رمضان کے دوران عمرہ کی سعادت کے متعلق فضائل، رسول اللہ ﷺ کا فرمان کہ جس نے رمضان المبارک کے دوران عمرہ کیا اس کا عمل ایسا ہے کہ گویا اس نے میرے ساتھ ، میری معیت میں حج کیا ہو‘‘ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کو جان کر آپ ﷺ کی محبت، آپ ﷺ کے ساتھ کا سوچ کر سرشاری کی کیفیت، اللہ کے گھر کی زیارت کا شوق، اسی قسم کے جذبات لیے رمضان 1436ھ یعنی جولائی 2015ء میں ایران میں پاکستانی قونصل جنرل رؤوف احمد اپنی اہلیہ، صاحبزادی اور نوعمر نواسی کو ہمراہ لیے مکہ المکرمہ پہنچے۔ ہوٹل میں سامان رکھنے کے بعد اپنے دستی بیگ لیے حرم میں آئے ہر حاجی اور معتمر کی طرح اپنے مقدر پر نازاں اور بزبان شاعر ؎

حیرت سے خود کو کبھی دیکھتا ہوں

اور دیکھتا ہوں کبھی میں حرم کو

لایا کہاں مجھ کو میرا مقدر

اللہ اکبر اللہ اکبر

طواف وغیرہ کے بعد سعی کے لیے صفا مروہ پہنچے تو خواتین کا خیال کرتے ہوئے ان کے سفری دستی بیگ لے کر ایک کندھے پر لٹکائے اور دوسرے کندھے پر نواسی کو بٹھایا اور سعی کے لیے ایک عظیم خاتون کی سنت پر عمل کرتے ہوئے صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگانا شروع کر دیئے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ بے نیاز ذات بھی ہے اور اپنے بندوں سے بہت زیادہ پیار بھی کرتاہے۔ اپنے بندوں کو قریب کرنے کے لیے وہ وقتاً فوقتاً ایسے حالات سے دوچار فرماتاہے کہ وہ اس کی طرف رجوع کرنے کے علاوہ کوئی راہ نہیں پاتے۔ رؤوف احمد کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ پیش آیا۔ صفا مروہ کی سعی کے دوران ان کی اہلیہ اور صاحبزادی ان سے بچھڑ گئیں، بہت تلاش کے باوجود جب وہ نہ ملیں تو رؤوف احمد انتہائی پریشانی کے عالم میں مطاف میں آئے شلوار قمیض میں ملبوس شخص ( عبد اللہ) سے کسی ایسے دفتر کا پتہ دریافت کیا جہاں گمشدہ افراد کے متعلق اعلان ہوسکے۔ ایسا تو کوئی دفتر نہیں جہاں اعلان ہوسکے، البتہ ایسا دفتر ہے جہاں بچھڑنے والوں کو پہنچا دیا جاتاہے چنانچہ وہاں جاکر دیکھا تو وہاں اپنے اہل خانہ کو نہ پاکر رؤف احمد کی پریشانی مزید بڑھ گئی ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ اب تو گھر کے ہر فرد کے پاس اپنا موبائل فون ہوتاہے تو کیا آپ کی اہلیہ یا صاحبزادی کے پاس موبائل نہیں جس پر آپ فوری طور پر رابطہ کریں تو رؤوف احمد کا ہر بار بڑی اذیت کے ساتھ یہی جواب ہوتا کہ ہمارے تو وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ ایسا ہوسکتاہے ورنہ میں سب موبائل اور دیگر سامان ایک بیگ میں ڈال کر اپنے پاس نہ رکھتا۔ اللہ کے گھر میں اللہ کا مہمان ہوتے ہوئے اللہ ہی سے اپنے دل کا حال اور پریشانی سے نجات کے لیے نماز اور دعا کا سہارا لینے کا مشورہ مانتے ہوئے رؤوف احمد نے دو رکعت نماز پڑھ کر مطاف میں اللہ کے گھر کے سامنے التجا کرنا شروع کی تو دل کا غبار آنکھوں کے راستے نکلنا شروع ہوگیا۔ اللہ کی رحمت کو جوش آیا اور اسی اثناء میں ان کے بیگ میں موجود موبائل کی گھنٹی بج اٹھی، دیکھا تو پاکستان سے فون کیا جارہا تھا ہوا یوں کہ گھر کا نمبر تو ان کی صاحبزادی کو یاد تھا چنانچہ کسی سے موبائل فون لے کر گھر پہ فون کیا کہ مکہ مکرمہ پہنچنے اور لوکل سمز لینے کے بعد جس نمبر سے فون کیا تھا اس نمبر پر فون کریں اوررؤوف صاحب کو بتائیں کہ ’’باب عمرہ‘‘ سے اندر سیڑھیوں پر ان کے اہل خانہ ان کا انتظار کر رہے ہیں، آنکھوں نے ایک مرتبہ پھر برسنا شروع کر دیا تاہم یہ خوشی اور تشکر کے آنسو تھے۔ فوراً باب عمرہ کی طرف لپکے اور اہل خانہ سے ملاقات کا وہ منظر بیان کیے جانے کے بجائے محسوس ہی کیا جاسکتاتھا۔ باتیں ہوتی رہیں کہ یوں ہونا چاہیے تھا یوں ہونا چاہیے اور ایسا آئندہ کے لیے یوں کرنا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ ننھی نواسی مختصر وقت کے لیے نانی اور پھر والدہ کے آغوش میں سمٹی پیار سمیٹتی رہی پھر تمام باتوں کو بھول کر بھوک کی دُھائی دی۔ بڑے توحالات کی نزاکت کے مطابق بھوک پیاس برداشت کرسکتے ہیں لیکن بچے تو اظہار میں کسی قسم کا تکلف نہ جانتے ہیں اور نہ ہی مانتے ہیں چنانچہ گڑیا رانی نے باقاعدہ منہ بسورتے ہوئے صدائے احتجاج بلند کرنا شروع کر دی۔ ماں اور نانی کے ساتھ ساتھ نانا بھی بے چین ہوگئے نواسی کو گود میں اٹھایا اور حرم سے باہر بچی کو کچھ کھانے کی چیز دلانے کے لیے چل دیئے۔ رمضان کے دنوں میں فجر کی نماز کے بعد کھانے پینے کی اشیاء کا ملنا تقریباً ناممکن ہوتاہے خصوصاً دن چڑھے جب ہوٹل، اسٹورز وغیرہ صفائی کے بعد بند کر دیئے جاتے ہیں اور پھر دوبارہ عصر کے وقت کھولے جاتے ہیں۔ خیر رؤوف احمد نواسی کو جیسے تیسے کہیں سے کھانے کے لیے بسکٹ وغیرہ دلاکر واپس اہل خانہ کے پاس پہنچے۔ بچی کے اطمینان نے سب کو مطمئن کر دیا ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں سب مستقبل کی منصوبہ بندی، پریشانیوں سے بچنے کے لیے ارض مقدس پر عبادتوں میں یکسوئی کے لیے تجاویز پیش کر رہے تھے اور مستقبل قریب میں پیش آنے والی صورت حال سے بے خبر تھے اچانک کسی ضرورت کے تحت رؤف احمد سے بیگ مانگا گیا تو انہیں یاد آیا کہ بیگ تووہیں اتار کر رکھا تھا جہاں سے نواسی کے لیے کھانے پینے کی اشیاء خریدی تھیں، فوراً وہاں پہنچے تو اس دوران سب اسٹورز ہوٹل وغیرہ بند ہوچکے تھے۔ رؤوف احمد کی پریشانی انتہا کو پہنچ گئی کہ پاسپورٹس،موبائلز اور کرنسی (ریال اور ڈالرز) سبھی اس ایک بیگ میں تھے اور وہ بیگ اللہ جانے کہاں تھا کس کے پاس تھا۔ طرح طرح کے خیالات، وسوسے پریشانی میں مزید اضافے کا باعث بن رہے تھے کہ ہزاروں ڈالرز اور ریال، قیمتی موبائلز رکھ کر پاسپورٹس تو کہیں بھی پھینکے جاچکے ہوں گے کسی کو کیا پڑی ہے کہ وہ بیگ کے مالک کو تلاش کرتا پھرے یا ایسی کوئی کوشش کرے وغیرہ وغیرہ۔ ۔۔۔اور پھرایک مرتبہ پھر تلاش کا عمل جاری ہوا معلوم ہوا کہ کلاک ٹاور کے قریب گمشدہ اشیاء جمع کرادی جاتی ہیں وہاں کوئی آفس یا جگہ ہے جہاں گمشدہ اشیاء نمایاں طور پر رکھی جاتی ہیں کہ دور سے نظر پڑے اور ہر شخص اپنا سامان پہنچا کر لے جائے۔ وہاں ہر طرف دیکھا لیکن بیگ کو نہ ملناتھا نہ ملا پھر کسی نے بتایا کہ کوہِ صفا جہاں رسول معظم ﷺ نے اہل مکہ کو پہلی مرتبہ دین کی دعوت دی تھی، اسی طرف عقبی علاقے میں ایک ایسا دفتر ہےجہاں لوگوں کی گمشدہ اشیاء گری پڑی اشیاء اٹھا کر پہنچا دی جاتی ہیں وہاں بھی تمام تر نشانیاں بتاکر بیگ کا پوچھ لیا مگر بیگ وہاں ہوتا تو ملتا۔سورج سر پر آچکا تھا اور گویا آگ برسا رہا تھا۔جولائی کے دن، مکہ المکرمہ کی گرمی، شوگر کا مرض،پریشانی کا عالم رؤوف احمد کی حالت ایسی ہورہی تھی کہ کسی بھی وقت بے ہوش ہوکر گرنے والے تھے۔ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ہوٹل چلے گئے۔ تمام تر وسوسوں،مایوسی کے حملوں کے باوجود دل سے دُعا نکل رہی تھی یا اللہ! تیرا بندہ ہوں، مانا کہ گنہگار ہوں لیکن تیرا مہمان ہوں، تیرے گھر آیا ہوں کسی کو کیا بتاؤں گا میرا تو تیرے علاوہ کوئی بھی نہیں جو میری مشکل کو آسان کر دے میری پریشانیوں کو دور کر سکے، یا اللہ! تو نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کے ذریعے بتایا ہے کہ میرے بندے کو کوئی معمولی سے معمولی تکلیف پہنچتی ہے تومیں اس تکلیف کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا کر اس کے گناہوں کو معاف کر دیتاہوں۔ اے میرے مہربان،شفیق اور اپنے بندوں سے پیار کرنے والے رب تُو تو بغیر تکلیف دیئے بھی اپنے بندوں کے گناہ معاف کر سکتاہے۔ یا اللہ! مجھے بھی معاف فرمادے، میرے گناہ معاف فرما دے اور میری مشکل کو آسانی میں تبدیل فرمادے، انہی دعاؤں اور التجاؤں کے دوران رؤوف احمد کی آنکھ لگ گئی اور نیند بھی اللہ تعالیٰ کی کیا خوب نعمت ہے اور اللہ کا فرمان بھی ہے:

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ۰۰۹ (النبأ: 9)

’’ اور ہم نے تمہاری نیند کو آرام کا ذریعہ بنایا۔‘‘

رؤوف احمد بھی وقتی طور پر سب پریشانیوں سے آزاد ہوگئے، نیند سے طبیعت قدرے بہتر ہوئی۔ بیدار ہوئے تو دعاؤں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔ اور جب کیفیت یکسوئی والی ہو،بے قراری کی انتہا ہوجائے تو پھر

اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ يَكْشِفُ السُّوْٓءَ (النمل: 62)

کے ربانی وعدے پورے ہوکر رہتے ہیں اور رحمت الٰہی کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر پریشانیوں کو خس وخاشاک کی طرح بہا کر لے جاتاہے۔رؤوف احمد کوملنے والی معمولی سے خوشخبری قارون کا خزانہ معلوم ہورہی تھی، ان کو فون پر اطلاع ملی کہ کلاک ٹاور،صفااور دیگر دفاتر کے علاوہ گمشدہ سامان وغیرہ کے لیے ایک مرکز مروہ پہاڑی کی طرف موجود ابو جہل سے منسوب حمامات(واش رومز)کے اوپر پہلی دوسری منزل پر بھی موجود ہے، جہاں ان کے بیگ جیسا بیگ یا وہی بیگ موجود ہے تاہم دفتر کی طرف سے بتایا گیا کہ بیگ کے مالک کو خود آنا ہوگا، بیگ کو پہچاننا اور نشانی بتاکر وہ بیگ اگر ان کا ہو تو مالک خود لے جاسکتاہے۔ کسی اور کو کسی بھی صورت میں کوئی سامان نہیں دیا جاسکتا۔ رمضان کی راتیں،تراویح کےدوران لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر، حرم کے باہر دور تک لوگوں کی صفیں اور اس قدر بھیڑ اور اژدحام کہ رؤوف احمد سوچ رہے تھے کہ وہ اپنے بیگ کو پانے کے لیے یا معلوم کرنے کے لیے دفتر تک پہنچ بھی پائیں گے یا نہیں۔رات بہت بیت چکی تھی اللہ اللہ کرکے انتہائی مشکل سے رؤوف احمد دفتر پہنچے، دفتر کے اندر سامنے ہی وہ بیگ رکھا تھا جسے وہ ہزاروں بلکہ لاکھوں بیگز میں سے شناخت کرسکتے تھے۔ بے صبری کے عالم میں فوراً نشانیاں بتائیں اور بیگ طلب کیا۔ ہر طرح سے تصدیق کرلینے کے بعد بیگ ان کے حوالے کر دیاگیا۔ بیگ کھول کر تسلی کی کہ کوئی ایک موبائل، کوئی ایک ریال یا ڈالر حتی کہ پاسپورٹس کے ساتھ موجود کاغذ کا کوئی ایک پُرزہ تک ادھر سے اُدھر نہیں ہوا تھا۔ رؤوف احمد کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنے سوہنے رب کا شکر کیسے ادا کریں؟ سجدہ شکر بجا لائیں یا تشکر کے آنسؤوں کا نذرانہ پیش کریں، یاپھر حدیث قدسی کے مطابق صحرا میں موت کے منتظر اس شخص کی طرح ردّ عمل ظاہر کریں جس کی سواری توشہ سمیت اس کے پاس اس وقت واپس آجاتی ہے جب وہ بھوک پیاس کی شدت برداشت کرتے کرتے موت کے منہ میں جانے کے لیے تیار ہوتاہے۔

رؤوف احمد کا دل تشکر کے جذبات سے لبریز تھا اور دل سے صدا آرہی تھی۔

تیرے کرم کی کیا بات مولا…..

By editor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے