سلسلہ تعارف کا آغاز کرنے سے پہلے میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ اور مجلہ اسوۂ حسنہ کی انتظامیہ اور ان کی وقیع دینی خدمات کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ الٰہی میری اس مادر علمی کی تمام حسنات کو دوام بخشے ۔آمین۔

میرا نام شفیق الرحمن فرخ بن ملک بشیر احمد ہے میں ضلع قصور کے مشہور قصبہ چھانگا مانگا کا رہائشی ہوں ۔ویسے یہ جگہ پاکستان کے سب سے بڑے خود کاشت جنگل اور بہترین سیر گاہ کے طور پر مقبول ہے میری ابتدائی تعلیم چھانگا مانگا اور چونیاں کے سکولوں میں ہوئی اور ثانوی درجہ تک عصری تعلیم حاصل کرلینے کے بعد میرے والد گرامی جناب ملک بشیر احمد رحمہ اللہ نے مجھے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں داخل کروادیا ۔دیگر خواہش مند طلبہ کے ساتھ میرا بھی انٹرویو ہوا اور تحریری اور زبانی دونوں امتحانات میں کامیاب قرار دیا گیا ۔

میرٹ لسٹ پر میرا نام بھی آگیا اور اس طرح میں 22 اگست 1981ءکو جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے تعلیمی شعبہ مرکز اللغۃ العربیہ میں داخل ہوگیا۔درحقیقت جامعہ میں داخلے کا دن میری زندگی میں انقلاب کا دن بن گیا۔

ابتداء میں دینی تعلیم کے حصول کا کوئی خاص جذبہ نہ تھا سچی بات تو یہ ہے کہ دل میں چوری تھی کہ چلو کچھ دن کراچی میں گھوم پھر لیتے ہیں اور پھر ابو جان سے کہہ دیں گے کہ دل نہیں لگتا۔

لیکن آج جس درجہ پر اللہ رب العالمین نے فائز کیا ہے میرا دل میرے محسنین اور میرے مربی اساتذہ ٔکرام کیلئے دل سے دعا گو ہے۔

یہ انکی شفقتوں کا ہی نتیجہ ہے کہ جامعہ میں کچھ دن رہ لینے کے بعد فضیلۃ الشیخ خلیل الرحمن لکھوی حفظہ اللہ کی شفقت ، فضیلۃ الشیخ عبدالغفار مدنی حفظہ اللہ تعالیٰ کے انداز دعوت اور فضیلۃ الشیخ عطاء اللہ ساجد حفظہ اللہ کے مخلصانہ جذبات سے واقف ہوئے تو پھر یہیں کے ہورہنے کا سوچ لیا۔اللہ کریم مزید استقامت بخشے اور اپنے دین کا کام ہم گنہگاروں سے بھی زیادہ سے زیادہ لے لے ۔

جامعہ ابی بکر کا انداز تعلیم عام دینی مدارس سے ہٹ کر کالجوں اور یونیورسٹیوں سے ملتا جلتا ہے ۔ایک دور میں فضیلۃ الشیخ چوہدری محمد ظفراللہ رحمہ اللہ کی مدبرانہ ادارت ،مولانا عائش محمد حفظہ اللہ کے انقلاب آفرین بیانات ، فضیلۃ الشیخ عبدالغفار مدنی حفظہ اللہ کے ولولہ انگیز محاضرات ، فضیلۃ الشیخ عبد الجواد خلف عبدالجواد رحمہ اللہ کی شستہ عربی اور اسکی طلباء کے دلوں تک رسائی کا نام جامعہ ابی بکر تھا ۔یہ جامعہ کا امتیاز تھا کہ یہاں دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کی آسائش بھی حاصل تھی۔چنانچہ انٹر کا امتحان تو میں نے پرائیویٹ طور پر ہی دے لیا لیکن گریجویشن کیلئے شام کی کلاسز پڑھنا شروع کردیں ان دنوں تک میں مرکز اللغۃ کے تین سالہ کورس سے فارغ ہوکر کلیۃ الحدیث الشریف کے چار سالہ کورس میں داخلہ لے چکا تھا ۔جب مدیر جامعہ چوہدری محمدظفر اللہ رحمہ اللہ کو میری بی اے کے امتحان میں نمایاں کامیابی کی خبر ملی تو انہوں نے نہ صرف مجھے جامعہ کراچی سے ماسٹرڈگری کرنے کا مشورہ دیا بلکہ شعبہ ابلاغ عامہ کے چیئر مین سے میری سفارش بھی کردی اس طرح میں حسب الحکم شہید اسلام مدیر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ ایم اے ابلاغ عامہ میں کراچی یونیورسٹی کا طالبعلم بن گیا ۔ان دنوں میں جامعہ ابی بکر میں آخری سال کا طالب علم تھا ۔

الحمد للہ ایک اعزاز

1981ء میں جن دنوں میرا داخلہ جامعہ ابی بکر کراچی میں ہوا تھا اس وقت میرے ساتھ کلاس میں چالیس طلباء شریک سفر تھے جن میں اکثریت پاکستانی طلباء کی تھی رفتہ رفتہ کئی غیر ملکی طالبعلم ہمارے ساتھی بنتے گئے اس دور میں جامعہ میں تقریباً چھتیس ممالک کے طلباء زیر تعلیم تھے لیکن 1987 میں جب میں کلیۃ الحدیث سے فراغت پا رہا تھا تب ہم گیا رہ طالبعلم تھے ۔تعجب کی بات یہ رہی کہ جن چالیس کے ساتھ یہ سفر شروع کیا ان میں سے میرے ساتھ ایک بھی نہ رہا البتہ شریک منزل راستے میں ساتھ ملنے والے بن گئے ۔

فاضل عربی کے امتحانات کا تذکرہ اس موقع پر بر محل ہوگا ۔جامعہ میں میرا یہ دوسرا تعلیمی سال تھا جب میں نے دیکھا کہ اس مشکل امتحان میں ہمارے بعض ساتھی شریک ہورہے ہیں میں نے استفسار کیا تو جواب ملا چلو دو تین سال میں تو سند مل جائے گی نا ۔لیکن اپنی تو ہمت ہی نہ پڑی تاوقتیکہ جامعہ میں اب میرا آخری سال تھا ۔میں نے ہمت کرکے داخلہ بھیجا ۔ان دنوں استاد ابو خالد مدنی مشرف داخلی تھے اور مجھے انکے معاون خاص کا درجہ حاصل تھا جس بنا پر امتحان کی تیاری میرے لئے ایک مسئلہ تھا۔انتظامی امور میں ہونے کی وجہ سے ایک خالی کمرہ میرے پاس تھا میں نے فاضل عربی کے طلبہ کو اس میں جمع کیا اور انہیں اس جگہ بیٹھ کر یکسوئی سے تیاری کرنے کا موقع فراہم کیا میرا طریقہ واردات یہ تھا کہ میں اپنے ان ساتھیوں سے اس وقت استفادہ کرلیتا جب وہ صدر میں واقع امتحانی سینٹر کی طرف روانہ ہوتے اور وہاں پہنچنے کیلئے لگ بھگ ایک گھنٹہ درکار ہوتا میں مختلف طلباء کے ساتھ تبادلہ خیال کرتا اور یوں پرچہ کے بارے میں کافی معلومات مل جاتیں ۔ادھر میں نے امتحانات بھی مکمل عربی زبان میں حل کئے اور اردو کو قریب بھی نہیں آنے دیا ۔

اللہ تعالیٰ کا مجھ پر فضل تھا کہ جب اخبار میں رزلٹ شائع ہوا تو شفیق الرحمن فرخ فاضل عربی کے امتحان میں پہلی پوزیشن لئے ہوئے تھا ۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ساتھیوں کی خدمت اور اساتذہ کرام کی فرمانبرداری کا مجھے بہت اچھا صلہ دیا جامعہ کے تمام اساتذہ نے مجھے شفقت بھری مبارکباد پیش کی۔الحمدللہ۔

دینی تعلیم مکمل کرنے سے قبل ہی جامعہ کراچی میں داخلہ لے چکا تھا۔جامعہ سے تو 1987ء میں ہی فارغ ہوگیا مگر جامعہ کراچی کے حالات کی بناء پر 1991ء میں فارغ ہوسکا اس دوران میں جامعہ ابی بکر میں ہی رہائش پذیر رہا یہ میری مادر علمی کا مجھ پر دوہرا احسان تھا ۔

یونیورسٹی میں چونکہ میرا شعبہ ابلاغ کا تھا اور اسکا ایک پرچہ عملی صحافت کا ہونا تھا جس کےلئے مجھے روزنامہ صحافت سے منسلک ہونا تھا اس سلسلہ میں میں روزنامہ انتخاب کراچی میں بطور سب ایڈیٹر منسلک ہوگیا سر شام شروع ہونے والی ڈیوٹی رات دو بجے کاپی پریس میں جانے کے بعد ختم ہوتی تو رات کے دو بجے مجھے جامعہ کا گیٹ کھولنے والا بابا ابراہیم مجھے کبھی نہیں بھولے گا جسکی شفقت نے میری تربیت میں اپنا حصہ لے رکھا ہے لیکن میں صبح اور شام کے بہترین اوقات سے محبت رکھنے والا نہ صرف ان نعمتوں سے محروم ہوا بلکہ میری نماز فجر بھی قربان ہونے لگی جو مجھے صحافت سے دور رکھنے کیلئے کافی ہوا۔اور بفضل اللہ تعالیٰ میں نے دینی تعلیم و تدریس کو اپنا معمول بنا لیا ۔فراغت کے بعد شیخ خلیل الرحمن لکھوی حفظہ اللہ کا مشورہ یہی تھا کہ لاہور میں جامعہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ میں بہت ضرورت ہے وہاں جا کر کام کروں بعد ازاں محسن عظیم شیخ محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ کا بھی یہی مشورہ تھا چنانچہ 11 مئی 1991ء سے میں جامعہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی لاہور پہنچ گیا ۔فضیلۃ الشیخ حفیظ الرحمن لکھوی حفظہ اللہ نے کمال شفقت سے اس بوجھ کو اپنے بیڑے میں شامل کرلیا ۔

خطابت

جامعہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ میں تدریس کے دوران ہی پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات کا امتحان اول درجے میں پاس کیا اور سمن آباد میں مسجد ہدیٰ کے منبر خطابت پر فائز کردیا گیا ۔جہاں میری تعیناتی 2014ء تک رہی۔

بحمد اللہ 2014ء سے ضلع ننکانہ کی تحصیل شاہ کوٹ کی جامع مسجد تقویٰ انار کلی بازار میں خطبۂ جمعہ پیش کرنے کی سعادت حاصل ہے۔ اہل مسجد ما شاء اللہ انتہائی محبت سے پیش آتے ہیں اور خوب محبت اور ضیافت فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزاء خیر عطا فرمائے۔ آمین

عجب چیلنج

میری زندگی کا ایک عجیب چیلنج تب سامنے آیا جب جامعہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ لاہور کے اساتذہ کرام کی ایک میٹنگ کے دوران دعوتی امور پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا حفیظ الرحمن لکھوی حفظہ اللہ نے اس جانب توجہ دلائی کہ انہوں نے کبھی زندگی میں کسی کو صحیح مسلم کا درس دیتے نہیں پایا۔ چنانچہ یہاں اللہ تعالیٰ سے کی توفیق مانگتے ہوئے مسجد ھدیٰ سمن آباد لاہور میں نمازِ فجر کے بعد صحیح مسلم کا درس حدیث شروع کر دیا جو بحمد اللہ چودہ سال میں مرحلۂ تکمیل کو پہنچ گیا۔ وللہ الحمد

اسی طرح اسی مسجد میں درس حدیث کے بعد ترجمہ کلاس بھی چلتی رہی جہاں تقریباً بیس پارے تک پہنچ پائے۔ البتہ چھانگا مانگا مسجد مبارک اہل حدیث میں ہفتہ میں دوبار ترجمہ کلاس شروع کی گئی تو الحمد للہ یہ بھی چودہ سال میں مکمل ہوسکا۔ تکمیل ترجمہ پر شرکاء میں اسناد کی تقسیم بھی کی گئی اور اس سعادت پر خوش ہوکر میرے چھوٹے بھائی حافظ عتیق الرحمن حفظہ اللہ نےمجھے اپنی جیب خاص سے عمرہ کرانے کا تحفہ عنایت کیا۔ جزاہم اللہ خیرا

شادی خانہ آبادی

جولائی 1996ء میں ازدواجی مرحلہ بھی طے ہوگیا اور یہ ابن جامعہ راقم اب تک ابو انس ،ابوابابکر ،ابوحسن اور ابو زبیر بن چکا ہے ۔

فہم قرآن کورسز

بحمد اللہ لاہور میں ریئس جامعہ ابی بکر الاسلامیہ جناب ڈاکٹر راشد رندھاوا رحمہ اللہ نے فہم قرآن کورسز کا آغاز کیا تو یہاں بھی مجھے بعض کلاسز پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی اور ایک عرصہ تک قرآن انسٹی ٹیوٹ کے زیر اثر یہ کلاسز جاری رہیں۔

ریسرچ اسکالر دار السلام

بعد ازاں کچھ عرصہ دینی کتب کی اشاعت کے بین الاقوامی ادارے دارالسلام میں بطورریسرچ اسکالر میری ذمہ داری رہی ۔پھر جب 1424ھ میں جامعہ ابن تیمیہ کے مدیر محترم حفیظ الرحمن لکھوی حفظہ اللہ کی امارت میں ایک میٹنگ میں ادارے کے پلیٹ فارم سےایک علمی دعوتی اور اصلاحی سہ ماہی مجلہ ’’ نداء الجامعہ‘‘ کے اجراء کا فیصلہ کیا گیا تو راقم الحروف کو شعبہ جاتی ضروری تعلیم اور تجربہ کی بنیادپر مجلہ کی ادارت کی ذمہ داری سونپ دی گئی ۔الحمد للہ اس مجلہ کا سفر 17 سال جاری رہا اور بالآخر حالیہ وبا کرونا کی نظر ہوگیا۔اور اب تک اس کا شمارہ نمبر 67 ہی مسک الختام قرار دیا جارہاہے۔

ٹی وی پروگرامز

مختلف ٹی وی پروگرامز میں مدعو کیا جاتاہے، یہ سلسلہ پیغام ٹی وی سے شروع ہوا بعد ازاں دیگر مختلف چینلز سے بعض اوقات کچھ پروگرام ہوتے رہے۔

بِفَضْلِ اللہِ وَمَنِّهِ چند مساجد قائم کیں جن کے اسماء حسب ذیل ہیں :

جامع مسجد حراء چھانگا مانگا

جامع مسجد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ گلزار ٹاؤن چھانگا مانگا

جامع مسجد اہلحدیث واں کھارا ضلع قصور

جامع مسجد بیت المکرم رحمان پورہ چھانگا مانگا

فری آئی کیمپ

اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اور الاحسان آئی ہسپتال لاہور کے تعاون سے چھانگا مانگا اور مضافات کے غریب عوام کے لیے سالانہ فری آئی کیمپ کا انعقاد کیا جاتاہے ، جس میں ہر سال الحمد للہ 500 سے زائد آنکھوں کی OPD›s ہوجاتی ہیں اور ہر سال 50 سے زائد لوگوں کی آنکھوں کے موتیا کے آپریشنز فری کرادیئے جاتے ہیں۔

ایم فل

پروفیسر ڈاکٹر عبد الغفار صاحب ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ، شعبہ اسلامیات اوکاڑہ یونیورسٹی کسی زمانے میں جامعہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی ابتدائی مراحل کی تعلیم میں ہمارے تلمیذ رہ چکے ہیں۔ پھر جب 2017ء میں وہ UMT یونیورسٹی آف منیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی آف لاہور میں شعبہ اسلامیات میں تخصص سیرت النبی ﷺ کی تدریس پر بطور وزٹنگ پروفیسر تعینات تھے تو انہوں نے راقم کو اس یونیورسٹی سے ایم فل کرنے کا پر خلوص مشورہ دیا۔ جسے نہ صرف قبول کر لیا گیا بلکہ الحمد للہ اس یونیورسٹی سے 2017 ۔ 2019 کے سیشن سے بدرجہ امتیاز ایم فل امتحان کو پاس بھی کیا۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ اس سے قبل کراچی یونیورسٹی سے میرا ایم اے ابلاغ عامہ 1990 اور ایم اے اسلامیات از پنجاب یونیورسٹی 1992ء کا ہے اور یہ کوئی پچیس سالہ تعلیمی وقفہ بنتاہے۔

میرے مقالہ کا عنوان ’’رسول اللہ ﷺ کا انداز تکلم۔ دور جدید کے ابلاغیاتی پہلؤوں کے تناظر میں تحقیقی وتجزیاتی جائزہ ‘‘ تھا۔ مقالہ کے سپروائزر محترم پروفیسر ڈاکٹر عبد الرحمن خالد مدنی حفظہ اللہ تھے۔

تجارت

میں الحمد للہ دورِ طالب علمی سے ہی اس بات پر عمل پیرا رہا ہوں کہ کوئی چھوٹا موٹا کاروبار پڑھائی کے ساتھ ہونا چاہیے اس سے بندۂ معاشرتی اور معاشی طور پر قدرے آسودہ رہتاہے۔ میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں دورِ طالب علمی میں چھانگا مانگا سے کراچی میں شہد منگوا کر فروخت کیا کرتا تھا۔ اس کے علاوہ فضیلۃ الشیخ حضرۃ الوالدمولانا خلیل الرحمن لکھوی حفظہ اللہ کی سرپرستی میں کراچی کے مختلف جمعہ بازاروں میں باقاعدہ اسٹال لے کر بھی کام کرتے رہے ہیں۔ یہاں میں نے باقاعدہ شفیق ٹریڈر کے نام سے فرم بھی رجسٹر کرائی تھی۔

بعد ازاں جب حسب الحکم اپنے مربی واستاذ شیخ خلیل الرحمن لکھوی حفظہ اللہ میں نے کراچی میں اپنی جامعہ کی تعلیم اور ایم اے ابلاغ عامہ مکمل کر لیا تو میں جامعہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ لاہور میں فضیلۃ الشیخ وحضرۃ الاستاذ مولانا حفیظ الرحمن لکھوی حفظہ اللہ کے پاس 1990ء میں آگیا تو یہاں بھی میں نے درس وتدریس کے ساتھ ساتھ شہد کی جزوی تجارت جاری رکھی جو کہ بحمد اللہ ہنوز جاری ہے اور اللہ کریم نے اس میں مجھے برکت بھی عطا فرمائی ہے۔

اس کے علاوہ لاہور میں رہتے ہوئے مکتبہ دار السلام میں بطور ریسرچ اسکالر کام کا موقع میسر آیا تو اس کے ساتھ میں نے کچھ اپنی اور کچھ والد محترم جناب ملک بشیر احمد رحمہ اللہ کی کتب طبع کرکے انہیں مارکیٹ میں پیش کیا بحمد اللہ اس کام میں مجھے اللہ تعالیٰ نے اس قدر برکت عطا فرمائی کہ میں نے الحمد للہ لاہور میں ایک چھوٹا سا آشیانہ بھی خرید لیا۔ اللہ کریم نے اس میں بھی مجھے برکات سے نوازا۔

لیدر کرافٹ

انار کلی بازار لاہور میں پی ایچ اے کی شاپس میں میں اور میرے تایازاد بھائی ملک عبد الوحید نے لیدر جیکٹس کا کام کیا اور یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے اس تجارت میں مجھے برکت عطا فرمائی۔ الحمد للہ

تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ مارکیٹ فوڈ اسٹریٹ انار کلی لاہور میں تھی اور ہم نمازِ مغرب کے بعد سے رات دو بجے تک یہ دکان کھولتے اور دن میں میں جامعہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ میں پڑھاتا تھا۔ لیدر کا کارخانہ ملک عبد الوحید صاحب چلاتے تھے اور اس میں دکان کا مال بھی تیار ہوتا اور اسی طرح دکان میں ہم باہم شراکت کے ساتھ تھے بعد ازاں والد رحمہ اللہ نے مجھے میری زیادہ مصروفیت کی وجہ سے یہ کام ترک کرنے کا حکم دیا جو کہ الحمد للہ حسب الحکم والد رحمہ اللہ فوراً ترک کر دیا۔

العتیق ٹریول

انار کلی کا سلسلہ ختم کرکے حسب الحکم والد صاحب رحمہ اللہ میں اپنے چھوٹے بھائی حافظ عتیق الرحمن صاحب حفظہ اللہ کی تجارت ’’العتیق ٹریول اینڈ ٹورز پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور‘‘ میں وقت دینے لگا اور تدریسی خدمات کے ساتھ ساتھ اس کام میں بھائی کی معاونت کرتا رہا نتیجتاً بحمد اللہ ….. …. میں نے اپنی اکلوتی فرمانبردار بیوی کے ساتھ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔

الحمد للہ اہلیہ محترمہ بھی دینی تعلیم سے آراستہ ہیں اور عائلی ذمہ داریوں کے علاوہ گھر میں قائم مدرسہ کلثوم (رحمہا اللہ) للبنات میں خدمات انجام دیتی ہیں۔ ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء

واٹس ایپ گروپ ’’ابناء جامعہ ابی بکر کراچی‘‘ کا آغاز

مجھے بارگاہ صمدی میں یقین ہے کہ یہ پاکیزہ اور مبارک گلدستۂ اَحِبَّاء جس کا نام ’’ابناء جامعہ ابی بکر کراچی‘‘ ہے چونکہ اس گروپ کی تشکیل وتدوین کی سعادت مندی مجھے حاصل ہوئی اس لیے اللہ کریم سے اس بزم دوستاں ومحفل ارجمنداں کی کدوکاوش کا بہترین صلہ ضرور ملے گا۔ إن شاء اللہ

ایک روز میں گھر میں موجود تھا اور اللہ کریم نے دل میں خیال ڈالا کہ کیوں نہ اپنے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کے کلاس فیلوز کا ایک گروپ تشکیل دےدوں تو ان سے ملاقات اور مراسلت آسان رہے گی اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا چاہیے، جیسے ہی میں نے جاوید اکرام،نسیم سحر،حامد اللہ چنگوانی،عباس علی ، علامہ اشفاق الرحمن لکھوی اور بعض دوستوں کو اس میں شامل کیا تو موبائل پر ٹیلی فونک اور وائس میسیجز کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ پھر پھول اکٹھے ہوتے گئے اور گلستان بن گیا۔

دور دراز سے اور لمبے عرصہ کے بعد کئی ایک احباب سے ٹیلی فونک ملاقاتوں سے میرا جوش اور ولولہ میرے چہرہ سے عیاں تھا جس پر میرے اہل خانہ کا تبصرہ تھا کہ کوئی غیر معمولی خوشی ملی ہے جس پر آپ پھولے نہیں سمارہے۔ فی الواقع ایسا ہی تھا کہ چند دنوں میں یوکے سے محترم عبد الستار عاصم بھائی کا فون آیا کہ گروپ میں موجود تمام احباب کو چھانگا مانگا آنے کی دعوت دیں۔ فزیکل انتظام آپ کریں اور مالی معاونت وہ(عاصم بھائی) کریں گے چنانچہ یکم نومبر 2020ء کی تاریخ طے ہوگئی اور اسی طرح اللہ کے لیے محبت کرنے والوں کا پہلا اجتماع چھانگا مانگا جھیل پر ہوا۔ بے مثال ہوا اور احباب نے محبت ووالہیت کے دیدۂ دل فرش راہ کر دیئے، کراچی سے خیبر تک کے احباب جمع ہوئے جن میں مدیر جامعہ فضیلۃ الشیخ ضیاء الرحمن مدنی حفظہ اللہ نے ہمارا بہت مان بڑھایا اور اس طرح یہ کوئی چالیس سالہ قدیم رفاقت بچپن کے بعد تقریباً بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ کے ایک دوسرے کو ایک بار پھر ایک جگہ پر اکٹھے دیکھ اور مل کر خوشی کے آنسو بہاتے اور آنکھیں چار کرتے بہترین دن گزار گئے اس وعدہ پر کہ آئندہ برس یہ اجتماع جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں ہوگا جو کہ بحمد اللہ 31 اکتوبر 2021ء میں بے حد مثالی ہوا جس کی تفصیلات دسمبر 2021ء کے مجلہ اسوۂ حسنہ میں شائع ہوچکی ہیں۔ وباللہ التوفیق

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ زندگی کے سفر میں دین و دنیاکی رفعتیں عطا فرمائے اور محسنین کو جزائے عظیم عطا فرمائے۔

مطبوع کتب

دارالسلام کی بعض معروف کتب میں جہاں تحقیقی کام کرنے کا موقع ملا وہاں تصنیف و تالیف اور ترجمہ کے میدان میں میری یہ کتب زیور طبع سےآراستہ ہوچکی ہیں ۔

علامہ محمد یوسف خان کلکتوی ، از ملک بشیر احمد (والد گرامی)

مسنون انداز سے 24 گھنٹے کیسے گزاریں؟ (والد گرامی)

دعا،دوا اور دم سے نبوی طریقۂ علاج

مسنون روحانی علاج

موت سے قبر تک

آیئے عمرہ کریں

کتاب الجامع من بلوغ المرام

پاکیزہ شہد پاکیزہ زندگی (والد گرامی)

ایک اہم پیغام بنام طالب علم نیک نام

زاد طالب

نماز مسنون اور انتہائی ضروری دعائیں

غیر مطبوع کتب

عجیب وغریب واقعات از ملک بشیر احمد

علم جغرافیہ اور مسلمان علماء کی خدمات

اردو ترجمہ کتاب بین الشیعہ واہل السنہ علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید رحمہ اللہ

عیسائیت کیا ہے ؟

ہمارے ساتھ چلیں (توحیدی مضامین مطبوعہ مجلہ نداء الجامعہ لاہور اردو ترجمہ کتاب ’’ارکب معنا’’ از عریفی )

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ زندگی کے سفر میں دین و دنیاکی رفعتیں عطا فرمائے اور محسنین کو جزائے عظیم عطا فرمائے۔آمین

By editor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے