سیرت کا معنی و مفہوم:

لفظِ ’’سیرت‘‘ سَیر سے لیا گیا ہے ۔ جس کے لفظی معنی ہیں چلنا، گھومنا، پھرنا،طور طریقہ، کردار، مذہب ، پرانے لوگوں کے قصے اور کہانیاں اور اکابر کی سوانح حیات۔(اردو دائرہ المعارف الاسلامیہ جامعہ پنجاب، تحت مادہ سیرۃ)

اس اعتبار سے سیرت النبی کا مطلب یہ ہو گا کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی کا طریقہ ، طرزِ عمل وسوانح حیات۔ شروع میں لفظِ «سیرت» رسول اکرمﷺ کے مغازی اور جنگی حالات پر استعمال کیا جاتا تھا، اس لیے ابن اسحاق نے نبی کریم ﷺ کے جنگی حالات پر ایک کتاب لکھی جسے سیرت ابن اسحاق یا مغازی ابن اسحاق کہا جاتا ہے، یہی سبب ہے کہ فقہ کی کتابوں میں «کتاب الجهاد والسیَر» کے نام سے جو باب رکھا جاتا ہے ، اس میں غزوات اور جہاد کے احکام ہی لکھے جاتے ہیں۔ (شبلی ، سیرت النبی ﷺ،ج:اول)

ایک طویل تاریخی عمل کے بعد اِس وقت حضور اکرم ﷺکے اقوال ، اعمال اور شخصی حالات کے مجموعے کو سیرت کہاجاتا ہے ، یعنی رسول مکرم ﷺ کا مسلمانوں اور غیر مسلموں کے ساتھ کیا سلوک رہا، اپنوں اور پراؤں سے کیا رویہ رہا، صلح اور جنگ ، امن اور خوف کی حالتوں میں کیا طرزِ عمل رہا، آپﷺ کی شخصی، ازدواجی،معاشی، سماجی اور سیاسی زندگی کیسی رہی، مطلب کہ آپ ﷺ کے اقوال ، اعمال اور مجموعی زندگی کے حالات کو ’’سیرت ا لنبی ﷺ ‘‘کہا جاتا ہے۔

ایک مسلم کے لیے سیرت کا مطالعہ:

سیدنا عیسی ٰ علیہ السلام سے تقریباً چھ سو سال بعد جب دنیا پر کفر، شرک ، جہالت اور ظلم کا اندھیرا چھایا ہوا تھا، اُس وقت عرب کی سر زمین میں کائنات کے رہبر، رحمۃ للعٰلمین ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے آخری پیغمبر بنا کر دنیا کی رہبری کےلیے بھیجا، اور آپ ﷺ کی ذات مبارکہ کو اللہ تعالیٰٰ نے ایسا جامع ، کامل اور ہمہ گیر بنایا کہ جس سے ہر انسان ، خواہ وہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو ، رہبری حاصل کر سکتا ہے، قرآن مجید میں ارشاد ہے:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًا (الأحزاب:21)

بیشک تمهارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونۂ عمل موجود ہے یعنی ہر اس شخص کے لیے جواللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہے۔

ظاہر سی بات ہے کہ جس ذات میں مؤمن کے لیے عملی نمونہ موجود ہو، اس کی زندگی اور سیرت کا مطالعہ ایک مومن کا ایمانی فرض بنتا ہے، اس لیے کہ اس ذات کی سیرت کو پڑھے اور سمجھے بغیر نہ تو ہدایت کا راستہ حاصل ہو سکتا ہے ،نہ صحیح علم اور دانائی مل سکتی ہے، اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت ،و اطاعت اور محبت پائی جاسکتی ہے، اور نہ ہی جنت حاصل کی جاسکتی ہے۔ مطلب کہ دنیا اور آخرت کی کامیابی کا دارومدار رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کے مطابق عمل کرنے پر ہے۔ اور جب تک آپ ﷺ کی سیرت ِ طیبہ کو نہ پڑھا جائے گا اور نہ سمجھا جائے گا ، تو اس وقت تک عمل نہ ہو سکے گا۔ اس لیے مسلمان ہونے کے ناطے ہر مومن کا فرض بنتا ے کہ نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کو پڑھے اور سمجھے، تاکہ اس پر عمل کر کے دونوں جہانوں کی کامیابی حاصل کرسکے۔

ذیل میں ہم کچھ ایسی قرآنی آیات اور احادیث پیش کرتے ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت،اتباع اورمحبت کی تعلیم دی گئی ہے:

قرآنی آیات

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ (محمد:33)

’’مومنو! اللہ کی فرمانبرداری کرو اور پیغمبر کی فرمانبرداری کرو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ ہونے دو۔‘‘

اعمال کے ضائع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہر وہ عمل جو اللہ کی ہدایت اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے سوا کیا جائے گا، تواللہ رب العزت کی نظر میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔

وَ اِنْ تُطِيْعُوْهُ تَهْتَدُوْا (النور:54)

’’اور اگر تم ان (رسول اللہ ﷺ)کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا راستہ پالو گے۔‘‘

یعنی رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے سوا سیدھا راستہ حاصل نہیں ہو سکتا۔

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ (آل عمران:164)

«اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجا ہے۔ جو ان کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں اور ان کو پاک کرتے اور (ا للہ کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں «

یہ ایک حقیقت ہے کہ علم اور دانش کے سوا کامیاب زندگی نہیں گذاری جاسکتی اور رسول اللہ ﷺ کی پوری سیرت علم و دانش سے بھرپور ہے۔

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (آل عمران:31)

’’(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ بھی تمہیں دوست رکھے گا۔‘‘

مطلب کہ نبی کریم ﷺکی پیروی کے سوااللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنا ناممکن ہے۔

وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(آل عمران:132)

’’اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘

یعنی تم اللہ تعالیٰ کے رحم اور کرم کے مستحق تب بنو گے جب اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا کہا مانو گے۔

وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا

’’سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو۔ اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔‘‘ (الحشر:7)

مطلب کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی تمہارے لیے مشعل ِ راہ ہے۔

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ يُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ

’’(یہ تمام احکام) اللہ کی حدود ہیں۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اللہ اس کو باغات میں داخل کرے گا جن میں نہریں جاری ہیں ،وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔اور یہ بڑی کامیابی ہے۔‘‘ (النساء:13)

مطلب کہ جنت، جو اللہ کی رضا کی جگہ ہے ، اور جسے حاصل کرنا بہت بڑی کامیابی ہے ، وہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت ِ طیبہ پر عمل کیے بغیر حاصل نہیں کی جاسکتی۔

احادیث

نبی کریم ﷺ کے ارشاداتِ مبارکہ سے بھی آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے مطالعے کی ضرورت و اہمیت معلوم کی جاسکتی ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ، لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ (مؤطا إمام مالک،کتاب القدر،باب ماجاء فی أھل القدر،حدیث:1395)

’’میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑ ی ہیں ، جب تک تم انہیں مضبوطی سے پکڑے رہو گے تب تک ہرگز گمراہ نہیں ہوں گے؛ ایک اللہ کی کتاب اور دوسری اس کے نبی کی سنت۔‘‘

لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ (مشکاة المصابیح،کتاب الإیمان،باب الاعتصام بالكتاب والسنة،حدیث:167)

’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنی خواہش ، پسند ناپسند کو اس طریقے کے تابع نہ کر دے جو میں لے کر آیا ہوں۔‘‘

مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللهَ، وَمَنْ يَعْصِنِي فَقَدْ عَصَى اللهَ (صحيح مسلم،كتاب الإمارة، باب وجوب طاعة الأمراء في غير معصية، وتحريمها في المعصية، الحديث:1835)

’’جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ، اور جس نے میری نافرمانی کی ، اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔‘‘

پاک پیغمبر ﷺ کے ان ارشادات سے آپ ﷺکی سیرت طیبہ کے مطالعے کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔فرمودات الٰہیہ اور نبی کریم ﷺ کے ارشادات کے بعد بھی اگر کوئی مسلمان آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے مطالعے کو غیر اہم سمجھتا ہے تو یہ اس کی نادانی اور بدقسمتی ہوگی ۔ یہی سبب ہے کہ صحابہ کرام ، تابعین اور فقہاء کرام رضی اللہ عنہم نے ہمیشہ قرآن مجید کے بعد نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کو اپنے لیے مشعل راہ سمجھا۔

سیرت النبی ﷺ کے مطالعے کی تاریخی اہمیت:

چونکہ دین اسلام آخری الہامی دین ہے ، قرآن مجید ہدایت کی آخری الہامی کتاب اور مسلمانوں کا منشور ہے اور نبی کریم ﷺ اللہ کے آخری پیغمبر ہیں۔ اس لیے آپ ﷺ خاتم النبیین کی حیثیت سے قرآن مجید کے شارح بن کر آئے۔ اس لیے آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کی اہمیت قیامت تک آنے والے لوگوں کےلیے برابر رہے گی۔ آپﷺکی سیرت ِ طیبہ ایسی جامع اور کامل ہے کہ اس سے ہر شخص رہبری حاصل کرسکتا ہے، چاہے وہ حکمران ہو، امیر ہو، وزیر ہو، افسر ہو، ملازم ہو، سپاہی ہو، تاجر ہو ، مزدور ہو، جج ہو، استادہو، قائد ہو، فلسفی ہو، ادیب ہو، ہر ایک یکساں رہبری حاصل کر سکتا ہے۔ اس لیے کہ آپ ﷺ کی ذات تمام صفات کی جامع تھی ۔ آپ ﷺکی ذات پاک میں ایک باپ ، ایک ہمسفر، ایک پڑوسی کے لیے یکساں عملی نمونہ موجود ہے۔ ایک بار جو آپ ﷺ کے دربار میں داخل ہوا، اسے پھر کسی دوسرے کا دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انسانیت جس آخری کمال تک پہنچ سکتی ہے، وہ سب خوبیاں اس ایک ہستی میں موجود تھیں۔ انسانی تاریخ میں ’’عظیم انسان ‘‘ یہ ایک ہی ہستی ہے۔جسے مشعل بنا کر ہر دور میں ہم اپنی زندگی کے ایوان کو روشن کر سکتے ہیں ۔

غیر مسلم کے لیے سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ:

آپ ﷺ نے اپنی تعلیمات،کردار اور ان تھک جدوجہد کے ذریعے دنیا کو شرک اور توہم پرستی جیسی قبیح رسوم سے نجات دلائی جس نے انسانی تہذیب و تمدن کا ارتقاء روکا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے انسانوں کے بیچ اونچ نیچ کے طبقاتی نظام کو غیر معقول قرار دےانسانیت کو اس سے نجات دلائی جو آپ ﷺ کا پوری انسانیت پر بہت بڑا احسان ہے۔ آپ ﷺ نے عورتوں ،غلاموں اور جنگی قیدیوں تک کے حقوق متعین کیے جنھیں اس سے قبل انسانی حقوق حاصل نہیں تھے۔آپ ﷺ جانوروں تک کے حقوق بتائے جن کے ساتھ پہلے بے رحمانہ سلوک کیا جاتا تھا۔آپ ﷺ نے دنیا کو اس تنگ نظری سے نکال دیا جس کے مطابق اپنی زبان، اپنے علم واپنی روایات کو الہامی تصور کیاجاتا تھا اور اس سے کسی چیز کو نکالنا یا داخل کرنا جرم سمجھاجاتا تھا۔ آپ ﷺ نے اس کے مقابلہ میں ہر علم ودانش کی چیز کو انسانیت کا مشترکہ ورثہ تسلیم کر کے اسے حاصل کرنے کی ترغیب دی،جس کی بنیاد پر انسانیت ایک دوسرے کے علم اور تجربے سے مستفید ہوتی رہی اور اسی کے نتیجے میں آج دنیا نے ہر شعبہ حیات میں ترقی کی یہاں تک کہ مریخ تک جا کر پہنچی۔بہر حال حقیقی معنی میں اگر کوئی رفاہی وفلاحی انقلاب اس دھرتی پر لایا ہے تو وہ صرف اللہ کے آخری پیغمبر محمد عربی ﷺ ہی ہیں۔ مطلب کہ کروڑوں لوگوں نے آپﷺ کی روشنی سے نور حاصل کیا، دنیا کے کونے کونے تک آپ ﷺ کا فیض پہنچا۔ اس وقت کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہے جو اس عظیم ہستی کی سیرتِ طیبہ کے کسی نہ کسی پہلو سے فیضیاب نہ ہوا ہو۔ اس لیے آپ ﷺ کی زندگی کا مطالعہ نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے لازمی ہے۔

By editor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے