کتابوں کا مطالعہ مسلمانوں کی ایک عظیم روایت رہا ہے۔عہدِ وسطیٰ میں ہر شخص کتابوں کا دلدادہ تھا ۔کتابوں پر بحث و مباحثے ، تنقید و تبصرے ہوتے تھے۔جدھر جاؤ، جس محفل میں بھی جا بیٹھو کتابوں کا تذکرہ ہی زبان زد خاص و عام ہوا کرتا تھا۔مسلمان فلسفی و دانشور کتابوں کی تلاش میں صحراؤں کی خاک چھانتے پھرتے۔عرب ممالک میں کتب خانے اور کتابوں کی اتنی دکانیں تھیں کہ عہد وسطیٰ میں اس کا تصور بھی ممکن نہ تھا۔قاہرہ میں قائم مکتبۂ فاطمین میں تقریباً بیس لاکھ کتابیں تھیں۔بغداد کا بیت الحکمت کتب خانہ نہیں بلکہ ایک عظیم یونیورسٹی تھا۔جہاں محقق ، عالم ، فلسفی سب جمع ہوتے اور جہاں روز نئی کتابیں لکھی اورپڑھی جاتی تھیں۔افسوس کے اس قابل رشک ماضی کے باوجود مسلم معاشرے خصوصاً پاکستان میں کتابیں غائب ہوتی جا رہی ہیں ۔مَردوں اور عورتوں میں مطالعہ کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے۔

مطالعہ بھی ایک فن ہے، بالخصوص دور جدید میں جب انسانی زندگی بہت مصروف اور تیز رفتار ہوچکی ہے۔اس لیے ہر شعبۂ زندگی کے بارے میں ضروری اور بنیادی معلومات حاصل کرنا لازمی ہے اور گہرے مطالعہ کے بغیر یہ ممکن نہیں۔خاص طور سے وہ لوگ جنہیں لکھنے کا شوق ہے ان کے لیے تو مطالعہ ایسا ہی ہے جیسے زندہ رہنے کے لیے غذا حاصل کرنا۔

ڈاکٹر جمیل جالبی مرحوم ،’’ اردو ادب کا ایک بڑا نام‘‘ ، کہتے تھے کہ ’’ وہ لوگ جو صرف لکھنے کا عمل کرتے ہیں اور مطالعہ پر توجہ نہیں دیتے وہ اپنی تحریروں میں خود کو دہرانے لگتے ہیں ۔ان کی تحریروں سے گہرائی اور تہہ داری غائب ہوجاتی ہے۔مطالعہ ہی وہ عمل ہے جو ذہن کو کشادگی، شعور کو پختگی اور جامعیت عطا کرتا ہے۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ مطالعہ ہی انسان کے علم کو جِلا بخشتا ہے۔

مطالعہ انسان کی شخصیت کو ایسے نکھار دیتا ہے جیسے کسی سیاہ تانبے کے برتن کو قلعی کردی جائے یا کسی اندھیری جگہ پر جلتے ہوئے چراغ کی جگہ ہائی پاور کا بلب لگادیا جائے،جس سے ارد گرد کا پورا ماحول روشن ہوجاتا ہے یا پھر کسی گھٹن زدہ کمرے کے دروازے کھول دیئے جائیں۔مطالعہ ذہن کے افق کو وسیع کرتا ہے۔اچھی کتاب کا مطالعہ انسان کے علم میں اضافہ کرتا ہے۔مطالعہ پیٹرول کی طرح ہوتا ہے،مثلاً نئی گاڑی کی کوئی اہمیت اور وقعت نہیں ہوتی جب تک اس میں پیٹرول نہ ڈالا جائے۔اسی طرح پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھنے والے کو بھی مطالعہ کی ضرورت ہوتی ہے جس سے اس کے علم و فضل میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

دورِ جدید کا المیہ یہ ہے کہ انٹر نیٹ کے پھیلاؤ نے طالب علم کا کتاب سے رشتہ تقریباً ختم ہی کردیا ہے۔صرف ایک انگلی کے ٹچ پر پوری دنیا اسکرین پر نمودار ہوجاتی ہے۔ اس سہولت نے طلباءکے لیے ہر چیز کو سہل الحصول بنا دیا ہے۔حصول علم کے لیے جو محنت ، جدو جہداور جانفشانی مطلوب ہوتی تھی اس سے جان چھڑا لی گئی ہے۔کتاب سے علم حاصل کرنے میں یہ ہوتا تھا کہ چار و ناچار پوری کتاب کا با لاستیعاب مطالعہ کر لیا جاتا تھا۔چھپائی کرنے اور نقل کر کے سوالنامہ حل کرنے والے کو بھی کتاب تو دیکھنی ہی پڑتی تھی ، مگر انٹر نیٹ اور موبائل نے انہیں یہ سہولت فراہم کر دی ہے کہ اپنی ضرورت کے مواد موبائل میں دیکھ کر پرچہ امتحان دے دیتے ہیں ، اس کے علاوہ کتاب میں آگے کیا ہے اور پیچھے کون سا مضمون ہے ، اس کا انہیں کوئی علم نہیں ہوتا۔کتاب کی اس درجہ ناقدری نے اس کی وہ وقعت ہی ختم کرد ی ہے جس سے کبھی اکابرین دن رات استفادہ کیا کرتے تھے اور ان کتابوں کو اپنے سینے سے لگا کر رکھتے تھے۔

اردو کے معروف ادیب مختار مسعود نے اپنی کتاب’’ آواز دوست‘‘ میں ایک جگہ لکھا ہے کہ بیسویں صدی کی گزشتہ چار دہائیاں کتاب پڑھنے اور کتاب لکھنے کا زمانہ تھا اور اس دور میں بہت اچھی کتابیں لکھی گئیں اور نامور ادیب و شاعر اور دانشور پیدا ہوئے ، لیکن انیس سو پچاس کے بعد سے ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی مائیں شاید تاجر اور سیاست دان ہی پیدا کرتی رہی ہیں۔

خاتون ادیب شاہین رحمٰن کہتی ہیں کہ ادب کو علم کا زیور کہا جاتا ہے اور علم انسانی ذہنوں کی آبیاری کرتا ہے، تہذیبوں کو جنم دیتا ہے، معاشروں کو پروان چڑھاتا ہے اور ایسا کرنے میں کتاب بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔جب تک کوئی معاشرہ کتاب سے منسلک رہتا ہے وہاں ترقی کا سفر جاری رہتا ہے، لیکن بدقسمتی سے پاکستانی معاشرہ گزشتہ دو دہائیوں سے کتاب بینی سے دور ہوتا جارہا ہے۔

یہ درست ہے کہ انٹرنیٹ نے تیز ترین معلومات فراہم کر نے کی ایک نئی دنیا سے متعارف کرایا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ علمی ذخائر جو پہلے کبھی لائبریریوں میں ہوا کرتے تھے ، اب سرچ انجن کے ذریعے سے ان تک رسائی بہت آسانی سے ہوجاتی ہے ، لیکن اس پر پوری طرح یقین بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ملک کے معروف سفرنامہ نگار مستنصرحسین تارڑ اس سے متفق نہیں ہیں۔ ان کے مطابق یورپ میں کمپیوٹر ہم سے پچاس سال پہلے متعارف ہوگیا تھا اس کے باوجود وہاں آج بھی کتاب پڑھنے کا رجحان اسی طرح موجود ہے ۔

بڑے ادیبوں کی رائے میں ملک میں فوڈا سٹریٹ کے ساتھ ساتھ بک اسٹریٹ بھی بنائی جائیں تو کتاب سے قاری کا رشتہ ایک بار پھر استوار کیا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ لوگ آج بھی اچھی کتابوں کے متلاشی ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ کراچی کے صدر میں اتوار کے دن ایک سے ڈیڑھ کلو میٹر تک کے علاقے میں پرانی کتابوںکا جو بازار لگتا ہے اس میں خریداروں کی ایک بڑی تعداد نظر آتی ہے۔

مطالعہ کی ایک اہمیت یہ بھی ہے کہ اس سے زبان آشنائی پیدا ہوتی ہے اور انسان زبان کے مختلف اسالیب کے بارے میں سیکھتا ہے اور دوسری با ت یہ کہ چیزوں کو دیکھنے کے Perspective (نقطۂ  نظر) میں تبدیلی آتی ہے۔بہتر انسان بننے میں ادبی مطالعہ بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ادبی مطالعہ نہ ہو تو انسان کی شخصیت ادھورے پن کا شکار ہوجاتی ہے۔ ادبی مطالعہ سے آدمی باطنی طور پر Rich(امیر) ہوتا ہے۔بہت زیادہ Cultural Behaviour (ثقافتی رویہ) اس کے اندر پیدا ہوتا ہے۔شائستگی آتی ہے اور نتیجتاً وہ بہتر انسان بنتا ہے۔معاشرے میں آج جتنی بے چینی اور سفاکی نظر آتی ہے اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ ادب کا مطالعہ نہیں کرتے۔

معروف شاعر اور فلسفے کے استاد جناب احمد جاوید کہتے ہیں :

’’ میری نظر میں وہ انسان نہیں جس کو لفظ کا علم نہیں ، لفظ جس پر اثر نہیں کرتا ، لفظ جسے اپنی طرف نہیں کھینچتا ۔یہ ہماری فطری و مذہبی ضرورت بھی ہے ، روحانی ضرورت بھی ہے اور جمالیاتی ضرورت بھی۔مطالعہ تسلسل فکر میں دونوں طرح کی تبدیلیاں پیداکر سکتاہے، ایک یہ کہ اُس کی تکمیل کرتا ہے اور تکمیل کا عمل بعض اجزا کو چھوڑنے اور بعض اجزاء کو اختیار کرنے سے ہوتا ہے۔اور یہ تمیز مطالعہ ہی سکھاتا ہے۔احمد جاوید یہ بھی کہتے ہیں کہ کوئی بھی علم حاصل کرنا ہے تو اس کے لیے کتاب ڈھونڈنے سے پہلے استاد ڈھونڈنا چاہیے ورنہ آپ ہمیشہ چند مستقل غلط فہمیوں میں مبتلا رہیں گے۔‘‘

اصول و ضوابط، طبیعت میں ٹھہراؤ، علم کی پیاس،اساتذہ کو پڑھنے کا ذوق اور مستقل مزاجی انسان کو با عمل اور با شعور بناتی اور اس کی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرتی ہے۔اپنے ہدف کی طرف جب قدم بڑھائے جاتے ہیں تو فاصلے قدموں کی دھول بن جاتے ہیں۔راہیں ہموار ہوجاتی ہیں اور منزل کی حوصلہ افزاء روشنی صبح کے اس ستارے کی مانند ہوجاتی ہے جو خاورِ مشرق کی کرنیں بکھرنے تک چاند کے پہلو نشیں ہی رہتا ہے۔مطالعہ کی افادیت سے فیضیاب ہونے کے لیے بھی یہی سب کچھ در کار ہوتا ہے۔مضبوط قوتِ ارادی انسان کے عمل میں اس کی سیرت وکردار کا اظہار ہے۔

انسان کے مستحکم ارادوں کے سامنے پتھر بھی موم ہوجاتے ہیں، ایسا کون سا پہاڑ ہے جس پرا نسان چڑھ نہیں سکتا ، ایسا کون سا صحرا ہے جسے وہ عبور نہیں کر سکتا۔اور ایسا کون سا سمندر ہے جس کی گہرائیوں کی انسان خبر نہیں لایا۔صرف ہمت اور پختہ ارادوں کی ضرورت ہے، پھر قدرت بھی انسان کی مدد کرتی ہے۔معیاری ادب اور آفاقی علو م کا گہرا، فکر انگیز اور نتیجہ خیز مطالعہ ان تمام راستوں کی سختیوں کو موم کردیتا ہے۔شعلہ بیان مقرر شورش کاشمیری کا قو ل ہے کہ اچھا مقرر اور ایک اچھا ادیب بننے کے لیے دو چیزیں بہت ضروری ہیں ایک صبح کی واک اور دوسری صبح کا اخبار! بات پھر مطالعہ پر ہی آگئی۔مطالعہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ معروف فلسفی اور طبیب ابن رشد اپنی 75سالہ زندگی میں ہر روز بلا ناغہ 70صفحات پڑھ لیا کرتے تھے اور انہوں نے اپنی پوری زندگی میں صرف دو راتیں بغیر مطالعہ کے گزاریں ۔ایک رات جب ان کے والد کا انتقال ہوا۔اور دوسری رات ، وہ ان کی شادی کی رات تھی۔

نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:

مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ (صحيح مسلم:2699)

’’جو علم (دین) کی تلاش کے لیے کسی راستے پر چلے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرمادیتے ہیں۔‘‘

حصول علم کے لیے تین چیزوں کا ہونا لازمی ہے ، استاذ، کتاب اور طالب علم کا اپنا مطالعہ۔علم کوئی بھی ہو اس کی تفہیم کے لیے کسی استاذ کی ضرورت بنیادی ضرورت ہے، اور کتاب کے ذریعہ جو علم حاصل ہوتا ہے اس میں گہرائی، پختگی، فہم و فراست کے لیے مطالعہ اصل تغذیہ ہے۔

ویسے تو ہر شخص اپنے طریقے اور سہولت سے مطالعہ کرتا ہے جس سے وہ اپنا مقصد حاصل کرلیتا ہے۔تاہم اگر تصنیف و تالیف کے اساتذہ کے بتا ئے ہوئے کچھ خاص اصول کے مطابق مطالعہ کیا جائے تو نتیجہ بہتر ثابت ہوسکتا ہے۔اور وہ رہنما اصول یہ ہیں۔

(1) مطالعہ کےلیے پہلی اور لازمی شرط داخلی اور خارجی پرسکون ماحول کا فراہم کرنا ہے۔کیونکہ ان دونوں چیزوں کے بغیر انسان کسی چیز کے فہم و ادراک کے لیے بھی یکسوئی اور ارتکازِ توجہ حاصل نہیں کرسکتا۔خار جی سکون سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص جس جگہ بیٹھ کر مطالعہ کر رہا ہو، اس کے ماحول میں کوئی ایسا شور و غل یا غیر معمولی حالات نہ ہوں جو بار بار اس کی توجہ کو اپنی جانب مبذول کر لیں۔اور اس طرح اس کی یکسوئی میں خلل واقع ہو۔علاوہ ازیں کم روشنی یا تیز روشنی میں بیٹھ کر بھی مطالعہ کرنا بینائی پر اثر ڈالتا ہے۔نیز کتاب کو آنکھوں سے بہت قریب یا بہت دور رکھنا بھی درست نہیں۔اس غرض کے لیے کتاب اور اپنی آنکھوں کے درمیان ایک فٹ کا فاصلہ رکھنا لازمی ہے۔لیٹ کر مطالعہ کر نا بھی بینائی کے لیے نقصان دہ ہے۔

داخلی سکون سے مراد یہ ہے کہ انسان مطالعہ کے وقت ہر قسم کے تفکرات اور ذہنی پریشانیوں سے بالکل خالی الذہن ہو کر بیٹھے اور باقی تمام چیزوں سے توجہ ہٹا کر ، اپنی توجہ کو مطالعہ کی طرف مرکوز رکھے۔اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کی توجہ بار بار منتشر ہوگی اور اس طرح اس کا ذہن اپنے مقصد کے حصول سے قاصر رہے گا۔

(2) مطالعہ کے لیے دوسری لازمی شرط یہ ہے کہ طالب علم جس چیز کا مطالعہ کر رہا ہو اس کے مفید اور کار آمد ہونے کا پختہ یقین اس کے دل میں موجود ہو۔کہیں حفیظ جالندھری والا معاملہ نہ ہو کہ:

ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں

کہیں ایسا نہ ہوجائے کہیں ویسانہ ہو جائے

یقین کی کیفیت طالب علم کی نفسِ مضمون میں دلچسپی بڑھادے گی اور اس کی طبیعت اُکتائے گی نہیں۔اگر اس چیز کا لحاظ نہ رکھا جائے تو لازماً طبیعت بوجھ محسوس کرے گی، جس سے ایک طرف تو یہ ہوگا کہ وہ مطالعہ سے جلد اُکتا جائے گا اور دوسری طرف جو کچھ اس نے مطالعہ کیا ہے وہ پوری طرح ذہن میں محفوظ نہیں ہوسکے گا۔

(3) تیسری بات یہ کہ مطالعہ کے لیے ایک متعین لائحہ عمل ہونا چاہیے۔ یہ ایک فطری اصول ہے کہ جو کام کسی خاص نظم و ضبط کے ساتھ کیا جائے وہ ہمیشہ اس کام کی نسبت زیادہ نتیجہ خیز ہوگا جو بے ترتیبی کے ساتھ کیا جائے۔کسی کام کو نظم و ضبط کے ساتھ انجام دینے میں سب سے اولین چیز پابندی وقت اور باقاعدگی ہوتی ہے۔اگر پابندی وقت کے ساتھ تھوڑا سا بھی مطالعہ کیا جائے اس کا فائدہ مستقل ہوتا ہے اور انسان کے ذہن میں دیر پا نقوش چھوڑتا ہے۔ ایک حدیث مبارکہ میں بھی اسی طرح کے الفاظ آئے ہیں:

رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إِنَّ أَحَبَّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ(صحيح مسلم:6464)

’’ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سب سے محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔‘‘

(4) چوتھی چیز یہ کہ مطالعہ کے لیے طبیعت کو ایک خاص حد سے زیادہ مجبور نہیں کرنا چاہیے، بلکہ جب تک ذہن سہولت کے ساتھ مطالعہ میں یکسو رہے اس وقت تک ہی مطالعہ کرنا چاہیے،اس کے بعد کچھ وقفہ کر کے خود کو کسی اور کام میں لگا دینا چاہیے جو اس کام کی نسبت زیادہ خوشگوار ہو،اب یہ طالب علم کی اپنی افتادِ طبع اور اس کی طبیعت کے میلان پر منحصر ہے۔

 البتہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ آدمی کو کتنی دیر مطالعہ کرنا چاہیے اور ایک نشست میں زیادہ سے زیادہ کتنا وقت صرف کرے تو یہ لوگوں کی اپنی اپنی استعدادِ مطالعہ پر منحصر ہے۔کچھ لوگ کم مطالعہ کرکے زیادہ اخذ کر لیتے ہیں اور بعض افراد بہت زیادہ مطالعہ کر کے بھی کم ہی استفادہ کر پاتے ہیں۔تاہم ایک اوسط درجے کی ذہانت کے آدمی کے لیے چار سے چھ گھنٹے کا باقاعدگی سے اور ٹھوس انداز میں مطالعہ مفید رہے گا۔

(5) پانچویں اہم شرط یہ ہے کہ مطالعہ کے دوران طالب علم اپنی مطالعہ کی ہوئی چیزوں کے مختصر اشارات(Notes) بھی تیار کرتا جائے، یعنی نفس مضمون کو اپنے الفاظ میں قلم بند کرنے کی عادت ڈالے۔اس طریقے سے دو فائدے ہوں گے۔

(الف) اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ ہر مضمون یا کتاب کا جوہر اپنے لفظوں میں محفوظ ہوجائے گا۔اور طالب علم کا ذہن غیر ضروری تفصیلات اور غیر متعلقہ چیزوں کو یاد رکھنے کے بوجھ سے آزاد ہوجائے گا۔نیز طالب علم اپنی مطالعہ شدہ چیزوں کا نفس مضمون جس وقت چاہے ان اشارات کی مدد سے اپنے ذہن میں تازہ کر لے گا۔اور دوبارہ اصل کتاب کی طرف رجوع کرنا نہیں پڑے گا، پھر اس کا ایک اور فائدہ یہ ہو گا کہ اظہارِ بیان کے لیے اس کو آسان اسلوب پر قدرت حاصل ہوجائے گی۔

(ب) دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ طالب علم کا ذہن مطالعہ کرتے وقت اپنے کام کی چیزوں کو اخذ کرنے اور غیر ضروری چیزوں کو نظر انداز کرنے میں خاصا مستعد ہوجائے گا۔اور اس طرح علم کا طالب کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ اخذ کرنے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کر لے گا۔اور وہ دوران مطالعہ رٹّا لگانے کی بری عادت سے محفوظ رہے گا۔

مطالعہ انسانی زندگی کا لازمی جز ءہے، جو چیزیں دنیا کمانے اور اپنے مادی وجود کی نشو ونما کے لیے ضروری ہیں ان تمام چیزوں کامطالعہ دنیا کا ہر انسان ساری زندگی کرتا رہتا ہے۔او ر اس میدان میں انسان بتدریج ترقی حاصل کرتا رہتا ہے۔اس کائنات میں بسنے والوں کی اکثریت کے دن و رات کا یہی معمول ہے۔اور اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے، کیونکہ زندہ رہنے اور ایک با عزت زندگی گزارنے کے لیے یہ بھی وقت کا تقاضا ہے۔

ہم کائنات کی ہر چیز سے فیضیاب ہوتے رہتے ہیں۔رنگ و بو کی اس دنیا میں ہم قدرت کی عطا کی ہوئی ہر نعمت سے اپنے اپنے مقام اور اپنی استطاعت کے مطابق اپنے دامنِ طلب کو بھرتے رہتے ہیں۔مگر اس لامتناہی دنیا میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو اپنے ارد گرد پھیلی رنگ و نور کی اس کائنات کے مصور اور خالق و مالک کی اس صناعی اور اس کی عطا پر غور وفکر کرتے اور اس کی معرفت حاصل کرنے کی جستجو میں کوشاں رہتے ہیں؟ جبکہ خود خالق کائنات نے بھی اپنی ان نشانیوں پر غور وفکر کرنے پر زور دیا ہے اور اس پر عمل نہ کرنے پر ان کی عقل پر سوالیہ نشان لگایا ہے۔

ارشاد فرمایا:

اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِيْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ وَّتَصْرِيْفِ الرِّيٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ

’’بے شک آسمانوں اور زمین کے پید اکرنے میں اور رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اور کشتیوں (اور جہازوں) جو دریا میں لوگوں کےفائدے کے لیے رواں ہیں اور مینہ میں جس کو اللہ تعالیٰ آسمان سے برساتا اور اس سے زمین کو مرنے کے بعد زندہ(یعنی خشک ہونے کے بعدسر سبز) کر دیتاہے اور زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلانے میں اور ہواؤں کے چلانے میں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں ، عقلمندوں کے لیے (اللہ کی قدرت) کی نشانیا ہیں۔‘‘( البقرۃ:164)

گویا جس انسان کے اندر غور و فکر اور مشاہدے کی صلاحیت ہوگی وہی قدرت کی چہار سو پھیلی ان نشانیوں اور مظاہر فطرت کو سمجھ سکے گا۔اور اس کا یہ غور طلب مطالعہ ہی اسے اپنے ربّ سے قریب کرنے کا باعث بنے گا۔انسان کا صحیح مطالعہ ہی تو بتاتا ہے کہ اس کے اندر فطرت کے مظاہر کو اپنے اندر جذب (Observe)کرنے کا کتنا شاکلہ ہے۔اللہ تعالیٰ بندے کی رہنمائی کے لیے خود بے شمار مواقع مہیا کرتا ہے کہ اسے اپنی ذات اور اپنی حیات بے مثال کا شعور حاصل ہوسکے۔کیونکہ اس وسیع و عریض کائنات میں بکھری ہوئی نشانیاں ہی تو اللہ کی معرفت تک بندے کو پہنچاتی ہیں۔

ارشاد ربانی ہے:

سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَ فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ

’’ ہم عنقریب ان کو اطراف (عالم) میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گےیہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ(قرآن) حق ہے۔کیا تم کو یہ کافی نہیں کہ تمہار ا پروردگار ہر چیزسے خبردار ہے۔‘‘ ( فصلت: 53)

اس آیت مبارکہ کی روشنی میں انسان اپنی ذات میں اپنے اس مادی وجود میں ہی غور و فکر کر لے تو اس کی آنکھوں کے سامنے سے کئی پردے اٹھ جائیں گے۔اور اگر اس کا ضمیر زندہ اور اس کی اخلاقی حِس میں کوئی حرارتِ ایمان ہے تو اس کا سر اپنے معبود کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوجائے گا۔لیکن جو لوگ اللہ کی ان نشانیوں کا ادراک نہیں کر پاتے اور اپنے مادی اور فنا ہوجانے والے وجود کی ہی سیوا کرتے رہتے ہیں وہ اللہ کی نظر میں کیا ہیں اس کا اظہار اس طرح سے ہوا ہے۔

لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا١ٞ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا١ٞ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ

’’ان کے دل ہیں لیکن یہ ان سے سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں۔یہ لوگ (بالکل) چار پایوں (جانوروں) کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بد ترہیں، اور یہی لوگ وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘ (الاعراف :179)

انسان اور جانور میں نطق اور شعور اور سماعت اور بصارت کا فرق ہے، اور مطالعہ کے لیے انہیں استعدادات کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔گویا انسان اصل میں وہ ہے جس کو مطالعہ کی قدرت حاصل ہے اور جو مظاہر فطرت کا مطالعہ نہیں کرتا یا اس کی کوشش نہیں کرتا اس کا اللہ کی نظر میں کیا مقام ہے، وہ اس آیت سے صاف ظاہر ہے۔اب ہر انسان اس کی روشنی میں اپنا جائزہ لے سکتا ہے کہ وہ اس ناپائیدار دنیا میں کس حیثیت سے زندگی گزار رہا ہے۔

انسان جب دنیاوی علوم کے مطالعہ میں زندگی کا ایک بڑا عرصہ لگا دیتا ہے ، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ مطالعہ فطرت ،جس کے مناظر ہر وقت نظر کے سامنے ہوتے ہیں ان سے نگاہیں چرانے اور اس طرف سے غفلت برتنے کے بجائے ان کا بھی گہری نظروں سے جائزہ لے، غور و فکر کرے تاکہ اسے اپنی ذات اور اپنے اس مقام و مرتبے کا احساس ہوجائے جو قدرت نے اسے عطا کیاہے،جو مسجودِ ملائکہ کے اعزاز سے نوازاگیا، جس کو احسنِ تقویم پر تخلیق کیا گیا۔ اس عمل اور اس طرزِ زندگی سے اسے ا پنے خالق و مصور کے عظیم ہستی ہونے ، اس کی قدرت اور اس کی ربوبیت پر یقین کامل حاصل ہوگا ۔ اوریوں رزق کی تلاش میں رازق نظروں سے اوجھل نہیں ہو پائے گا۔

مآخذ:

1۔ترجمہ: فتح الحمید، مولانا فتح محمد جالندھری

2۔ درست اردو، آسی ضیائی

3۔ تحسینِ اردو ، طاہر شادانی،آسی ضیائی

By editor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے