے عمید تھے، باقاعدہ کوئی سبق اُن سے نہیں پڑھا۔

الشیخ ابو عمر محمد ھادی (شامی) صاحب سے بھی کتاب التوحید کی کچھ مباحث پڑھی تھیں۔

الشیخ المقری قاری محمد علی صاحب بورے والا سے تعلق تھا، کچھ حفظ وتجوید کے اسباق اُن سے بھی پڑھے تھے۔

الشیخ قاری فضل الرحمن مرحوم (کشمیری) والشیخ المقری قاری سلیمان رسولپوری صاحب ، الشیخ المقری القاری سیف اللہ صاحب شعبہ حفظ میں استاد تھے۔

شعبہ اسکول سر بشیر مرحوم صاحب، سر نجیب صاحب کے سپرد تھا۔

جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں دوران قیام دروس کی صورت چند کبار علماء سے استفادہ کا موقعہ ملا، ان میں الشیخ حافظ عبد اللہ بڈھیمالوی رحمہ اللہ ایک بار رمضان میں کورٹ روڈ میں تفسیر القرآن کا دورہ (آیات الاحکام) انہوں نے پڑھایا تھا، چند دن ان کے دروس میں شریک ہونے کا موقعہ ملا۔

اسی طرح العلامہ شیخ العرب والعجم بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ کئی بار جامعہ میں تشریف لائے اور طلباء کو قیمتی نصیحتوں سے نوازتے رہے، اسی طرح ایک بار علامہ محب اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ نےکورٹ روڈ میں جمعہ پڑھایا، وہاں ان کی زیارت ہوئی تھی۔

اسی طرح بقیۃ السلف حافظ محمد یحییٰ عزیز میری محمدی رحمہ اللہ نے جامعہ میں کئی ماہ تک قیام کیا۔ قرآن مجید کی اپنی پیاری آواز میں ریکارڈنگ اور اس کا مختصر ترجمہ بھی کیا، ان کی خدمت،وعظ ونصیحت سننے کا موقع ملا۔ دورانِ قیام فجر کی امامت ان کے سپرد تھی۔

دیگر اساتذہ کرام میں فضیلۃ الشیخ بشیر احمد صلاد صاحب صومال سے تعلق تھا بغداد یونیورسٹی سے تاریخ میں ماجستیر کیا تھا۔ مذاہب فکریہ معاصرہ اور شرح ابن عقیل کے کچھ اسباق اُن سے پڑھے، انتہائی شریف،ملنسار نیک انسان تھے۔

فضیلۃ الشیخ موسی موسوک یوگنڈا سے تعلق تھا، تفسیر القرآن (سورۃ الانعام والاعراف) کی کچھ آیات الاحکام ان سے پڑھی۔ ان کے چھوٹے بھائی سلیمان کسولی ہمارے ہم سبق تھے، آج کل سنا ہے کہ وہ بریطانیہ میں ہیں۔

فضیلۃ الشیخ وسیم عثمان صاحب آف کراچی ، مدینہ یونیورسٹی میں کلیۃ الحدیث سے فارغ التحصیل تھے۔ السنۃ ومکانتہا فی التشریع الإسلامی اور تخریج الحدیث کا سبق ان سے پڑھتے رہے، جو کہ نامکمل رہا، بعد میں انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے شاید پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور شاید قطر کے سفارے سے وابستہ ہوگئے تھے۔

فضیلۃ الشیخ محمد الفاتح حفظہ اللہ غالباً عراقی تھے ، انتہائی قابل استاذ تھے، شاید ادب عربی کا سبق معہد کے تیسرے سال میں ان سے پڑھا تھا مگر افسوس کہ ’’اخوانی فکر‘‘ سے وابستگی کا الزام لگا کرجامعہ میں ان کی خدمات سے معذرت کر لی گئی۔

فضیلۃ الشیخ محمد حسان فلسطینی تھے، کلیۃ الحدیث میں کتب الرجال، وکتب السنۃ کا مضمون پڑھاتے تھے مگر چھوٹی کلاسوں میں ہونے کی وجہ سے ان سے باقاعدہ کوئی سبق نہیں پڑھا۔

جامعہ میں باقاعدہ تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم پرائیویٹ طور پر بھی جاری رکھی۔ بعض مصلحتوں کی وجہ سے کراچی بورڈ سے دوبارہ میٹرک کا امتحان پاس کیا اور بی اے تک پرائیویٹ تعلیم بھی حاصل کی۔

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر نصیر اختر صاحب حفظہ اللہ سے کتاب التوحید کے کچھ اسباق اور ’’عمدۃ الفقہ‘‘ کا کچھ حصہ اور ’’علم وراثت‘‘ کا کچھ حصہ ان سے پڑھا۔ حضرت الشیخ جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ الریاض (سعودی عرب) فرع القصیم سے فارغ التحصیل ہیں۔کراچی یونیورسٹی سے فقہ میں دکتوراہ کرنے کے بعد اسی یونیورسٹی میں خدمات سرانجام دیتے ہوئے ریٹائرڑ ہوئے آجکل محترم الشیخ لاہور یونیورسٹی میں شعبہ علوم اسلامیہ وعربیہ کے رئیس القسم ہیں۔ وقتاً فوقتاً زیارت کا موقعہ ملتا رہتاہے۔

فضیلۃ الشیخ محمد صاحب عرف مولانا عائش محمد صاحب حفظہ اللہ بھی جامعہ سے وابستہ ہیں۔ فضیلۃ الشیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ صاحب رحمہ اللہ کے خاص ساتھیوں میں سے ہیں۔ صالح، تہجد گزار اور نفلی روزے بکثرت رکھتے ہیں۔ اللہ قبول فرمائے اور صحت وتندرستی والی طویل عمر عطا فرمائے، پرانے بزرگوں کی نشانی ہیں، ان کا توکل اللہ تعالیٰ کی ذات پر لوگوں میں معروف ہے۔ اللہ تعالیٰ مزید توفیق دے۔

محترم فضیلۃ الشیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ صاحب مرحوم ، جو اس عظیم دانش گاہ کے مدیر یعنی منتظم اعلیٰ بلکہ میں انہیں خادم اعلیٰ کہتا ہوں،میں نے ذاتی طور پر انہیں صاف دل، خیر خواہ، نیک، مخلص، بے لوث اور جامعہ کی ترقی میں ہمہ وقت مستعد پایا۔ اگرچہ محترم الشیخ کراچی یونیورسٹی میں پروفیسر تھے، مگر طبیعت انتہائی سادہ تھی بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’جامعہ کے طلباء کا کھانا میرے گھر سے اچھا ہوتاہے‘‘ اور شاید مہینہ میں ایک بار پھل آتاہے اور الشیخ محترم جامعہ کے لیے اپنے آپ کو وقف کیئے ہوئے تھے اور اگر وہ جامعہ سے کھانا،چائے وغیرہ تناول فرمالیتے تو شرعاً کوئی حرج نہیں تھا۔ مگر میں نے کئی بار دیکھا کہ چائے کا تھرمس اپنے گھر سے لے کر تشریف لاتے اور جامعہ سے کھانا یا چائے وغیرہ نہیں لیتے تھے۔ اللہ اکبر ، یہ ان کی دیانتداری تھی اور حضرت صوفی عبد اللہ رحمہ اللہ کی تربیت کا اثر تھا۔ اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ میرے معہد اللغہ کی سند پر ان کے دستخط ہیں، ایک طویل عرصے کے بعد بھی ان کی پُر وقار شخصیت آنکھوں کے سامنے ہے۔ اللہ تعالیٰ غریق رحمت فرمائے۔ ہم انہیں ان کے عظیم عمل کا صلہ تو نہیں دے سکتے البتہ اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ اسے اللہ تو اپنے اس درویش صفت انسان کو آخرت میں راضی کر دے۔ آمین

میرے ہم سبق ساتھیوں میں چند میرے ذہن میں ہیں۔ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کا ماحول ایسے گلدستے کی مانند تھا کہ جس میں مختلف ممالک، متنوع ثقافتوں کے حامل مگر کتاب وسنت کے امین تھے۔ اسی طرح ہماری کلاس میں پاکستان کے علاوہ سری لنکا، تھائی لینڈ، نائیجیریا، یوگنڈا، برما اور دیگر ممالک کے طلباء ہم سبق تھے۔ اللہ کا فضل ہے کہ کلاس کے تقریباً سارے احباب کو اللہ تعالیٰ نے اپنےگھر(بیت اللہ) کی زیارت نصیب فرمائی۔ الحمد للہ علی ذلک

محمد علیم صاحب کوہاٹ کے ضلع سے تعلق ہے، انتہائی ذہین،فاضل، مخلص ساتھی ہیں، ہمیشہ کلاس میں اول رہے۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد کچھ عرصہ مدینہ شریف کے قریب’’محطہ جابری‘‘ پہ رہے۔ آجکل ’’معہد الشریعۃ والصناعۃ‘‘ ضلع مظفر گڑھ میں منتظم اعلیٰ اور دیگر ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ساتھیوں میں حافظ محمود الحسن، حافظ عبد الوحید، ضیاء اللہ، محمد ابراہیم طارق، ڈاکٹر مقبول احمد صاحب، چوہدری یعقوب صاحب، محمد الیاس مہر، مشتاق صاحب، امجد ودیگر تھے، کچھ احباب کو اللہ تعالیٰ نے سعودی عرب مختلف جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کا موقعہ بھی دیا۔

دوران تعلیم شدید خواہش تھی کہ اللہ تعالیٰ مدینہ یونیورسٹی یا جامعہ ام القری میں مزید حصول علم کا موقعہ عطا فرمادے، اس لیے کوشش اور دعا جاری رہی۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا تو مجھے بھی جامعہ ام القری مکہ مکرمہ میں داخلہ مل گیا۔ میں اور حافظ عبد الوحید صاحب آف راجہ جنگ، ہم اکٹھے کراچی سے بذریعہ ہوائی جہاد 16 فروری 1992ء،8 شعبان 1412ھ روانہ ہوئے، جانے سے کچھ ماہ قبل کچھ اچھے خوابوں میں مسلسل بشارت ملی، خواب کی تعبیر حضرت الشیخ مسعود عالم صاحب حفظہ اللہ سے دریافت کی، تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مکہ یونیورسٹی میں داخلہ عطا فرمائے گا۔ الحمد للہ پھر وہاں دکتوراہ تک رہا اور 2012ء کے آغاز میں واپس آگیا۔

سعودیہ سے واپس آنے کے بعد تقریباً ڈیڑھ سال ایک دینی ادارے میں رہا اور باقاعدگی سے اپنے گاؤں میں جمعہ اور صبح فجر کے بعد درسِ قرآن وحدیث کا آغاز کیا۔

2014ء ستمبر کے مہینے میں انجینرنگ یونیورسٹی لاہور میں شعبہ علوم اسلامیہ میں بطور استاد تقرری ہوئی جو اب تک جاری ہے۔ یونیورسٹی کی مرکزی مسجد (جس کی خطابت حضرت سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ کی ذمہ داری تھی) اس میں مہینہ میں ایک جمعہ بھی پڑھا رہا ہوں۔ اس شعبہ میں علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی تک تعلیم کا انتظام ہے۔ الحمد للہ دکتوراہ سنه منهجية میں حدیث واصول حدیث کا سبق بھی ذمے ہے۔ اسی طرح دکتوراہ کے رسائل علمیہ کا اشراف بھی ہے اور دیگر بھی علمی وانتظامی ذمہ داریاں یونیورسٹی کی طرف سے ہیں۔ اللہ کی توفیق سے یہ تمام ذمہ داریاں نباہ رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دینی تعلیم کی اساس اور دینی تربیت اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بعد والدین کی دعائیں، اساتذہ کرام کی شفقت ومحنت اور جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کا ماحول تھا۔ جس میں ہمیں کچھ حاصل کرنے کا موقعہ ملا اور وہ دور (1984ءتا 1992ء) جامعہ کے عروج وترقی کا دور تھا بلکہ موسم بہار تھی۔ اللہ تعالیٰ اس عظیم دینی مرکز کو تاقیامت قائم ودائم رکھے۔ دنیا والوں کے لیے منارۂ نور اور راہنمائی کا ذریعہ بنارہے۔ جامعہ کے جملہ معاونین،اساتذۂ کرام، اس سے عقیدت رکھنے والوں کو اللہ تعالیٰ دنیا میں شاد رکھے اور آخرت میں اپنی رضا سے ہمکنار فرمائے۔ آمین

جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں گزرے ہوئے ایام بڑے یاد آتے ہیں۔ وہ خوبصورت یادیں اب بھی آنکھوں کے سامنےہیں۔

چند تجاویز:

ہم اس وقت پُر فتن دور سے گزر رہے ہیں اور ہم پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان ایام اور آنے والے وقت میں دینی اور عصری تعلیم وتربیت انتہائی ضروری ہے۔ مشکل وقت میں عالم ربانی کا کردار ادا کرنے کے لیے اس وقت کے بڑے بڑے فتنوں سے آگاہی اور ان کا توڑ انتہائی ضروری ہے۔ دین اسلام کے خلاف مختلف محاذ کھولے جاچکے ہیں۔ لادینیت،الحاد،دینی اصولوں کے بارے شکوک وشبہات،فتنہ انکار سنت، روشن خیالی، آزادی کے نام پر دین کے خلاف بغاوت، قادیانیت، رافضیت،تقریب بین الأدیان کے نام پر کھچڑی، مادہ پرستی، اسلامی تعلیم کے تنگ عقل کے ماتحت، من مانی تفسیر وتشریح ودیگر بہت سارے فتنے موجود ہیں۔ ان کا مقابلہ شرعی علوم اور خصوصاً قرآن وسنت کے فنون میںپختگی، عملی رسوخ، دینی تربیت، علماء راسخین سے مسلسل ربط وتعلق، جماعتی وابستگی، مسلک اہل حدیث کے خلاف اٹھنے والے اعتراضات کا مکمل جواب علماء اہل حدیث کی پختہ تحریری کاوشوں کی روشنی میں دینا ضروری ہے لہذا وقت کے تقاضوں کے مطابق مدارس کے مناہج میں نظر ثانی اور نئے مضامین شامل کرنا ضروری ہے۔

قومی سطح پر اسلام کی درست نشرواشاعت کے لیے سرکاری محکمہ تعلیم میں نمائندگی انتہائی ضروری ہے۔ دینی مدارس کی اہمیت وافادیت مسلّم ہے۔ مگر دیگر ثقافتی اداروںمیں بھی آنا ضروری ہے۔ طلباء میں پڑھنے کا شوق،عمل کا جذبہ، کتاب سے دوستی، اہل علم سے مضبوط تعلق قائم رکھنا ضروری ہے۔والله الهادي والموفق إلى سواء السبيل

By editor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے