جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی پاکستان، عَالم اسلام میں بین الاقوامی شہرت کی حامل ایک عظیم یونیورسٹی ہے۔ اس کے مؤسس پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ ہیں۔ انہوں نے اس کی تعمیر وترقی میں جلیل القدر خدمات سرانجام دیں ہیں۔ علم وفضل اور تقویٰ میں بے مثال اساتذہ کرام نے طلبہ کی تعلیم وتربیت کے لیے شب وروز ایک کیا ہواہے اور اس ادارہ سے فیض یافتگان کی خبریں اکناف عالم میں عظیم الشان ہیں اور اس جامعہ کی ضوء فشانی سے ایک جہاں منور ہورہاہے۔

ان کے سامنے میری حیثیت بہت احقر اور ادنیٰ ہے اس فہرست میں میرا شمار سورج کے سامنے چراغ سے بھی کمتر ہے لہذا میں اپنے متعلق تحریر کی ہمت نہیں پا رہا تھا اور نہ ہی میں خود کو اس لائق سمجھتا ہوں لیکن فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر مقبول احمد مکی حفظہ اللہ مدیر مجلہ اسوۂ حسنہ کے اصرار اور تلقین پر سوچا کہ ابنائے جامعہ اور اساتذہ کرام کے تذکرے میں شمولیت کی سعادت سے محروم نہ رہا جائے اور اللہ کا نام لے کر یہ سطور نوک قلم کرنے کی جسارت کی۔

أُحِبُّ الصَّـالِحِينَ وَلَسْتُ مِنْهُمْ
لَعَلَّ اللهَ يَرزُقُنِيْ صَلَاحًا

مجھے نیک لوگوں سے محبت ہے حالانکہ میں ان میں شامل نہیں شاید اللہ تعالیٰ مجھے بھی نیک بنا دے۔

تعارف اور خاندان:

نام محمد یوسف ضیاء اور تاریخ پیدائش یکم اپریل 1967ء ہے والد گرامی کا نام محمد اسماعیل ہے اولکھ جٹ برادری سے تعلق ہے والد گرامی کا پیدائشی ضلع امرتسر ہے ۔ دادا محترم حاجی عالم دین اولکھ تقسیم پاک وہند سے کچھ عرصہ قبل صاد ق آباد منتقل ہوچکے تھے زمیندار تھے اور زندگی بھر کاشت کاری میں مصروف رہے۔ اسی طرح والد گرامی بھی زراعت کے پیشے سے وابستہ رہے۔ آپ باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کر سکے مگر غیر تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود عقیدۂ توحید، تمسک کتاب وسنت اور اہل علم کے ساتھ محبت ان کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ کوئی علمی مجلس ہوتی یا جلسہ ، کوئی کانفرنس ہوتی یا کسی عالم دین کا خطاب ،آپ بڑے شوق سے تشریف لے جاتےاور شرف ملاقات حاصل کرتے۔ جامعہ محمدیہ اہل حدیث خانپور کی سالانہ کانفرنس میں بڑے ذوق سے شرکت فرماتے بلکہ آپ صادق آباد سے طویل سفر کرکے جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن کی سالانہ کانفرنس میں شرکت فرمایا کرتے تھے۔

آپ چونکہ بذاتِ خود باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کرسکے جس کا شدت سے احساس اور ملال تھا۔شاید یہی وجہ تھی کہ آپ کواپنے بیٹوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کا بے حد شوق تھا چنانچہ ہمارے بڑے بھائی بلال احمد حفظہ اللہ دار الحدیث المحمدیہ جلال پور پیر والا اور ان سے چھوٹے بھائی خالد شہزاد حفظہ اللہ کو جامعہ محمدیہ اوکاڑہ بھیجا لیکن بوجوہ وہ اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور تیسرے بھائی محمد یونس اطہر حفظہ اللہ نے الحمد للہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے سند فراغت حاصل کی۔

والد گرامی انتہائی سادہ مخلص،ایماندار،ملنسار،مہمان نواز اورخشیت الٰہی سے لبریز تھے الحمد للہ شب بیدار اور خوب گریہ وزاری کرنے والے تھے۔ دل کے انتہائی نرم تھے۔ ذکر الٰہی ،نبی کریم ﷺ اور صحابہ وصحابیات رضی اللہ عنہم کے تذکرے، عذاب قبر اور جنت وجہنم کے بیان سے ان کے آنکھیں ہمیشہ تر ہوجاتیں۔ اگرچہ آپ طبعاً نرم مزاج تھے مگر حق وباطل اور استقامت کے معاملہ میں آپ کا موقف اور کردار ہمیشہ دوٹوک اور غیرلچکدار ہوتا۔

علامہ اقبال کا یہ شعر آپ کے کردار کی عکاسی کرتاتھا۔

ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

والد محترم کو جلیل القدر اہل علم اور بزرگ اکابرین کی زیارت وملاقات اور ہم نشینی کا شرف حاصل رہا، جن میں سے چند کے اسمائے گرامی حسب ذیل ہیں:

شاعر اسلام مولانا علی محمد صمصام ، مناظر اسلام حافظ عبد القادر روپڑی، مولانا محمد ابراہیم خادم، جامعہ اثریہ جہلم کے مؤسس وبانی مولانا حافظ عبد الغفور جہلمی، میاں باقر رحمہ اللہ ، صوفی عبد اللہ ماموں کانجن والے ، شیخ القرآن مولانا محمد حسین شیخوپوری، مولانا حکیم عبد العزیز السعیدی، شیخ العرب والعجم بدیع الدین شاه الراشدی، خطیب ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر، جامعہ محمدیہ خانپور کے مؤسس قاری عبد الوکیل صدیقی، علامہ حبیب الرحمن یزدانی، مولانا عبد المنان وزیرآبادی، قاری عبد الحفیظ فیصل آبادی اور مناظر اسلام محمد عبد اللہ شیخوپوری وغیرہم رحمهم الله جميعا

اللہ تعالیٰ تمام بزرگوں کی قبروں کو منور اور کشادہ فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین

والد گرامی نے الحمد للہ صحت وعافیت کے ساتھ ایمانداری، دیانتداری، سچائی اور نیک نامی کی صفات عالیہ سے متصف ہوکر صاف ستھری اور سادہ زندگی بسر کی اور تقریباً نوے سال کی عمر پائی اور بالآخر 17 فروری 2019ء بمطابق 12 جمادی الثانی 1440ھ بروز اتوار اس دنیائے فانی سے رخصت ہوئے۔

والدہ محترمہ چک نمبر 157 پی تحصیل صادق آباد کے زمیندار اللہ دتہ رندھاوا کی صاحبزادی تھیں، صوم وصلاۃ اور حجاب کی پابند اور قرآن پاک کی بکثرت تلاوت فرماتی تھیں، خصوصاً رمضان المبارک میں کلام پاک کا 3/1 حصہ تک یومیہ تلاوت کرنا ان کا معمول رہا، اور زندگی بھر بچیوں کو ناظرہ قرآن کی تدریس کرتی رہیں۔ الحمد للہ انتہائی نیک، خوش اخلاق اور مہمان نواز تھیں۔

یار رہے کہ میری والدہ فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق السعیدی اور فضیلۃ الشیخ پروفیسر ابو حمزہ سعید مجتبیٰ السعیدی حفظہ اللہ کی سگی خالہ تھیں۔ شیخین مذکورین کی والدہ محترمہ اور میری والدہ مکرمہ دوہی بہنیں تھیں۔ اس طرح محترم ابو عمار عمر فاروق السعیدی اور جناب ابو حمزہ سعید مجتبیٰ السعیدی میرے خالہ زاد بھائی اور ان کے والد گرامی محترم مولانا حکیم عبد العزیز السعیدی آف منکیرہ میرے حقیقی خالو تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ان بزرگوں کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس عطا کرے اور ہمیں ان کے لیے صدقہ جاریہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

والدہ محترمہ چند دن بیمار رہ کر 15 اگست 2013ء بمطابق 7 شوال 1435ھ بروز جمعرات اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔

 رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا (بنی إسرائیل: 24)

’’ اے میرے پروردگار! میرے والدین پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی۔‘‘

رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيَّ وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ۠ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ

’’ اے ہمار ےپروردگار! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ اور دیگر مومنوں کی بخشش فرما، جس دن حساب ہونے لگے۔‘‘(ابراہیم:41)

رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيَّ (نوح:28)

اے میرے پروردگار! میری اور میرے ماں باپ کی بخشش فرما۔‘‘

ہم کل چار بھائی اور دو بہنیں ہیں۔

سب سے بڑی بہن خاتون خانہ ہیں اور الحمد للہ اپنے گھر میں آباد ہیں۔

پھر بڑے بھائی بلال احمد ہیں یونائیٹڈ شوگر ملز صادق آباد میں پین کیمسٹ کے عہدے پر فائز رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد آج کل آر وائی کے شوگر ملز تحصیل لیاقت پور میں اسی منصب پر ملازمت کررہے ہیں۔ ان سے چھوٹے بھائی خالد شہزاد ہیں اور ٹیکنیکل فیلڈ میں مصروف کار ہوتے ہیں۔

ان کے بعد محمد یونس اطہر ہیں جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے فاضل اور شہادۃ العالمیہ کے حامل ہیں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایم اے اردو ہیں اور گورنمنٹ رفیق ایلمنٹڑی اسکول صادق آباد میں BPS-16 میں عربی ٹیچر ہیں۔ ان کے بعد راقم الحروف ہے اور سب سے چھوٹی ہمشیرہ ہیں اور محکمہ تعلیم میں O.Tکی پوسٹ پر ٹیچر ہیں۔

الحمد للہ تمام بہن بھائی اہلحدیث ہیں، صوم وصلاۃ کے پابند اور حلال وحرام کی تمیز کرنے والے ہیں۔

ابتدائی تعلیم:

والد گرامی چک نمبر 132 پی منٹھار روڈ تحصیل صادق آباد ضلع رحیم یار خاں میں کاشتکار تھے تو میری ولادت بھی اسی گاؤں میں ہوئی۔ اور گورنمنٹ پرائمری اسکول چک نمبر 132 پی سے ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا۔ ماسٹر مشتاق احمد صاحب میرے پہلے استاد تھے، جنہوں نے قلم تھامنا سکھایا، بڑے ہی لائق، محنتی اور شفیق استاد تھے اور مسلکاً اہل حدیث تھے۔ الحمد للہ حیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت اور ایمان والی طویل زندگی دے۔ آمین

1972ء میں اس علاقے میں ایک سیلاب آیا جس نے بڑی تباہی مچائی اور ہمارا گاؤں بھی لپیٹ میں آگیا۔ کچھ گاؤں محفوظ رہے۔ صادق آباد شہر بھی محفوظ رہا تو والد گرامی نے اہل وعیال کو شہر میں اور مال مویشی کو ایک دوسرے گاؤں میں عزیزوں کے ہاں منتقل کیا اور شہر میں پہلے سے خریدے ہوئے پلاٹ پر ہنگامی بنیادوں پر گھر تعمیر کیا۔ اور اس طرح ہماری رہائش گاؤں اور شہر دونوں جگہ پر رہی۔ والد گرامی اور والدہ محترمہ گاؤں میں ہی رہے جبکہ ہم بہن بھائی تعلیم کے سلسلے میں شہر میں رہائش پذیر رہے البتہ ہماری ہفتہ وار اور سالانہ تعطیلات گاؤں میں گزرتیں ۔

سیلاب کے بعد گورنمنٹ رفیق ایلیمنٹری سکول صادق آباد میں کلاس سوم میں داخل ہوا بعد ازاں گورنمنٹ تعمیر ملت ہائی اسکول صادق آباد اور پھر گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول صادق آباد میں زیر تعلیم رہا اور 1982ء میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن بہاول پور سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔

عصری تعلیم

1985 ء میں اعلیٰ ثانوی بورڈ کراچی سے ایف اے کیا ۔

1987 ءمیں کراچی یونیورسٹی سے بی اے کیا ، 1990ءمیں اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پورسے ایم اے اسلامیات کیا اور 1991ء میں اسی یونیورسٹی سے ایم اے عربی کا امتحان پاس کیا اور فرسٹ پوزیشن کا اعزاز حاصل ہوا۔

دینی تعلیم:

ابتدائی عمر میں اپنے گھر کے قریب جامع مسجد رحمانیہ اہلحدیث عزیز آباد صادق آباد میں ناظرہ قرآن قاری محمد اسماعیل صاحب سے پڑھا ان کا تعلق احمد پور شرقیہ سے تھا اور مسجد میں شعبہ حفظ و ناظرہ کی تدریس کے فرائض سر انجام دیتے تھے ۔نماز ودعائیں سیکھیں اور تیسواں پارہ بھی اسی مسجد سے حفظ کیا۔

1982ءمیں میٹرک کے امتحان سے فارغ ہوا تو والد گرامی نے دینی تعلیم کے حصول کیلئے جامعہ محمدیہ خانپور روانہ کیا ۔جناب قاری عبدالوکیل صدیقی صاحب کے ساتھ والد گرامی کا خاص تعلق تھا محترم قاری صاحب والد گرامی کے پاس گاؤں میں بھی تشریف لاتے رہتے قاری صاحب سے ملاقات ہوئی ،تعارف ہوا انہوں نے بہت شفقت فرمائی اور فرمانے لگے کہ بیٹا اب تو سالانہ امتحانات ہونے والے ہیں سلیبس مکمل ہوچکا ہے ۔طلبہ دہرائی کر رہے ہیں تو آپ رمضان کے بعد شوال میں آنا اور نئے سال سے اپنی تعلیم کا آغاز کرنا ۔میں خانپور سے گھر پہنچا۔والد گرامی کو حقیقت حال بتائی اور شوال میں جامعہ محمدیہ خانپور میں داخلے کا پروگرام طے پایا۔

فضیلۃ الشیخ عمر فاروق السعیدی حفظہ اللہ کے ننھیال چونکہ صادق آباد میں ہیں تو میری والدہ محترمہ،والد محترم ،ماموں صاحبان اور دیگر عزیز و اقارب سے ملاقات کیلئے ہر سال تشریف لاتے الحمدللہ اب تک صحت،سفراورعمر کی صعوبتوں کے باوجود ہر سال تشریف لا رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ انکی صلہ رحمی اور دینی محبت کو قبول فرمائے اور صحت و ایمان والی طویل زندگی عطا کرے ۔آمین

1982 میں محترم بھائی عمر فاروق سعیدی حفظہ اللہ رمضان المبارک کےبعد شوال میں ہمارے ہاں تشریف لائے اس وقت آپ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے سند فراغت حاصل کرکے جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں مبعوث تھے اور تدریسی فرائض سرانجام دے رہے تھے والد گرامی نے میری تعلیم کےمتعلق پروگرام سے آگاہ کیا تو انہوں نے جامعہ سلفیہ فیصل آباد کا مشورہ دیا اور میرے ساتھ برادرمحمد یونس اطہر کا دینی تعلیم کیلئے جامعہ سلفیہ کا سفر طے پایا ۔برادر گرامی ابو عمار حفظہ اللہ کے ہمراہ راقم اور برادرم محمد یونس اطہر حفظہ اللہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد روانہ ہوئے۔ شیخ محترم نے جامعہ میں داخلہ کروادیا اور کمال محبت اور شفقت کے ساتھ سرپرستی فرمائی اور یوں میری دینی تعلیم کا پہلا سال جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں مکمل ہوا ۔

جامعہ ابی بکر میں تعلیم:

شعبان میں سالانہ امتحانات کے بعد تعطیلات پر گھر آئے، رمضان المبارک کے بعد شوال کا پہلا جمعہ ادا کرنے کے لیے مسجد گیا۔ نمازِ جمعہ کے بعد جماعت غرباء اہلحدیث کے ہفت روزہ صحیفہ اہل حدیث پر نظر پڑی ۔جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں داخلے کا مفصل اشتہار پڑھا اورجامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں تحصیل علم کا شوق پیداہوا ۔ معلوم ہوا کہ رحیم یارخان سے بھی چند طلبہ جامعہ ابی بکر جارہے ہیں۔ والد گرامی رحیم یار خان گئے تاکہ میں بھی ان کی ہمراہی میں سفر کر سکوں تو ڈاکٹر افتخار احمد شاہد (استاذ جامعہ ابی بکر) کے والد گرامی اور ایک دوسرے بزرگ صوفی رحمت اللہ کی سرپرستی میں بندۂ ناچیز ڈاکٹر افتخار احمد شاہد، احتشام الحق اور محمد ادریس بذریعہ خیبر میل کراچی پہنچے۔ خیبر میل خوب لیٹ ہوئی اور ہم کراچی کی فضاؤں اور مسجد جامعہ ابی بکر میں پہلی نماز مغرب ادا کرسکے۔

اگلے دن تحریری امتحان ہوا اور پھر فضیلۃ الشیخ عطاء اللہ الجدانی حفظہ اللہ نے انٹرویو کیا اور یوں جامعہ ابی بکر میں ہمارا داخلہ ہوا۔ الحمد للہ چار سال میں المعہد العلمی مکمل ہوا۔ تیس مارچ 1987ء کو خطیب ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کی شہادت کا سانحہ پیش آیا۔ دلی صدمہ پہنچا تو ہم تین دوستوں مولانا بشیر احمد شیخ الحدیث ستیانہ بنگلہ فیصل آباد، ابو مسعود محمد رفیق اثری بہاول پور والے اور راقم نے باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا کہ دار الحدیث المحمدیہ جلال پور پیروالا میں داخلہ لیا جائے اور شیخ الحدیث مولانا سلطان محمود رحمہ اللہ سے بخاری شریف پڑھی جائے اور علامہ شہید کے خلاکو پُر کرنے کی کوشش کی جائے لہذا ہم تینوں دوست دار الحدیث المحمدیہ جلال پور پیر والا پہنچ گئے۔ مجھے وہاں کی آب وہوا اور موسم کی شدت راس نہ آئی بیمار ہوگیا اور ایک ماہ بعد جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے کلیۃ الحدیث میں داخلہ لیا۔ اورکلیۃ کے چار سال مکمل کرکے سند فراغت حاصل کی۔ اس طرح بندۂ ناچیز 1983 تا 1990ء مسلسل آٹھ سال جامعہ ابی بکر میں زیر تعلیم رہا اور ابن الجامعہ کا اعزاز حاصل ہوا۔

جامعہ ابی بکر میں میرے ہم جماعت:

جامعہ ابی بکر میں اللہ تعالیٰ نے بہت خیر رکھی ہے، تحصیل علم کے لیے جامعہ میں جو بھی آیا اس نے خیرِ کثیر پائی اور جو نہ ٹھہرسکا وہ محروم رہا۔

مَنْ حُرِمَ فَقَدْ حُرِمَ

بعض دوستوں سے ملاقات ہوتی ہے جو تعلیم جاری نہ رکھ سکے تو ان کے دل سے ایک ٹھنڈی آہ نکلتی ہے اور زبانِ حال سے یوں گویا ہوتے ہیں:

چلتے ہوئے تسلی کو کچھ یار کہہ گئے

اس قافلے میں ہم بھی تھے افسوس رہ گئے

بہر کیف میرے ہم جماعت الحمد للہ میرے لیے اور میرے جامعہ کے لیے باعث افتخار ہیں۔ پاکستانی ہم جماعتوں سے تو رابطہ رہتاہے البتہ غیر ملکی ہم جماعت بچھڑنے کے بعد دوبارہ نہ مل سکے۔ اللہ تعالیٰ تمام ہم جماعتوں،ابناء الجامعہ اور اساتذہ کرام کو ہمیشہ سلامت رکھے، ان کی زندگیوں کو بابرکت بنائے اور رب کریم ہم سب کو جنت الفردوس میں جمع فرمائے۔ آمین

جن پاکستانی ہم جماعتوں سے میرا رابطہ رہتاہے وہ حسبِ ذیل ہیں :

مولانا ابو نعمان بشیر احمد حفظہ اللہ شیخ الحدیث دار الدعوۃ السلفیہ ستیانہ بنگلہ فیصل آباد

جناب پروفیسر ابو انس محمد سرور گوہر حفظہ اللہ اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ کالج قصور

جناب ڈاکٹر عبد الحئ المدنی حفظہ اللہ پروفیسر آف اسلامیات این ای ڈی انجینئرنگ یونیورسٹی کراچی

جناب ابو مسعود محمد رفیق اثری حفظہ اللہ ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ایلیمنٹری اسکول بہاولپور

جناب حافظ قاری عبد الوحید حفظہ اللہ مدیرمدرسہ شیخ عبد اللہ قرعاوی لتحفیظ القرآن ولیکچرار جامعة المعرفة العالمية سعودی عرب

جناب جمال الدین d، حال مقیم الریاض۔ سعودی عرب

 جناب محمد معاذ حفظہ اللہ مدرس وخطیب جامع مسجد محمدی پھول نگر ضلع قصور

جناب شبیر احمد سبحانی dپرنسپل ابی بکر اکیڈمی نارتھ کراچی

جناب چوہدری محمد یعقوب حفظہ اللہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی لاہور

فإنْ نحنُ عِشْنَا يجمَعُ اللهُ بيننَا
وَإنْ نحنُ مُتْنَا، فالِقيامَة ُ تَجمَعُ

اگر ہم زندہ رہے تو اللہ تعالیٰ ہمیں جمع فرمائے گا

اور اگر ہم مر گئے تو قیامت ہمیں اکٹھا کر دے گی

سفر حجاز :

جامعہ سے فراغت کے بعد فضیلۃ الشیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ اور فضیلۃ الشیخ خلیل الرحمن لکھوی حفظہ اللہ کی خصوصی شفقت اور دعاؤں سے عمرہ کی سعادت حاصل ہوئی۔ رمضان المبارک حرمین شریفین میں گزرا۔حرم مکی میں باب بلال کے پاس شیخ محترم جناب محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی تو مجھے حکماً فرمانے لگے شیخ صاحب جامعہ میں پڑھانا ہے۔ میں نے عرض کی ٹھیک ہے شیخ صاحب، نیز شیخ محترم کی کوشش سے مجھے مفتی اعظم سعودی عرب فضیلۃ الشیخ عبد اللہ بن عبد العزیز بن بازرحمہ اللہ کے ذریعے وزارت کی طرف سے فریضۂ حج ادا کرنے کی قانوناً اجازت بھی مل گئی اور یوں شیخ محترم اور مولانا عائش محمد حفظہ اللہ کی معیت میں فریضۂ حج کی سعادت نصیب ہوئی۔

اور پھر دوسری مرتبہ اللہ تعالیٰ نے 2007ء میں اہلیہ کے ہمراہ عمرہ کی توفیق بخشی، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بار بار اپنے گھر کی زیارت نصیب فرمائے۔

 بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل

اس شہر کے خوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے

اَللَّهُمَّ ارْزُقْنِيْ شَهَادَةً فِيْ سَبِيْلِكَ وَاجْعَلْ مَوْتِيْ فِيْ بَلَدِرَسُوْلِكَ (صحيح البخاري، رقم الحديث:1890)

«اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت دے اور اپنے نبی کے شہر میں موت عطا فرما»۔

جامعہ ابی بکر میں تدریس :

حج کی ادائیگی کے بعد محرم الحرام میں مکہ مکرمہ سے پاکستان پہنچا۔ چند دن گھر پر گزارنے کے بعد جامعہ ابی بکر الاسلامیہ المعہد الاسلامی میں تدریس کا آغاز کیا۔ شیخ محترم کے حکم کی تعمیل میں جامعہ ابی بکر میں تدریس میرے لیے بڑا اعزاز اور مقام افتخار تھا۔

صادق آباد چونکہ جنوبی پنجاب کی آخری تحصیل ہے۔ حاملین کتاب وسنت کے حوالے سے یہ شہر اور بھی پسماندہ ہے۔ ان دنوں فضیلۃ الشیخ حافظ ثناء اللہ الزاہدی حفظہ اللہ صادق آباد منتقل نہیں ہوئے تھے۔ اور جامعہ العلوم الاثریہ جہلم میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے بعد ازاں صادق آباد تشریف لائے مستقل سکونت اسی شہر میں اختیار کی اور جامعہ اسلامیہ عارف ٹاؤن صادق آباد کی بنیاد رکھی۔ آج کل یہ ادارہ مرکز الاصلاح کے نام سے کے ایل پی روڈ پر واقع ہے۔

مجھے اپنے شہر میں دینی کام کی اہمیت اور ضرورت کا شدت سے احساس تھا اور ذہن میں قرآن پاک کی یہ آیت گردش کررہی تھی :

وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَآفَّةً١ؕ فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآىِٕفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ وَ لِيُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُوْنَ[التوبة: 122]

اور یہ تو نہیں ہوسکتا کہ (اللہ تعالیٰ کی راہ میں) تمام مسلمان روانہ ہوجائیں تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت روانہ ہوتی تاکہ وہ لوگ دین کی سمجھ حاصل کرتے اور جب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹتے تو ان کو (اللہ کے عذاب سے) ڈراتے تاکہ وہ ڈر جائیں ۔

تو میں نے فضیلۃ الشیخ عمر فاروق سعیدی صاحب سے گزارش کی کہ آپ شیخ محترم سے سفارش کریں اور مجھے اپنے آبائی شہر میں کام کرنے کی اجازت مرحمت فرمائیں کیونکہ وہاں کام کی اشد ضرورت ہے ۔فضیلۃ الشیخ عمر فاروق سعیدی صاحب نے سفارش کی اور شیخ محترم رحمہ اللہ نے مجھے بخوشی اجازت بخشی ۔

عملی زندگی کا آغاز

کراچی سے صادق آباد منتقل ہوتے ہی صادق آباد میں واقع ڈویژن بہاولپور کے معروف پرائیویٹ ادارے اقرا کالج صادق آباد میں بطور لیکچرر اسلامیات تقرری ہوئی ۔1992 تا 1996 اس کالج میں تدریسی فرائض سر انجام دیے اور اللہ تعالیٰ نے بحیثیت معلم بہت عزت سے نوازا ۔1996 میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیا اور بطور لیکچرار سلیکشن ہوئی اور 29 دسمبر 1996 کو گورنمنٹ صادق عباس ڈگری کالج ڈیرہ نواب تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور حاضری دی اور یکم اپریل 1997 کو گورنمنٹ ڈگری کالج صادق آباد تبادلہ ہوا 2012 میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحان دوبارہ پاس کیا اور براہ راست BPS-18 میں اسسٹنٹ پروفیسر عربی سلیکشن ہوئی تاحال اسی کالج میں فرائض کی انجام دہی جاری ہے۔

دینی مصروفیات

اللہ کے فضل و کرم و توفیق الٰہی سے 1992 میں شہر میں عشاء کی نماز کے بعد تعلیم یافتہ،تجارت پیشہ اور طلبہ کیلئے ترجمہ قرآن کلاس کا آغاز کیا اور اکتوبر 2000ء میں شادی کے بعد خواتین کے لیے بعد از نماز عصر ترجمہ قرآن کلاس شروع کی، الحمد للہ وقت گزرنے کے ساتھ قرآن کلاسز کی بے شمار برکتیں اور نتائج سامنے آرہے ہیں اللہ کی توفیق سے یہ کلاسز تسلسل کے ساتھ جاری وساری ہیں بس اللہ تعالیٰ شرف قبولیت بخشے اور تادمِ حیات کتاب وسنت کی خدمت کا عظیم کام لیتارہے۔

صادق آباد کی سب سے قدیم اور عظیم مرکزی جامع مسجد رحمانیہ اہل حدیث کی نگرانی اور خطابت کی ذمہ داری بھی الحمد للہ احقر کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ذمہ داری اور امانت کو بطریق احسن سرانجام دینے کی توفیق بخشے۔ بفضل اللہ آج کل اس مسجد کی ازسرنو تعمیر کا کام جاری ہے بیسمنٹ اور گراؤنڈ فلور مکمل ہوچکی ہے اور بالائی منزل پر مسجد کا بڑا ہال زیرِ تعمیر ہے اور مسجد میں ناظرہ قرآن، تحفیظ القرآن للبنین، تحفیظ القرآن للبنات اور وفاق المدارس کے سلیبس کے مطابق شعبہ کتب للبنات کے شعبہ جات کا آغاز کیا جاچکاہے۔ اللہ تعالیٰ تمام منصوبہ جات کی تکمیل فرمائے۔ اس کارِ خیر کو میرے لیے،میرے والدین اور میرے اساتذہ کرام کے لیے صدقہ جاریہ بنائے اور قیامت تک لوگوں کی ہدایت ونجات کا ذریعہ بنائے۔ آمین

اساتذہ کرام :

مجھے یہ سعادت حاصل ہے کہ والدین محترمین کی شفقت ومحبت اور تربیت کے ساتھ عظیم المرتبت اساتذہ کرام کی خصوصی شفقت ومحبت اور تربیت ہمیشہ میسر رہی اور اب تک میری سرپرستی، حوصلہ افزائی اور نگرانی فرماتے ہیں۔ میرے مشائخ عظام میں الحمد للہ نامور اہلِ علم وفضل،صاحب دانش وبصیرت ، صاحب تقویٰ اور اولیاء اللہ شامل ہیں۔

جامعہ سلفیہ میں اساتذہ کرام:

فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق السعیدی حفظہ اللہ، فضیلۃ الشیخ محمد یونس بٹ رحمہ اللہ، فضیلۃ الشیخ محمد یاسین ظفر چوہدری حفظہ اللہ اور فضیلۃ الشیخ نجیب اللہ طارق حفظہ اللہ

جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں اساتذہ کرام

فضیلۃ الشیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ، فضیلۃ الشیخ مولانا عائش محمد حفظہ اللہ ، فضیلۃ الشیخ خلیل الرحمن لکھوی حفظہ اللہ ، بقیۃ السلف فضیلۃ الشیخ حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ ، فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، فضیلۃ الشیخ حافظ محمد شریف حفظہ اللہ ، فضیلۃ الشیخ عطاء اللہ ساجد حفظہ اللہ ، فضیلۃ الشیخ شبیر احمد نورانی حفظہ اللہ ، فضیلۃ الشیخ عبدالغفارالمدنی حفظہ اللہ ، فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر نصیر احمد اختر حفظہ اللہ ، فضیلۃ الشیخ عطاءاللہ الجدانی حفظہ اللہ ، فضیلۃ الشیخ قاری محمد ادریس رحمہ اللہ، فضیلۃ الشیخ حافظ محمد منشاء رحمہ اللہ، فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبدالجواد خلف عبدالجواد المصری حفظہ اللہ ، فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر محمود المصری حفظہ اللہ، فضیلۃ الشیخ حسین محمد حسین المصری حفظہ اللہ ، فضیلۃ الشیخ ابو عمر محمد ہادی یمنی (شامی)حفظہ اللہ ، فضیلۃ الشیخ موسیٰ یوگنڈی حفظہ اللہ ، فضیلۃ الشیخ بشیر صلاد الصومالی حفظہ اللہ ۔

دارالحدیث المحمدیہ جلال پور پیروالا میں اساتذہ کرام

فضیلۃ الشیخ سلطان محمود رحمہ اللہ ، فضیلۃ الشیخ شیخ الحدیث مفتی محمد رفیق الاثری رحمہ اللہ ، فضیلۃ الشیخ مولانا عبدالرشید حفظہ اللہ ۔

أُولئِكَ آبَاءِيْ فَجِئْنِي بِمِثْلِهِمْ

اللہ تعالیٰ میرے تمام اساتذہ کرام کو ہمیشہ تندرست و توانا رکھے اورایمان و برکت والی طویل عمر عطا کرے اور جو اس دنیا میں نہیں رہے اللہ تعالیٰ انکی قبروں کو کشادہ اور منور کرے اور اپنی شان کے مطابق انکی میزبانی فرمائے نیز مجھے اور تمام شاگردوں کو ان کیلئے صدقہ جاریہ بنائے آمین

السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحين

اے اللہ ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلامتی فرما۔

چند کتب

میں گو کہ صاحب قلم و قرطاس نہیں اور نہ ہی اس لائق ہوں کہ کچھ تحریر کرسکوں مگر فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی اور فضیلۃ الشیخ جناب ابو عبدالرحمن شبیر احمد نورانی صاحب کی ترغیب اور تلقین ہمیشہ جاری رہی نہ صرف حوصلہ افزائی فرماتے بلکہ مجھے حکماً لکھنے کا کہتے رہے تو ان کی تعمیل حکم میں چند کتب کےتراجم مطبوع ہوئے ۔

تربیت اولاد

فرائض والدین

احکام دعا اور زاد مسلم

آسان عربی گرائمر

حدیقۃ الادب(سال اول)

حدیقۃ الادب (سال دوم)

ذوالحجہ کےدس دن فضائل ،مسائل اور احکام(غیر مطبوع)

مكانة المرأة في الإسلام (غیر مطبوع ) ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العليم وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم وصلى الله على النبي وآله وأصحابه أجمعين

By editor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے