چہرے پر داڑھی سجانا نبی کریم ﷺ کی سنت ہے

آپ کی داڑھی مبارک کے متعلق سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلا بِالْقَصِيرِ، ضَخْمُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ (مسند الامام أحمد :۱؍۹۶،۱۲۷،وسنده حسن)

’’رسول اللہ ﷺ کا قد مبارک نہ بڑا تھا نہ چھوٹا ، آپ کا سر مبارک بڑا اور داڑھی مبارک بھی بڑی تھی۔‘‘

داڑھی کی خصوصیات و امتیازات

 یہ واحد نظر آنے والی سنت ہے جو قبر میں بھی ساتھ چلے گی۔

کہتے ہیں کہ پہلا تاثر آخری تاثر ہوتا ہے۔

کس قدر نفع بخش بات ہے کہ قبر میں فرشتوں سے ملاقات ہو تو فرشتوں کو چہرے سے کفن کی چادر ہٹاتے ہی سنت نبوی سے مزین چہرہ نظر آئے تو بہت امید ہے کہ اس پہلے تاثر سے سوال و جواب کا اگلا مرحلہ آسان ہو گااور کس قدر بدبختی کی بات ہے کہ فرشتے دیکھتے ہی یہ تاثر لیں کہ یہ تو کوئی چہرہءِ محمدی سے بے زار شخص ہے۔

یہ ایسی سنت ہے جو دنیا میں ہزاروں گناہوں سے رکنے کا سبب بنتی ہے صرف چہرے پر سنت سجھا لینے سے انسان بے شمار قباحتوں اور گناہوں سے ہچکچاتا ہے، داڑھی والا شخص سینما گھر نہیں جاتا یا جانے سے ہچکچاتا ہے، داڑھی والا شخص مخلوط ماحول میں نہیں جاتا، داڑھی اسے جھوٹ سے روکتی ہے، چوکوں چوراہوں پر کھڑے ہونے اور غیر محرم عورتوں کی طرف دیکھنے سے روکتی ہے

داڑھی، کسی انسان کو پرکھنے کا معیار ہے

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ یہ چھوٹی سی چیز بہت بڑی بڑی چیزوں کا پتا دیتی ہے، جس طرح راکھ کی ایک چٹکی اڑا کر ہم ہوا جیسی عظیم الشان چیز کا پتا چلا لیتے ہیں کہ اس کا رخ کدھر کو ہے، اسی طرح ایک شخص کے چہرے پر ڈاڑھی کے ہونے اور نہ ہونے سے یہ اندازہ ہو جاتا کہ اس کا میلان کس طرف ہے، اسلام کی طرف یا غیر اسلام کی طرف؟یعنی داڑھی ایک مسلمان کے دل کے رجحانات کےلیے ایک میٹر کا کام ضرور دیتی ہے ۔اس سنت کی حفاظت ناگزیر ہو چکی ہے

مگر افسوس کہ آج اس سنت کو بڑی بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہےلیکن یاد رکھیں کہ جن سنتوں پر زبانیں دراز ہونے لگیں، انہیں زندہ کرنا ہی دین محمد کی پہرے داری اور آپ سے وفا کی نشانی ہے۔

شیخ العثیمین کی داڑھی سے محبت کی انتہا

فقيه الزمان الشيخ محمد بن صالح العثیمین رحمه الله آنتوں کے کینسر میں مبتلا ہوئے. حکام نے بصد اصرار شیخ کو خصوصی طیارے پر علاج کیلیے امریکہ بھجوا دیا۔

ڈاکٹروں نے کہا کہ نیوکلیر شعاعوں (radiations) کے ذریعے علاج ہو گا جس سے تمام بال جھڑ جائیں گے۔شیخ نے پوچھا: کیا داڑھی کے بال بھی ؟

ڈاکٹروں نے کہا: ہاں! شیخ نے فرمایا: «میں اپنے رب سے داڑھی کے بغیر نہیں ملنا چاہتا.» پھر آپ کو بغیر علاج کے ہی واپس لایا گیا. کچھ عرصہ شاہ فیصل ہسپتال میں رہے اور پھر ڈسچارج ہو گئے. آپ کیلئے حرمِ مکی میں ایک کمرہ مختص کیا گیا جس میں آپ درس دیتے اور ساؤنڈ سسٹم کے ذریعے کمرے سے باہر بیٹھے سینکڑوں طلبہ مستفید ہوتے. یہ سلسلہ یونہی جاری رہا حتی کہ 15 شوال، بروز بدھ 1421ھ کو آپ کی وفات ہوئی۔[ فتح المجيد مع القول المفيد ]

داڑھی کی اہمیت

داڑھی فطرت اسلام ہے

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ ” قَالَ زَكَرِيَّا: قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ (صحیح مسلم:۱؍۱۲۹،ح:۲۶۱)

’’دس خصلتیں فطرتِ اسلامیہ میں سے ہیں:

(۱) مونچھیں کاٹنا

(۲) داڑھی کو چھوڑ دینا

(۳) مسواک کرنا

(۴) وضو کرتے وقت ناک میں پانی چڑھانا

(۵) ناخن کاٹنا

(۶) انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا

(۷) بغل کے بال نوچنا

(۸) زیرِ ناف بال مونڈنا

(۹) استنجاء کرنا

راوی کا کہنا ہے کہ دسویں چیز مجھے بھول گئی ہے ،شاید کلی کرنا ہو۔‘‘

انبیاء کرام علیہم السلام کی داڑھی

جتنے انبیاء کرام علیہم السلام دنیا میں تشریف لائے ہیں سبھی داڑھی والے تھے کیونکہ داڑھی فطرت ہے اور انبیاء فطرت پر ہوتے ہیں ۔ ہارون علیہ السلام کی داڑھی کا تذکرہ قرآن مجید میں بایں الفاظ ملتا ہے ۔

قَالَ يَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْيَتِيْ وَ لَا بِرَاْسِيْ (طه :94)

اس نے کہا اے میری ماں کے بیٹے! نہ میری ڈاڑھی پکڑ اور نہ میرا سر۔

علامہ شنقیطی رحمہ اللہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :

یہ آیت کریمہ داڑھی کو لازمی طور پر معاف کرنے کی دلالت کرتی ہے. نیز یہ آیت مبارکہ داڑھی کو معاف کر دینے اور اسے نہ منڈوانے کی قرآنی دلیل ہے۔ [أضواءالبيان4/506 ،507]

جبریل علیہ السلام کی داڑھی

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسًا، إِذْ جَاءَ شَدِيدُ سَوَادِ اللِّحْيَةِ

’’ایک دن نبی کریمﷺ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص آیا جس کی داڑھی گہری سیاہ تھی۔۔۔۔اس کے چلے جانے کے بعد نبیﷺ نے سیدناعمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا ،کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ شخص کون تھا ؟ عرض کی، نہیں!فرمایا:

ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ (صحیح ابن حبان:۱۶۸،وسنده صحیح)

’’وہ جبریل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔‘‘

داڑھی بڑھانے کے متعلق نبوی فرامین

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

انْهَكُوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى (صحیح البخاری: ۲؍۸۷۵،ح:۵۸۹۳)

’’مونچھوں کو ختم کرو اور داڑھیوں کو بڑھاؤ۔‘‘

مسلم میں یہ الفاظ بھی ہیں:

أَنَّهُ:أَمَرَ بِإِحْفَاءِ الشَّوَارِبِ، وَإِعْفَاءِ اللِّحْيَةِ (صحیح مسلم:۱؍۱۲۹،ح:۵۳؍۲۵۹)

’’آپﷺ نے مونچھیں کاٹنے اور داڑھیاں بڑھانے کا حکم دیا۔‘‘

داڑھی بڑھاؤ اور مشرکین کی مخالفت کرو

نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ أَحْفُوا الشَّوَارِبَ، وَأَوْفُوا اللِّحَى (صحیح مسلم:۱؍۱۲۹،ح:۵۴؍۲۵۹)

’’مشرکین کی مخالفت کرو،مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔‘‘

داڑھی بڑھا کر مجوسیوں کی مخالفت کرو

 سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جُزُّوا الشَّوَارِبَ، وَأَرْخُوا اللِّحَى خَالِفُوا الْمَجُوسَ (صحیح مسلم:۱؍۱۲۹،ح:۲۶۰)

’’مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں لٹکاؤ،مجوسیوں کی مخالفت کرو۔‘‘

 سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مجوسیوں کے بارے میں رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا:

إِنَّهُمْ يُوَفِّرُونَ سِبَالَهُمْ، وَيَحْلِقُونَ لِحَاهُمْ، فَخَالِفُوهُمْ

’’وہ مجوسی مونچھیں بڑھاتے اور داڑھیاں منڈاتے ہیں،تم ان کی مخالفت کرو۔‘‘(مصنف ابن أبي شيبة:۸؍۵۶۷۔۵۶۶وسنده صحيح)

داڑھی بڑھا کر اور مونچھیں کٹوا کر یہود ونصاریٰ کی مخالفت کرو

سیدنا ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

ہم نے عرض کی ،اے اللہ کے رسول !اہلِ کتاب تو اپنی داڑھیاں کٹواتے اور مونچھیں بڑھاتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا:

قُصُّوا سِبَالَكُمْ وَوَفِّرُوا عَثَانِينَكُمْ وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ (مسند الإمام أحمد:۵؍۲۶۴۔۲۶۵،وسنده حسن)

’’تم اپنی مونچھیں کٹواؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ اور اہلِ کتاب کی مخالفت کرو۔‘‘

غیر مسلموں کے ساتھ مشابہت کس قدر خوفناک ہے

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ (سنن ابی داؤد:۴۰۳۱، وسنده حسن)

جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی ،وہ (روزِ قیامت) انہی میں سے ہو گا۔‘‘

داڑھی منڈوانا کئی ایک گناہوں کا مرکب ہے

ایک ایسا خطرناک گناہ ہے جو کئی گناہوں کا مرکب ہے

1 نبی کریم ﷺ کے حکم کی مخالفت

2 نبی کریم ﷺ کے عمل کی مخالفت

3 محمدی چہرے کو ناپسند کرنا

4 کفار سے مشابہت

5 عورتوں سے مشابہت

6 اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بگاڑنا

7 شیطان کو خوش کرنا

8 اعلانیہ گناہ

9 گناہ پر اصرار

10 چہرہءِ نبوی سے بے زاری

استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں:

’’داڑھی منڈوا کر آپ ﷺکی حسین صورت سے بے زاری کا اظہار شکر نہیں بلکہ کفر اور ناشکری کی بدترین صورتیں ہیں۔‘‘

یعنی داڑھی منڈانے والا زبانِ حال سے یہ باور کراتا ہے کہ معاذ اللہ نبی کریم ﷺ خوبصورت نہ تھے۔بقول شاعر:

مانا کہ ڈاڑھی رکھنا ہے مشکل مگر

روز محشر یہ آقا ﷺ نے پوچھا اگر

میری صورت میں کیا نقص آیا نظر

کیا کہے گا جوابًا بتا تو وہاں

آج کے نوجواں سن لے میری فغاں

تم تو رسول اللہ ﷺ کا دل چھیل رہے ہو

داڑھی منڈوانے والے حضرات کیلئے ایک صوفی شاعر مرزا قتیل کا سبق آموز واقعہ

مرزا قتیل ایران کے ایک بڑے شاعر تھے، ایک دفعہ دہلی آئے تو سارے لوگ اس کی طرف دوڑ پڑے کیونکہ انہوں نے ایک نعت لکھی تھی جس کا مضمون بڑا پیارا تھا۔

اس مضمون سے پتہ لگتا تھا کہ ان سے بڑھ کر کوئی عاشق رسول ﷺ شاید دنیا میں نہ ہو، ان کی نعت سن کر ایک اللہ والے بھی ان کی طرف چل پڑے جب انہوں نے دیکھا کہ وہ شاعر ایک حجام کے پاس بیٹھ کر داڑھی منڈا رہا ہے تو انہوں نے پوچھا:

آغَا رِیْشْ مِیْ تَرَاشِیْ ؟

(جناب آپ داڑھی مونڈ رہے ہیں؟)

آپ نے اتنی عمدہ نعت پڑھی اور اب داڑھی منڈا رہے ہو

تو وہ بوکھلا کر شاعرانہ انداز میں جواب دینے لگا کہ

بَلَے مُوْ مِیْ تَرَاشَمْ
وَلَے دِلِ کَسِے نَمِیْ خَرَاشَمْ..

داڑھی چھیل رہا ہوں لیکن کسی کا دل تو نہیں چھیل رہا ہوں۔

تو اس اللہ والے نے جواب دیا: بَلَے دِلِ رسولُ الله مِیْ تَرَاشِی ’’کسی کا دل کیا چھیلنا› تم تو داڑھی منڈوا کر رسول اللہ ﷺ کا دل چھیل رہے ہو۔‘‘

یہ بات سن کر مرزا قتیل تڑپ اٹھے اور وجد میں آ کر ہوش و حواس کھو دیئے.. جب طبیعت کچھ سنبھلی تو اس شاعر نے کہا تھا:

جزاک الله چَشْمَمْ بَازٍ کَرْدَهْ ایِ
مَرَا بَهْ جَانِ جَانْ هَمْرَازْ کَرْدَه ایِ

وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ شیخ محترم

جزاک الله چَشْمَمْ بَازٍ کَرْدَهْ ایِ
مَرَا بَهْ جَانِ جَانْ هَمْرَازْ کَرْدَه ایِ

یعنی اللہ تمہیں جزا دے کہ تُم نے میرے دِل کی آنکھیں کھول دیں اور مجھے جانِ جاں(نبی کریم ﷺ) سے آشنا و ہمراز کروا دیا۔( علم اور علماء کرام کی عظمت صفحہ نمبر 17)

محمد یوسف کرکٹر کا بیان

محمد یوسف مشہور کرکٹر ہے، پہلے عیسائی تھا پھر اللہ کی توفیق سے مسلمان ہوا ان کے متعلق کرکٹر سعید انور سے میں نے ایک بات سنی کہتے ہیں لوگوں نے پوچھا کہ ڈنمارک والوں نے نبی کریم ﷺ کی شکل کو تبدیل کیا ہے کیا آپ کو بھی تکلیف ہوتی ہے تو وہ کہنے لگے کہ ہاں مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے مگر مجھے تو روزانہ ان مسلمانوں کو دیکھ کر بھی تکلیف ہوتی ہے جو نبی کریم ﷺ کی شکل کے مختلف ڈیزائن بناتے ہیں۔

داڑھی منڈوانا اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی ہے

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کے ایک بھیانک منصوبے سے آگاہ کیا ہے کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہا:

وَلَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ۠ خَلْقَ اللّٰهِ(النساء:119)

’’اور یقینا میں انھیں ضرور حکم دوں گا تو یقینا وہ ضرور اللہ کی پیدا کی ہوئی صورت بدلیں گے۔‘‘

اس آیت کی تفسیر میں ہمارے حافظ صاحب اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بگاڑنے کی مثالیں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’خوبصورتی کے لیے ابروؤں کے بال اکھاڑنا، جلد میں نیل وغیرہ بھر کر نقش و نگار بنانا، دانت باریک کروانا، سر پر مصنوعی بال لگوانا، مردوں کا داڑھی منڈوانا، یہ سب شیطانی کام ہیں اور اللہ تعالیٰ کی لعنت کا موجب ہیں۔‘‘

شاہ ولی اللہ الدہلوی لکھتے ہیں:

وقصها أي اللحية سنة المجوس وفيه تغيير خلق الله (حجة الله البالغة ۱؍۱۵۲)

’’داڑھی کو منڈانا مجوسیوں کا طریقہ اور تخلیقِ الٰہی میں تبدیلی ہے۔‘‘

گویا کہ داڑھی منڈانے والا زبانِ حال سے تخلیقِ الٰہی پر اعتراض کرتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی زینت کو قباحت میں تبدیل کرتا ہے

داڑھی منڈوانا اعلانیہ گناہ ہے

بہت سے گناہ ایسے ہیں جو ہیں تو گناہ مگر ظاہر نظر نہیں آتے، پوشیدہ اور مخفی ہوتے ہیں، ان کا اثر اور ان کا نظر آنا ان کے کرنے والے تک ہی محدود ہوتا ہے، وہ پردے میں ہوتے ہیں لوگوں کی نظروں میں نہیں آتے۔لیکن بہرحال گناہ، گناہ ہی ہے۔ ہاں مگر جب کسی گناہ کا ارتکاب علی الإعلان، سرعام کیا جائے تو اس کی شناعت، قباحت اور بدبختی اور بڑھ جاتی ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس گناہ کا مرتکب اپنے اس فعل پر نہ نادم ہے اور نہ ہی اسے کسی قسم کا کوئی حیاء ہے گویا وہ بندہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں شیر بن جاتا ہے اور یہ معصیت و نافرمانی کی انتہا ہوتی ہے ۔داڑھی کٹوا کر اور اپنے عمل سے چہرہ نبوی سے بے زار ہوکر جب کوئی شخص سرعام دندناتا پھرتا ہے اور اس پر ندامت کی بجائے اسے خوبصورتی، ترقی، جدت اور بڑائی کی علامت سمجھتا ہے تو گویا وہ حکم الہی کی کھلے عام پامالی کررہا ہوتا ہے ۔

اعلانیہ گناہ کی شامت

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ ، وَإِنَّ مِنَ الْمَجَانَةِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِالليْلِ عَمَلًا، ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللهُ، فَيَقُولَ : يَا فُلَانُ، عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا. وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ، وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللهِ عَنْهُ (صحيح البخاري |كِتَابٌ:الْأَدَبُ|6069)

میری ساری اُمت کو معاف کر دیا جائے گا، سوائے ان کے جو علانیہ گناہ کرتے ہیں۔

علانیہ گناہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص رات کو گناہ کرے، اور اللہ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈالا ہو لیکن وہ صبح اُٹھ کر خود ہی لوگوں کو بتانے لگ جائے کہ میں نے رات فلاں فلاں کام کیا ہے۔

داڑھی منڈوانا عورتوں سے مشابہت ہے

داڑھی مونڈ کر بندہ اپنے آپ کو عورتوں کے مشابہہ کرتا ہے اور یہ بہت بڑا گناہ ہے ایسا کرنے والے پر نبی کریم ﷺ نے لعنت کی ہے

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں:

لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ.( صحيح البخاري، كِتَابُ اللِّبَاسُ، الحدیث:5885)

’’اللہ کے رسول ﷺ نے ان مردوں پر لعنت بھیجی ہے جو عورتوں جیسا بنتا ہے اور ان عورتوں پر لعنت بھیجی ہے جو مردوں جیسی بنتی ہے۔‘‘

اپنے آپ کو عورتوں کی صف میں کھڑے نہ کریں

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

والرجل ينبغي له أن يعتني بمكارم الأخلاق ومعالي الآداب والرجولة والكرم والشهامة،لا أن يجعل نفسه بمنزلة الأنثى ينتف حواجبه وينتف شعر خديه وشعر لحيته وما أشبه ذلك. (سلسلة فتاوى نور على الدرب» الشريط رقم: 75)

شیخ البانی رحمہ اللہ داڑھی منڈے ڈاکٹر کو دعا دیتے ہیں ۔شیخ البانی رحمہ اللہ بیمار ہو گئے ایک ڈاکٹر آپ کے علاج کے آیا، وہ داڑھی منڈواتا تھا، جب دوائی دینے کے بعد واپس جانے لگا تو کہنے لگا :

ادع الله لي يا شيخ

شیخ! میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا۔تو شیخ رحمه الله فرمانے لگے :

جمَّلك الله بما جمَّل به الرجال (دروس ومواقف وعبر 96)

اللہ تعالیٰ تجھے اس چیز سے زینت بخشے جس سے اس نے مردوں کو زینت بخشی ہے۔

عورتوں، بچوں اور داڑھی والے مرد میں فرق

شیخ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

وأما شعر اللحية ففيه منافع منها الزينة والوقار والهيبة ولهذا لا يرى على الصبيان والنساء من الهيبة والوقار ما يرى على ذوي اللحى (التبیان في أقسام القران: 317)

داڑھی میں بہت منافع ہیں: اس میں زینت، وقار اور ہیبت ہے، اسی لیے بچوں اور عورتوں میں وہ بیبت و وقار نظر نہیں آتا جو داڑھی والے مردوں میں آتا ہے۔

کیا داڑھی، ترقی میں رکاوٹ ہے

داڑھی نہ رکھنے کے پیچھے بہت سے نوجوانوں کا خیال ہے کہ داڑھی رکھ کر ہم ترقی نہیں کر سکتے، دنیا کے ساتھ نہیں چل سکتے، بہت سے شعبوں میں داخلہ نہیں ملے گا، لوگ ہمیں دیکھتے ہی رجعت پسند سمجھنے لگ جائیں گے وغیرہ وغیرہ ۔حالانکہ یہ بات قطعاً درست نہیں ہے ۔قیصر و کسری کے فاتحين کلین شیو نہ تھے۔داڑھی رکھ کر ترقی کی معراج کو چھونے کی بہترین مثال، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی زندگی ہے۔

‏شيخ محمد امين الشنقيطي رحمه الله فرماتے ہیں :’’اور جن لوگوں نے قیصر و کسری کے خزانے حاصل کیے اور مشرق و مغرب ان کے قدموں میں آ گرے؛ان میں ایک بھی حالق (کلین شیو) نہیں تھا ۔‘‘[ أضواء البيان : ٩٢/٤]

سکھوں کی داڑھیاں اور عیسائیوں کی صلیب

سمجھ نہیں آتی کہ ہم مسلمان اپنی اسلامی تہذیب اور روایات کو حقیر سمجھنا کیوں شروع کر دیتے ہیں۔سکھوں کی طرف دیکھیے کہ زمانے کی تمام تر جدت اور تبدیلی کے باوجود اپنی قدیم پگڑی اور داڑھی پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیںاور بڑے سے بڑا اپ ٹو ڈیٹ عیسائی، آج بھی اپنی گردن میں صلیب لٹکائے پھرتا ہے مگر ایک ہم ہیں کہ خوامخواہ کے احساس کمتری میں مبتلا ہیں اگر سکھ داڑھی اور پگڑی رکھ کر اور عیسائی صلیب لٹکا کر ترقی کرسکتا ہے تو ہم اپنی اسلامی وضع قطع میں رہ کر ترقی کیوں نہیں کرسکتے۔

دراصل یہ کفار کا خیال تھا جو شیطان نے بعض مسلمانوں کے زہنوں میں ڈال رکھا ہے۔مکے کے کافر ایسی باتیں کیا کرتے تھے کہ اگر ہم نے ہدایت، اسلام، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرلی تو پھر ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ذہنیت نقل کرتے ہوئے فرمایا :

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا

اور انھوں نے کہا اگر ہم تیرے ہمراہ اس ہدایت کی پیروی کریں تو ہم اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے۔ (القصص:57)

پرفتن ماحول میں داڑھی رکھ کر ترقی کرنے والے چند نوجوان

یہ محض شیطانی دھوکہ ہے ورنہ اس وقت وطن عزیز پاکستان میں وہ کون سا شعبہ ہے جس میں داڑھی والے مرد اور پردے والی عورتیں نہ صرف موجود ہیں بلکہ اونچے عہدوں پر فائز ہیں ہم نے لوگوں کو داڑھی رکھ کر صدر پاکستان، میجر، جنرل اور کرنل بنتے دیکھا ہے باپردہ عورتوں کو جہاز اڑاتے دیکھا گیا ہے یہ تو پھر وطن عزیز پاکستان ہے جوکہ بہرحال ایک اسلامی ملک ہے غیر اسلامی ممالک میں چہرے پر سنت رسول سجا کر ترقی کرنے کی مثالیں بھی موجود ہیں۔

کرکٹ کی دنیا میں ہاشم آملہ کی آئیڈیل پرفارمنس اکثر لوگ جانتے ہیں کہ کیسے اس نوجوان نے کرکٹ کے پرفتن ماحول میں بھی اپنے آپ کو سنت پر کاربند رکھا اور مستزاد یہ کہ اس کی بیوی بھی اسٹیڈیم میں مکمل برقعے میں لپٹ کر روشن مثال قائم کرتی ہے۔

برطانیہ جو مسلمانوں کا بدترین دشمن ہے اور کرکٹ جو غیر اسلامی تہذیب سے لتھڑی ہوئی ہے مگر قابلِ ستائش ہیں وہ دو نوجوان جو اس ملک کی کرکٹ ٹیم میں شامل ہیں لیکن داڑھی، شراب نوشی اور دیگر معاملات میں زرہ بھر بھی شریعت سے کمپرومائز نہیں کرتے ہیں۔

 الغرض، اگر خود بندے کے اندر کسی ٹارگٹ کو حاصل کا عزم مصمم ہو اور اس کی صلاحیت بھرپور ہوتو یہ داڑھی اس کے لیے قطعاً رکاوٹ نہیں ہے۔

By editor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے