«تصوف کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں قرن اول میں اس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا یہ عربی فکر میں عجمی پیوند کاری ہے»

ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ کا تصوف پر یہ مختصر اور جامع تبصرہ میرے پورے مضمون کا خلاصہ کہہ لیں یا تمہید کہہ لیں۔

اسلام درحقیقت قول و عمل کا مرکب ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ صدر اول میں بالکل عملی مذہب تھا تو بہتر ہوگا۔ اس کی عبادات و ہدایات میں عملی رنگ نمایاں ہے۔اس میں فلسفیانہ نظریات کا کوئی عمل دخل نہ تھا لیکن جب اس کا واسطہ عجم سے پڑا تو ایرانی فلسفہ الہیات، عیسائی رہبانیت، ہندو ویدانت اور بدھ مت کا ترک دنیا مسلمانوں پر اثر انداز ہونے لگا۔جس کا نتیجہ مسلمانوں میں رہبانیت و ترک دنیا کے رجحانات میں اضافہ کی صورت میں نکلا۔اور اس کا سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ اسلام کی عملیت مفقود ہونا شروع ہو گئی۔ اور زیادہ تر توجہ نام نہاد روحانیت پر مرکوز ہوتی گئی۔

اس کا اغاز تقریبا تیسری صدی کے آخر سے چھٹی صدی ہجری تک جاری رہا اور چھٹی صدی ہجری میں تین طبقات نمایاں ہوئےجو درج ذیل ہیں :

پہلا طبقہ:اہل تصوف و خانقاہی نظام کا ہے جنہوں نے رشد و ہدایت اور حصول معرفت کے لیے اسے واحد طریقہ قرار دیا۔شر و فساد کا مقابلہ کرنے کے بجائے اس سے راہ فرار اختیار کرنے کو فلاح وکامرانی سمجھا۔اور اس میں اصل گوشہ نشینی ہے۔

دوسرا طبقہ:اہل تصوف و خانقاہی نظام کے ردعمل میں خالص عملیت کے دعویدار جنہوں نے تصوف کا انکار کرتے کرتے اسلام کے روحانی نظام یعنی تزکیہ نفس کے بے شمار مظاہر کا بھی انکار کر دیا۔

تیسرا طبقہ :جس کا منھج قول و عمل کے ساتھ تزکیہ نفس کے اسوہ نبوی پر مبنی تھا۔ جنہوں نے ہر غلط و باطل کا انکار کیا اور صحیح کی تائید کی ۔اور یہ وہ طبقہ ہے جس نے افراط و تفریط سے بچتے ہوئے روحانیت و تزکیہ نفس کا انکار نہیں کیا بلکہ مسنون کیفیات کو اختیار کیا۔

 وہ احباب جنہیں تصوف میں دین اسلام نظر آتا ہے یا انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عطا کردہ تحفہ الہی یعنی تزکیہ نفس تصوف میں نظر آتا ہے۔ان سے بہت سارے سوالات کیے جا سکتے ہیں مثلا:

 آخر ایسی اصطلاح جس کی اصل ہی معلوم نہیں اور جس پر بے شمار استفسارات واختلافات ہیں اسے «تزکیہ» کا متبادل بنانے کی کیا ضرورت پیش آئی؟

 کیا «تزکیہ» اور اس کے مشتملات یااس کے مسنون طریقہ کار میں کسی قسم کی کمی یا عیب تھا جو تصوف کے ذریعے اسے مکمل کیا گیا؟

کسی بھی نظریہ کے حاملین کے حالات زندگی اس نظریہ کی صحت اور بطلان پر بہت بڑی دلیل ہوتے ہیں تو کیا کبار متصوفہ کے حالات زندگی کی تفاصیل اسلام کے پیش کردہ «تزکیہ» کے مطابق ہیں یا اس پر زائد کیفیات ہیں؟

اہل تصوف کی کتب میں جو عجیب و غریب واقعات اور نظریات اور عقائد ( جس میں اہل تصوف کو الوہی صفات سے متصف کیاجاتا ہے، عبادات ان سے ساقط کر دی جاتی ہیں، خلاف اسلام معمولات شب و روز شامل ہیں، کتاب و سنت کے ساتھ استھزاء شامل ہے بوقت ضرورت ایسے سینکڑوں شواھد پیش کیے جا سکتے ہیں) ان کی کیا توجیہات پیش کی جا سکتی ہیں؟

کیا تصوف کی تقسیم بھی اسلامی یا غیر اسلامی کی جا سکتی ہے؟

ان سوالات کے جوابات تو ایک مفصل تحریر کے متقاضی ہیں۔لیکن میں کوشش کروں گا کہ اختصار کے ساتھ اپنے قارئین کو اس حوالے سے کچھ بنیادی معلومات بیان کر سکوں۔

تصوف کا تاریخی پس منظر

سب سے پہلے تو اس حقیقت کو جان لیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین میں سے کسی نے بھی اپنے آپ کو صوفی نہیں کہلوایا تھا اور دور نبوی ﷺ میں کلمہ گو کے لیے مسلم و مومن دو الفاظ ہی مستعمل تھے۔

بلکہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ : لفظ صوفی پہلی تین صدیوں میں مشہور و معروف نہ تھا ۔(ابن تیمیہ ، احمد بن عبدالحلیم بن عبدالسلام ، مجموع الفتاوی، دار الوفاء، بیروت، 2008، جلد 10/ص369)

ابن خلدون کی رائے میں دوسری صدی ہجری میں اس لفظ کی ابتداء ہوئی تھی۔(عبدالرحمن بن خلدون، مقدمہ ابن خلدون، دار العلم، بیروت، 1996، جلد 1/ص467)

اور اگر اس حوالے سے مزید تحقیق کریں گے تو کم از کم یہ تو ضرور ثابت ہوجاتا ہے کہ پہلی صدی ہجری میں اس لفظ کا کوئی وجود نہ تھا۔اور جہاں تک کچھ لوگوں کے نزدیک اس کی نسبت اصحاب صفہ کی طرف ہے تو اصحابہ صفہ وہ لوگ تھے جن کے گھر بار نہ تھے تو عارضی طور پر مسجد نبوی میں ان کا قیام ہوتا تھا اور ایسے لوگ مستقل نہ تھے بلکہ جیسے ہی کسی کے گھر بار کا بندوبست ہوا تو وہ یہاں سے منتقل ہو گیا ۔ لہذا اس کا تعلق اصحابہ صفہ سے کرنا بھی درست نہیں ہے۔

تصوف کا لغوی مفہوم

لفظ تصوف کے لغوی معانی پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ حاملین تصوف خود اس لفظ کے ماخذ پر متفق نہیں ہیں بلکہ تقریبا دس سے زائد اقوال پائے جاتے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں :

«صوفہ» جاھلیت کی ایک قوم، ایک عورت نے اپنے بچہ کے زندہ رہنے پر اس کے سر پر صوفہ باندھا اس کی اولاد «صوفی» کہلائی، اس کا ماخذ «صفوۃ» ہے، اس کا ماخذ «صف» ہے، اس کا ماخذ «مصافاۃ» ہے، اس کا ماخذ «صوف» ہے، اس کا ماخذ «سوف» ہے جو بگڑ کر صوف بن گیا ۔ جس لفظ کے اصل پر ہی اتنے زیادہ اختلافات ہیں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس کی حقیقت میں سچائی کس قدر ہو سکتی ہے۔

تصوف کا اصطلاحی تعریف

مشہور صوفی جنید بغدادی لکھتے ہیں: تجھے بلا واسطہ اللہ کی معیت حاصل ہو جائے۔(ابو القاسم عبدالکریم ابن ھوازن القشیری، رسالہ قشیریہ، مترجم ڈاکٹرمحمد حسن، اسلامک پبلشرز، لاہور، ص138)

صوفی بزرگ شبلی اسے جلا دینے والی بجلی سمجھتے ہیں، ابن جلابی تصوف کو بے نام حقیقت سمجھتے ہیں ، (سید علی عثمان ہجویری، کشف المحجوب، مترجم فضل الدین گوہر، ضیاء القرآن پبلیکیشنرز ،لاہور، ص32)

سمنون مصری کہتا ہے کہ : تصوف یہ ہے کہ تو کسی کا مالک نہ بنے اور نہ کوئی چیز تمہاری مالک بنے ۔(ابو القاسم عبدالکریم ابن ھوازن القشیری، رسالہ قشیریہ، مترجم ڈاکٹرمحمد حسن، اسلامک پبلشرز، لاہور، ص139)

غزالی تصوف کی بنیاد چار چیزوں کو قرار دیتے ہیں : اجتہاد، سلوک ، سیر اور طیر (یحیی بن شرف النووی محیی الدین، روضۃ الطالبین و عمدۃ السالکین، المکتب الاسلامی ، دمشق، ص40)

الغرض میں نے کوشش کی کہ تصوف کی تعریفات کو جمع کر سکوں تو مجموعی طور پر 27 تعریفات مل سکیںاور میری کوشش تھی کہ کوئی ایسی تعریف مل جائے جس پر اکثر اہل تصوف متفق ہوں لیکن ؟

تو ایسی فکر جس کے تاریخی پس منظر، لغوی معنی اور اصطلاحی معنی میں شدید اختلاف ہو اس کا صحیح ہونا ناممکن ہے تو پھر یہ سوال کرنا تو بنتا ہے کہ

آخر اس لفظ کی فکری اصل کیا ہے اور کس طرح اس کاآغاز ہوا؟

جہاں تک مجھے سمجھ میں آیا ہے اور میرا مطالعہ مجھے بتاتا ہے دوسرے عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور نے یونانی فلاسفہ کی کتب کے تراجم کا سلسلہ شروع کیا تھا۔جو بعد میں مامون العباسی کے دور میں باقاعدہ بیت الحکمت کے نام سے ایک ادارہ بن گیا تھا جس میں مترجمین کی اکثریت غیر مسلم یعنی عیسائی یا مجوسی حضرات کی تھی اور جن کتب کا عربی میں ترجمہ کیا ان کی اکثریت کا تعلق یونانی فلسفہ سے تھا اور فلسفہ میں محض قیل و قال ہوتا ہے اور عمل سے اس کا تعلق نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ لہذا جب ان کتب کا ترجمہ عربی میں ہوا تو مسلمانوں میں ایسے عناصر کثرت سے موجود تھے جو نو مسلم تھے اور جن کی ایمان و اسلام پر تربیت نہ ہو سکی تھی۔ انہوں نے اس لفاظی کو اختیار کر لیا کیونکہ بہرحال انسان کی فطرت میں تساھل پسندی کا عنصر موجود ہے ۔ اس کے علاوہ یونانی فلاسفہ کے ان باطل اور لایعنی افکار کو مجوسی و یہودی عناصر نے بھی اپنا ہتھیار بنا لیا میدان جنگ میں جو مسلمانوں سے نہیں جیت سکے تھے تو انہوں نے پروپیگنڈا ازم سے مسلمانوں کی فکر کو متاثر کرنا شروع کر دیا ۔اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ قرون مفضلہ میں عقائد کی جتنی کتب لکھی گئی ہیں ان کا ایک معروضی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں یونانی فلاسفہ کے یہ مباحث نہ ہونے کے برابر ملتے ہیں جبکہ چوتھی صدی ہجری سے چھٹی صدی ہجری تک ان افکار کو اتنی شدت سے پھیلایا گیا ہے کہ اس دور کے اسلاف رحمہم اللہ کی اکثر کتب میں ان لا یعنی اور باطل افکار کے ردود پرمبنی مباحث ملتے ہیں جس کی ایک واضح مثال شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ و شیخ الاسلام ابن القیم رحمہ اللہ کی کتب ہیں ۔اور اس پر ایک بہت واضح دلیل عقیدہ توحید اسماء و صفات ہے کہ فتنہ اعتزال، اشعریت، ماتریدیت، جبریت، قدریت، رافضیت، جہمیت، سب کی تاریخی اٹھان انہی یونانی فلاسفہ کی کتب ہی ہیں ۔

المختصر جب یہ دیکھا گیا کہ مسلمانوں کو میدان جنگ میں شکست سے دوچار نہیں کیا جا سکتا اور ان کی خود ساختہ نام نہاد مذہبی اصطلاحات سے مطلوبہ اھداف حاصل نہیں ہو رہے تو انہوں نے پھر ان اصطلاحات کو کتاب و سنت کی اصطلاحات کے ساتھ بطور مترادفات استعمال کرنا شروع کر دیا اور حسب ضرورت کتاب و سنت کی نصوص سے استشھاد بھی کرنا شروع کر دیا نتیجہ سادہ لوح مسلمان اس سے متاثر ہونا شروع ہو گئے اور پھر جو تباہی پھیلنا شروع ہوئی الحفیظ و الاما ن اس کا سدباب کرنا مشکل ہو گیا تھا۔

اللہ تعالی ہمارے محدثین کو جزائے خیر عطا کرے کہ انہوں نے اس مرحلہ پر چومکھی جنگ لڑی ۔ ارتداد، الحاد، انکار حدیث ، اعتزال ، شکوک و شبہات، وغیرہ جیسے بے شمار موضوعات کو اپنی کتب احادیث میں اس طرح بیان کیا کہ صرف رسول اللہ ﷺ کے فرامین کو درج کیا تاکہ یہ منھج دیا جا سکے کہ بنیاد صرف کتاب و سنت ہے اور کچھ نہیں ۔ سید المحدثین و الفقہاء ہمارے سروں کے تاج سید نا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے جو سلسلہ شروع ہوا تو اس سنہری کڑی کا ایک نمایاں نام امام بخاری رحمہ اللہ کا تھا تاریخ حدیث میں یہ دو نام ہی حدیث کے ہر فتنہ کا سدباب کرنے کے لیے کافی ہیں اور تمام تر فکری الحاد کا مقابلہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا اکیلا نام ہی کافی ہے۔

اس فکر ی یلغار کا ایک نقصان ضرور ہوا کہ مسلمانوں سے گھوڑوں کی ننگی پیٹھ چھین لی گئی اور حجروں میں بٹھا دیا گیا تلوار چھین لی گئی تسبیحات ہاتھ میں تھما دی گئی ، عمل کو ترک کروا کے وظائف اور چلے عین دین بنا دیے گئے ۔ حالانکہ سمجھنے کی ضرورت تھی کہ « دعا کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عمل ترک کر دیا جائے»۔

 اس کی ایک واضح مثال رسول اللہ ﷺ کا غزوہ بدر کے لیے تقریبا پونے دو سو کلو میٹر سفر کر کے بدر پہنچنا اور پھر وہاں جا کر دعا مانگنا ہے ۔ اگر صرف وظائف اور چلے ہی کافی ہوتے جیسا کہ موجود ہ دور کے اہل تصوف اپنے مریدین کو بتاتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ کو میدان بدر جانے کی ضرورت ہی نہ تھی مسجد نبوی میں ہی دعا کرتے کفار ختم ہو جاتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ لہذا رسول اللہ ﷺ نے دعا کا صحیح تصور دیا جو عمل صالح کے ساتھ ہے ۔

تصوف پر ہمارا لٹریچر کیا پیش کرتا ہے

معروف قلمکار خواجہ محمد اکرام نے برصغیر پاک و ہند کی معاشرتی ، سیاسی، مذہبی تاریخ پر مشتمل تین کتابیں لکھی ہیں ان میں سے ایک «موج کوثر» میں لکھتے ہیں کہ:

« اولیاء کا کوئی تذکرہ اُٹھا کر دیکھیے صفحوں کے صفحے ان واقعات سے پُر ہیں۔ جن سے وَلی کی «شان جلالی» دکھائی جاتی ہے۔ اس کے مُنہ سے «بَخ» نکلتا ہے اور نصف بغداد ہلاکو کی تلوار کا شکار ہو جاتا ہے اگر کوئی شخص غَفلت یا بے سمجھی سے اس کا پورا احترام نہیں کرتا تو فوراً غضبِ الٰہی نازل ہوتا ہے۔ اِسلام نے تو غَیر اللہ کا سارا خوف دل سے نکال دیا تھا لیکن اب اللہ کا اتنا خوف نہیں رہا جتنا خشمگین فقیر کی بد دُعا کا۔ اللہ کے احکام کی تو صریح خلاف ورزی ہو رہی ہے اور وہ ذاتِ باری تعالیٰ خاموش ہے۔ فقیر کی ذرا بھی بے ادبی ہوئی اور بلاؤں کا طوفان نازل ہوا اسی سے قوموں کی قسمت بدلتی ہے اور اسی سے سلطنتوں کے تختے پلٹے جاتے ہیں۔ ایک مشہور بزُرگ کے مُتعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے فقط اتنی بات پر خفا ہوکر کہ نمازیوں کی صفِ اوّل میں انہیں جگہ نہ دی گئی بَد دُعا کی ۔ فوراً مسجد گر پڑی ۔ تمام نمازی دَب کر مر گئے اور شہر ویران ہو گیا۔ ایک اور بزُرگ کے مُتعلق مشہور ہے کہ جب ملتان کے ایک نانبائی نے انہیں گوشت کی بوٹی بھُون کر دینے سے انکار کیا تو اُنھوں نے اپنا ہاتھ اُٹھایا اور سُورج سوا نیزے پر آ گیا۔ شہر کے سب بوڑھے بچے اور عورتیں، گنہگار اور بے گناہ جل کر کباب ہو گئے لیکن انہوں نے تو اپنی بوٹی بھون لی۔ بہت سے لوگ کہیں گے کہ یہ باتیں ایشیائی قصّہ نویسی کی مثالیں ہیں۔ واقعات نہیں لیکن ہم پوچھتے ہیں کہ اگر یہ باتیں سچ ہیں(اور ہم نے نہایت مشہور بزرگوں کے حالات سے چُنا ہے) تو ان بزرگوں کے اخلاق اور رسول کریمﷺ کو دُنیا کی تکلیفیں دی گئیں۔ چُن چُن کر اذّیتیں پہنچائی گئیں لیکن ان کی «شان جلالی» کا ظہور نہ ہوا۔ طائف کے بد بختوں نے انہیں پتھر مار مار کر زخمی کیا اور ٹھٹھے اور تمسخر کے ساتھ شہر بدر کیا لیکن ان کے مُنہ سے بد دُعا کا کلمہ نہ نکلا۔ کوئی صحابی دشمنوں کے ظلم و ستم سے عاجز آ کر د دعا کے لئے کہتا تو ارشاد ہوتا کہ مجھے دنیا میں رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے بد دعاوں اور لعنتوں کے لئے نہیں۔(خواجہ محمد اکرام، موج ِ کوثر، ادارہ ثقافت اسلامیہ ، لاہور ، 2004، ص 316)

یہ صرف بطور مثال میں نے ایک کتاب سے ایک پیراگراف نقل کیا ہے اور واضح رہے کہ خواجہ محمد اکرام خود تصوف کے قائلین میں سے تھے لیکن تصوف کے نام پر گمراہیوں کو اس حد تک پہنچا دیا گیا ہے کہ ان جیسے محققین بھی لکھنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جب تسلسل سے ایسے واقعات اور لایعنی اور باطل افکار سامنے آنے لگے تو پھر بعض ایسے مصلحین سامنے آئے جنہوں نے اسلامی تصوف اور غیر اسلامی تصوف کی اصطلاح گھڑی تاکہ کسی نہ کسی اعتبار سے تصوف کو قابل قبول بنایا جا سکے۔ جیسا کہ پروفیسر یوسف سلیم چشتی نے اپنی کتاب «تاریخ تصوف» میں اسلامی تصوف کی اصطلاح کو کثرت سے استعمال کیا۔بلکہ چینی تصوف، ہندی تصوف، یونانی تصوف، یہودی تصوف ، عیسائی تصوف بھی متعارف کروا دیے ۔

تعلیمات تصوف و مشتملات تصوف سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ تصوف کو ایک متوازی مذہب باور کروایا جائے یا تصوف کو قابل قبول متصور کروایا جائے۔یہی وجہ ہے مشہور صوفی بزرگ علی ہجویری نے اپنی کتاب «کشف المحجوب» میں تصوف کے بعض گمراہ فرقوں کا شدید رد کیا اور ان کا بطلان واضح کیا بلکہ جنید بغدادی کا تو ایک قول بہت مشہور ہے «جو قرآن مجید حفظ نہ کرے اور سنت کا علم حاصل نہ کرے وہ صوفی نہیں بن سکتا»۔(ابو طالب المکی، قوت القلوب، مکتبہ المدینہ ، 2013، کراچی، جلد 2 ص 35)

یہی وجہ تھی کہ یوسف سلیم چشتی صاحب نے ہندی اور یونانی تصوف کو تقابلی مطالعہ کے لیے منتخب کیا۔ تاکہ تصوف کو مشرف بہ اسلام کیا جا سکے۔یہ ایسی ہی تحریک ہے جیسی کہ اصلاح شیعہ نامی کتاب کے ذریعے ہمارے سامنے آتی ہے۔

یوسف سلیم چشتی صاحب کی اس کتاب کے مختلف طبقات پر کیا اثرات مرتب ہوئے اس کا اندازہ اس حوالے سے لگایا جا سکتا ہے ۔اس کتاب کا ایک غیرمطبوعہ باب «تصوفِ اسلامی میں غیراسلامی نظریات کی آمیزش» کی شکل میں موجود ہے جس پر مولانا امین احسن اصلاحی تبصرہ کرتے ہیں :

«اربابِ تصوف کی چیزیں پڑھتے ہوئے مجھے ہمیشہ انکی کتاب و سنت سے ہٹی ہوئی باتوں سے وحشت ہوتی تھی. میں ان چیزوں کو خود تصوف کی خرابی پر محمول کرتا تھا، لیکن پروفیسر صاحب کے اِس مقالہ سے مجھ پر پہلی مرتبہ یہ بات بدلائل واضح ہوئی کہ ہمارے تصوف میں بھی انہی چور دروازوں سے بہت سے فتنے داخل ہوئے ہیں جن سے تاریخ، حدیث، فقہ، تفسیر، ادب اور فلسفہ میں داخل ہوئے ہیں.. اس حقیقت کے واضح ہونے سے نفس تصوف سے میری بیزاری کم ہوئی ہے.. اب میں زیادہ قصور اُن لوگوں کا سمجھتا ہوں جو اپنی سادگی اور عامیانہ تقلید کے سبب سے روافض اور سبائیوں کی دسیسہ کاریوں سے آگاہ نہ ہو سکے اور تصوف کے چشمہ صافی کو انہوں نے ایک جوہڑ بنا کے رکھ دیا»

میرا خیال ہے اب بات واضح ہو گئی ہو گی کہ اسلامی تصوف اور غیر اسلامی تصوف کی تقسیم کا اصل ھدف کیا تھا۔مزید اصلاح تصوف کے فوائد اگرجاننا چاہتے ہیں تو امین احسن اصلاحی صاحب لکھتے ہیں :

«قرآن کی رو سے اللہ کے علاوہ کوئی شخص دستگیر یا مشکل کشا یا حاجت روا یا کارساز نہیں ہے.. چونکہ قرامطہ براہِ راست مسلمانوں کو شرک کی تعلیم نہیں دے سکتے تھے، اسلئے انہوں نے صوفیوں کا روپ دھارا اور اپنے ظاہری تقدس، وضع قطع، لباس، گفتگو اور طرزِ عمل سے مسلمانوں کو دھوکا دیا اور یہ مشرکانہ تعلیم بآسانی انکی محبوب شخصیت کے نام کے پردے میں انکے دماغوں میں جاگزیں کردی.. داد طلب امر یہ ہے کہ یہ کام ایسی عمدگی سے انجام دیا کہ عوام دھوکہ کھا گئے اور مرورِ ایام سے یہ روایات مسلمان صوفیوں کے صوفیانہ لٹریچر کا جزوِ لاینفک بن گئیں اور اب ان روایات کو صوفیانہ لٹریچر سے خارج کرنا ایسا ہی مشکل ہے جیسا گوشت کو ناخن سے جدا کرنا»

اسی طرح ایک اور مقام پر لکھا کہ:

«قرامطہ نے فصوص الحکم، فتوحاتِ مکیہ، مثنوی روم، احیاءالعلوم اور دوسری مشہور کتابوں میں اپنی طرف سے عبارتیں اور اشعار داخل کر دئیے، بلکہ بہت سی کتابیں خود لکھ کر بعض بزرگوں سے منسوب کردیں»۔

واضح رہے کہ یہ اقتباسات اس شخص کے ہیں جو کسی نہ کسی اعتبار سے تصوف کے قائلین میں سے ہے ۔وگرنہ اس حوالے سے بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔

ہر صوفی عاشق ہوتا ہے

یہاں یہ بات بھی بیان کرنا مناسب ہو گی کہ ہر صوفی عاشق ہوتا ہے ۔ جس سے متاثر ہو کر عشق رسول کی اصطلاح بھی وضع کر لی گئی۔

محبت کے اظہار کے لیے ایک اورلفظ استعمال ہوتا ہے عشق جس کے اندر شہوت کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔اسی لیے اس کا استعمال ہم اپنی ماں،بہنوں اوربیٹیوں کے لیے نہیں کرتے۔قرآن اورحدیث میں کہیں بھی اللہ اوراس کے رسول ﷺکے لیے عشق کے لفظ کا استعمال نہیں ہوا۔

 لیکن اہل تصوف کے نزدیک یہ تصور موجود ہے کہ عشق مجازی، عشق حقیقی کی سیڑھی ہے۔ عشق مجازی سے مراد وہ عشق ہے جو انسان کو کسی دوسرے انسان سے ہو جاتا ہے اور عشق حقیقی سے مراد وہ عشق ہے جو انسان کو اللہ تعالی سے ہوتا ہے۔ عام طور پر عشق مجازی صنف مخالف سے ہوتا ہے مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی جنس کے دو افراد کے مابین ایسا عشق ہو جائے۔ اپنے پیرومرشد سے یا پیرو مرشد کو اپنے کسی مرید سے کیونکہ صوفی خانقاہوں میں ہر طبقے اور ہر عمر کے لوگ آتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بڑی عمر کا کوئی شخص کسی کم عمر خوبصورت لڑکے پر عاشق ہو جاتا ہے۔

بعض صوفی بزرگوں کے بارے میں یہ منقول ہے کہ وہ کسی خاتون یا لڑکے کے عشق میں گرفتار ہو گئے اور اس کے نتیجے میں انہوں نے زبردست قسم کی شاعری کی کتب لکھ ڈالی۔ بعض صوفی بزرگوں سے عشق مجازی کی تعریف میں اشعار بھی منقول ہیں-جیسے جامی کا شعر ہے:

متاب از عشق رد گرچہ مجازیست۔۔ کہ آن بہر حقیقت کارساز یست۔

 یعنی عشق سے اعراض نہ کرو چاہے مجازی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ وہ عشق حقیقی کے لیے سبب ہے۔

کوئی کہتا ہے عشق دنیا سے کنارہ کشی کا نام ہے تو کوئی دنیا سے عشق کو صحیح سمجھتا ہے- کوئی کہتا ہے عشق میں وصل ہو نہیں سکتا تو کوئی جسمانی یا جنسی ملاپ کو عشق سمجھ لیتا ہے- کوئی عشق میں آنکھ سرخ بال بڑھائے نمائش کرتا ہے-کوئی طبلہ و سارنگی بجا کر عشق کرتا ہے تو کوئی ڈھول چمٹے پر دھمال(رقص) ڈال کر عشق کا اظہارٰ کرتا ہے-

کسی سے اپنی عقیدت کو ظاہر کرنے کےلیے ہمارے ہاں زیادہ تر لفظ «عشق» استعمال کیا جاتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ لفظ ہماری «محبت» اور عقیدت کو بالکل صحیح انداز سے واضح کردیتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عشق اور محبت وعقیدت میں بہت فرق ہے۔

یعنی تصوف کی طرح اس کی خاص اصطلاحات اور مشتملات بھی کتاب و سنت سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ان کا مالہ و ماعلیہ کلیتًاکتاب و سنت سے الگ ہے۔

تصوف کا ارتقائی جائزہ

اگر تصوف کی ارتقائی کیفیت کا جائزہ لیا جائے تو بہت سارے حقائق واضح ہو جائیں گے۔

پہلا دور:جو چوتھی صدی ہجری تک رہا

جیسا کہ سطور سابقہ میں یہ بیان کیا جا چکا ہے کہ قرون مفضلہ(200 ہجری تک) میں تصوف باقاعدہ ایک نظریہ کے طور پر نہیں پایا جاتا ۔لہذا اس دور کے جو بعض صلحاء امت تصوف کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ ان کا ذوق و شوق زھد و تقوی و کثرت عبادت کی طرف زیادہ تھا جس میں معروف نام حسن بصری رحمہ اللہ ، مالک بن دینار رحمہ اللہ سفیان ثوری رحمہ اللہ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ وغیرھم شامل ہیں چونکہ ان کے عقائد و افعال کتاب و سنت کے مطابق تھے اور انہوں نے زھد و تقوی کو اختیار کرنے کے باوجود دین کے کسی دوسرے شعبہ کو ترک نہیں کیا تھا لہذا اس دور کا ابتدائی حصہ کے صلحاء کو اگر تصوف سے نہ ہی منسوب کیا جائے تو بہتر ہو گا۔ جب کہ قرون مفضلہ کے بعد جیسا جیسا یونانی فلاسفہ کی کتب کی تعریب نے عقل پرستی اور تشکیک کو جس طرح بڑھاوا دیا اس کے بعد ایسے لوگ جو زھد و تقوی کا ذوق و شوق رکھتے تھے وہ افراط و تفریط سے اپنا دامن نہ بچا سکے ۔اور اس کے بعد وحدت الوجود اور نظریہ حلول نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔بایزید بسطامی اور منصور جیسے صوفیاء کے کفریہ نظریات اس کی واضح مثال ہیں۔ان صوفیاء میں معروف نام درج ذیل ہیں : معروف کرخی، ذوالنون مصری، سری سقطی، بایزید بسطامی، سہل تستری، حسین بن منصور حلاج، ابو بکر شبلی، ابو نصر سراج اور کلابازی اور ابو طالب مکی جیسے اس فہرست میں شامل ہیں ۔ اور ان سب کی تالیفات و تصنیفات انتہائی لا یعنی اور باطل افکار ہی نظر آتے ہیں۔ اور اگر غور کیا جائے تو آج بھی عالم تصوف کے لیے اس دور کی بعض کتب اور نظریات قوت لایموت ہیں ۔بعد کے ادوار میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس کی بنیاد اسی دور کی تالیفات و تصنیفات ہیں۔

ودسرا دور:تقریبا آٹھویں صدی ہجری تک رہا

یہ دور اس اعتبار سے عالم تصوف کے لیے اہم رہا کہ اس میں تصوف باقاعدہ ایک متوازی نظریہ حیات یا مذہب کے طور پر سامنے آتا ہے اور اس کی ایک بہت بڑی دلیل نام نہاد بلکہ غیر اسلامی روحانیت کی ترویج و تربیت کے لیے باقاعدہ خانقاہیں قائم کی گئی۔جو علاقائی اور مقامی حکمرانوں کی سرپرستی میں تھی۔اور یہ وہ دور تھا جس میں صوفیاء نے صرف ان خانقاہوں پر ترکیز کرنا شروع کر دی اور ابتدائی ادوار کے اہل تصوف میں جو دینی علوم کے حصول کا رجحان تھا وہ ختم ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔اوراسی دور میں علوم تصوف میں غلو کی حد تک باطل افکار شامل ہونا شروع ہو گئےاور بقول پروفیسر یوسف سلیم چشتی صاحب کے قرامطہ نے اپنے مذموم مقاصد کی تبلیغ کےلیے تصوف کو آلہ کار بنایا۔(یوسف سلیم چشتی، اسلامی تصوف میں غیر اسلامی عناصر کی آمیزش، انجمن خدام القرآن ، لاہور، 1976 ص 49)

بلکہ اس دور میں شیعیت اور تصوف کے نظریات میں بہت زیادہ مشابہت پائی جانے لگی شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ دونوں کا منبع و ماخذ ابتدائی ایک تھا۔معروف صوفی ابن عربی نے ارسطو اور افلاطون کے نظریات کو اپنی کتابوں «فصوص الحکم» اور «فتوحات مکیہ» میں جس طرح پیش کیا وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ یہ دور اس اعتبار سے بھی نمایاں ہے کہ اس دور میں علوم تصوف کی اصطلاحات کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے جس کے بعد غیر مسنون اذکار بکثرت سے شامل ہوئے۔اور موسیقی، رقص اور مجذوب جیسے حرام امور کو تقدس کے روپ میں پیش کیا گیا۔اس دور میں اہم و معروف اہل تصوف درج ذیل ہیں : ابو نعیم اصفہانی، ابو الحسن علی الھجویری، غزالی، سہروردی، فرید الدین عطار، شہاب الدین سہروردی، ،معین الدین اجمیری، خواجہ بختیار کاکی ، ابن عربی فرید الدین گنج شکر ، اور جلال الدین رومی وغیر ھم شامل ہیں۔

تیسرا دور:جو تاحال جاری ہے

یہ دور جو کم و بیش نویں صدی ہجری سے شروع ہوا اس میں آلات موسیقی کے ساتھ گانے بجانے اور رقص کو مذہبی تقدس حاصل ہو گیا اور اپنے مرشد کی اندھی تقلید کو ہی دین سمجھ لیا گیا اور بعض کتب میں مرشد سے محبت کو اللہ کی محبت باور کروایا گیا یا بغیر مرشد کی محبت کے اللہ کی محبت ممکن نہیں ہے۔مقابر اور مزار شرکیات کا گڑھ بننا شروع ہو گئے تھے۔مساجد غیر آباد اور خانقاہیں آباد ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ تعویذ گنڈے کو بہت زیادہ رواج مل گیاالغرض تصوف بے معنی رسوم و رواج اور خلاف شرعی اعمال کا مجموعہ بن گیا تھا۔

سب سے بڑا نقصان مسجد کی مرکزیت و محوریت کو ہواکیونکہ اس کے بالمقابل خانقاہ کو وہی اہمیت حاصل ہوتی جا رہی تھی۔ مسجد جو کہ کسی بھی اسلامی معاشرے کی سماجی حرکات کا مرکز یعنی کمیونٹی سینٹر ہوتا تھا ۔ ایک ایک کر کے اس سے وابستہ معاشرتی و سماجی کام ختم ہوتے گئے یہاں تک کہ خانقاہ نے اس کا مرکز عبادت ہونا بھی چھین لیا تھا ۔ خانقاہیں صرف روحانی بالیدگی کا مراکز نہ تھی بلکہ عبادت کی جگہ بن چکی تھیں۔کیونکہ اس کے ذریعے مساجد کے متوازی ایک عبادت گاہ کا تاثر ابھرا ۔ مشہور مورخ علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ اپنی کتاب «التصوف المنشاء والمصادر» میں ایک جگہ لکھتے ہیں :

اور جہاں تک عبادت، ذکر اور ورد کے لیے مخصوص جگہیں بنانے کا تعلق ہے تو وہ صرف مسجدوں کی اہمیت کم کرنے اور لوگوں کو ان سے پھیرنے اور ان خانقاہوں اور تکیوں کو ان مساجد کا مقام و مرتبہ دینے کے مترادف ہے ۔(احسان الہی ظہیر، التصوف المنشاء والمصادر ، ادارہ ترجمان السنہ ، لاہور، 1986، ص87)

بلکہ اسی کتاب میں ایک اور جگہ لکھتے ہیں :

مسلمانوں کا یہ عمل عیسائی رہبانیت سے ماخوذ ہے جنہوں نے گرجا گھروں کو ترک دنیا کاسبب بنایا اور مسلمانوں نے خانقاہوں کو یہ مقام دے دیا۔(احسان الہی ظہیر، التصوف المنشاء والمصادر ، ادارہ ترجمان السنہ ، لاہور، 1986، ص85)

کیونکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ تربیت و روحانیت کے منازل طے کرنے کا جو کام خانقاہوں میں شروع ہوا تھا برصغیر پاک و ہند میں وہی کام مزارات اور درگاہوں میں شروع ہوتا گیا یہاں تک کہ مساجد غیر آباد اور درگاہیں و مزارات ہمہ وقت آباد ملتے ہیں۔ کیونکہ عوام کی ایک بہت بڑی تعداد نے رزق میں اضافے، نوکری کا حصول، اولاد کی طلب، الغرض اپنی دنیاوی حاجات کے حصول کے لیے مساجد میں پنج وقتہ نماز کے بعد اللہ سے مانگنے کے بجائے ان اہل مزار اور اہل درگاہ سے مانگنا شروع کر دیا۔

اس دور میں عقیدہ وحدت الوجود کا رد عقیدہ وحدت الشہود سے کرنے کی کوشش کی گئی اور اس میں معروف نام برصغیر کی حد تک شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کا ہے جنہوں نے وحدت الوجود او ر وحدت الشہود دونوں نظریات کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔بلکہ حیران کن امر تو یہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے بڑے بڑے نام ابن عربی کے باطل نظریات کا دفاع کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔اس دور کے معروف نام محمد گیسو دراز، شیخ احمد سرہندی، میاں میر لاہوری، عبداللطیف بھٹائی، شاہ ولی اللہ ، شاہ عبدالقادر، مہر علی شاہ ، اشرف علی تھانوی وغیرھم شامل ہیں گو کہ مذکورہ بالا ناموں میں ایک امتیازی کیفیت یہ ضروری ملتی ہے کہ علوم دینیہ کی تقریبا وہی کیفیت ملتی ہے جو ابتدائی ادوار کے زھاد و متقین میں ملتی تھی۔

واضح رہے کہ یہ زمانی تقسیم محض اندازہ کی بنیاد پر ہے یعنی کوئی حتمی و قطعی نہیں ہے ۔

سلاسل تصوف

تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف اشخاص کی طرف منسوب کچھ سلاسل تصوف کا آغاز ہوا جن کی تعداد کم و بیش بارہ کے قریب ہے اور بعد میں وہ بارہ صرف چار میں مرتکز ہو گئے جو درج ذیل ہیں: چشتیہ، قادریہ، سہروردیہ، نقشبندیہ۔

ہر سلسلے کے مخصوص مسالک(قواعد و ضوابط) ہیں اور مخصوص اشخاص ہیں اور سلسلہ در سلسلہ ہر صوفی اپنی جگہ خلیفہ کہلاتا ہے اور وہ خصوصی اجازت دیتا ہے اور اپنے شاگردوں کو مختلف علاقوں کی طرف بھیجتا ہے ۔

تصوف کے عقیدہ توحید پر اثرات

اسلام میں بنیاد «عقیدہ توحید» ہے جبکہ تصوف میں بھی توحید ہی ہے لیکن توحید کا مفہوم دونوں جگہ الگ الگ ہے۔اہل سنت و جماعت کے نزدیک توحید کا مطلب ان چھ باتوں کا قولی و عملی و تصدیقی اقرار ہے:

اللہ تعالی وحدہ لا شریک کائنات کا خالق ہے، اللہ تعالی وحدہ لا شریک کائنات کا رازق ہے، اللہ تعالی وحدہ لا شریک کائنات کا مالک ہے، اللہ تعالی وحدہ لا شریک کائنات کا نظام چلانے والا ہے(ان چار کو توحیدربوبیت کہا جاتا ہے)۔

اللہ تعالی وحدہ لا شریک عبادت کے لائق ہے(اسے توحید الوہیت کہا جاتا ہے)

 اللہ تعالی وحدہ لا شریک کے خوبصورت نام اور صفات ہیں (اسے توحید اسماء و صفات کہا جاتا ہے)

اہل سنت کے توحید کے مصادر کتاب و سنت ہیں اور تائید و تقویت کے لیے اجماع، عقل سلیم اور فطرت دلائل میں شامل کیے جاتے ہیں۔

جبکہ اس کے برخلاف اہل تصوف کے نزدیک توحید کی تین اقسام ہیں: توحید عامہ، توحید اہل حقائق، توحید خاص۔(ابو نصر سراج، کتا ب اللمع فی التصوف ، تصوف فاونڈیشن، لاہور، 2000، ص50) ((ابو القاسم عبدالکریم ابن ھوازن القشیری، رسالہ قشیریہ، مترجم ڈاکٹرمحمد حسن، اسلامک پبلشرز، لاہور،ص148۔سید علی عثمان ہجویری، کشف المحجوب، مترجم فضل الدین گوہر، ضیاء القرآن پبلیکیشنرز ،لاہور، ص245و255)

واضح رہے کہ اہل باطل نے بھی اپنے عقائد کو بیان کرنے کے لیے کتاب و سنت سے ماخوذ اہل سنت و جماعت کی اصطلاحات کو استعمال کیا تاکہ عام مسلمانوں کو دھوکہ دیا جا سکے۔

مزید اہل تصوف نے کلمہ توحید « لاالہ الا اللہ» کا مفہوم یہ بیان کیا کہ اس کے سوا کوئی معبود ہے نہ مقصود اور نہ ہی موجود ہے۔ اسی مفہوم سے گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ معبود اور مقصود کے الفاظ حذف کر دیے اور لا الہ الا اللہ کا ترجمہ لا موجود الا اللہ سے کیا جانے لگا اور یہی عقیدہ وحدت الوجود ہے۔(شاہ عبدالعزیز الدھلوی، فتاوی عزیزی ، ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی، ص46)

یہاں یہ بات سمجھنے والی ہے کہ بسا اوقات الفاظ کے ہیر پھیر سے اہل تصوف اپنا باطل عقیدہ وحدت الوجود بیان کرتے ہیں لہذا بہت زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے مثلا یہ کہتے ہیں کہ:

«اللہ کے سوا کوئی چیز نہیں « اور اس کی دلیل بیان کی جاتی ہے کہ اللہ تعالی کےسوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے ۔ دعوی اور دلیل میں واضح اور بین فرق ہے دعوی اس امر کا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی وجود کائنات میں نہیں یعنی ہر وجود میں اللہ تعالی ہے اور دلیل کا مفہوم تو یہ ہے کہ کائنات میں ہر چیز فنا ہونے والی ہے اس کے وجود کا انکار نہیں کیا گیا۔ابن عربی نے یہی عقیدہ «فصوص الحکم» اور «فتوحات مکیہ» میں بیان کیا کہ «وجود حقیقی دراصل ایک ہے» اور اسی وجہ سے اہل تصوف کی اکثریت اسے ہی توحید سمجھتی ہے یعنی وہ توحید کا معنی وجود کی وحدت کو سمجھتے ہیں کہ وجود حقیقی صرف ایک ہے جو تمام موجودات میں ان کا عین وجود بن کر سرایت کیے ہوئے ہےاور موجودات عالم کی حیثیت صرف حجاب کی ہے۔اس کی مثالیں ابن عربی نے یہ بیان کی کہ :

اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے کو بڑی قربانی کے عوض چھڑا لیاہے اس مینڈھے کی صور ت میں وہی اللہ تو ظاہر ہوا وہی انسان ابراہیم کی صورت میں تھا اور وہی اسماعیل کی صورت میں تھا۔ (محی الدین محمد ابن العربی الحاتمی الطائی الاندلسی ،فصوص الحکم، مترجم محمد برکت اللہ، کاشانہ علم و ادب ، کراچی، ص81)

مشہور صوفی عبدالکریم جیلی کا یہ شعر اسی خرافاتی کفریہ مفہوم کو بیان کر رہا ہے

گر نبو دے ذات حق اندر موجود

آب و گل را کے ملک کر دے سجود

ترجمہ: اگر ذات حق آدم میں موجود نہ ہوتی تو آب و گل کو فرشتے سجدہ کیوں کرتے ۔(شیخ عبدالرحمٰن چشتی ، مراۃ الاسرار، ادبی دنیا ، دھلی ص45)

مشہور صوفی بایزید بسطامی لکھتا ہے : میں نے بہت سے مقامات کا مشاہدہ کیا لیکن جب غور سے دیکھا تو خود کو اللہ کے مقام میں پایا۔(شیخ فرید الدین عطار ،تذکرہ الااولیاء، الفاروق بک فاؤنڈیشن، لاہور، 1997، ص102)

مشہور صوفی ابو بکر شبلی لکھتا ہے : قُم بِإِذنِی، میرے حکم سے اٹھ کھڑا ہو اور  قُم بِإِذنِ اللهِیعنی اللہ کے حکم سے اٹھ کھڑا ہو باعتبار مفہوم ایک ہو گئے۔(شیخ فرید الدین عطار ،تذکرہ الااولیاء، الفاروق بک فاؤنڈیشن، لاہور، 1997،ص320)

برصغیر پاک و ہند کا مشہور صوفی شاعر بلھے شاہ کے بے شمار اشعار ایسی ہی کفریہ خرافات سے بھرے ہوئے ہیں۔ایک شعر ہی کافی ہو گا :

احد احمد وچ فرق نہ بلھیا

اک رتی بھیت مروڑی دا

(کلیات بلھے شاہ ، غالب اکیڈمی، دہلی ، 1960، ص740)

بلھے شاہ احد (اللہ) اور احمد (محمد) میں کوئی فرق نہیں ہے ان میں فرق بظاہر حرف میم کی مروڑی کا ہے ورنہ اللہ اور محمد میں کوئی فرق نہیں ہے۔

بہرحال یہ موضوع تفصیل کا متقاضی ہے کہ اہل تصوف کے عقائد اسلام پر کیا کیا اثرات مرتب ہوئے اور صرف عقیدہ توحید ہی نہیں بلکہ عقیدہ رسالت و آخرت بھی متاثر ہوئے ۔ بلکہ اپنے خلفاء کو صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین کے مقام و مرتبہ کے برابر قرار دیا۔

اسی طرح اس موضوع پر ان شاء اللہ پھر تفصیل سے لکھوں گا اور اسی طرح عقائد اہل تصوف کے ماخذ پر بھی تفصیل سے لکھوں گا۔

اصطلاح اولیاء

لفظ اولیاء ولی کی جمع ہے اور اس لفظ کی غلط تقسیم و تصریح نے بہت گمراہی پھیلائی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اس لفظ کو ایک مخصوص طبقے کے ساتھ خاص کر دیا گیا ہے جیسے ہی لفظ سننے میں آتا ہے تو مخصوص نام ذہن میں آ جاتے ہیں۔جو اہل ایمان سے بالکل الگ تھلگ ہیں جیسا کہ بایزید بسطامی، جنید بغدادی، عبدالقادر جیلانی، معین الدین چشتی، فرید الدین عطار، نظام الدین اولیاء ، علی ہجویری وغیرھم جیسے ذہن میں آ جاتے ہیں۔اور حیران کن امر ہے کہ «اولیاء اللہ « کے حوالے سے عشرہ مبشرہ رضوان اللہ علہیم اجمعین یا آئمہ اربعہ (امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد رحمہم اللہ ) کو اولیاء اللہ کے زمرے میں نہیں گردانا جاتا جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام اولیاء کرام کی سب سے مقدم صف میں شامل ہیں ۔ اور ہر صاحب عقیدہ اللہ کا ولی ہے۔اور مزید کمال ہمارے میڈیا(پرنٹ، الیکٹرانک، سوشل) نے کیا ہوا ہے کہ ان نام نہاد اولیاء کے بدعتی اجتماعات عرس کی تاریخیں سب کو یاد رہتی ہیں خصوصی پروگرامز نشر کیے جاتے ہیں اور خصوصی ضمیمہ شائع کیے جاتے ہیں۔محدثین، آئمہ کرام رحمہم اللہ کے نام تک کسی کو یاد نہ ہو ں گے۔لوگ اپنے والدین کی قبروں پر تو نہیں جاتے لیکن مزارات پر جانا خوش قسمتی اور عین ایمان سمجھا جاتا ہے۔

برصغیرپاک وہندمیں اسلام صوفیاءنےپھیلایا؟

یہ ایک ایسا تصورہے جوبرصغیرپاک وہند کی ادبی، مذہبی اور معاشرتی تاریخ پر مبنی کتب میں ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔کچھ عرصہ قبل تصوف کے مالہ و ماعلیہ پر کچھ لیکچرز دینے تھے تو جہاں علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ ، پروفیسر یوسف سلیم چشتی اور کچھ عربی کتب کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا وہاں ایک بہت زبردست کتاب بعنوان ’’ کیا اقلیم ہند میں اشاعت اسلام صوفیاء کے مرہون منت ہے؟‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا اور اس کے مصنف معروف عالم دین غازی عزیر حفظہ اللہ ہیں۔ اور کتاب ادارۃ البحوث الاسلامیہ جامعہ سلفیہ بنارس ہند سے طبع ہوئی ہے ۔

اس کتاب کے ابتدائی صفحات میں برصغیر میں علم حدیث کی نشرو اشاعت میں صحابہ کرام کے دعوتی کردار پر انتہائی قیم بحث رقم کی گئی ہے اس کے بعد انہوں نےتقریبا 18 صحابہ کے حالات زندگی بیان کیے جو ہندوستان میں بغرض دعوت آئے تھے جن میں عثمان بن ابی العاص ، حکم بن ابی العاص، سہل بن عدی، مجاشع بن سعود، عبدالرحمن بن سمرۃ منذر بن جارود، تمیم الداری رضی اللہ عنہم اور ان میں سے بعض واپس ہی نہیں گئے گو کہ ہندوستان آنے والے صحابہ کی کل تعداد کم و بیش 40 کے قریب ہے اسی طرح 16 تابعی رحمہم اللہ کے حالات زندگی بیان کیے گئے ہیں اور 7 اتباع التابعین کی علمی و دعوتی خدمات کا بیان شامل تحقیق ہے۔

حیران کن امر تو یہ ہے کہ برصغیر میں اسلام صوفیاء نے پھیلایا یہ سوچ معروف ناموں نے بلا تحقیق آنکھیں بند کر کے اس طرح نشر کی کہ گویا اس پر باقاعدہ دلائل موجود ہوں اور ان معروف ناموں میں سید ابو الحسن علی الندوی، شیخ محمد اکرام، ڈاکٹر اسرار حتی کہ سید مودودی صاحب کی تحقیق بھی اسی غلط فہمی پر مبنی تھی۔

اس کتاب کے مطابق صوفیاء کا ورود 5ویں صدی میں ہوا جبکہ صحابہ و تابعین پہلی صدی ہجری میں ہی برصغیر پہنچ چکے تھے۔ جسے ابن کثیر رحمہ اللہ نے بہت تفصیل سے بیان کیا ۔(عماد الدین بن اسماعیل بن کثیر، البدایہ والنہایہ، دار الااشاعت، کراچی، 2018، جلد 9؍ص88)

بلکہ اس کتاب کا ایک موضوع تو بہت دل چسپ ہے ’’ تصوف اشاعت اسلام کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ‘‘ ص 75 تا 96 شامل تحقیق ہے۔صاحب کتاب نے پہلی صدی ہجری سے 14ویں صدی ہجری تک برصغیر میں اسلام کی نشر واشاعت میں محدثین کے دعوتی کردار پر اختصار و جامعیت کے ساتھ روشنی ڈالی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کتاب میں درج محدثین جن کی تعداد تقریبا 600 کے قریب ہے ان کے حالات زندگی برصغیر میں اسلام کے حوالے سے مرتب کیے جائیں تو برصغیر کی بہت خوبصورت تصویر ہمارے سامنے آ سکتی ہےبالخصوص یونی ورسٹی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالہ جات کے لیے اہل توحید کو اس پر توجہ دینا چاہیے اور مولف بلاشبہ داد و ستائش اور دعاوں کے مستحق ہیں کہ برصغیر کی تاریخ کے ایک گمنام باب کو لوگوں کے سامنے لائے جو علماء حق کے ذوق تحقیق کو مسلسل دعوت دے رہا ہے۔(جاری ہے)

موضوع کی طوالت کی وجہ سے اسے دو اقساط میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ اس کی اگلی قسط میں تصوف کے حوالے سے کچھ اہم موضوعات شامل کیے جائیں گے۔ اس مضمون کو لکھنے میں جن کتب سے استفادہ کیا ان کے نام درج ذیل ہیں:

1) مذاہب عالم ، فرقوں ، مسالک اور تحریکوں پر انسائیکلو پیڈیا ، ڈاکٹر محمد لئیق اللہ خان ، دار السلام دو جلدوں پر مشتمل ہے

2) اسلام کا خانقاہی نظام ، ڈاکٹر امان اللہ بھٹی دار السلام ایک جلد

3) کیا اقلیم ہند میں اشاعت اسلام صوفیاء کی مرہون منت ہے؟ غازی عزیر ، ادارہ البحوث الاسلامیہ جامعہ سلفیہ بنارس ایک جلد

4) التصوف المنشأ والمصادر، إحسان إلهى ظهير، إدارة ترجمان السنة – باكستان

5) مختلف متصوفین کی کتب جن کے حوالے اس مضمون میں درج کیے گئے ہیں

6) مختلف ویب سائٹس سے بھی مدد لی گئی ہے جہاں سے حوالہ جات کنفرم کیے گئے ہیں۔

By editor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے