حلال و حرام کے حوالے سے قرآن مجید نے تین بنیادی اصول بیان کیے ہیں یہ اصول چونکہ حلال وحرام کے حوالہ سے اسلامی نظریہ میں اقتصادیات بنیاد کا درجہ رکھتے تھے، اس لئے قرآن پاک میں ان کی جا بجا تاکید ملتی ہے یہ اصول درج ذیل ہیں:

1.حلت و حرمت کا تعلق شارع سے ہے اور اس میں انسانی عقل کا کوئی عمل و دخل نہیں ہے۔

2.کائنات میں موجود تمام اشیاء کی تخلیق انسانوں کیلئے ہوئی ہے، اس لئے ہر چیز کا اصل حکم اباحت کا ہے۔

3.طیبات حلال اور خبیث و ناپسندیدہ اشیاء حرام ہیں۔

(1)حلت و حرمت کا تعلق شارع سے ہے اور اس میں انسانی عقل کا کوئی عمل و دخل نہیں ہے۔

حلال و حرام کے حوالے سےقرآن مجید نے سب سے پہلا یہ اصول بیان کیا کہ:’’ کسی چیز کو حلال و حرام قرار دینا صرف شارع کا حق اور منصب ہے‘‘۔

 لہٰذا کسی شرعی دلیل کے بغیر محض اپنی پسند و ناپسند یا عقلی موشگافیوں کی بنیاد پر کسی چیز کو حرام یا حلال کہنا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے۔ اس بات کو قرآن مجیدنے کہیں حدود سے تجاوز کا نام دیا گیا تو کسی جگہ اللہ پر افتراء بلکہ ایک جگہ تو شرک تک کا نام دیا گیا ہے۔ درج ذیل آیات سے اس امر کی وضاحت ہو جاتی ہے:

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَؕ۰۰۱۱۶(النحل: 116)

اور اس کی وجہ سے جو تمہاری زبانیں جھوٹ کہتی ہیں، مت کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے، تاکہ اللہ پر جھوٹ باندھو۔ بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے۔

قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّحَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَمَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَ رحمہ اللہ ۰۰۱۴۰ (الأنعام: 140)

بیشک ان لوگوں نے خسارہ اٹھایا جنھوں نے اپنی اولاد کو بےوقوفی سے کچھ جانے بغیر قتل کیا اور اللہ نے انھیں جو کچھ دیا تھا اسے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہوئے حرام ٹھہرا لیا۔ یقینا وہ گمراہ ہوگئے اور ہدایت پانے والے نہ ہوئے۔

قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ۰۰۵۹

کہہ دیں کیا تم نے دیکھا جو اللہ نے تمہارے لیے رزق اتارا، پھر تم نے اس میں سے کچھ حرام اور کچھ حلال بنا لیا۔ کہہ کیا اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے، یا تم اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو۔ (یونس: 59)

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ۰۰۸۷ (المائدة: 87)

اے لوگو !جو ایمان لائے ہو ! وہ پاکیزہ چیزیں حرام مت ٹھہراؤ جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں اور حد سے نہ بڑھو، بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔

مذکورہ اصول یعنی «حلال و حرام کے مسئلہ میں انسانی عقل کو کوئی دخل نہیں»، حلت و حرمت سے متعلق اسلام کا سب سے اہم اور بنیادی اصول ہے۔ اس اصول کی رُو سے حلال وہی چیزیں ہیں جن کو شریعت مطہرہ نے حلال کیا ہے، اور حرام وہی چیزیں ہیں جن کو شریعت نے حرام کیا ہے۔ یہ بات شرعاً حددرجہ ممنوع اور باعثِ لعنت ہے کہ کسی شرعی دلیل کے بغیر حلال چیز کو حرام یا کسی حرام چیز کو حلال قرار دیا جائے۔ اس بات کو مدنظر رکھا جائے کہ حلال و حرام کا اختیار اللہ تعالی نے کسی نبی کو بھی نہیں دیا ۔ لہذا حلال وحرام کی حساسیت کا تقاضا تو یہی ہے کہ کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینے کی اتھارٹی مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں ہے یہاں تک کہ رسول اللہﷺ کے پاس بھی یہ اتھارٹی نہیں ہے۔ سورۂ تحریم کی ابتدائی آیت اس طرح ہے :

يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ(التحریم:1)

اے نبی ! تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا ہے ؟

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِيْ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَّطْعَمُهٗۤ (الأنعام:145)

کہہ دیں میں اس وحی میں، جو میری طرف کی گئی ہے، کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا جسے وہ کھائے۔

اس آیت مبارکہ کے الفاظ ’ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيَّ ‘ اس بات کی دلیل ہیں کہ نبیﷺ بھی وحی کے بغیر کسی چیز کو حرام قرار نہیں دے سکتے۔ جب نبیﷺ کے پاس اس کا ختیار نہیں ہے تو ایک عام انسان اپنی عقل سے کس طرح کسی چیز کو حرام قرار دے سکتا ہے؟

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام چیزوں کو تفصیلاً بیان کر دیا ہے اور اللہ کے رسولﷺ نے اپنی سنت کے ذریعے ان کی مزید تشریح اور وضاحت بھی فرما دی ہے۔

اشیاء میں اباحت اصل ہے

یہود و مشرکین کے رد اور تحریم و تحلیل کو شارع کا منصب قرار دینے کے ساتھ قرآن پاک نے مسلمانوں کو حلال و حرام کے حوالے سے دوسرا بنیادی اصول یہ دیا کہ زمین پر پائی جانے والی تمام اشیاء کی تخلیق کی اصل غرض انسانوں کو نفع پہنچانا ہے۔ لہٰذا اسلام کی رُو سے ہر موجود چیز اپنے اصلی اور فطری حکم کے لحاظ سے انسانوں کیلئے حلال ہے۔

لیکن اس امر کا خیال رہے کہ اباحت کا قاعدہ ان اشیاء کے بارے میں ہے جن کے بارے میں نصوص خاموش ہیں جن اشیاء کو نصوص میں حلال وحرام قرار دیا گیا ہے وہ نص کے مطابق حلال و حرام ہوں گی۔اگر دلائل متعارض ہوں تو احتیاط پر عمل ہو گا اور احتیاط یہ نہیں کہ کسی چیز کو حرام قرار دے دیا جائے بلکہ احتیاط یہ ہے کہ اصل پر عمل کیا جائے ۔

 یہ بات قرآن مجید میں ایک قاعدہ کے طور پر مذکور ہے۔ ذیل کی چند آیات ملاحظہ ہوں:

هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا(البقرۃ: 29)

وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے سب تمہارے لیے پیدا کیا۔

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَةَ اللّٰهِ الَّتِيْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِيَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۰۰۳۲ (الأعراف:32)

تو کہہ دیں کس نے حرام کی اللہ کی زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں ؟ کہہ دے یہ چیزیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں (بھی) ہیں، جبکہ قیامت کے دن (ان کے لیے) خالص ہوں گی، اسی طرح ہم آیات کو ان لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتے ہیں جو جانتے ہیں۔

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْهُ

اور اس نے تمہاری خاطر جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنی طرف سے مسخر کردیا۔ (الجاثیة:13)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ:

 جب زمین کی ساری چیزیں ہمارے لئے مسخر ہیں تو ان سے فائدہ اٹھانا بھی ہمارے لئے جائز ہے۔

(ابن تیمیہ، تقی الدين أبو العباس أحمد بن عبد الحليم، مجموع الفتاوی، دار الوفاء، الطبعة الثالثة، 1426 ھ/ 2005م، ج:21، ص: 536)
اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً(لقمان 20)

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ نے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے تمہاری خاطر مسخر کردیا اور تم پر اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں پوری کردیں۔

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِيْ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ يَّكُوْنَ مَيْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِيْرٍ (الأنعام : 145)

کہہ دے میں اس وحی میں، جو میری طرف کی گئی ہے، کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا جسے وہ کھائے، سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو، یا بہایا ہوا خون ہو، یا خنزیر کا گوشت ہو۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

’’جس چیز کی حرمت کا حکم نہ ہو وہ حرام نہیں اور جو حرام نہ ہو وہ حلال ہے۔‘‘

(مجموع الفتاوی، دار الكتب العلمية، الطبعة الأولى، 1408ھ/1987م، ج: 1، ص: 369)

سید نا ابو درداء رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے:

مَا أَحَلَّ اللهُ فِي كِتَابِهِ فَهُوَ حَلَالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَهوَ حَرَامٌ، وَمَا سَكَتَ عَنهُ فَهُوَ عَفْوٌ، فَاقبَلُوا مِنَ اللهِ عَافِيَتَه فَإِنَّ اللهَ لَمْ يَكُنْ نَسِيًّا (الدارقطني، أبي الحسن علي بن عمرالدارقطني، سنن الدارقطني، طبعة مؤسسة الرسالة،ج:3، ص: 59، ح: 2066)

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جو چیز حلال قرار دی ہے وہ حلال ہے اور جو چیز حرام قرار دی ہے وہ حرام ہے اور جس چیز کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے وہ قابلِ معافی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی دی ہوئی رعایتیں قبول کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو بھولنے والا نہیں ہے۔

ملا علی قاری رحمہ اللہ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’جس چیز کی حلت وحرمت کا بیان اللہ تعالیٰ نے نہ کیا ہو تو وہ معاف (مباح) ہے اس سے معلوم ہوا کہ اشیاء میں اصل اباحت ہے۔‘‘ (ملا علی قاری، علي بن محمد، أبو الحسن نور الدين الملا الهروي القاري، مرقاة المفاتيح، دار الفكر بيروت، الطبعة الأولى 1422ھ/2002م، كتاب الأطعمة، ج:7، ص:2724)

سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں:

إِنَّ اللهَ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلا تُضَيِّعُوهَا، وَحَّدَ حُدُودًا فَلا تَعْتَدُوهَا، وَسَكَتَ عَنْ كَثِيرٍ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلا تَتَكَلَّفُوهَا رَحْمَةً مِنَ اللهِ فَاقْبَلُوهَا (الطبرانی، سليمان بن أحمد الطبراني، المعجم الصغیر، المكتب الإسلامي، دار عمار بيروت عمان، الطبعة الأولى،1405هـ ـ 1985م ، ج: 2، ص: 249، ح: 1111)

’’اللہ تعالیٰ نے فرائض مقرر کئے ہیں انہیں ضائع مت کرو، اور حدود مقرر کئے ہیں ان سے تجاوز نہ کرو، اور بہت سی چیزوں کے بارے میں خاموشی اختیار فرمائی ہے نہ اس وجہ سے کہ وہ بھول گیا ہے بلکہ تم پر رحم کرتے ہوئے ، لہٰذا انہیں قبول کرو، اور تکلف سے کام نہ لو۔‘‘

سید نا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:

إِنْ اللهَ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلاَ تُضَيِّعُوهَا وَحَدَّ حُدُودًا فَلاَ تَعْتَدُوهَا وَنَهَى عَنْ أَشْيَاءَ فَلاَ تَنْتَهِكُوهَا وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ رُخْصَةً لَكُمْ لَيْسَ بِنِسْيَانٍ فَلاَ تَبْحَثُوا عَنْهَا (البيهقی، أبو بكر أحمد بن الحسين بن علي البيهقي، السنن الكبرى، مجلس دائرة المعارف النظامية الكائنة في الهند ببلدة حيدر آباد، الطبعة الأولى 1344 هـ، باب مَا لَمْ يُذْكَرْ تَحْرِيمُهُ وَلاَ كَانَ فِى مَعْنَى مَا ذُكِرَ تَحْرِيمُهُ مِمَّا يُؤْكَلُ أَوْ يُشْرَبُ، ج: 10، ص: 12، ح: 20217)

’’اللہ تعالیٰ نےکچھ چیزیں فرض فرمائی ہیں انہیں ضائع مت کرو اور حدود مقرر کئے ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اور کچھ چیزوں سے منع فرمایا ہے ان کی ہتک مت کرو اورکچھ چیزوں کے بارے میں خاموشی اختیار فرمائی ہے آپ کو رخصت دینے کے لئے نہ کہ بھولنے کی وجہ سے،ان کے بارے میں بحث مت کرنا۔‘‘

اس حدیث کی تشریح میں علامہ مبارک پوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اس حدیث کا مقتضیٰ یہ ہے کہ اشیاء میں اصل اباحت اور حلت ہے۔اور بعض حضرات نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔

‘‘ (المباركفوری، أبو الحسن عبيد الله بن محمد عبد السلام بن خان محمد بن أمان الله بن حسام الدين الرحماني المباركفوري، مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، إدارة البحوث العلمية والدعوة والإفتاء الجامعة السلفية بنارس الهند، الطبعة الثالثة، 1404 هـ، 1984 م، ج: 1، ص: 300.)

یہ قاعدہ قرآن وسنت کے علاوہ عقل اور قیاس کے بھی عین مطابق ہے۔ مذکورہ قاعدہ فقہاء کے نزدیک مسلم ہے، البتہ فقہاء احناف کے بارے میں مختلف روایتیں پائی جاتی ہیں۔ بعض نے امام صاحب رحمہ اللہ کی طرف یہ بات منسوب کی ہے کہ آپ رحمہ اللہ کے نزدیک اشیاء میں اصل حرمت ہے اور اباحت دلیل سے ثابت ہو گی۔ (السيوطی، الأشباه والنظائر، ج:1، ص: 60، عند أبي حنيفة الأصل فيها التحريم حتى يدل الدليل على الإباحة)

 جب کہ علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں: ’’اہلِ سنت کے نزدیک راجح یہ ہے کہ اشیاء میں اصل توقف ہے۔‘‘( ابن عابدين، محمد أمين بن عمر بن عبد العزيز، حاشية ابن عابدين، دار الفكر بيروت 1421ھ، ج: 4 ص:141)

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اکثر احناف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اشیاء میں اصل اباحت ہے، یعنی وہ مذکورہ قاعدے سے اتفاق کرتے ہیں ۔

مشہور اصولی محمد امین امیر بادشاہ رحمہ اللہ نے جمہور احناف اور شوافع کا مسلک یہ ذکر کیا ہے: ’’راجح یہ ہے کہ جمہور حنفیہ اور شافعیہ کے نزدیک اباحت اصل ہے ۔‘‘ (أميربادشاه محمدأمين، تيسير التحرير، دارالفكر ج: 2، ص:246)

اشیاء میں اصل اباحت ہے یہ جمہور محدثین و فقہاء کی رائے ہے۔ (القرطبی، أبوعبد الله محمد بن أحمد بن أبي بكر بن فرح الأنصاري الخزرجي شمس الدين القرطبي، الجامع لاحکام القرآن، ج: 4، ص: 177)

جس میں معروف نام یہ ہے :شوافع، امام احمد رحمہ اللہ ، امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ ، علامہ قرافی رحمہ اللہ، بلکہ علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ نے امام محمد رحمہ اللہ کے فقہی جزیئہ سے اسی قاعدے کا استخراج کیا ہے کہ اصل اباحت ہے اور حرمت عارض ہے اور معروف حنفی فقہیہ کرخی رحمہ اللہ کا اختیار بھی یہی تھا ۔ یعنی تتبع سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر علماء احناف بھی اباحت ہی کے قائل ہیں۔جیسا کہ ابن ہمام رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

المختار الاباحة عند الجمهور والحنفية والشافعية (رد المحتار، ج: 6، ص: 268)

بلکہ حاشیۃ رد المحتار میں تو صراحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے :

اقول وقد صرح فی التحریر بان المختار ان الاصل الاباحة عند الجمهور من الحنفیة والشافعیة (حاشية رد المحتار، ج: 1، ص: 113)

بلکہ صاحب کشف الاسرار اور امام بزدوی نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے۔(عبد العزيز أحمد بن محمد البخاري علاء الدين، كشف الأسرار عن أصول فخر الإسلام البزدوي، مطبعة الشركة الصحافية العثمانية، إعادة طبع دار الكتاب العربي – بيروت، 2008، ج: 3، ص:195)

شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ «حجۃ اللہ البالغۃ» میں لکھتے ہیں:

اللہ تعالی نے رسول اللہﷺ کو ان کی کج روی کی درستگی کے لیے اور ان کی خرابیوں کی اصلاح کے لیے مبعوث فرمایا پس آپﷺ نے بنی اسماعیل کی شریعت کا بغور جائزہ لیا اور اس میں جو طریقہ اسماعیل علیہ السلام کے مسلک کے موافق یا منجملہ شعائر الہی کے مطابق پایا اس کو باقی رکھا اور جس میں تحریف ہو گئی تھی یا اس میں بگاڑ آ گیا تھا یا اس میں شرک و کفر کی علامت تھی اس کو مٹا دیا اور جو امور عادات وغیرہ کے قبیل سے تھے ان کی خوبیاں اور ناپسندیدگیاں اس طرح بیان کر دیں کہ گمراہ کن رسموں سے بچا جا سکے آپﷺ نے بدروش طریقوں سے منع فرمایا اور عمدہ طریقوں کا حکم دیا اور جو مسائل اصلی یا عملی زمانہ فترت میں متروک ہو گئے تھے ان کو شاداب و تروتازہ ویسا ہی کر دیا جیسا کہ وہ تھے اس طرح اللہ کا انعام مکمل ہو گیا اور اس کا دین مستقیم ہو گیا۔( شاہ ولی اللہ ، قطب الدین أحمد بن عبدالرحیم الدھلوی ، حجة اللہ البالغة، دار ابن كثير، بيروت، 2020م، باب ما کان علیه اهل الجاهلیة وأصحله النبیﷺ، ج:1 ص:124)

اس سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ زمانہ فترت کی بہت ساری چیزوں کو اسی حال میں باقی رکھا گیا جہاں قانون فطرت سے کسی طرح کا انحراف آیا اس کی اصلاح کر دی گئی بلکہ فقہی اصول

«الاصل بقاء ما کان علی ما کان» (الاشباہ والنظائر، ابن نجیم، القاعدة الثالثة، ص: 57)

یعنی اشیاء اپنے سابق حکم پر رہتی ہیں یہاں تک کہ اسی درجہ کی کوئی دلیل متعارض سامنے آ جائے ۔

اس قاعدے سے مستثنیٰ اشیاء:

مذکورہ قاعدہ تمام اشیاء کو شامل نہیں کہ ہر شے میں اصل اباحت ہو بلکہ بعض اشیاء ایسی ہیں جو اس قاعدے سے مستثنیٰ ہیں، يہاں ان کے صرف نام لکھے جا رہے ہیں تفصیلات کے لیے الگ سے مضمون لکھا جائے گا ان شاء اللہ۔ جو درج ذیل ہیں:

1)جو چیزیں نجس ہیں ان میں اصل اباحت نہیں بلکہ حرمت ہے۔

2)مضر اشیاء میں اصل حرمت ہے،اورفائدے والی چیزوں میں اصل اباحت ہے

3)شرمگاہ یعنی عورت بھی اس قاعدے سے مستثنیٰ ہیں، یعنی ان میں بھی اصل حرمت ہے جب تک اباحت کی دلیل نہ پائی جائے انہیں حرام تصور کیا جائے گا۔

4)اس قاعدے کو عبادات پر بھی منطبق نہیں کیا جا سکتا کہ جس کے بارے میں قرآن مجید و احادیث رسول اللہﷺ خاموش ہوں اس قول یا فعل کو عبادت نہیں قرار دیا جا سکتا ۔کیونکہ عبادات کو قرآن مجید و احادیث رسول اللہﷺ سے ہی ثابت کیا جا سکتا ہے۔

5)مذکورہ قاعدے سے خون، مال اور عزت وآبرو بھی مستثنیٰ ہیں۔کیونکہ جان، مال اور عزت وآبرو میں اصل حرمت ہے۔

پاکیزہ چیزوں کی حلت اور خبیث اشیاء کی حرمت

تحلیل و تحریم منصب شارع ہونے، نیز اشیاء میں اباحت اصل ہونے کے ساتھ حلال و حرام کے حوالے سے اسلامی نظریہ کی بنیاد کے طور پر تیسرا اصول قرآن پاک نے یہ بیان کیا ہے کہ تمام خبیث یعنی ناپاک و ناپسندیدہ چیزیں حرام ہیں اور تمام پاکیزہ و طیب چیزیں حلال ہیں۔ بلکہ ایک جگہ تو رسول اللہﷺ کے فرائض منصبی یا آپ کی خوبیوں اور علامات میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ آپ لوگوں پر پاکیزہ چیزیں حلال اور خبیث و ناپاک چیزیں حرام فرمائیں گے۔ اس اصول سے متعلق ذیل کی چند آیات ملاحظہ ہوں:

يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِي الْاَرْضِ حَلٰلًا طَيِّبًا١ۖٞ وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۰۰۱۶۸ (البقرۃ: 168)

اے لوگو ! ان چیزوں میں سے جو زمین میں ہیں حلال، پاکیزہ کھاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی مت کرو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّيْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌؕ۰۰۵۱(المؤمنون:51)

اے رسولو ! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو، یقینا میں اسے جو تم کرتے ہو، خوب جاننے والا ہوں۔

اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ١ٞيَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ يَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰٓىِٕثَ (الأعراف: 157)

وہ جو اس رسول کی پیروی کرتے ہیں، جو امی نبی ہے، جسے وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، جو انھیں نیکی کا حکم دیتا اور انھیں برائی سے روکتا ہے اور ان کے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کرتا اور ان پر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے

وَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا١۪ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ۰۰۸۸ (المائدة:88)

اور اللہ نے تمہیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے حلال، طیب کھاؤ اور اس اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھنے والے ہو۔

 اہم تعلیمات کا خلاصہ

کتاب و سنت سے درج ذیل چند اصولی ہدایات معلوم ہوتی ہیں:

1.جس چیز کی حلت یا حرمت کے بارے میں قرآن و سُنت خاموش ہوں وہ مباح ہے۔

2.جس چیز میں حلال و حرام دونوں طرح کے احتمال ہوں وہ مشتبہ سمجھی جائے گی۔ ایسی مشتبہ چیزوں کو حرام کہنا یا سمجھنا درست نہیں ، مگر دین و آبرو کی حفاظت کے لئے عملی طور پر ان سے بھی بچنے کا حکم ہے۔

3.گوشت کے معاملے میں اگر شبہ ہو تو اس کے ساتھ حرام چیز والا معاملہ کیا جائے گا ، جیسا کہ سید نا عدی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔

4.کسی حرام چیز کو حلال کرنے کیلئے حیلے بہانے کرنا جائز نہیں۔

5. وہ شبہ معتبر ہے جو کسی دلیل کی بنیاد پر ہو کیونکہ بغیر دلیل کے شبہ وسوسہ کہلاتا ہے اور شرعی احکام میں وسوسہ کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ لہٰذا جہاں بھی کسی چیز کے بارے میں شبہ ہوگا تو اس چیز کے شرعی حکم کے سلسلے میں دلیل کو دیکھا جائے گا کہ اس شبہ میں کوئی دلیل موجود ہے یا نہیں؟ چنانچہ بادلیل شبہ معتبر ہوگا اور بے دلیل شبہ غیر معتبر ہوگا۔

6.شبہات سے بچنے کا علی الاطلاق فقہی حکم بیان کرنا ممکن نہیں ہے لہذا اصل تو یہ ہے کہ اگر شبہ کسی دلیل کی بنیاد پر ہے تو پھر شبہ کی نوعیت کی طرف دیکھا جائے گا کہ اگر وہ قوی درجے کی ہے تو اس سے بچنا فرض ہوگا اور اگر وہ کمزور درجے کی ہو تو اس سے بچنا مستحب اور تقویٰ کا تقاضا ہوگا ۔ واضح رہے کہ حکم فقہی بنیاد پر ہے تقوی کی بنیاد پر نہیں کیونکہ تقوی کی بنیاد تو ہمیں حدیث نے دے دی ہے کہ جس نے اپنے آپ کو شبہات سے بچا لیا گویا اس نے اپنا دین بچا لیا۔

7.یہ سوال اس اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے کہ دورِ جدید میں غذا، دوا اور انسانی استعمال کی دیگر اشیاء کی تیاری میں حرام اور مشتبہ کیمیائی اجزاء جس کثرت سے استعمال ہونے لگے ہیں، اس کا پہلے کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ہر مسلمان کو یہ مشکل درپیش ہے کہ وہ ایسی اشیاءاستعمال کر رہا ہے، جن کے بارے میں اس کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کس نے بنائی ہیں؟ اور اس کے بنانے میں کس طرح کے اجزاء استعمال کئے گئے ہیں؟ لہذا اس بارے میں تین بنیادی باتیں سمجھنا لازم ہیں :

اول: وساوس کی تحقیق ممنوع ہے مشتبہات کی تحقیق ممنوع نہیں ہے۔

دوم : جن چیزوں میں حرمت اصل ہے، ان کی تحقیق ضروری ہے

سوم: عرف و حالات کی رعایت بھی ضروری ہے

8.اشیاء میں اباحت کی اصالت اور اسلام کے مزاج یسر و سہولت کے ساتھ ساتھ، ہمارے زمانے کے مخصوص حالات کے تناظر میں مشتبہات سے اجتناب اور سد ذریعہ کے اصولوں کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور جب ہم ان تمام اصولوں کو ایک ساتھ دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نہ تو ایسی چھان بین اور تحقیق میں پڑنا درست ہے کہ انسان اوہام و وساوس ہی کے پیچھے پڑ جائے اور نہ ایسی بے خبری صحیح ہے کہ انسان میں حلال و حرام میں تمیز کرنے کی فکر ہی نہ رہے۔ الغرض اعتدال پر مبنی درست طرزعمل یہ ہوگا کہ حرام میں پڑنے سے بچنے کیلئے ’’تحقیق کرنے‘‘ اور ’’بےخبری سے فائدہ اُٹھانے‘‘ کے درمیان کی راہ اختیار کی جائے۔ یہی ’’غفلت‘‘ اور ’’غلو‘‘سے پاک وہ ’’شاہراہ اعتدال‘‘ ہے جس میں ’’حزم و احتیاط‘‘ بھی ہے اور ’’آسانی‘‘ بھی۔

By editor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے