﴿وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ﴾ ( الانعام: ۱۵۳)

’’اوریقیناًیہ میرا راستہ ہے جو بالکل سیدھا ہے، لہٰذا اس پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو، وہ تمہیں اس کے راستے سے ہٹادیں گے تمہیں اس کے ساتھ وصیت کی جاتی ہے تاکہ تم گمراہ ہونے سے بچ جائو۔‘‘

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ رضي الله عنهما قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ صلى الله عليه وسلم فَخَطَّ خَطًّا وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّمِینِهِ وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّسَارِہٖ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہٗ فِی الْخَطِّ الْأَوْسَطِ فَقَالَ هَذَا سَبِیلُ اللہِ ثُمَّ تَلَا هٰذِہِ الْآیَةَ ﴿وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهِ﴾ (رواہ ابن ماجة: باب اتباع سنة رسول اللہ صلى الله عليه وسلم [صحیح])

’’سیدنا جا بر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے۔ آپ نے ایک سیدھی لکیر کھینچی پھر اس کے دائیں اور بائیں لکیریں کھینچیں۔ اس کے بعد آپ نے اپنا دست مبارک درمیان والی لکیر پر رکھتے ہوئے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے ، پھر یہ آیت مبارکہ تلاوت کی:

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ… …﴾

’’کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے اس کی پیروی کرو اس کے سوا دوسرے راستوں پر نہ چلو وہ تمہیں صراطِ مستقیم سے ہٹا دیں گے۔‘‘

﴿قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ عَلٰى بَصِيْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِيْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ﴾ (یوسف: ۱۰۸)

’’اے نبیﷺ! فر ما دیں یہی میرا راستہ ہے ،کہ میں پوری بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاتاہوں ،میں اور جنہوں نے میری پیروی کی ہے ، اللہ تعالیٰ پاک ہے اور میں شرک کرنے والوں سے نہیں ہوں ۔‘‘

نبی مکرم ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ کے آخری ایام میں حجۃ الوداع کے موقعہ پر عرفات اور منٰی کے میدان میں کئی خطبے ارشاد فرمائے، جن کو کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیان کیا ہے اور ان خطبات کے اقتباسات احادیث کی مختلف کتابوں میں موجود ہیں۔ ان خطبات میں سے یہاں وہی الفاظ نقل کیے جاتے ہیں جن میں آپ ﷺ نے الوداعی انداز اختیار فرمایا تھا۔

عن الصحابي الجليل جابر بن عبد الله رضي الله عنهما خطبة النبي ﷺ يوم عرفة في حجة الوداع

’’جلیل القدر صحابی سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن فرمایا: 

أَيُّهَا النَّاسُ اسْمَعُوا قَوْلِي فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاكُمْ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا فِي هَذَا الْمَوْقِفِ (مسند أحمد:باب حدیث رجل من أصحاب النبیﷺ)

اے لوگو! غور سے سنو! میں نہیں جانتا کہ آج کے بعد اس جگہ میں تم سے مل سکوں گا ۔

اَللهُمَّ اشْهَدْ، أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ

’’بردار ! میرے بعد گمراہی کی طرف نہ پلٹ جانا یہ کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنا شروع کر دو۔‘‘

یَآ أَیُّھَا النَّاسُ!أَلَآ إِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاکُمْ وَاحِدٌ أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی أَعْجَمِیٍّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِأَحْمَرَ عَلٰٓی أَسْوَدَ وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوٰی (مسند أحمد:باب حدیث رجل من أصحاب النبیﷺ)

اے لوگو! بے شک تمھارا رب ایک ہے اور تمھارا باپ بھی ایک ہے۔ سنو! عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، سفید کو کالے پر اور کسی کالے کو سفید پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ فضیلت صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔ تم میں سے اللہ کے ہاں وہ زیادہ عزت والا ہے جو اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرتا اور اس کی نافرمانی سے بچنے والا ہے۔ ‘‘

((عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ تَرَکْتُ فِیکُمْ أَمْرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَا کِتَابَ اللّٰہِ وَسُنَّةَ نَبِیِّهٖ (موطا امام مالك:کتاب الجامع)

’’ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھ تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: میں تم میں دو چیزیں چھوڑکر جا رہا ہوں ان کو جب تک مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے ایک اللہ کی کتاب ہے اور دوسری اس کے نبی کی سنت ۔‘‘

(( عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ ﷺ يَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اَللهُمَّ اشْهَدْ، فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الغَائِبَ)) (رواہ البخاري : بَابُ الخُطْبَةِ أَيَّامَ مِنًى)

’’سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا، تو کیا جواب دو گے؟ لوگوں نے کہا، ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے پوری ذمہ داری اور خیر خواہی کے ساتھ اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : اے اللہ، گواہ رہنا۔ اے اللہ گواہ رہنا۔ اے اللہ گواہ رہنا۔ہاں سنو، جو حاضر ہیں، وہ یہ باتیں غیر حاضر لوگوں تک پہنچا دیں ۔‘‘

الوداع اے امت الوداع

﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَآىِٕقَةُ الْمَوْتِ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَ مَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ﴾ (آل عمران: ۱۸۵)

’’ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم پورے پورے اجر دیے جائو گے،جو شخص آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا یقیناً وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان کے سِوا کچھ نہیں ہے۔‘‘

﴿كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍۚ وَّ يَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ﴾ (الرحمٰن: ۲۶، ۲۷)

’’ جو زمین پر ہے وہ فنا ہونے والا ہے۔ اور صرف تیرے رب کی جلیل اور کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔‘‘

﴿وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ﴾ (الانبیاء: ۳۴)

’’اوراے نبیﷺ ہم نے آپ سے پہلے کسی انسان کے لیے ہمیشہ رہنا نہیں بنایا اگر آپ فوت ہو جائیں گے تو کیا یہ لوگ زندہ رہیں گے؟

﴿وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ يَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيْـًٔا١ؕ وَ سَيَجْزِي اللّٰهُ الشّٰكِرِيْنَ﴾ (آل عمران: ۱۴۴)

’’محمدعربی ﷺ رسول ہیں ان سے پہلے رسول گزر چکے ہیں۔ کیا ان کو موت آجائے یا یہ شہید کر دئیے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائو گے؟ جو کوئی اپنی ایڑیوں پر پھر جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نہیں بگا ڑسکے گا۔ اللہ تعالیٰ عنقریب شکر گزاروں کو بدلہ دے گا۔‘‘

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَمْرٍو السَّلَمِیِّ أَنَّهٗ سَمِعَ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِیَة رضی اللہ عنہیَقُوْلُ وَعَظَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَوْعِظَةً ذَرَفَتْ مِنْہَا الْعُیُوْنُ وَوَجِلَتْ مِنْہَا الْقُلُوْبُ فَقُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنَّ هٰذِہٖ لَمَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَمعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَمْرٍو السَّلَمِیِّ أَنَّهٗ سَمِعَ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِیَةَ یَقُوْلُ وَعَظَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَوْعِظَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُیُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ فَقُلْنَا یَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ هَذِہِ لَمَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَیْنَا قَالَ قَدْ تَرَکْتُکُمْ عَلَی الْبَیْضَآءِ لَیْلُہَا کَنَہَارِہَا لاَ یَزِیْغُ عَنْہَا بَعْدِیْٓ إِلاَّ هَالِكٌ مَنْ یَّعِشْ مِنْکُمْ فَسَیَرَی اخْتِلاَفًا کَثِیْرًا فَعَلَیْکُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِیْ وَسُنَّةِ الْخُلَفَآئِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَهْدِیِّیْنَ عَضُّوا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ وَعَلَیْکُمْ بِالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِیًّا فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُ کَالْجَمَلِ الأَنِفِ حَیْثُمَا قِیْدَ انْقَادَ (رواہ ابن ماجة، فی المقدمة: باب اتِّبَاعِ سُنَّةِ الْخُلَفَآءِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْن)

’’امام عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی کہتے ہیں کہ انہوں نے عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ ایک دفعہ ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے وعظ فرمایا۔ یہ ایساوعظ تھا کہ ہمارے آنسو جاری ہوگئے اور دل لرز گئے۔ ہم نے کہا اے اللہ کے رسولﷺ! ایسا وعظ تو الوداع ہونے والے کا ہوتا ہے ۔ آپ ہمیں مزید کیا نصیحت فرماتے ہیں ؟فرمایا: بے شک میں تمہیں ایسے مشن پر چھوڑے جا رہا ہوں جس کی راتیں اس کے دنوں کی طرح ہے ۔اس کو چھوڑنے والا ہلاک ہو جائے گا۔تم میں سے جو زندہ رہا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔ اس وقت میری اور ہدایت یافتہ خلفاء کے طریقے جس کو تم پہچان لواسے تم اپنے دانتوں کے ساتھ مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور امیر کی اطاعت کو لازم جاننا ،اگرچہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ۔یقینا مومن اس اونٹ کی مانند ہے جس کی ناک میں نکیل ڈالی گئی ہو۔ اسے جہاں باندھا جائے وہ بندھا رہتا ہے۔‘‘

﴿اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ وَ رَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا﴾ ( النصر)

’’امام عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی کہتے ہیں کہ انہوں نے عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ ایک دفعہ ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے وعظ فرمایا۔ یہ ایساوعظ تھا کہ ہمارے آنسو جاری ہوگئے اور دل لرز گئے۔ ہم نے کہا اے اللہ کے رسولﷺ ! ایسا وعظ تو الوداع ہونے والے کا ہوتا ہے ۔ آپ ہمیں مزید کیا نصیحت فرماتے ہیں ؟فرمایا: بے شک میں تمہیں ایسے مشن پر چھوڑے جا رہا ہوں جس کی راتیں اس کے دنوں کی طرح ہے ۔اس کو چھوڑنے والا ہلاک ہو جائے گا۔تم میں سے جو زندہ رہا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔ اس وقت میری اور ہدایت یافتہ خلفاء کے طریقے جس کو تم پہچان لواسے تم اپنے دانتوں کے ساتھ مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور امیر کی اطاعت کو لازم جاننا ،اگرچہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ۔یقینا مومن اس اونٹ کی مانند ہے جس کی ناک میں نکیل ڈالی گئی ہو۔ اسے جہاں باندھا جائے وہ بندھا رہتا ہے۔‘‘

’’جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح نصیب ہو جائے۔اور اے نبی! آپ دیکھ لیں کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔سو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اسے یاد کرو اور اس سے مغفرت مانگو، بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘

(( عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رضی اللہ عنه قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ: إِنَّ اللهَ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللهِ، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رضی اللہ عنه فَقُلْتُ فِي نَفْسِي مَا يُبْكِي هَذَا الشَّيْخَ؟ إِنْ يَكُنِ اللهُ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللهِ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ هُوَ العَبْدَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا)) (رواہ البخاری: بَابُ الخَوْخَةِ وَالمَمَرِّ فِي المَسْجِدِ)

’’سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا : بیشک اﷲ تعالیٰ نے ایک بندے کو دنیا میں ہے اور جو اﷲ تعالیٰ کے پاس ہے ان کے درمیان اختیار دیا ہے کہ وہ جس کا چاہے انتخاب کر ے، اُس بندے نے اُس چیز کو اختیار کیا جو اﷲ کے پاس ہے۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ ہم نے اُن کے رونے پر تعجب کیا کہ نبی اکرمﷺ تو کسی بندے کے بارے فرما رہے ہیں کہ اسے اختیار دیا گیا ہے۔ حالانکہ اس سے مراد خود آپe تھے اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ صاحبِ بصیرت تھے۔‘‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے