محترم قارئین کرام !نماز میں قیام کی حالت میں ہاتھ کہاں باندھے جائیں؟ یہ اہلِ علم کے درمیان مختلف فيه مسئلہ ہے ، اسی اختلاف کی وجہ سے دلائل کی بنیاد پر علماء کے مختلف مؤقف ہیں،کوئی سینے پر ، یا ناف سے اوپر ہاتھ باندھنے کو ترجیح دیتا ہے، تو کوئی زیر ناف باندھنے کو ،

فیس بک پر بعض حنفی حضرات جو تقلید پر بات کرتے ہوئے اتنے متشدد ہو جاتے ہیں کہ اہل حدیث علماء کو سفہاء ، نفس کے پجاری ، جیسے القابات سے نواز رہے ہوتے ہیں ، وہیں اس مسئلہ پر اتنےمتشدد ہو جاتے ہیں کہ کئی طرح کے دعوے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ،کوئی کہتا ہے کہ سینے پر ہاتھ باندھنا بدعت ہے جو اہل حدیثوں نے ایجاد کی ہے،

کوئی کہتا ہےسلف صالحین میں سے کسی کا مؤقف سینے پر ہاتھ باندھنےکا نہیں ہے ، اس کا جواب دینے سے پہلے میں یہ بتا دوں کہ اگر یہ اختلاف اولی ، غیر اولی تک محدود ہوتا تو پھر بھی سمجھ آتا ہے کہ ایک مکتب فکر کا اجتہاد ہے ، لیکن اسے بدعت کہنا اور سلف صالحین کی مخالفت کہنا سراسر تشدد ہے جو کہ تعصب کی بنا پر ہے ، اسے بدعت کہنے والوں کو میں کہوں گا اگر میں صرف کوئی ایک حدیث بھی اس موضوع پر پیش کر دوں تو آپ کے دعوی کی بنیاد ہی ختم ہو جائےگی ۔

پہلے ہم اس مسئلے پر رسول اللہ کی سنت پیش کرتے

۱: عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ يَشُدُّ بَيْنَهُمَا عَلَى صَدْرِهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ

طاوؤس (تابعی) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنا دائیاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے، پھر ان کو اپنے سینے پر باندھ لیتے، اور آپ نماز میں ہوتے۔( سنن أبي داؤد / ت: شعيب ارنؤوط/ ٢/٧١ وسنده صحيح مرسل عند الأحناف )

نوٹ: یاد رہے کہ احناف کے ہاں مرسل حدیث حجت ہے ، اور یہاں تصحیح بھی اُن کے ھی اصول سے اس لئے پیش کی ہے کیوں کہ مذکورہ تحریر میں ہمارے فریق مخالف احناف ہی ہیں۔

دوسری مرفوع حدیث سے رسول اللہ کا طریقہ

۲: قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ، وَرَأَيْتُهُ، قَالَ، يَضَعُ هَذِهِ عَلَى صَدْرِهِ
وصف يحيى : اليمنى على اليسرى فوق المفصل

ترجمہ:سیدنا ھلب طائی (رض) فرماتے ہیں کہ: میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، آپ اپنے دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرتے تھے، میں نے آپ علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ اپنے اس ہاتھ کو اپنے سینہ پر رکھتے تھے۔(رواه الإمام احمد في مسنده / ٣٦/٢٩٩ شعيب ارنؤوط، المكتبة الشاملة ،وسنده صحيح )

نوٹ: اس روایت پر جو اعتراضات حنفیوں کی طرف سے کئے گئے ہیں اُن کے جوابات کے لئے دیکھئے: حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب : نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام ،،

تیسری مرفوع حدیث سے رسول اللہ کا طریقہ مبارک ملاحظہ فرمائیں

۳۔ عن وائل بن حجر قال : صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ووضع يده اليمنى على يده اليسرى على صدره.

سيدنا وائل بن حجر رضی اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی آپ ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھ کر سینے پر رکھ لیا۔( رواه الإمام ابن خزيمة في صحيحه /١/٢٤٣، مصطفى الأعظمي، مكتبة الشاملة)

نوٹ: مذکورہ روایت پر حنفیوں کے اعتراضات کے جوابات کے لئے دیکھئے حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب : نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام۔

نوٹ: اِن مرفوع احادیث صحیحہ ثابتہ سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ نماز میں سینے پر ہاتھ باندھتے تھے ،غالباً ان احادیث صحیحہ ثابتہ کی بُنیاد پر ہی سلف نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ رسول اللہ سینے پر ہی ہاتھ باندھتے تھے چنانچہ امام جلال الدین سیوطی (م911ھ) فرماتے ہیں:

وكان يده يضع اليمنى على اليسرى ثم يشد بهما على صدره

یعنی : رسول اللہ ﷺ اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھتے پھر اُن کو سینہ پر باندھ لیتے تھے۔(عمل الیوم والليلة للسيوطي:١١)

 اب رسول اللہ ﷺکے عمل کے بعد کسی اور کے عمل کی حاجت تو نہیں رہتی ہے ، ویسے احناف اتنا تو مانتے ہی ہیں کہ ان احادیث سے بعض اسلاف نے سینے پر ہاتھ باندھنے کی دلیل پکڑی ہے،بعض تقلیدی حضرات جو تعصّب کے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں اور علم کی ہوا بھی اُن کو میسر نہیں ہے وہ کہتے ہیں کہ اسلاف میں بھی کوئی سینہ پر ہاتھ باندھنے کا قائل نہیں تھا حالانکہ یہ دعویٰ بتا رہا ہے کہ یہ لوگ علم سے بالکل کورے ہیں اِس کے علاوہ کئی اصحاب رسول ﷺسے بھی سینہ پر ہاتھ باندھنے کے اقوال مروی ہیں لیکِن ماننے والے کے لئے ایک دلیل بھی کافی ہے اور نا ماننے والے کے لئے پورہ ذخیرہ احادیث بھی نا کافی ہے۔

نوٹ:

 صحابہ کرام سے بعض اقوال حنفی حضرات ناف کے نیچے باندھنے پر پیش کرتے ہیں مگر وہ ثابت نہیں ہیں چنانچہ امام ابن عبد البر (م٤٦٣) رحمہ اللہ نے کہا:

قال الشافعي: عند الصدر، روي ذالك عن علي وأبي هريرة وإبراهيم النخعي، ولا يثبت ذلك عنهم

امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک (نماز میں) سينه پر ہاتھ باندھے جائیں، ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کے اقوال علی اور ابو ھریرہ اور ابراہیم نخعی سے بھی مروی ہیں ، لیکِن اِن سے وہ اقوال ثابت نہیں ہیں۔( التمهيد لابن عبد البر ، بشار عواد ۱۲/٤٢٠ المكتبة الشاملة )

تابعی سعید بن جبیر (م٩٥) رحمہ اللہ:

سئل سعيد بن جبير أين وضع اليدين في الصلاة؟ فقال: فوق السرة

سعید بن جبیر سے پوچھا گیا کہ: نماز میں ہاتھ کہاں باندھے جائیں ؟ آپ نے فرمایا: ناف کے اُوپر (سینہ پر)۔( السنن الكبرى للبيهقي ، وصحه البيهقي في السنن / ٢/٤٧ ت: محمد عبد القادر عطا / دار الكتب العلمية )

امامِ شافعی (م٢٠٤) رحمه الله:

قال ووضع اليمين على اليسار على الصدر ، لما روى ابن خزيمة في صحيحه عن وائل بن حجر

یعنی امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ: دائیں کو بائیں ہاتھ پر رکھ کر سینے پر باندھے جائیں ، کیونکہ امام ابن خزيمه نے اپنی صحیح میں حضرت وائل بن حجر سے روایت کیا ہے۔( شرح مختصر التبريزي على مذهب الإمام الشافعي للإمام ابن ملقن ، وائل محمد بكر زهران / ط. دارالفلاح / ص: ٩٢)

علامه عيني الحنفي (م٨٥٥) نے کہا:

« في مكان الوضع عندنا تحت السرة وعند الشافعي على الصدر ذكره في الحاوي والوسيط تحت صدره واحتج الشافعي بحديث وائل بن حجر أخرجه ابن خزيمة في صحيحه»

ہاتھ باندھنے کی جگہ ہمارے نزدیک ناف کے نیچے ہے ، اور امام شافعی کے نزدیک سینہ پر ہاتھ باندھے جائیں ، جیسا کہ حاوی اور وسیط میں ذکر کیا ہے کہ امام شافعی سینہ کے نیچے ہاتھ باندھنے کے قائل ہیں اور شافعی نے دلیل پکڑی ہے حدیث وائل بن حجر سے جِس کو ابنِ خزيمة نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔(عمدة القاري للعيني ٥/٢٨٩)

تنبیہ: یہاں بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ امام بدر الدین عینی حنفی نے امام شافعی کا مؤقف على الصدر بیان کر کے تحت الصدر کے الفاظ استعمال کئے ہیں یعنی على الصدر اور تحت الصدر دونوں کو ایک ہی معنیٰ میں بیان کر رہے ہیں ۔یہ مغالطہ بھی دُرست نہیں ہے کہ دیکھو فلاں فلاں سلف نے تحت الصدر ( سینے کے نیچے) کے الفاظ استعمال کئے ہیں على الصدر کے نہیں ۔

امام بابرتي حنفی (م٧٨٦ھ) نے کہا:

«وعند الشافعي الأفضل أن يضع يده على الصدر»

امامِ شافعی کے نزدیک افضل یہ ہے کہ (نمازی) سینے پر ہاتھ باندھے۔ (عمدة القاري للعيني )

مولانا عبد الشکور لکھنوی حنفی:

امامِ شافعی کے نزدیک مردوں کو بھی سینہ پر ہاتھ باندھنے چاہیے۔(علم الفقہ / ۲۱۰)

ابو سليمان احمد الخطابي (م٣٨٨ه‍) فرماتے ہیں کہ:

وإنما السنة أن يضع يديه على صدره

اور سنّت یہ ہے کہ: (نمازی) اپنے ہاتھوں کو اپنے سینے پر رکھے۔(أعلام الحديث في شرح صحيح البخاري للخطابي، ت: د/ محمد بن سعيد آل سعود ط: التراث الاسلامي ،ص:٦٥٢)

اسی طرح امام أبو بكر البیهقي (م458) نے اپنی سنن میں اس طرح باب قائم کیا ہے:

«باب وضع اليدين في الصلاة على الصدر من السنة»

یعنی نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنا سنّت ہے۔( السنن الكبرى للبيهقي ٢/٤٦ / مكتبة الشاملة ط: العلمية )

امام ابن رسلان الرملي (م٨٤٤) نے کہا ہے:

فيه دليل على أن السنة في وضع اليدين أن يكون على الصدر (شرح سنن أبي داؤد لابن رسلان ٤/٣٠٩ / ط: دارالفلاح )

’’یہ دلیل ہے کہ ہاتھ باندھنے کا مسنون طریقہ سینے پر باندھنا ہے۔‘‘

اِس لئے یہ کہنا کہ اہل علم میں سے سینه پر ھاتھ باندھنے کا قول نہیں ہے ، غلط ہے۔

ایک مغالطہ:

بعض حنفی حضرات عوام کو یہ مغالطہ دیتے ہیں کہ: دیکھو فلاں اہلِ علم نے ’’ فوق السرہ ‘‘ ناف سے اوپر کہا ہے اور فلاں نے : تحت الصدر سینے سے نیچے ہاتھ باندھنا لکھا ہے،

فوق السرة: بمعنی سینہ پر

تحت الصدر: بمعنی سینہ پر

اہلِ علم جب ان دو الفاظ کو بولتے ہیں تو معنیٰ ایک ہی ہوتا ہے «على الصدر» یعنی سینہ پر ۔اِس کی مثالیں تو بیشمار ہیں لیکِن کُچھ اہلِ علم کی صراحت ہم یہاں نقل کر رہے ہیں:

یہ بات احناف اور اہلِ حدیث میں متّفق علیہ ہے کہ عورت سینہ پر ہاتھ باندھے گی اور یہ فقہی کُتب میں جگہ جگہ لکھا :

«فإنها تضع على صدرها»

کہ عورت اپنے سینہ پر ہاتھ باندھے گی۔( البحر الرائق شرح كنز الدقائق : ١/٣٢٠ / مكتبة الشاملة )

ائمہ نے عورتوں کے لئے «فوق السرہ» کے الفاظ بھی استعمال کئے ہیں، چنانچہ امام ساغدي الحنفي (م٤٦١) لکھتے ہیں:

«والنساء يضعن فوق السرة»

یعنی عورتیں ناف سے اوپر (سینہ) پر ہاتھ باندھیں۔( النتف في الفتاوى للسغدي ، ١/٧١/ مكتبة الشاملة )

یہاں پر امام ساغدى حنفی نے عورتوں کے سینے کے لئے فوق السرہ کے الفاظ استعمال کئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ فوق السرہ بمعنی سینے پر بھی استعمال ہوتا ہے ۔

«تحت الصدر»

فقہ حنفی کی کتاب «مجمع الأنهر» میں لکھا ہے کہ:

«وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ تَحْتَ الصَّدْرِ كَمَا فِي وَضْعِ الْمَرْأَةِ عِنْدَنَا»

یعنی شافعی کے نزدیک (نمازی) سینے کے نیچے ہاتھ رکھے گا ، جس طرح ہمارے نزدیک عورتیں ہاتھ رکھتی ہیں۔(مجمع الأنهر في شرح ملتقي الأبحر / ١/٩٣)

معلوم ہوا کہ سینہ کے لئے اہلِ علم کبھی «على الصدر» تو کبھی «تحت الصدر» تو کبھی «فوق السرة» جیسے الفاظ کا استعمال بھی کیا کرتے ہیں

اِس لئے بعض مغالطہ بازوں کا اِن الفاظ کا سہارا لے کر مغالطہ دینا اُن کے علم سے کورا ہونے کی دلیل ہوتی ہے،،

خلاصہ

نماز میں سینہ پر ہاتھ باندھنا رسول اللہ سے لے کر صحابہ کرام تابعین ، اور بعد کے اسلاف سے ثابت ہے ۔

By editor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے