علماء کرام روشنی کے ایسے بلند و بالا مینار ہوتے ہیں جن کے نفوس قدسیہ سے علم و عرفان کی ضیاء پاشیوں سے بھٹکے ہوئے قافلوں کو اپنی حقیقی منزل کی راہ نظر آتی ہے. اور علماء کرام آفتاب نبوت کی وہ روشن کرنیں ہیں جو اس بزم حیات کو منور رکھتی ہیں. گلستان نبوت کے وہ قیمتی پھول ہیں جن کی خوشبوئیں انسانی دل، روح اور دماغ کو علم و عمل، تقوی اور نیکی کی مہک پہنچاتی ہیں. جب علم و عمل کے یہ چراغ بجھ جائین گے تو اس دنیا پر جہالت کے سیاہ بادل چھا جائیں گے. اور پھر انسانی کارواں کی لگام جہلاء کے ہاتھوں میں ہوگی جو انسانوں کو جہالت کے تاریک کنووں میں پھینک دیں گے۔

اما م عبیداللہ بن جعفر کہا کرتے تھے: علماء دنیا کےلیے روشنی کے مینار ہیں انہی سے وہ نور پھوٹتا ہے جس سے گمراہ ہدایت پاتے ہیں۔( فضیلت العلم ص 540 اردو از عبدالرزاق ملیح آبادی)

اولا تو یہ علمی شخصیات بہت ہی کم پیدا ہوتی ہیں اور جو ہیں وہ بھی رفتہ رفتہ اس بزم جہاں سے رخصت ہورہی ہیں. جن کا خلا پُر ہونا مشکل ہی نظر آتا ہے. جیسا کہ گذشتہ دنوں جماعت کی بہت ہی علمی شخصیات یکے بعد دیگرے اس بزم جہاں سے رخصت ہوگئی ہیں جن کا خلا پر ہونا ممکن نہیں ہے۔

کل جس وقت سے اپنے دور طالب علمی کے زمانے کے ساتھی مولانا شفیق الرحمن فرخ صاحب کی وفات کی خبر سنی ہے دل پریشان اور مغموم ہے۔ مولانا فرخ صاحب بھی ہمارے دور طالب علمی کے ساتھی تھے آپ بڑی کلاسوں میں پڑھتے تھے جبکہ راقم الحروف چھوٹی کلاس کا طالب علم تھا۔ لیکن جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کا وہ عروج کا بھرپور دور تھا جہاں بڑے بڑے اساتذہ کرام جو کہ اپنے اپنے فن میں یکتا تھے اور طلباء کو کچھ بنا جانے کا ہنر جانتے تھے اور اپنی علمی صلاحیتوں کی بنا پر مشہور و معروف بھی تھے۔ بانی جامعہ و ہمارے مربی پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی کوشش ہوا کرتی تھی کہ وہ ملک بھر سے چن چن کر اساتذہ کرام کو جامعہ میں لاتے اور ان کی صلاحیتوں سے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کو چار چاند لگانے کی کوشش کرتے تھے۔ کیونکہ اس دور میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں حصول علم کے لیے اکناف عالم سے تشنگان علوم دینیہ وطن عزیز پاکستان کا رخ کرتے تھے۔ اور ہمارے مربی و شیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی کوشش ہوا کرتی تھی کہ ان متلاشیان علوم نبوت کی تعلیم و تربیت کے لیے اچھے سے اچھے اساتذہ کرام ہونے چاہئیں۔

مولانا شفیق الرحمن فرخ صاحب نے بھی اس دور میں یہاں سے کسب فیض کیا اور جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی سے فراغت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کراچی یونیورسٹی سے ایم اے صحافت بھی کیا۔ فراغت کے بعد انہوں نے اپنی تعلیمی، تدریسی، تصنیفی اور تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز لاہور کو بنایا۔ جامعہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ لاہور میں تدریس کرتے رہے اور اس جامعہ کے مجلہ ’’ندائُ الجامعہ‘‘ کے مدیر بھی رہے۔ آپ نے تدریس کے ساتھ ساتھ تصنیف کے میدان میں بھی خوب کام کیا۔ آپ سے کسب فیض حاصل کرنے والوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔

آپ کی بیماری کا کافی عرصے سے سن رہے تھے۔ آپ کے لخت جگر نے گردہ بھی آپ کو دیا تاکہ آپ صحت مند زندگی بسر کرسکیں۔ گردے کا ٹرانسپلانٹ بھی ہوگیا اور دوسرے آپریشن کے بعد آپ کی طبیعت سنبھل نہ سکی اور بالآخر وہ وقت آہی گیا جس سے کسی کو مفر نہیں ہے۔

علماء/معلمین کا مقام و مرتبہ

معلم / استاذ کا مقام بہت بلند ہے. جناب رسول اکرم ﷺنے اپنے بارے ارشاد فرمایا:

بُعِثْتُ مُعَلِّمًا ( سنن ابن ماجه )

’’میں معلم بنا کر مبعوث کیا گیا ہوں۔‘‘

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

 بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ (مؤطا إمام مالك)

میری بعثت کا مقصد یہ ہے کہ لوگون کو اچھے اخلاق کی تعلیم دوں.

نیز آپ نے ارشاد فرمایا:

خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ (صحیح البخاری و جامع الترمذی)

تم میں سے بہترین انسان وہ ہے جو خود قرآن مجید پڑھتا ہے اور پھر دوسروں کو پڑھاتا ہے.

آپ کا ارشاد گرامی ہے کہ:

وَإِنَّ الْعَالِمَ يسْتَغْفر لَهُ من فِي السَّمَوَات وَمَنْ فِي الْأَرْضِ وَالْحِيتَانُ فِي جَوْفِ الْمَاءِ(جامع الترمذي)

’’بے شک عالم (استاد کے حق میں دنیا کی ہر شے دعاگو ہوتی ہے حتی کہ سمندر کی مچھلیاں بھی۔‘‘

علم حاصل کرنا نیکی کا کام ہے. مگر بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی دوسروں کو علم سے بہرہ ور بنائے. معلم کا درجہ متعلم کے درجے سے بہرحال افضل ہے. آپ نے استادوں کو نصیحت کی کہ جو لوگ حصول علم کیے اساتذہ کے پاس آئین تو اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ ان کے ساتھ خوش خلقی سے پیش آئیں. آپ نے ارشاد فرمایاکہ:

وَاسْتَوْصُوا بِهِمْ خَيْرًا (جامع الترمذی)

اساتذہ کرام بہرحال اشاعت علم کرتے ہیں. انتہائی ناسازگار حالات میں بھی وہ اشاعت علم کے فریضہ سے غافل نہیں ہوتے۔

اساتذہ کرام معلم اور وارث انبیاء کرام علیہم السلام ہیں. وہ مخلوق خدا کو ہدایت الہی اور علم دین سے واقف کراتے ہین. بہرکیف ان علماء و اساتذہ کی کوششوں اور مساعی کا مرکزی نقطہ مسلمان معاشرے مین اسلامی اقدار حیات اور معاشرتی آداب کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ علوم دینیہ کی کی تعلیم تھا. اسی مقصد کےلیے وہ عمر بھر کوشاں رہتے ہیں. اور اپنے پیچھے درخشاں مثالیں چھوڑ جاتے ہین. تاریخ اسلام کے صفحات ان معلمین و مدرسین کی روشن مثالون سے بھرے پڑے ہیں.

علماء کا اٹھ جانا

علماء کرام کا اٹھ جانا علامات قیامت میں سے ہے. ہمارے دیکھتے دیکھتے کتنے ہی علماء اس دنیا فانی سے رخصت ہوگئے. اور ان کی مسند کا کوئی حقیقی جانشین پیدا نہ ہوسکا. جہالت اور تاریکی بڑھ رہی ہے. علماء کے اٹھ جانے سے علم ختم ہوتا جارہا ہے. یہی بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی.

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ لاَ يَقْبِضُ العِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ العِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ العِلْمَ بِقَبْضِ العُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا» (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب العلم، باب کيف يقبض العلم، 1/ 50، الرقم/ 100، ومسلم في الصحيح، کتب العلم، باب رفع العلم وقبضه وظهور الجهل والفتن في آخر الزمان، 4/ 2058، الرقم/ 2673، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/ 162، الرقم/ 6511، والترمذي في السنن، کتاب العلم، باب ما جاء في ذهاب العلم، 5/ 31، الرقم/ 2652، والدارمي في السنن، 1/ 89، الرقم/ 239)

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعاليٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے بندوں (کے سینوں) سے کھینچ لے بلکہ علماء کو اٹھا لینے سے علم کو اٹھا لے گا،یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا امیر بنا لیں گے۔ ان سے مسائل پوچھے جائیں گے تو وہ بغیر علم کے فتويٰ دیں گے(نتیجتاً) خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: أَنْ يُرْفَعَ العِلْمُ وَيَثْبُتَ الجَهْلُ، وَيُشْرَبَ الخَمْرُ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھ جائے گا اور جہالت پھیل جائے گی،اور شراب سرعام پی جائے گی اور زنا(بدکاری) عام ہوجائے گی۔‘‘

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا ذَهَابُ الْعِلْمِ؟» قَالَ: «هُوَ ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ مِنَ الأَرْضِ» (مسند أحمد)

سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ علم کس طرح سے ختم ہوگا؟ہم نے کہا کہ نہیں!انہوں نے فرمایاکہ زمین سے علماء کے اٹھ جانے سے۔‘‘

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: «مَا لِي أَرَى عُلَمَاءَكُمْ يَذْهَبُونَ وَجُهَّالَكُمْ لَا يَتَعَلَّمُونَ؟ تعلَّموا قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، فَإِنَّ رَفْعَ الْعِلْمِ ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ» ( سنن الدارمی، ضعيف)

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا وجہ ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں تمہارے علماء اٹھتے چلے جارہے ہیں اور جاہل علم حاصل نہیں کرتے؟

علم سیکھ لو قبل اس کے کہ علم اٹھا لیا جائے علم کا اٹھنا علماء کا ( دنیا سے ) سے اٹھ جانا ہے۔‘‘

حضرت حسن بصری نے کہا کہ سلف کہا کرتے تھے:

«مَوْتُ الْعَالِمِ ثُلْمَةٌ فِي الْإِسْلَامِ لَا يَسُدُّهَا شَيْءٌ مَا اخْتَلَفَ الليْلُ وَالنَّهَارُ» ( سنن الدارمی)

عالم کی موت اسلام میں پڑنے والا ایسا شگاف ہے جسے کوئی بھی شے پُر نہیں کرسکتی۔

یقیناً مولانا شفیق الرحمن فرخ صاحب کی وفات بھی جماعت کے لیے ایک بڑا خلا ہے کیونکہ ایسے علماء بہت کم ہوتے ہیں جو بیک وقت مدرس، معلم، مصنف اور مبلغ بھی ہوں۔ اور آپ میں یہ سب خوبیاں موجود تھیں۔

آپ کا جنازہ استاذ العلماءفضیلۃ الشیخ الحافظ العلامہ مسعود عالم صاحب حفظہ اللہ نے آپ کے آبائی شہر چھانگا مانگا میں پڑھایا جس میں علماء کرام جن میں سرفہر ست فضیلۃ الشیخ الحافظ محمد شریف حفظہ اللہ، فضیلۃ الشیخ قاری صہیب میر محمدی حفظہ اللہ ، فضیلۃ الشیخ عطاء اللہ ساجد حفظہ اللہ اور فضیلۃ الشیخ ابو نعمان بشیر احمد حفظہ اللہ کے علاوہ کثیر تعداد میں علماء وطلباء نے شرکت کی اور آپ کی مغفرت کے لیے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دعائیں کیں۔

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے