پھول ایک خوبصورت، خوشبودہ اور دل کو بھا جانے والی چیز ہے، پھولوں کا انسانوں سے ایک گہرا تعلق ہے۔ لہذا سوچا کہ پھولوں کے حوالے سے کچھ خصائص و احکام آپ کی خدمت میں پیش کیے جائیں۔ لہذا ملاحظہ فرمائیں۔

{1} قرآن کی دو سورتیں پھول کی مانند ہیں

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

اقْرَؤُا الْقُرْآنَ فَإِنَّهٗ یَأْتِيْ شَافِعًا لِأَصْحَابِهِ، اقْرَؤُوا الزَّھْرَاوَیْنِ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا یَأْتِیَانِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ کَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ غَیَابَتَانِ أَوْفِرْقَانِ مِنْ طَیْرٍ صَوَافَّ یُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِھَا، اقْرَؤُا الْبَقَرَةَ فَإِنَّ أَخْذَھَا بَرَکَةٌ، وَتَرْکَھَا حَسْرَةٌ، وَلَا یَسْتَطِیْعُھَا الْبَطَلَةُ.

قرآن پڑھو، یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کرے گا۔دو پھولوں:(سورۃ)البقرۃ اور(سورۃ)آل عمران کی تلاوت کرو۔یہ دونوں قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے پر دو بادل یا سایہ کرنے والے یا پرندوں کی دو سایہ دار ٹولیوں کی شکل میں آئیں گی اور اپنے پڑھنے والے کا دفاع کریں گی۔ (صحیح مسلم : 804)

{2} قرآن پڑھنے اور نہ پڑھنے والے کی مثال

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا :

مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْأُتْرُجَّةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لَا رِيحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ .

اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو سنگترے جیسی ہے جس کی خوشبو بھی پاکیزہ ہے اور مزہ بھی پاکیزہ ہے اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی لیکن مزہ میٹھا ہوتا ہے اور منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، ریحانہ ( پھول ) جیسی ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے لیکن مزہ کڑوا ہوتا ہے اور جو منافق قرآن بھی نہیں پڑھتا اس کی مثال اندرائن جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی اور جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔ ( صحیح بخاری : 5427 )

{3} حسنین کریمین دو پھول ہیں

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :

إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا .

’’حسن اور حسین رضی الله عنہما یہ دونوں میری دنیا کے پھول ہیں۔‘‘ (سنن ترمذی : 3770 )

{4} بیوی پھول ہے

سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ :

سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَيُقَبِّلُ الصَّائِمُ؟ فَقَالَ: وَمَا بَأْسٌ بِذَلِكَ رَيْحَانَةٌ يَشُمُّهَا.

 رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کیا روزہ دار بیوی کو بوسہ دے سکتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس میں کوئی حرج نہیں وہ ایک پھول کو سونگھ رہا ہے۔‘‘( معجم الصغیر طبرانی : 360 )

{5} پھول کا تحفہ لوٹانا

سیدنا ابوھریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

 مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ رَيْحَانٌ فَلَا يَرُدُّهُ، فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمِلِ طَيِّبُ الرِّيحِ.(صحیح مسلم : 5883 )

’’ جس شخص کو ریحان ( خوشبودار پھول یا ٹہنی ) دی جائے تو وہ اسے مسترد نہ کرے کیونکہ وہ اٹھانے میں ہلکی اور خوشبو میں عمدہ ہے ۔‘‘

{6} صحابہ کرام کے باغات میں پھول کی پیداوار

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسا باغ تھا جس میں سال میں دو مرتبہ پھل لگتا تھا،

وَكَانَ فِيهَا رَيْحَانٌ كَانَ يَجِيءُ مِنْهُ رِيحُ الْمِسْكِ.

ور اس میں ایک پھول تھا جس سے مشک کی خوشبو آتی تھی۔(جامع ترمذی: 3833)

{7} پھولوں کا تحفہ پیش کرنا

ایک دوسرے کو تحفے تحائف دینا اچھی عادت ہے اور اس سے محبت بڑھتی ہے شریعت میں تحفے دینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے:ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو تم آپس میں محبت کرنے لگو گے۔‘‘(الادب المفرد للبخاری:594،حافظ ابن حجر فرماتے ہیں اس کی سند حسن ہے التلخیص الحبیر 3/75)

اسی طرح بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے لیے ہدیہ بھیجنا ہرگز حقیر نہ سمجھے اگرچہ بکری کا ایک کھر ہی ہو۔

بخاری شریف میں ایک حدیث کے اندر ہے،آپ نے فرمایا:اگر مجھے دستی ہدیہ دی گئی تو میں قبول کروں گا۔(التلخیص الحبیر 3/70)

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ہدیہ واپس نہ کرو۔‘‘(مسند احمد،ابو یعلی)

مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہدیہ و تحفہ لینا یا دینا محبت کا باعث ہوتا ہے۔لہذا پھولوں کا گلدستہ ہو یا کوئی کھانے پینے کی حلال چیز وغیرہ ایسے تحفے دینے میں کوئی قباحت نہیں ہے اور نہ ہی اس میں یہود کی مشابہت ہے،مشابہت سے مراد کسی قوم کے شعار و مخصوص طرز کو اپنانا ہوتا ہے جس کی اسلام میں اجازت نہ ہوجیسا کہ بعض دین دشمن 14 فروری کو محبت کا دن مناتے ہوئے پھول کا تحفہ پیش کرتے ہیں ایسا کرنا کفار سے مشابہت ہوگی۔[ تفہیم دین از مبشر احمد ربانی ص : 378 ]

{8} جنازے کے آگے پھولوں کے سہرے

شیخ ناصر دین البانی رحمہ اللہ نے جن اعمال کو بدعات قرار دیا ہے ان میں یہ بھی شامل ہیں ؛ پھولوں کے سہرے، پھول اور میت کی تصویر اٹھا کر جنازے کے آگے آگے چلنا۔[ ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۳/ ۴۴)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۹/ ۴۴ ]

{9} فوتگی کے تیسرے دن پھول تقسیم کرنا

اللہ تعالیٰ کے نام پر بے رسم و ریاء کھانا تقسیم کرنا اور میت کو ثواب پہنچانا بہت بڑا ثواب ہے اور از خود دن مقرر کرنا محض بے اصل ہے اور تیسرے دن پھول تقسیم کرنا بھی شریعت میں نیا کام ہے۔‘‘[ سفر آخرت از مفتی محمد عبد اللہ عفیف ص : 186 ]

ابن باز رحمہ اللّٰہ نے میت کے گھر والوں کو سیاہ پھول پیش کرنے کو بھی ناجائز قرار دیا ہے۔[ فتاویٰ ابن باز ص : 336 ]

{10} قبروں پر پھول اور چادریں چڑھانا

اولیا اور صالحین کی قبروں پر پھول، چادریں چڑھانا عجمی تہذیب کا شاخسانہ اور قبیح بدعت ہے۔

علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (855ھ)بھی لکھتے ہیں :

کَذٰلِکَ مَا یَفْعَلُهٗ أَکْثَرُ النَّاسِ مِنْ وَّضْعِ مَا فِیهِ رَطُوبَةٌ مِنَ الرَّیَاحِینَ وَالْبُقُولِ وَنَحْوِهِمَا عَلَی الْقُبُورِ، لَیْسَ بِشَيْئٍ، وَإِنَّمَا السُّنَّةُ الْغَرْزُ ۔

’’اسی طرح اکثر لوگ قبروں پر جو پھول اور سبزیوں وغیرہ جیسی تر چیزیں رکھتے ہیں ، بے فائدہ اور بے بنیاد ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا طریقہ تو (ٹہنیوں کو) گاڑنے کا تھا۔‘‘(عمدة القاري : 3/121)

معلوم ہوا کہ قبروں پر پھول چڑھانا بے دلیل بلکہ لغو اور عبث ہے۔ اس کے حرام وناجائز اور بدعت سیئہ ہونے میں شبہ نہیں ۔

قبروں پر کپڑے‘پھولوں کی چادریں اور غلاف چڑھانے کے بارے میں ارشادِ رسالتِ مآب ﷺ ہے:

اِنَّ اللّٰهَ لَمْ یَا مُرْنَااَنْ نَّکْسُوْا الْحِجَارَةَ وَالطِّیْنَ.(صحیح مسلم)

’’اللہ نے ہمیں پتھر اور مٹی کو لباس پہنانے کا حکم نہیں دیا۔‘‘

{11} قبر پر پھول کی پتیاں بکھیرنا

جب انسان دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اس کے ہر قسم کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، پھولوں کی پتیاں بکھیرنے کا مقصد صرف میت کو نفع پہنچانا ہے تو ایسا کرنا ایک فضول حرکت ہے اور قبر پر یا اس کے ارد گرد دال اور چاول ڈالنا بھی اسی قبیل سے ہے۔

ہمارے رحجان کے مطابق میت کے عزیز جب پھول کی پتیاں بکھیرتے ہیں، تو اس سے مقصود محض اپنے جذبات کا اظہار ہے کہ ہمیں میت سے بہت محبت ہے، اگر واقعی ایسا ہے تو انہیں وہ کام کرنے چاہیے جن سے میت کو فائدہ پہنچتا ہو، محض جذبات کا اظہار کافی نہیں۔ ویسے بھی رسول اللہ ﷺ نے اس طرح مال کو ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔

جیسا کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مال کو ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔[بخاری،الادب:۵۹۷۵]

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدناعبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی قبر پر خیمہ نصب دیکھا تو وہاں مامور غلام سے کہا کہ اسے اکھاڑ دو، میت کو اس کے اعمال کا سایہ ہوگا۔[ صحیح بخاری، الجنائز، باب:۸۱ ]

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس بات سے آگاہ تھے کہ مرنے کے بعد اس طرح کے ظاہری اعمال میت کو کوئی فائدہ نہیں دیتے، انسان کو اپنا ذاتی کردار ہی فائدہ دے سکتا ہے۔ البتہ رسول اللہ ﷺ نے چند کاموں کی نشاندہی ضرور کی ہے جو مرنے کے بعد میت کے لیے سود مند ہو سکتے ہیں۔[ فتاویٰ اصحاب الحدیث جلد پنجم ص 148 ]

{12} کپڑوں پر پھولدار نقشیں بنانا

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ :

نَهَانِی رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِیثَرَةِ وَعَنِ الْقَسِّیَّةِ قُلْنَا لَهُ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَأَیُّ شَیْئٍ الْمِیثَرَةُ؟ قَالَ: شَیْئٌ یَصْنَعُهُ النِّسَائُ لِبُعُولَتِهِنَّ عَلٰی رِحَالِهِنَّ، قَالَ قُلْنَا: وَمَا الْقَسِّیَّةُ؟ قَالَ ثِیَابٌ تَأْتِینَا مِنْ قِبَلِ الشَّامِ مُضَلَّعَةٌ فِیهَا أَمْثَالُ الْأُتْرُجِّ، قَالَ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَلَمَّا رَأَیْتُ السَّبَنِیَّ عَرَفْتُ أَنَّهَا هِیَ.

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے میثرہ اور قسی سے منع فرمایا ہے۔ لوگوں نے پوچھا: اے امیر المومنین! میثرہ کیا چیز ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ (ریشمی گدیلے) ہوتے ہیں، جو عورتیں اپنی رہائش گاہوں میں اپنے خاوندوں کے لیے بناتی ہیں، ہم نے کہا: قسی کیا چیز ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ شام کی طرف سے ہمارے ہاں ایک پھول دار (ریشمی) کپڑا لایا جاتا ہے، اس میں نارنگی کی مانند بیل بوٹے بنائے جاتے تھے، ابو بردہ کہتے ہیں: جب میں نے سبن علاقہ کے بنے ہوئے کپڑے دیکھے تو میں جان گیا کہ وہ یہی ہیں۔[ مسند احمد : 7947 ]

{13} محرم کا پھول سونگھنا

پھول یا کسی بُوٹی کی خوشبو سونگھنا،دانت داڑھ نکلوانا،مرہم پٹی کروانا،ٹوٹے ہوئے ناخن کو اتار کر پھینکنا قابل ِمواخذہ نہیں ہے۔ (بخاری، مؤطا مالک،بیہقی، محلّیٰ ، فقہ السنہ ۱؍۶۶۷)

{14} پھولوں سے جادو کا علاج

فتح الباری ہی میں یہ علاج بھی لکھا ہے کہ مریض موسمِ بہار میں جنگلوں، بیابانوں اور باغوں میں سے جتنے پھول جمع کرسکے ، انھیں ایک صاف برتن میں ڈال کر اس برتن کو پانی سے بھرلے، پھر اس پانی کو تھوڑا سا ابال لے، جب وہ ٹھنڈا ہوجائے تو اس پر مُعوِّذات پڑھ کر دَم کرے اور اس سے غسل کرے۔ اِنْ شآء اللّٰہ تندرست ہوجائے گا۔[ فتح الباری (۱۰/ ۲۳۴) ]

{15} معتکف کا پھولوں کا ہار پہننا

اعتکاف سے فراغت کے بعد معتکف کو اعتکاف گاہ سے پروٹوکول کے ساتھ نکالاجائے ،اس کے گلے میں ہار پہنائے جائیں اورجلوس کی شکل میں اسے گھر پہنچایا جائے، شنید ہے کہ بعض مقامات پرمعتکف حضرات کی یادگار تصاویر بھی بنائی جاتی ہیں۔ دین اسلام میں ایسے کاموں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اعتکاف کامقصد یہ ہے کہ دل کااللہ تعالیٰ کے ساتھ رابطہ ہوجائے ،اس کے ذریعہ سکون وطمانیت میسرآجائے ،معتکف کو گناہوں سے نفرت اورامورخیر سے محبت ہو،اگر دوران اعتکاف یہ چیزیں حاصل ہوجائیں تو ایسے انسان کوقطعاًضرورت نہیں ہے کہ وہ فراغت کے بعد اپنے گلے میں پھولوں کے ہار پہنے یالوگوں کی مبارک بادوصول کرے، بلکہ اسے چاہیے کہ فراغت کے بعد چپکے سے اپنابستر کندھے پررکھے اورسادگی کے ساتھ اپنے گھر روانہ ہوجائے۔گلے میں ہار پہنانے اورگلے ملنے سے ریاکاری اور نمائش کااندیشہ ہے، پھرایسا کرنا اسلاف سے ثابت بھی نہیں ہے۔[ فتاویٰ اصحاب الحدیث ج دوم ص 241 ]

{16} حاجی کو پھولوں کا ہار پہنانا

حجاج کا استقبال کرنا شرعاً جائز ہے۔[ فتح الباری3/460 ] لیکن نمود و نمائش اور ریا کاری سے پاک ہونا چاہیے اور قبولیت کی دعا دینا بھی اچھی تمنا کا اظہار ہے، بظاہر اس میں بھی کوئی حرج نہیں، حاجی کو پھولوں اور روپوں کے ہاروں سے لاد دینا اسی زمرے میں آتا ہے۔[ فتاویٰ ثنائیہ جلد سوم ص : 357 ]

{17} عورتوں کا پاؤں میں پھول کا کڑا پہننا

عورتوں کو پھول کا کڑا پہننا، اس کے منع کے بارے میں کوئی آیت یا صحیح حدیث وارد نہیں ہے تو حسبِ آیتِ کریمہ:

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَةَ اللّٰهِ الَّتِيْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ [الاعراف: 32]

’’تو کہہ کس نے حرام کی الله کی زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی‘‘اس کا پہننا جائز ہوگا۔ و اللّٰه أعلم بالصواب۔[ مجموعہ فتاویٰ ص : 691 ]

{18} مسجدوں کو پھولوں سے سجانا

مسجدوں میں چراغ جلانے، بجلی کے قمقمے لگانے، جھنڈے لہرانے اور تزئین و آرائش کے لیے عیدوں اور دیگر موقعوں پر پھول سجانے میں کفار کے ساتھ مشابہت بھی تو ہے۔ وہ بھی تو اپنے گرجوں اور مندروں میں ایسا ہی کرتے ہیں اور نبی کریم ﷺ نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ہم کافروں کی عیدوں اور عبادتوں میں ان کے ساتھ مشابہت اختیار کریں۔[ فتاویٰ اسلامیہ جلد دوم ص : 551 ]

{19} بارات پر لڑکی والوں کی طرف پھول پھینکنا

بارات جب لڑکی والوں کے ہاں(ہال یا گھر میں) پہنچتی ہے تو نوجوان لڑکیاں اور یکسر بے پردہ عورتیں دونوں طرف ہاتھوں میں پھولوں کے تھال پکڑے ہوئے دولہا اور باراتیوں کا استقبال کرتی ہیں اور ان پر گل پاشی کرتی ہیں، یہ بھی بے پردگی کی ایک ایسی بے ہودہ رسم ہے جس کی توقع کسی مسلمان مرد عورت سے نہیں کی جاسکتی۔[ البیان اسلامی ثقافت نمبر ص : 34 ]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے