بَاب هَلْ يُدْخِلُ الْجُنُبُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَى يَدِهِ قَذَرٌ غَيْرُ الْجَنَابَةِ

کیا جنبی اپنا ہاتھ برتن میں دھونے سے پہلے ڈال سکتا ہے، جب کہ اس کے ہاتھ پر جنابت کے علاوہ کوئی نجاست نہ ہو

35-261- حَدَّثَنَا عَبْدُاللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ أَخْبَرَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ تَخْتَلِفُ أَيْدِينَا فِيهِ .

عبداللہ بن مسلمہ، افلح بن حمید، قاسم، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں، میں اور نبی کریم ﷺایک برتن سے غسل کرتے تھے اور ہمارے ہاتھ باری باری اس میں پڑتے تھے۔

Narrated Aisha: The Prophet and I used to take a bath from a single pot of water and our hands used to go in the pot after each other in turn.

36-264- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ عَبْدِاللهِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ زَادَ مُسْلِمٌ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ شُعْبَةَ مِنَ الْجَنَابَةِ

ابوالولید، شعبہ، عبداللہ بن عبداللہ بن جبیر،سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺاور آپ کی ازواج میں سے کوئی زوجہ دونوں مل کر ایک برتن سے غسل کرتے تھے۔اس روایت میں مسلم بن ابراہیم اور وہب بن جریر نے بواسطہ شعبہ یہ اضافہ بیان کیا ہے کہ وہ غسل جنابت کا ہوتا تھا۔

Narrated Anas bin Malik: The Prophet and one of his wives used to take a bath from a single pot of water. (Shu›ba added to Anas›s Statement «After the Janaba»)

معانی الکلمات

أَغْتَسِلُمیں غسل کرتاہوں یا کروں گا
إِنَاءٍبرتن
تَخْتَلِفُباری باری
أَيْدِينَایَد کی جمع بمعنی ہمارے ہاتھ

تراجم الرواۃ

نام ونسب: عبد الله بن مسلمة بن قعنب القعنبي الحارثي

کنیت: أبو عبد الرحمن المدني البصري

محدثین کے ہاں مقام ومرتبہ:امام ابن حجررحمہ اللہ کے ہاں ثقہ عابد جبکہ امام ابو حاتم رحمہ اللہ کے ہاں ثقہ حجہ تھے۔

وفات:221 ہجری مکہ مکرمہ میں وفات پائی جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ بصرہ میں وفات پائی۔

نام ونسب: أفلح بن حُميد بن نافع الأنصاري النجاري

کنیت: أبو عبد الرحمن المدني

محدثین کے ہاں مقام ومرتبہ: امام عبد اللہ بن احمد نے اپنے والد گرامی امام احمد بن حنبل سے افلح کے بارے دریافت کیا تو انہوں نے جواب میں ان کی تعدیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ صالح تھے۔امام ابن حجر رحمہ اللہ کے ہاں ثقہ جبکہ امام ذہبی رحمہ اللہ کے ہاں صدوق تھے۔

وفات:۱۵۸ہجری

نام ونسب: القاسم بن محمد بن أبي بكر الصديق القرشي التيمي

کنیت: ابو محمد یا ابو عبد الرحمن المدنی

محدثین کے ہاں مقام ومرتبہ:امام ابن حجر رحمہ اللہ کے ہاں ثقہ جبکہ امام ذہبی رحمہ اللہ کے ہاں فقیہ کے اوصاف سے متصف تھے۔اور ان کا شمار فقہاء سبعہ میں ہوتاہے۔

وفات:۱۰۶ ہجری القدید کے مقام پر ہوئی۔

سيده عائشة رضي الله عنها کا ترجمہ حدیث نمبر 14 میں ملاحظہ فرمائیں۔

أبو الوليدکا ترجمہ حدیث نمبر 3 میں ملاحظہ فرمائیں۔

شعبة بن الحجاج کا ترجمہ حدیث نمبر 2میں ملاحظہ فرمائیں۔

عبد الله بن عبد الله بن جبرکا ترجمہ حدیث نمبر 13 میں ملاحظہ فرمائیں۔

سيدنا أنس بن مالكکا ترجمہ حدیث نمبر 2 میں ملاحظہ فرمائیں۔

تشریح:

 ان احادیث کے بیان کرنے سے امام بخاری رحمہ اللہ کا ایک مقصد تو پانی میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھ دھونے کو ثابت کرنا ہے اور دوسرا یہ کہ ضرورت کے وقت ہاتھ دھوئے بغیر بھی پانی میں ہاتھ ڈال سکتے ہیں اور چلو میں پانی نکال سکتے ہیں، اگرچہ شریعت کی نظر میں پسند یدہ یہی ہے کہ پہلے ہاتھ دھوئے جائیں پھر انھیں پانی میں ڈالا جائےاگر ہاتھ خشک ہے اور اس پر کوئی ظاہری نجاست بھی نہیں ہے تو جنبی کا غسل والے پانی میں ہاتھ ڈالنے سے پانی ناپاک نہیں ہوگا ۔ امام ابن قدامہ رحمہ اللہ نے نقل فرمایا ہے کہ جس پانی میں حائضہ یا جنبی اپنے ہاتھ ڈال دیں وہ پاک ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں اِلّا یہ کہ ان کے ہاتھوں پر نجاست لگی ہو۔ (المغنی لابن قدامہ ۱/۲۸۰)

 امام بخاری رحمہ اللہ کا منشا یہ ہے کہ یہ تمام احادیث مطلق ہیں اور ان کا تعلق جنابت سے ہے، پانی لینے کی کوئی بھی صورت ہو اگر ہاتھ پر کوئی ظاہری نجاست لگی ہوئی نہ ہو تو غسل سے قبل پانی یا برتن میں ہاتھ ڈالنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی نجاست لگی ہو تو اسے غسل سے قبل ضرور دھو لینا چاہیے، اگر اسے دھوئے بغیر پانی یا برتن میں ہاتھ ڈال دیا تو اس سے پانی نجس ہو جائے گا۔

By admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے