ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا١ۙ يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِيٰٓـُٔهُمُ۠ الطَّاغُوْتُ١ۙ يُخْرِجُوْنَهُمْ۠ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ۰۰۲۵۷﴾

’’ اللہ ایمان والوں کا دوست ہے وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور کفّارکے ساتھی شیاطین ہیں وہ انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہ لوگ جہنمی ہیں یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘( البقرہ: ۲۵۷)

ولی کی جمع اولیاء ہے۔ قرآن مجید میں یہ لفظ دوست، خیر خواہ، مددگار، آقا، قربت اور ابتدا کے معانی میں استعمال ہوا ہے۔ عرف عام میں ولی کا لفظ انتہائی نیک اور ’’اللہ‘‘ کے دوست کے لیے بولا جاتا ہے۔ کمزور عقیدہ لوگ عقیدت اور محبت میں آ کر اولیاء کرام کے بارے میں نہ صرف مبالغہ سے کام لیتے ہیں بلکہ ان کی اصلی یا نقلی کرامات بیان کرتے ہوئے ایمانیات کی تمام حدیں عبور (Cross)کر جاتے ہیں۔ اس میں نقلی اولیاء اور ان کے مریدوں کا بھی بہت عمل دخل ہوا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو سب کچھ معلوم ہے، اس لیے ذاتِ کبریا نے عقیدے کے تحفظ اور لوگوں کے مال اور عزت و آبرو کو بچانے کے لیے قرآن مجید میں اولیاء کے دو طبقے بیان کیے ہیں۔ تاکہ لوگ کھرے اور کھوٹے، اصلی اور نقلی کے درمیان فرق سمجھ کر اپنے ایمان کو بچا سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے موحّد اور صالح کردار بندوں کو درجہ بدرجہ اپنے دوست قرار دینے کے ساتھ انہیں ایک دوسرے کے اولیاء ہونے کا اعزاز بھی بخشا ہے۔ دوسروں کو اولیاء الشیطان گردانا ہے اور حکم دیا ہے کہ یہ میرے نہیں بلکہ شیطان کے دوست اور ساتھی ہیں ان سے بچ کر رہنا کہیں یہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں۔

﴿اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَقَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ۰۰۳﴾ (الأعراف: ۳)

’’اس کے پیچھے چلو جو تمہاری طرف تمہارے ’’رب‘‘ کی طرف سے نازل کیاگیا ہے اور اس کے سوا اولیاء کے پیچھے نہ چلو بہت تھوڑے ہیں جو نصیحت قبول کرتے ہو۔‘‘

حقیقی اور سچے اولیاء کا کردار

﴿وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَيُطِيْعُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ اُولٰٓىِٕكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۰۰۷۱ وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ ۰۰۷۲ ﴾ ’’مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں وہ نیکی کاحکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں، نماز قائم کرتے اور زکوۃ ادا کرتے ہیں ۔اللہ اور اس کے رسول کاحکم مانتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر یقیناً ’’اللہ ‘‘رحم فرمائے گا، بے شک ’’اللہ‘‘سب پرغالب اور وسیع حکمت والاہے ۔’’اللہ‘‘ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے اُن باغات کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور ان کے رہنے کے لیے پاک، صاف مکانات ہیںاور یہ ہمیشہ کے باغات میں رہیں گے، ’’اللہ‘‘کی رضامندی سب سے بڑی نعمت ہے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘(التوبة: ۷۱، ۷۲)

حقیقت یہ ہے کہ جب بندہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے تو اللہ تعالیٰ بندے کو اپنا دوست بنا لیتا ہے۔ اسے اپنی طرف آنے کی توفیق بخشتا اوراس کی رہنمائی کرتا ہے۔ جوں جوں بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کی محبت سے سرشار اور اس کے حکم پر نثار ہو تا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کی آنکھ، کان اور جوارح پر غالب آ جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کی رہنمائی ہی نہیں کرتابلکہ اپنے بندے کے دشمن کا دشمن ہو جاتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ میرے دوستوں کو دنیا و آخرت میں کوئی خوف نہیں ہو گا۔ اس کے برعکس شیطان اپنے دوستوں کو نور ہدایت سے نکال کر گمراہی کے اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « إِنَّ اللهَ قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ (رواہ البخاری، باب التواضع )

 ’’سیدنا ابوہریرہt بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول e نے فرمایا: بلاشبہ ’’اللہ ‘‘ کا فرمان ہے جس نے میرے دوست سے دشمنی کی میں اس سے جنگ کا اعلان کرتا ہوں میںنے جو چیزبندے پر فرض کی اس سے زیادہ مجھے کوئی چیز محبوب نہیں جس سے وہ میراقرب حاصل کرے ۔‘‘

اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے کس طرح قریب ہوتا ہے

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ، قَالَ: «إِذَا تَقَرَّبَ العَبْدُ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَإِذَا أَتَانِي مَشْيًا أَتَيْ

تُهُ هَرْوَلَةً» (رواہ البخاری: کتاب التوحید)

’’سیدناانسt نبی کریم eکا فرمان ذکر کرتے ہیں جو نبیe نے اپنے رب سے بیان کیا ہے (یعنی یہ حدیث قدسی ہے )کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب بندہ میری طرف ایک بالشت بڑھتاہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتاہوں ۔ جب وہ میری طرف ایک ہاتھ آتا ہے تو میں اس کی طرف دو ہاتھ بڑھتاہوں ۔ جب وہ میری طرف چل کرآتاہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔‘‘

اولیاء اللہ کے مقابلے میں جھوٹے اور نقلی اولیاء کا کردار

﴿اَلْمُنٰفِقُوْنَ۠ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ يَقْبِضُوْنَ اَيْدِيَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ۰۰۶۷ وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِيْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ هِيَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌۙ۰۰۶۸﴾

’’منافق مرد اور منافق عورتوں کا ایک دوسرے سے تعلق ہے، وہ برائی کاحکم دیتے ہیں اورنیکی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں۔ وہ ’’اللہ‘‘ کو بھول گئے، ’’اللہ‘‘ نے بھی انہیں بھلا دیا یقیناً منافق نافرمان ہیں، ’’اللہ‘‘ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اورکفّار سے جہنم کی آگ کا وعدہ کیا ہے، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں وہ ان کے لیے کافی ہے اور’’اللہ ‘‘نے ان پر لعنت کی، ان کے لیے ہمیشہ قائم رہنے والاعذاب ہے۔‘‘(التوبة: ۶۷، ۶۸)

ان لوگوں کو شیطان کے ساتھی قرار دے کر مسلمانوں کو ان سے بچنے کی نہ صرف تاکید فرمائی بلکہ ان سے تعلقات رکھنے کے نقصانات سے بھی آگاہ فرمایا ہے۔

﴿ا۟لَّذِيْنَ يَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اَيَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِيْعًاؕ۰۰۱۳۹﴾

’’اے صاحب ایمان لوگو! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائو، کیا تم ان سے عزت چاہتے ہو؟ یقیناً عزت تو ساری کی ساری ’’اللہ‘‘ کے پاس ہے۔‘‘(النساء: ۱۴۴)

﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِيَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ۰۰۵۱﴾ (المائدة: ۵۱)

’’اے لوگو !جو ایمان لائے ہو ! یہود ونصاریٰ کو دلی دوست نہ بنائو، وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو انھیں دوست بنائے گا یقیناً وہ انہی میں سے ہوگا۔ بے شک ’’اللہ‘‘ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں د یتا۔‘‘

﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِيْمَانِ١ؕ وَ مَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۰۰۲۳﴾ (التوبة: ۲۳)

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے والدین اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ بنائو ،اگر وہ ایمان کے مقابلے میں کفر سے محبت رکھتے ہیں، جو تم میں سے ان سے دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہیں۔‘‘

﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِيَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۰۰۵۷﴾ (المائدة: ۵۷)

’’اے لوگو !جو ایمان لائے ہو جو لوگ تمہارے دین کومذاق اورکھیل بناتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے ، نہ ہی کافروں کو دوست بنائواور اگرتم ایمان والے ہوتو اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔‘‘

﴿اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّيْطٰنُ يُخَوِّفُ اَوْلِيَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَخَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۰۰۱۷۵﴾ (آل عمران:۱۷۵)

’’یہ شیطان ہے جو تمہیں اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تم ان سے نہ ڈرو اور اگر تم مومن ہوتو مجھ سے ہی ڈرو ۔‘‘

﴿وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ۰۰۱۱۳﴾ ( ھود: ۱۱۳)

’’ اور جنہوں نے ظلم کیاان کی طر ف نہ جھکنا ورنہ تمہیں آگ آلے گی اور تمہارا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی خیر خواہ نہیں ہو گا، پھر تمہاری مد د نہیں کی جائے گی ۔‘‘

﴿اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِيَآءَ الشَّيْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَيْدَ الشَّيْطٰنِ كَانَ ضَعِيْفًا ۰۰۷۶﴾ (النساء: ۷۶)

 ’’جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ ’’اللہ ‘‘کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں۔ پس تم شیطان کے دوستوں سے جنگ کرو، بلاشبہ شیطان کا حربہ نہایت ہی کمزور ہوتا ہے۔ ‘‘ قارئین کرام! مذکورہ فرامین مبارکہ سے معلوم ہوا کہ شیطان سے دوستی اور نسبت انسان کو ہلاک کر دے گی اور ربِ کریم سے دوستی اور تعلق دونوں جہانوں میں انسان کی کامیابی کی ضامن ہے۔ اس لیے شیطان کی دوستی اور تعلق کی بجائے اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کرنا چاہئے تاکہ کامیابی ہمارا مقدر بن سکے۔

By editor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے