بر اعظم پاک و ہند علوم دینیہ اور قرآن و سنت کی دعوت و تبلیغ کا بہت بڑا مرکز رہا ہے۔ہند وپاک میں اپنے علم و فضل سے اسلام کا پرچم سر بلند رکھنے والے سینکڑوں جید علما کرام کی دینی خدمات تاریخ کا حصہ ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ بیشتر علما کرام نے قومی سیاست میں بھی ہمہ جہت خدمات انجام دی ہیں اور اسلام کی نظر یاتی، معاشی، سماجی اور سیاسی اقدار کی حفاظت کے لیے اپنے خون سے تاریخ رقم کی ہے۔اگر آج کے جدید فکر و فلسفہ اور گمراہ کن معاشرے میں اسلامی اقدار کا وجود ، مساجد کا قیام اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی روح باقی ہے تو پاسبانِ منبر و محراب اور قال اللہ و قال الرسولﷺ کی صدائیں بلند کرنے والے دینی مدارس کی مرہونِ منت ہیں۔

یہ دینِ متین کے وہ سودائی ہیں جنھوں نے فقر و فاقہ جھیل کر اور دنیا کے عیش و عشرت کو ٹھکرا کر دین کے پودے کی آبیاری کی ہے اور اسے کبھی مرجھانے نہیں دیا اور آج وہ پوداایک تناور درخت کی مانند سر اٹھائے کھڑا ہے اور ہزاروں قرآن و سنت کے حصول کےمتلاشیوں کو اپنے سایہ علم و عرفان سے فیضیاب کر رہا ہے۔

دینی مدارس کا نظم و نسق، ادب و احترام، ستھرااور پاکیزہ ماحول ، استاذ و تلمیذ کے ما بین عزت و تکریم کا تعلق، قرآن سنت ، فقہ و دین کے بنیادی فلسفہ کا شعوری ادراک، عزت نفس اور احترامِ آدمیت کا مکمل شعور مدارس کی تعلیمات کا منفرد اور اساسی وصف ہے۔ماضی میں بھی عالم اسلام میں عموماً اور مشرقی علاقوں میں خصوصاً مدارس کی اس قدر بہتات تھی کہ ابنِ جریر جو اندلس کا مشہور سیاح تھا، مدارس کی اتنی کثیر تعداد ، ان کے اوقاف اور وافر غذائی پیداوار دیکھ کر ششدر رہ گیا اور اس نے اندلس کے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ مشرق جاکر علم حاصل کریں۔

دینی مدارس کی عظمت و اہمیت ہر باشعورانسان سمجھتا ہےاور جن کو اللہ نے عقل ِ سلیم اور فہمِ صحیح کی دولت سے نوازا ہے وہ ان مدارس کی عزت و قدر کرتے ہیں اور ان کے وجود کو ایک عظیم نعمت تصور کرتے ہیں۔بلا شبہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہےکہ ان مدارس نے بر صغیر میں بالخصوص دین اسلام کی حفاظت میں بڑا قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے۔اور تعلیماتِ اسلامی کی اشاعت میں ناقابلِ فراموش خدمات انجام دی ہیں۔دنیا کے ہنگاموں میں خاموش لیکن ٹھوس انداز میں یہ مدارس خدمتِ دین میں نہایت یکسوئی کے ساتھ مصروفِ ہیں اور معاشرے کی بنیادی دینی ضرورتوں کی تکمیل اور صالح معاشرہ کی تشکیل میں شب و روز لگے ہوئے ہیں۔سرد و گرم حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے، شیریں و تلخ مراحل سے گزرتے ہوئے ، موجِ بلاخیز کے تیز و تند تھپیڑوں سے نبردآزما ہوتے ہوئے انسانیت کی تعمیر، افراد کی تیاری اور تحفظِ دین کے لیے ہمہ وقت مصروف ہیں۔

ان مدارس کی ابتدا صفۂ بنویﷺ سے ہوتی ہے اور آج تک وہ اپنی منفرد خصوصیت کے ساتھ مصروفِ خدمات ہیں۔ ان بوریا نشینوں کی خاموش لیکن انقلاب آفریں خدمات کے اثرات و ثمرات کا ادراک کرتے ہوئے حکیم الامت علامہ اقبال نے کہا تھا کہ : «ان مکتبوں کو اسی حالت میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہیں مدارس میں پڑھنے دو، اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟ جو کچھ ہوگا اسے میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آیا ہوں۔اگر ہندوستانی مسلمان ان مدرسوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح ہوگا جس طرح اندلس میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے با وجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمرا کے نشانات کے سوا اسلام کے پیروؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا۔»

روزِ اول سے دین اسلام کا تعلق تعلیم و تعلم اور درس و تدریس سے رہا ہے۔نبی کریم ﷺ پر سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی وہ تعلیم سے متعلق تھی۔اس وحی کے ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی ارقم بن ابی ارقم کے گھر میں’’دارِ ارقم ‘‘کے نام سے ایک مخفی مدرسہ قائم کیا۔صبح و شام کے اوقات میں صحابہ کرام وہاں مخفی انداز میں آتے اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے، یہ اسلام کی پہلی درس گاہ تھی۔ہجرت کے بعدمدینہ منورہ میں جب اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا تو وہاں سب سے پہلے آپ ﷺ نے مسجد کی تعمیر کی جو مسجد نبویﷺ کے نام سے موسوم ہوئی۔اس کے ایک جانب ایک چبوترا (صفہ) بھی تعمیر کرایا، یہاں بیٹھ کر آپ ﷺ مقامی و بیرونی صحابہ کرام کو قرآن مجید اور دین کی تعلیم دیتے تھے۔یہ اسلام کا پہلا باقائدہ و اقامتی مدرسہ تھا جو تاریخ میں ’’اصحابِ صفہ‘‘ کے نام سے معروف ہے۔پھر جہاں جہاں مسجدیں قائم ہوتی گئیں وہاں ساتھ ہی مدرسے بھی قائم ہوتے گئے۔اسلامی تاریخ ایسے مدارس اور حلقاتِ حدیث سے بھری پڑی ہے کہ غلبہ اسلام ، ترویج دین اور تعلیمات اسلامیہ کو عام کرنے میں جن کی خدمات نے نمایاں کردار ادا کیا۔

پاک و ہند میں سلفی فکر و منہج کے حامل مدارس کی اشاعتِ دین، دعوت وتبلیغ ، تصنیف و تالیف، شروعِ حدیث، درسِ وتدریس اور دینی صحافت میں بڑی نمایاں خدمات موجود ہیں۔ان سلفی مدارس میں مسند سید نذیر حسین محدث دہلوی الحدیث رحمانیہ، دہلی، جامعہ سلفیہ، بنارس، جامعہ امام ابن تیمیہ، بہار ہند، جامعہ سلفیہ ،فیصل آباد، جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن، جامعہ محمدیہ ، گوجرانوالہ، مدرسہ رحمانیہ جامعہ لاہور الاسلامیہ، جامعہ اہلِ حدیث لاہور، جامعہ ستاریہ اسلامیہ ،جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی ، جامعہ اثریہ جہلم، جامعہ اثریہ پشاور،جامعہ دعوت حق کوئٹہ اور جامعہ دعوۃ الحق السلفیہ ستیانہ فیصل آبادقابلِ ذکر ہیں۔ان مدارس کے فاضلین و فیض یافتگان کا شمار عالم اسلام کی نامور شخصیات میں ہوتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی ملک میں دین تسلسل کے ساتھ اور پائیدارطریقہ پر باقی رہ سکتا ہے تو وہ دینی تعلیم سے ہی باقی رہ سکتا ہے، ورنہ مشاہدہ میں یہ آیا ہے کہ جن علاقوں میں دینی تعلیم کا سلسلہ بند ہوگیا وہاں سے اسلام بھی بالکل ختم ہوگیا۔مدارس کی عظمت، اہمیت اور ان کی ذمہ داریوں کو بہت سے علما اور اکابر نے اپنی تقریرو تحریر میں پیش کیا ہے اور فکر و تردد کے ساتھ ان کی عظمتوں سے انسانوں کو رو شناس کروایا۔

جب ہندوستا ن میں حکومتِ مغلیہ کا چراغ گل ہوگیا اور مسلمانوں کاسیاسی قلعہ ان کے ہاتھوں سے نکل گیا تو بالغ نظر اور صاحب فراست علما نے جابجا اسلام کی شریعت و تہذیب کے قلعے تعمیر کر دیے، انھیں قلعوں کا نام «عربی مدارس» ہے۔اور آج اسلامی شریعت و تہذیب انھیں قلعوں میں پناہ گزین ہے۔ اور اس کی ساری قوت و استحکام انھیں قلعوں پر موقوف ہے۔

جب دنیا میں ہر حقیقت کا انکار کیا جارہا ہو اور کہا جارہا ہو کہ سوائے طاقت کے کوئی حقیقت ہے ہی نہیں ، جب دنیا میں ڈنکے کی چوٹ پر کہا جارہا ہو کہ دنیا میں صرف ایک حقیقت زندہ ہے اور سب حقیقتیں مر چکیں، اخلاقیات مر چکے، صداقت مر چکی، غیرت مر چکی، شرافت مر چکی، خوداری مر چکی،انسانیت مر چکی، صرف ایک حقیقت باقی ہے اور وہ نفع اٹھانا اور اپنا کام نکالنا ہے۔اور ہر قیمت پر عزت بیچ کر، شرافت بیچ کر ،ضمیر بیچ کر، اصول بیچ کر ، خودادری بیچ کر، صرف چڑھتے سورج کا پجاری بننا ہے، اس وقت مدرسہ اٹھتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ انسانیت مری نہیں ہے، نقصان میں نفع ہے ، ہار جانے میں جیت ہے، بھوک میں وہ لذت ہے جو کھانے میں نہیں،کبھی شر سے بھی خیر بر آمد ہوتی ہے۔ اس وقت مدرسہ یہ اعلان کرتا ہے کہ ذلت بعض موقعہ پر وہ عزت ہے جو بڑی سے بڑی عزت میں نہیں ، مدرسہ یہ واشگاف الفاظ میں اعلان کرتا ہے کہ سب سے بڑی طاقت اللہ کی طاقت ہے سب سے بڑی صداقت حق کی صداقت ہے۔

دینی مدارس اور سیکولر تعلیمی اداروں میں ایک خاص فرق یہ ہے کہ دینی تعلیمی اداروں نے کسی وقت بھی غلامی کو ذہنی طور پر قبول نہیں کیا تھا۔ اگرچہ قومی بہاؤ میں انھیں بھی وقت کے دھارے کے ساتھ بہنا پڑا لیکن انھوں نے اس کے باوجود بھی اپنا جدا گانہ تشخص برقرا ر رکھا۔ اس کے مقابلے میں سیکولر تعلیمی ادارے مغربی یورش کے ہر حملے کے آگے سپر ڈالتے چلے گئے۔چنانچہ وہ «گورے» نہ بن سکنے کی شرمندگی میں اپنی اصل حقیقت سے ہمیشہ منہ ہی چھپاتے رہے۔دورِ غلامی سے آج تک اس طبقے نے انگریزوں جیسے سو رنگ ڈھنگ اپنائے لیکن یہ جب بھی گوروں کے سامنے گئے، احساسِ ندامت ہی لے کر پلٹے۔جبکہ دینی مدارس نے اپنی مقامی تہذیب و ثقافت کو دندان سخت سے دبائے رکھا اور کتنے ہی معاشی و معاشرتی سخت سے سخت تر وار سہتے رہے، لیکن اپنی اصل سے جُڑ ے رہے اور اپنی پہچان سے دستبردار نہ ہوئے۔اس آزاد منش رویے نے انھیں تاریخ کے کچھ ایام میں تنہا بھی کردیا اور ان کےہاں سے کچھ ایسےفیصلے بھی صادر ہوئے جسے وقت نے قبول نہ کیا لیکن اس نقصان کی سرمایہ کاری نے بھی انھیں کسی بھی بڑے خسارے سے محفوظ رکھا کیونکہ آزادی کا ایک خطیر خزانہ ان کے پہلوئے ملبوس میں موجود تھا۔

 یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ دینی مدارس کے باعث ہی امت مسلمہ نے غلامی کا طوق اتار پھینکا ہے اور آزادی کے سفر میں ارتقا بھی انہیں اداروں کا مرہونِ منت ہے۔گزشتہ ایک عرصے سے دینی تعلیمی اداروں نے سیکولر ازم کے وار سہے ہیں اور اپنا دفاع کرتے رہے ہیں اور آج تک اپنا وجود و جواز باقی رکھے ہوئے ہیں جبکہ سیکولر تعلیمی ادارے اپنا جواز کھو چکے ہیں اور انھوں نے قوم کو پژمردہ، مفلوج، ذہنی پسماندہ، اغیار سے شکست خوردہ اور مایوس کن افرادی قوت فراہم کی ہے۔

وطن عزیز کے طول و عرض میں علوم دینیہ اور تہذیب و تمدن کے چراغوں کو فروزاں کیے ہوئے یہ دینی مدارس رنگ و نسل کی تفریق کے بغیر اسلامی اقدار اور روایات کے فروغ کے لیے شب و روز کوشاں ہیں۔مدارس کا سب سے بڑا کردار قرآن و حدیث کی زبان عربی کو اس کی پوری صحت کے ساتھ زندہ رکھنا ہے، جبکہ عصری علوم کے ادارے اس عظیم زبان سے محروم ہیں اور مغربی زبان اور اس کے فکر و فلسفہ کو حرزِ جاں بنائے بیٹھے ہیں، عربی اور قومی زبان ان کے لیے شجرِ ممنوعہ ہے اور وہ اپنا احساسِ کمتری نئی نسل کے ذہنوں میں بھی انڈیل رہے ہیں۔دینی مدارس سے بغض و عداوت اور ان پربے جا تنقید اور مختلف حربو ں سے ان کو ہراساں کرنے کا اصل سبب ،مغرب کے ایجنڈے کی تکمیل ہے جو اس نے عرصہ دراز سے امت مسلمہ پر مسلط کیا ہواہے۔عسکری میدانوں میں اپنی شکست خوردگی کو محسوس کر کے اب مغرب نے اپنا ہدف تبدیل کر دیا ہے اور وہ امت مسلمہ کی نئی نسل کو اور ان لوگوں کو جو اسلام کو اپنی ذہنی اور عملی عیاشیوں کے لیے سد راہ سمجھتے ہیں ،چارے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

موجودہ حالات کے پیش نظر علما و طلبا کو یہ چیز مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ لادین طبقہ ہماری صفوں میں اختلاف برپا کر کے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے درپے ہے۔ کفر کو بھی اگر اس وقت خطرہ ہے تو دینی مدارس سے ہے کہ یہ دین کو اصلی حالت میں باقی رکھنے کا ذریعہ ہیں۔

سیموئیل ہینٹنگٹن جو کتاب» تہذیبوں کا تصادم» کا مصنف ہے ، اپنی کتاب «ہم کون» ؟ میں لکھتا ہے کہ» ہمارا دشمن اسلام ہے اور خطرہ صرف اسلام سے ہے۔اس میں اس نے یہ بھی کہا کہ اسلام کی طاقت کا منبع اسلامی مدارس ہیں اس لیے ضروری ہے کہ ان کو بند کر دیا جائے یا ان کے نصاب کو جدیدیت اور مغربیت سے ہم آہنگ کردیں۔» چنانچہ ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے کہ مدارس اسلام کا آخری مورچہ ہیں ان کا ختم ہونا پورے تمدن کا سقوط ہے۔کفر جن خطر ناک منصوبوں کے ساتھ مدارس کو ختم کرنے اور کمزور کرنے میں لگا ہوا ہےوہ ہم سب کے لیے قابل غور ہے۔انھیں منصوبوں میں مدارس کے خلاف بدگمانیاں پیدا کرنا اور مدارس سے وابستہ حضرات کے درمیان خلیج پیدا کرنا ان کا اہم مقصد ہے۔ان سب سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے مدارس کے نظام کو اکابر کے نقش قدم پر چلانا ہماری زندگی کا اہم مشن ہونا چاہیے تاکہ اسلام کے یہ قلعے مزید مستحکم و مضبوط ہوسکیں۔

مدارس پر تنقید کرنے والوں سے سوال کیا جائےکہ آج عصری تعلیم جو ایک انگریز کی وضع کر دہ ہے اس کو حاصل کر کے کتنے لوگوں نے اپنے کردا ر و عمل سے پرسکون، راحت بخش اور ایک فلاحی معاشرہ تشکیل دینے کی مثال قائم کی ہے۔آج عصری تعلیم کا مقصد محض ایک اچھی ملازمت او ر اعلیٰ اسٹیٹس کا حصول ہے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ آج تک کسی دینی ادارے میں دہشت گردی اور طلبہ کے درمیان قتل و غارت کی ایک مثال بھی پیش نہیں کی جاسکی۔ اس کے بر خلاف عصری علوم کے مراکز خواہ وہ کوئی کالج ہو یا یونیور سٹی ، ان میں آئے دن طلبہ کے مابین کشت و خون ہوتا رہتا ہے۔عصری علوم کے اداروں میں گروہ بندیاں، سیاسی رعب و دبدبہ، بدمعاشیاں، اسلحہ کا آزادانہ استعمال روزمرہ کی بات ہے۔حد یہ ہے کہ طلبہ کی مجرمانہ سر گرمیوں سے اسا تذہ بھی امن میں نہیں ہیں۔

اس کے برعکس دوسری جانب چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے دینی مدرسے یا دار العلوم کے بارے میں اس حوالے سے ادنیٰ مثال بھی نہیں دی جاسکتی۔یہ نمایاں فرق دینی اداروں کی امن پسندی اور اخوت و محبت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔مسلمانوں کو اپنے فکری اور دینی تشخص سے محروم کر کے انھیں سیکولر دھارے میں شامل کرنا مغرب کا اہم ترین ایجنڈا ہے۔مغربی ذرائع ابلاغ کامسلم ممالک تک پہنچنا اور اس کے ذریعے سے عالمگیریت کے تصور کا فروغ اسی حکمتِ عملی کا ایک پہلو ہے۔مسلمانوں کو ان کے بنیادی عقائد ، فکری اور نظر یاتی اساس سے محروم کرنے کے لیے انھیں اسلام سے متنفر کرنا ضروری ہے ، جس کی آسان ترین صورت یہ ہے کہ ان کے ذہنوں میں ایک طرف اسلامی تعلیمات کو فرسودہ،بے مقصد اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے غیر ہم آہنگ ثابت کیا جائے اور دوسری جانب مدارس کو دہشت گردی کے اڈے اور معاشرے میں منافرت پھیلانے کے مراکز قراردینے کا پرو پیگنڈا جاری رکھا جائے، چنانچہ مغرب آج اپنی اس اسی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔

بلا شبہ دینی مدارس کا وجود سراپا خیر و برکت اور ان کا منصب تعلیم و تعلم نہایت ہی اونچا اور قابلِ فخر ہے۔یہ دینی ادارے انبیائے کرام ﷩کی وراثت کے امین ، شریعت الٰہی کے محافظ اور امت محمدیہ ﷺ کے معلم ہیں۔قرآنِ حکیم اور احادیث نبویہﷺ میں دین کی تعلیم و تعلم کے جو فضائل آئے ہیں ، ان سےکسی کو انکار کی مجال نہیں،لیکن جتنا یہ منصب عالی ہے اس کی قیمت بھی اتنی ہی اونچی ہے اور رضائے الٰہی اور نعیم جنت ہوسکتی ہے۔اگر اس گوہرِ بے بہا کی قیمت متاعِ دنیا کو ٹھیرا لیا گیا تو اس سے بڑھ کر کوتاہ نظری کیا ہوسکتی ہے؟ حدیث میں صاف اور صریح وعید وارد ہے:

« جس نے وہ علم حاصل کیا جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوسکتی ہے، مگر وہ اس کو صرف متاعِ دنیا کے لیے حاصل کرتا ہے تو اسےقیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نصیب نہ ہوگی»۔(ابن ماجہ و ابی داوؤد)

ہمارے اکابر کے لیے تعلیم و تدریس، تصنیف و تالیف، دعوت و ارشاد اور امامت و خطابت کے مشاغل کبھی شکم پری اور جاہ طلبی کا ذریعہ نہیں رہے، بلکہ یہ خالص دینی مناصب تھے اور بزرگوں کے اخلاص و تقویٰ، خلوص و للہیت ، ذکر و شغل اور اتباعِ سنت نے ان مناصب کے وقار کو اور چار چاند لگا رکھے تھے۔لیکن ہر انسان اس کا تعلق خواہ زندگی کے کسی شعبہ سے ہو بشری کمزوریاں بہرحال ہر کسی کے ساتھ موجود ہیں جس کے زیر اثر کبھی انسان سے اعما ل میں کوتاہیاں ، لغزشیں، بھول چوک اور نسیان کا معاملہ بھی ہوجاتا ہے۔۔۔اس تناظر میں مشاہدہ میں یہ آیا ہے کہ کچھ عرصے سے دینی مدارس کی اصل روح دن بہ دن مضمحل ہوتی جارہی ہے، اساتذہ و طلبہ میں شب خیزی ، ذکر و تلاوت، زہد و قناعت، اخلاص و للہیت اور محنت و جاں فشانی کی فضا کم ہورہی ہے۔نمازِ فجر کے بعد تلاوتِ قرآن کی جگہ عام طور پر اخبار بینی لے رہی ہے۔ریڈیو ، ٹی وی اور انٹرنیٹ جیسی منحوس چیزیں جدید تمدن نے گھر گھر پہنچا دی ہیں اور ہمارے دینی قلعے ، دینی مدارس بھی ان وباؤں سے متاثر ہورہے ہیں ،۔یہ درد ناک صورتِ حال ہے جس نے اربابِ بصیرت اہلِ دل کو بے چین کر رکھا ہے۔مدارس دینیہ کے اربابِ بست و کشاد کو اس تشویشناک مسئلے کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے۔اس سے پہلے کہ یہ اور اس جیسے دوسرے شیطانی وار مدارس کی صاف ستھری فضا کو اپنی مسموم کثافت سے مکدر کر دیں۔کیونکہ ماحول اور فکر و عمل کا بگاڑ ذود اثر بھی ہوتا ہے اور ہلاکت آمیز بھی!

حوالہ جات

1۔ مدارس اسلامیہ ۔۔۔ سید ابو الحسن علی ندویؒ

2۔ دینی مدارس اور سیکولر تعلیمی ادارے۔۔۔ ڈاکٹر ساجد خاکوانی

3۔تاریخ مرکزی دارالعلوم ۔۔۔محفوظ الرحمٰن فیضی

4۔ دینی مدارس کا مزاج۔۔۔قاری سعید الرحمٰن

5۔ دینی مدارس کے علما و طلبہ کے لیے لمحہ فکریہ۔۔۔مولانا محمد یوسف بنوری ؒ

By admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے