قارئین کرام ! رسول اللہ ﷺ کے فرامین میں ہمارے لیے بہت سی نصیحتیں اسباق و احکام موجود ہیں۔ حدیث نبوی کے بہت سے جہات ایسے ہیں جن کی طرف ہماری توجہ نہیں جاتی اس لیے وہ گوشے ہم سے مخفی رہتے ہیں۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم رسول اللہ کے تمام فرامین کا مطالعہ رکھیں۔ لہذا اس ضمن میں ہم آپ کی خدمت میں بعض ایسی احادیث کا ذکر کر رہے ہیں جن کا تعلق حیوانات اور حشرات سے ہے جن میں بہت سے فضائل احکام اور اسباق موجود ہیں۔ آئیں حدیث نبوی کا یہ گوشہ ملاحظہ فرمائیں۔

1۔ بکری جنتی جانوروں میں سے ہے

سيدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

الشَّاةُ مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ.

بکری جنت کے جانوروں میں سے ہے ۔(سنن ابن ماجة: 2306)

2۔ بکریوں میں برکت ہے

سيدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اتَّخِذُوا الْغَنَمَ، فَإِنَّ فِيهَا بَرَكَةً.

بکریاں پالو، اس لیے کہ ان میں برکت ہے ۔(سنن ابن ماجة: 2304 مسند أحمد: 27381)

3۔ گھوڑوں کی پیشانی میں خير ہے

سیدنا عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ يَرْفَعُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْإِبِلُ عِزٌّ لِأَهْلِهَا وَالْغَنَمُ بَرَكَةٌ وَالْخَيْرُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .

اونٹ ان کے مالکوں کے لیے قوت کی چیز ہے، اور بکریاں باعث برکت ہیں، اور گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لیے بھلائی بندھی ہے ۔(سنن ابن ماجة: 2305)

4۔ مینڈک قتل کرنا منع ہے

سیدنا عبدالرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

أَنَّ طَبِيبًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضِفْدَعٍ يَجْعَلُهَا فِي دَوَاءٍ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا.

ایک طبیب نے نبی اکرم ﷺ سے دوا میں مینڈک کے استعمال کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے مینڈک قتل کرنے سے منع فرمایا۔(سنن ابي داود: 3871)

5۔ چار جانداروں کو قتل کرنا منع ہے

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے :

إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ نَهَى عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَابِّ:‏‏‏‏ النَّمْلَةُ،‏‏‏‏ وَالنَّحْلَةُ،‏‏‏‏ وَالْهُدْهُدُ،‏‏‏‏ وَالصُّرَدُ.

نبی مکرم ﷺ نے چار جانوروں کے قتل سے روکا ہے چیونٹی، شہد کی مکھی، ہد ہد، لٹورا چڑیا۔(سنن ابى داود: 5267)

6۔ چھپکلی موذی جانور ہے

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

الْوَزَغُ الْفُوَيْسِقُ.

چھپکلی فاسق جانور ہے۔(صحیح بخاری: 1831 سنن نسائی: 2886)

7۔ چھپکلی کو مارنے کا اجر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، لِدُونِ الْأُولَى، وَإِنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، لِدُونِ الثَّانِيَةِ.

جس شخص نے پہلی ضرب میں چھپکلی کو قتل کر دیا اس کے لیے اتنی اتنی نیکیاں ہیں اور جس نے دوسری ضرب میں مارا اس کے لیے اتنی اتنی ، پہلی سے کم نیکیاں ہیں اور اگر تیسری ضرب سے مارا تو اتنی اتنی نیکیاں ہیں ، دوسری سے کم ( بتائیں ۔ )(صحيح البخاري: 2240)

8۔ سانپ کو قتل کرو

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ.

سانپوں کو مار ڈالو، دو دھاری اور دم کٹے سانپ کو ضرور مارو، اس لیے کہ یہ دونوں آنکھ کی بینائی زائل کر دیتے ہیں اور حمل کو گرا دیتے ہیں۔ (صحیح بخاری: 3297)

9۔ جو سانپوں سے ڈر کر انہیں قتل نہ کرے

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ تَرَكَ الْحَيَّاتِ مَخَافَةَ طَلَبِهِنَّ فَلَيْسَ مِنَّا.

جو شخص سانپوں کو اس ڈر سے چھوڑ دے کہ وہ پلٹ کر ہمارا پیچھا کریں گے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔(سنن ابي داود: 5250)

10۔ نماز میں بچھو اور سانپ قتل کیا جا سکتا ہے

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اقْتُلُوا الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ:‏‏‏‏ الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ.

نماز میں دونوں کالوں سانپ اور بچھو کو ( اگر دیکھو تو ) قتل کر ڈالو ۔ (سنن ابی داود: 921)

11۔ پانج جانوروں کو حرم میں بھی قتل کرنے کا حکم ہے

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ ، يَقْتُلُهُنَّ فِي الْحَرَمِ : الْغُرَابُ ، وَالْحِدَأَةُ ، وَالْعَقْرَبُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ.

پانچ جانور ایسے ہیں جو سب کے سب موذی ہیں اور انہیں حرم میں بھی مارا جا سکتا ہے کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔(صحيح بخاري: 1829)

12۔ گائے کے دودھ میں شفا ہے۔

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

إِنَّ اللهَ عَزَّوَجَلَّ لَمْ يُنْزِلِ دَاءً إِلا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً إِلا الْهَرَمَ، فَعَلَيْكُمْ بِأَلْبَانِ الْبَقَرِ فَإِنَّهَا تَرُمُّ مِنْ كُلِّ شَجَر.

یقینا اللہ عزوجل نے جو بھی بیماری نازل كی اس كے ساتھ شفا بھی نازل كی ہے سوائے بڑھاپے کے ۔ گائے كا دودھ لازم كرو كیوں كہ یہ ہر درخت سے چرتی ہے۔(الصحيحة: 518)

ایک روایت کے لفظ ہیں:

أَلْبَانُهَا شِفَاءٌ وَسَمَنُهَا دَوَاءٌ وَ لُحُومُهَا دَاءٌ.

اس كا دودھ شفا ہے اس كا گھی دوا ہے اور اس كا گوشت بیماری ہے۔ (الصحیحة: 1533)

13۔ اگر مشروب میں مکھی گر جائے

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ، ثُمَّ لِيَطْرَحْهُ ؛ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ شِفَاءً، وَفِي الْآخَرِ دَاءً.

جب مکھی تم میں سے کسی کے برتن میں پڑ جائے تو پوری مکھی کو برتن میں ڈبو دے اور پھر اسے نکال کر پھینک دے کیونکہ اس کے ایک پر میں شفاء اور دوسرے میں بیماری ہے۔(صحیح بخاری: 5782)

14۔ اگر کتا برتن میں منہ ڈال لے

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعًا.

جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں سے کچھ پی لے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے۔(صحيح بخارى: 172)

15۔ شوقیہ کتا پالنے کی قباحت

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا فَإِنَّهُ يَنْقُصُ كُلَّ يَوْمٍ مِنْ عَمَلِهِ قِيرَاطٌ.

جس شخص نے کوئی کتا رکھا، اس نے روزانہ اپنے اعمال میں سے ایک قیراط کی کمی کر لی۔ البتہ کھیتی یا مویشی کی حفاظت کے لیے کتے اس سے الگ ہیں۔(صحيح البخاري: 2322)

ایک روایت کے لفظ ہیں:

نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ.

اس کے اجر میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے۔(صحیح مسلم: 1574)

16۔ جس گھر میں کتا ہو فرشتے داخل نہیں ہوتے

سيدنا ابن عمر رضى الله عنہما سے روایت ہے کہ:

وَعَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ.

ایک مرتبہ جبریل علیہ السلام نے نبی اکرمﷺ کے پاس آنے کا وعدہ کیا تھا ( لیکن نہیں آئے ) اور کہا: ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں تصویر یا کتا ہو۔(صحیح بخاری: 3227)

17۔ کالا کتا شیطان ہے

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ عَنِ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ شَيْطَانٌ .

میں نے رسول اللہ ﷺ سے خالص سیاہ کتے کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ شیطان ہے ۔(سنن ابن ماجة: 3210)

18۔ مرغ کو برا بھلا نہ کہو

سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ يُوقِظُ لِلصَّلَاةِ.

مرغ کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ نماز (فجر) کے لیے جگاتا ہے ۔(سنن ابی داود: 5101)

19۔ مرغ کی بانگ سننے پر فضل کا سوال کرو

سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ فَاسْأَلُوا اللهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا

جب مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو، بیشک اس نے فرشتہ دیکھا ہے۔(صحیح البخاري: 3302)

20۔ جب گدھے کی آواز سنائی دے

سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِنَّهُ رَأَى شَيْطَانًا.

جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے۔(صحیح البخاري: 3302)

21۔ اگر گھی میں چوہا گر جائے

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ

رسول اللہ ﷺ سے چوہے کے بارہ میں پوچھا گیا جو گھی میں گر گیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:

أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا ، فَاطْرَحُوهُ وَكُلُوا سَمْنَكُمْ.

اس کو نکال دو اور اس کے آس پاس ( کے گھی ) کو نکال پھینکو اور اپنا باقی گھی استعمال کرو۔(صحيح البخاري: 235)

22۔ خرگوش کا گوشت حلال ہے

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَسَعَوْا عَلَيْهَا حَتَّى لَغِبُوا فَسَعَيْتُ عَلَيْهَا حَتَّى أَخَذْتُهَا فَجِئْتُ بِهَا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ فَبَعَثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَرِكَيْهَا أَوْ فَخِذَيْهَا فَقَبِلَهُ.

ہم نے مر الظہران کے مقام پر ایک خرگوش کو ابھارا لوگ اس کے پیچھے دوڑے مگر نہ پایا پھر میں اس کے پیچھے لگا اور اسے پکڑ لیا اور اسے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا، انہوں نے نبی مکرم ﷺ کی خدمت میں اس کا کولھا اور دونوں رانیں بھیجیں تو آپ ﷺ نے انہیں قبول فرما لیا۔(صحیح بخاری: 5489)

سنن ابی داود میں ہےمحمد بن صفوان بیان کرتے ہیں کہ:

اصَّدْتُ أَرْنَبَيْنِ فَذَبَحْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ عَنْهُمَا فَأَمَرَنِي بِأَكْلِهِمَا.

میں نے دو خرگوش شکار کئے اور انہیں ایک سفید (دھار دار) پتھر سے ذبح کیا، پھر ان کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے مجھے ان کے کھانے کا حکم دیا۔ (سنن ابی داود: 2822)

23۔ چیونٹیوں کو جلانا منع ہے

سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

قَرَصَتْ نَمْلَةٌ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ ، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَحْرَقْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ.

ایک چیونٹی نے ایک نبی کو کاٹ لیا۔ تو ان کے حکم پر چیونٹیوں کے سارے گھر جلا دئیے گئے ۔ اس پر اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تمہیں تو فقط ایک چیونٹی نے کاٹا تھا اور تم نے ایک ایسی مخلوق کو جلا دیا جو اللہ کی تسبیح بیان کرتی تھی ۔(صحیح البخاري: 3019)

24۔ تفریح کے لیے چڑیا کے بچے پکڑنا

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ فَرَأَيْنَا حُمَرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا فَجَاءَتِ الْحُمَرَةُ فَجَعَلَتْ تَفْرِشُ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا.

ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ اپنی ضرورت کے لیے گئے، ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے ساتھ دو بچے تھے، ہم نے ان بچوں کو پکڑ لیا، وہ چڑیا آ کر زمین پر پر بچھانے لگی، اتنے میں نبی کریمﷺ آ گئے، اور یہ دیکھ کر فرمایا: اس چڑیا کا بچہ لے کر کس نے اسے بے قرار کیا ہے؟ اس کا بچہ اسے واپس کردو۔(سنن أبي داود: 2675)

25۔ بلی نجس نہیں ہے

سيدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ.

یہ (بلی) نجس نہیں ہے، یہ تو تمہارے پاس برابر آنے جانے والوں یا آنے جانے والیوں میں سے ہے۔(سنن الترمذي: 92)

26۔ بلی کی وجہ سے عذاب

سيدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا ، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ.

ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب ہوا جسے اس نے اتنی دیر تک باندھے رکھا تھا کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی۔ اور وہ عورت اسی وجہ سے دوزخ میں داخل ہوئی۔ (صحيح البخاري: 2365)

27۔ بلی اور کتے کی قیمت منع ہے

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، ‏‏‏‏‏‏وَالسِّنَّوْرِ.

نبی معظمﷺ نے کتے اور بلی کی قیمت ( لینے ) سے منع فرمایا ہے۔(سنن أبي داود: 3479)

28۔ پالتو گدھے کا گوشت حرام ہے

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے:

أَكَلْنَا زَمَنَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ، وَحُمُرَ الْوَحْشِ، وَنَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِمَارِ الْأَهْلِيّ.

خیبر کے زمانے میں ہم نے جنگلی گدھوں ( گورخر ، زیبرا ) اور گھوڑوں کا گوشت کھایا اور نبی معظمﷺ نے ہم کو پالتو گدھے کے گوشت سے منع فرما دیا ۔(صحیح مسلم: 1941)

29۔ کچلی والا درندہ حرام ہے

سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

أَتَيْت النَّبِي ﷺ‌ فَقُلْت: يَا رَسُول الله حَدِّثْنِي ما يَحُل لِي مِمَّا يُحَرَّم علي، فَقَال: لَا تَأَكُلْ الْحِمَار الْأَهْلِي ولَا كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاع.

میں نبی کریم ‌ﷺ ‌كے پاس آیا اور كہا: اے اللہ كے رسول ! جوچیزیں مجھ پرحرام ہیں ان میں سے میرے لئے حلال بیان کیجیے؟ تو آپ نے فرمایا: گھریلو گدھا نہ كھاؤ اور نہ كچلی والا درندہ كھاؤ۔(الصحيحة: 475)

30۔ گھوڑے کا گوشت حلال ہے

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ :

نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَخَّصَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ.

جنگ خیبر میں رسول اللہ ﷺ نے گدھے کا گوشت کھانے کی ممانعت فرما دی تھی اور گھوڑے کا گوشت کھانے کی رخصت دی تھی۔(صحیح بخاری: 5520)

عَنْ جَابِرٍ قَالَ : كُنَّا نَأْكُلُ لُحُومَ الْخَيْلِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں گھوڑے کا گوشت کھاتے تھے۔ (سنن نسائی: 4335)

By admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے