ننھے قارئین کیسے ہیں آپ سب امید ہے خیریت سے ہوں گےاللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے۔

پیارے بچو !جیسا کہ پچھلی دفعہ آپ نے پڑھا تھا کہ نوح علیہ السلام کی قوم نے بتوں کی پوجا شروع کردی تھی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے شرک کی وجہ سے طوفان کے ذریعے عذاب دیا ۔

طوفان کے بعد بچ جانے والے لوگ زمین کے مختلف حصوں میں پھیل گئے اور گزرتے وقت کے ساتھ ان کی نسلوں میں شرک دوبارہ سراٹھانے لگا کیونکہ شیطان تو ہمیشہ اسی کوشش میں رہتا ہے کہ کسی طرح انسان کو گمراہ کرے ۔

پیارے بچو !ہمیں ہمیشہ شیطان کے وار سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔آج ہم اللہ تعالیٰ کے بہت پیارے نبی جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیل یعنی دوست کہا ہے اور وہ تمام انبیاء کے دادا یعنی جدالانبیاء بھی ہیں اور انکا نام سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہےان کے بارے میں پڑھیں گے۔سیدناابراہیم علیہ السلام ایک ایسے معاشرے میں پیدا ہوئے جہاں پر لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے،ابراہیم علیہ السلام نے جب ہوش سنبھالا تو لوگوں کو بتوں کی عبادت کرتے دیکھا اور ابراہیم علیہ السلام کے والد جن کا نام آزر تھا وہ خود گھر میں بت بنا بنا کر بیچتے تھے تو ابراہیم علیہ السلام کو سمجھ نہیں آتا تھا کہ جو بت انسان خود اپنے ہاتھ سے بناتا ہے وہ اسے فائدہ یا نقصان کیسے دے سکتا ہے ۔

ابراہیم علیہ السلام نے بچپن سے ہی بت پرستی کی مخالفت کی ۔اللہ تعالی کی مخلوقات پر غور کرنے پر انہیں یقین ہوگیا تھا کہ پوری کائنات کو پیدا کرنے والا ہی اصل خالق حقیقی ہے جس کو کوئی شریک نہیں ہے۔

پیارے بچو !جیسا کہ ہم نے پڑھا کہ ابراہیم علیہ السلام بچپن سے ہی شرک سے دور تھے تو ہمیں بھی ہمیشہ شرک اور ایسی برائیوں سے دور رہنا چاہیے تاکہ ہم اللہ کے پسندیدہ ہوجائیں۔

ابراہیم علیہ السلام نے بچپن سے ہی حق کی تلاش کردی تھی تو وہ زمین وآسمان میں بہت غوروفکر کرتے تھے ۔

ایک رات انہوں نے تارہ دیکھ کرکہا کہ یہ میرا رب ہے۔مگر جب وہ ڈوب گیا تو انہوں نے کہا میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا یعنی رب تو کبھی ڈوبتا ہی نہیں ہے ۔

پھر انہوں نے چاند کو دمکتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ یہ میرا رب ہے مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہنے لگے :اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دے تو میں گمراہ لوگوں میں شامل ہوجاؤں پھر انہوں نے سورج کو چمکتے دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے یہ بڑا بھی ہے پس جب وہ بھی غروب ہوگیا تو انہیں یقین ہوگیا کہ یہ سب تو مخلوقات ہیں اصل خالق تو اللہ تعالیٰ ہیں اور انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم جو بھی شرک کرتے ہو میں اس سے بری ہوں میں نے تو اسے اپنا معبود مان لیا ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور میں مشرک لوگوں میں سے نہیں ہوں ۔

اس طرح جب انہیں پتہ چل گیا کہ اصلی خالق اللہ تعالیٰ ہیں تو انہوں نے اپنی قوم کو بت پرستی سے منع کرنا شروع کردیا اور ایک اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دینا شروع کردی۔

پیارے بچو!!یہاں سے ہمیں سیکھنے کو ملتا ہے کہ جب بھی آپ کو کوئی اچھی چیز سیکھنے کو ملے تو اسے آپ دوسروں کو بھی سکھائیں۔

تو جیسا کہ ہم نے پہلے پڑھا کہ ابراہیم علیہ السلام کے والد بت فروش یعنی بت بیچنے والے تھے اور ابراہیم علیہ السلام نے جب بتوں کی مخالفت کی تو ان کے والد نے انہیں گھر سے نکالنے کی دھمکی بھی دی مگر ابراہیم علیہ السلام اپنی توحید کی دعوت سے پیچھے نہ ہٹے۔

پیارے بچو یہاں سے ہمیں سیکھنے کو ملتا ہے کہ سچی بات پر ڈٹ جانا چاہیے اور کسی بھی قیمت پر اس کو چھوڑنا نہیں چاہیے ۔

یہاں ایک دلچسپ واقعہ بھی پڑھیے :

ایک دفعہ کسی جشن کا دن تھا اور پوری قوم جشن منانے شہر سے باہر جایا کرتی تھی تو ابراہیم علیہ السلام ان کے ساتھ نہیں گئے بلکہ شہر میں ہی رہے اور جب سب لوگ چلے گئےتو ابراہیم علیہ السلام نے بت خانے میں جا کر سارے بت توڑ دیے اور اپنی کلہاڑی سب سے بڑے بت کی گردن میں لٹکادی ۔جب سب لوگ جشن منا کر شہر واپس آئے اور انہوں نے دیکھا کہ کسی نے ہمارے سارے بتوں کو توڑ دیا ہے تو وہ بہت غصہ میں آگئے چونکہ سب کو پتہ تھا کہ ابراہیم علیہ السلام ہی بتوں کی مخالفت کرتے ہیں تو سب ان کے پاس پوچھنے آئے کہ ان بتوں کو کس نے توڑا ہے ؟سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا :جاکر خود ان بتوں سے پوچھ لو،انہوں نے کہا :اے ابراہیم تمہیں بھی پتہ ہے کہ یہ سنتے اور بولتے نہیں ہیں وہ تو بے جان پتھر ہیں تو ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا :جو خود کو نہیں بچا سکتے جو تمہیں سن نہیں سکتے جو تمہیں جواب نہیں دے سکتے وہ کیسے تمہیں نفع و نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

پیارے بچو اس وقت عراق کا بادشاہ نمرود نامی شخص تھا جو بہت متکبر تھا یعنی بہت غرور کرتا تھا ۔لوگ اس کے پاس شکایت لے کر گئے تاکہ وہ ابراہیم علیہ السلام کو سخت سے سخت سزا سنائے ۔آگے کیا ہوا یہ ہم اگلی بار پڑھیں گے ۔ان شاءاللہ

سوالات

ہمیں شیطان کے حملوں سے کیسے بچنا چاہیے؟

تمام انبیاء کے دادا کون ہیں؟

بت بیچنے والے کو کیا کہتے ہیں؟

سورج چاند تارے یہ سب کیا ہیں ؟

کیا ہمیں کوئی اچھی چیز کسی اور کو سکھانی چاہیے؟

By editor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے