جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کے مجموعہ ابناء جامعہ کے باہمی رابطوں کے تسلسل سے گذشتہ سے پیوستہ سال فضیلۃ الشیخ مولانا ضیاء الرحمن مدنی حفظہ اللہ مدیر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کی زیر سرپرستی چھانگا مانگا کے پُرفضا مقام پر منعقد ہوا ۔مدیر الجامعہ نے آئندہ سال یہی اجتماع جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میںمنعقد کرانے کا عندیہ دیا۔چھٹی حس یہ کہہ رہی تھی کہ ایسے عظیم الشان او ر پُر فضا مقام پر منعقد ہ اجتماع کا انعقاد شاید ممکن نہ ہواور اکتوبر کے آخر میں اس کی نوید سنائی گئی۔ہم نے احباب کی معیت میں کراچی کے لئے بذریعہ ریل رخت سفر باندھا۔کئی دوست لگثری بسوں کے ذریعے اور کچھ احباب بذریعہ جہاز کراچی پہنچے لیکن ریل کے سفر سے پرانی یادیں تازہ ہوگئیں ۔جامعہ پہنچے تو ڈاکٹر مقبول احمد مکی حفظہ اللہ اور ڈاکٹر محمد حسین لکھوی حفظہ اللہ نے پُر تپاک استقبال کیا اور ہمارے طالبعلمی دور کے تیس سال پرانے کمروں میں قیام کا بندوبست کیا ۔جو انتہائی نفیس اور خوبصورت مہمان خانے کی طرح نظر آرہے تھے۔جامعہ کے درو دیوار کو دیکھ کر یقین ہی نہیں آرہا تھاکہ آج ہم اسی جامعہ میں پہنچ چکے ہیں۔شام کو کوئٹہ عنابی ہوٹل راشد منہاس روڈ کراچی پر احباب کے ہمراہ چائے پینے گئے ۔صبح جامعہ میں انتہائی پُر تکلف شاہی ناشتہ دیا گیا اور ملتقی الجامعہ کے انتظامات شروع ہو گئے۔میں نے فضیلۃ الشیخ ضیاء الرحمن مدنی حفظہ اللہ مدیر الجامعہ ازراہ مذاح کہا کہ جامعہ کے وسیع پنڈال میں بڑے بڑے عظیم الشان اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔جبکہ ابناء الجامعہ کے اجتماع کو آپ مسجد میں مقید کر رہے ہیں۔تو فرمانے لگے کہ یہ بھی عظیم الشان اجتماع ہو گا۔جب ہم مسجد کے ہال میں پہنچے تو واقعتا بڑی نفاست سے غیر معمولی اہمیت کے حامل بین الاقوامی سطح کے انتظامات کئے گئے تھے اور یہ کوئی عالمی سطح کا کنونشن محسوس ہو رہا تھا۔یہ مدیر الجامعہ اور انکے رفقاء ڈاکٹر مقبول احمد مکی ،ڈاکٹر محمد حسین لکھوی ،الشیخ طاہر باغ،ڈاکٹر افتخار احمد شاہدودیگر احباب کی اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت تھا۔الشیخ محمد طاہر آصف حفظہ اللہ نے اسٹیج کا کنٹرول خوب سنبھالا ۔الشیخ نوید ظفر نے منظوم کلام سنا کر مجمع کو مسحور کردیااور فضیلۃ الشیخ الحافظ مسعود عالم حفظہ اللہ ،الشیخ خلیل الرحمن لکھوی حفظہ اللہ ،الشیخ عمر فاروق سعیدی اور الشیخ عطاء اللہ ساجد حفظہ اللہ نے کمال شفقت سے پند و نصائح فرمائیںجامعہ کی مسجد والا بلاک ایک خوبصورت اضافہ ہے۔تفریح اورریفریشمنٹ کے جملہ انتظامات اعلی سطحی اور شاہانہ تھے۔اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ اللہ رب العزت اس جامعہ کو دن دگنی رات چگنی ترقی عطا فرمائے۔آمین یارب العالمین

By editor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے