درمیانہ قد، سرخ وسفید رنگت، خوبصورت سیاہ آنکھیں جن میں شب زندہ داری کے سبب لال ڈورے پڑے ہوئے، متناسب اعضاء، شریں گفتار، دبلے پتلے، سادہ ستھرا سفید لباس شلوار قمیص، پائینچے ٹخنوں سے عقب اوپر اٹھے ہوئے، لہجہ میں آہستگی سوز وگداز، چال میں متانت، سر پر ٹوپی یہ تھے مولانا محمد ہارون ھنگورجہ آپ انتہائی خوف الٰہی رکھنے والے رقیق القلب، ذہین وفہیم، ان کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے قراءت کے وقت اُن پر گریہ طاری ہوتے بھی بار بار دیکھا، زندگی بھر اتباع سنت اُن کا معمول رہا۔ آہ! آج سوچتاہوں رب جانے وہ پیارے پیارے حقیقی متقی لوگ کہاں گئے؟ جن کی صحبت میں بیٹھ کر زندگی ملتی تھی۔

یہ زندگی زندگی نہ سمجھو کہ زندگی سے مراد ہیں بس

وہ عمر رفتہ کی چند گھڑیاں جو اُن کی صحبت میں کٹ گئیں

افسوس کے آج کل حسد،بغض، کینہ کدورت، لالچ، حب دنیا وحب جاہ کے روگ نے ہمیں دل کے امراض میں جکڑ کر رکھ دیا ہے جنہوں نے اندر ہی اندر سے روحوں کو فنا کر دیا ہے، دل آپس میں ایک دوسرے سے کٹے ہوئے ہیں۔ بھائی بھائی کا چہرہ دیکھنے سے دور بھاگتاہے، پھر اصلاح معاشرہ کے لیے کانفرنسوں پر کانفرنسیں بھی بڑے شان سے منعقد ہورہی ہیں لیکن پھر بھی اخلاص اور اخلاق حسنہ ناپید۔

نہ معلوم کیوں شیشہ دل زنگ آلود ہوچکاہے۔ اخلاق کریمانہ اور پاکیزہ کردار طائر عنقا ہوتا جارہا ہے بہر حال

درد معلوم ہے یہ لوگ سب

کس طرف سے آئے تھے کدھر چلے؟

مولانا محمد ہارون رقیق القلب اتنے کہ فکر آخرت کا بیان کرتے خوبصورت کٹوروں جیسی آنکھوں سے آنسو آجاتے تھے۔

مولانا محمد ہارون ھنگورجہ 1939ء میں گوٹھ’’گولیو‘‘ تحصیل اسلام کوٹ ضلع تھرپارکر میں مرحوم واحد ڈنوں ھنگورجہ کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے آباء واجداد کسی زمانے میں بھارت کے شہر گجرات میں سکونت پذیر تھے اور مویشی خریدنے اور جانور ذبح کرنےکا کاروبار کیا کرتے تھے۔ مولانا محمد ہارون کی ابتدائی پرائمری تعلیم، تھرپارکر کے مشہور علمی وتاریخی گاؤں ڈونجھ میں ہوئی جو ان کے گاؤں سے چار کلو میٹر سے زائد فاصلہ پر تھا جہاں روزانہ پیادہ آیا اور جایا کرتے تھے۔ آپ ابتدائی عمر سے انتہائی،سادہ دل، مذہب سے محبت کرنے والے بااخلاق بچے تھے چونکہ آپ کا گھرانا دیندار سمجھا جاتا تھا۔ پرائمری تعلیم میں حسن اتفاق سے آپ کو جام ہان راھمہ اور عبد الجلیل لنجو کے علاوہ وادی ریگستان کے مشہور عالم، ادیب دانشور مرحوم محمد محسن ھنگورجہ جیسے عالم باعمل اساتذہ کرام میسر آئے جن کے دم خم سے اُن میں مزید حصول تعلیم کا جذبہ پیدا ہوا۔غربت، بے سروسامانی کے باوجود آپ نے تاریخی اور اس وقت کے علم پرورشہر ’’ڈیپلو‘‘ ضلع تھرپارکر میں جاکر ہائی اسکول میں تعلیم کے علاوہ ایک دینی اور مذہبی مدرسہ میں داخلہ لیا جہاں کچھ وقت حصول تعلیم کے بعد حکومت کی جانب سے پالیسی آئی جس کے تحت ہر شاگرد کو اپنے ہی تحصیل ہیڈکواٹر میں حصول تعلیم لازمی قرار دیا گیا جس کے باعث مولانا محمد ہارون نے پھر نقل مکانی کرتے ہوئے گورنمنٹ ہائی اسکول مٹھی تھرپارکر میں داخلہ لیا جہاں بھی آپ نے دینی تعلیم کے ساتھ ہائی اسکول مٹھی سے اچھے نمبروں میں میٹرک پاک کیا، جہاں پر آپ کی تعلیم وتربیت میں مولانا مرحوم علی محمد جونیجو (متوفی 1984) اور محترم محسن ھنگورجہ (متوفی 1997) جیسے اصحاب علم وفضل نے خوب راہنمائی فرمائی۔ مولانا محمد ہارون بچپن سے انتہائی محنتی، مذہبی جذبات سے سرشار، شریف النفس ، صوم وصلاۃ کے باقاعدہ پابند، ایماندار، پارسا اور بے انتہاخوف الٰہی رکھنے والے انسان تھے، پھر خوش قسمتی کہیے کہ مولانا علی محمد ھنگور جیسے اپنے وقت کے ایک جید عالم وفاضل کی محنت سے آپ نے باقاعدہ مسلک اہل حدیث سے باقاعدہ وابستگی اختیار کرکے اپنے اعمال وعقائد کو سلف الصالحین کے منہج کے مطابق کر لیا، کچھ وقت آپ نے بے سروسامانی اور غربت میں گزارا مگر حسن اتفاق سے وادی ریگستان کے مشہور ومعروف سیاسی سماجی اور علمی شخصیت ارباب حاجی اللہ جوڈیو رحمہ اللہ (متوفی 1988) جو کے برصغیر کے مشہور موحد اور سلفی العقائد، حضرت مولانا عبد الرحیم پچھمی رحمہ اللہ(متوفی 1388ھ) سے ایک بار مولانا مرحوم محمد ہارون نے ملاقات کرکے اپنی داستان سنائی پھر کیا تھا ارباب حاجی اللہ جوڑیو نے اس سلفی العقائد نوجوان کو اپنا ہی بیٹا تصور کرتے ہوئے اپنے ساتھ لے کر 1960ء میں اپنے ساتھ اپنی گاڑی میں لے کر ان کو محکمہ روہنیو میں شعبہ رجسٹریشن میں کلرکی کا آرڈر دلایا، پھر پہلی ابتلاء کا انداز آپ اس بات سے بخوبی لگا سکتے ہیں کہ ریونیو ایک ایسا بدنام زمانہ محکمہ ہے جہاں رشوت وکرپشن عروج پر ہوتی ہے لہٰذا جب مولانا ہارون کا آرڈر ٹائپ ہوکر افسر کی ٹیبل پر پہنچا تو ابتداء آپ سے مبلغ بارہ روپیہ رشوت طلب کی گئی پھر اللہ کے اس صالحہ بندے نے غمناک آنکھوں سے آرڈر ٹھکرا دیا کہ صاحب آپ کو رشوت دے کر ساقی کوثر کو کیا منہ دکھاؤں گا جس کا فرمان ہے کہ ’’راشی اورمرتشی دونوں جہنم میں جائیں گے۔‘‘

پھر افسر نے ارباب صاحب کے خوف سے لاچار ہوکر بلارشوت آرڈر مولانا محمد ہارون کے حوالہ کیا اور قدرے ناراضگی میں ان کی پہلی پوسٹنگ جس میں آباد(کوٹ غلام محمد) میں ہوئی جہاں پر آپ نے خوف الٰہی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایمانداری، دیانتداری اور فرائض منصبی کی ذمہ داریوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ڈیوٹی شروع کی روزِ اول اپنے خالق ومالک سے عہدوپیمان کیا کہ میرے مالک ساری زندگی مجھے حرام کی ایک پائی سے بچأئے رکھنا، کچھ وقت تک باقاعدہ باوقار انداز میں ڈیوٹی کرنے کے باعث ان کے افسران نے ان کو بالا بالا کمائی نہ لانے کے باعث وہاں سے میرپور خاص تبادلہ کرادیا۔ یہاں پر بھی آپ نے بڑی دیانت داری اور خوف الٰہی کو ذہن وفکر میں سمائے ڈیوٹی سرانجام دی جس کے باعث پھر ان کا تبادلہ ہیڈ آفس حیدرآباد میں کردیا۔

جوش ومشت ہمیں اس دشت میں لایا

کہ جہاں آ ہوئے قس نہیں ناقہ لیلیٰ کہاں؟

پھرانہوں نےساری سروس ہیڈ آفس حیدرآباد میں کی، قیام حیدر آباد کے دوران آپ نے جماعت غرباء اہل حدیث کی جامعہ مسجد لطیف آباد نمبر ۱۲ کے قریب مکان کرایہ پر لیا، جہاں باقاعدہ اوقات پنجگانہ جماعت سے ادا کرنے کے بعد دو کلومیٹر پیادہ آفیس جایا کرتے تھے، آپ ایک ایسے محکمہ کے افسر تھے کہ اگر چاہتے تو کروڑوں کے بنگلے بناتے لیکن دیانتداری کی وجہ سے تازیست کرایہ کے معمولی مکان میں رہتے تھے۔ مولانا محمد ہارون نے نہ صرف اپنا دامن صاف رکھا بلکہ اپنے پورے آفیس میں کرپشن اور رشوت کو ’’شجرممنوعہ‘‘ بنادیا جس کے باعث دوران سروس آپ نے کئی صعوبتیں برداشت کیں، جائز پروموشن کے حق سے محروم رہے، طعن وتشنیع سے دوچار ہوئے لیکن اپنے اصولوں سے ایک رتی برابر نہ جدا نہ ہوئے آپ نے ہمیشہ سادگی، سچائی، دیانتداری، اور دینداری کا بول بالا رکھا۔

نہ پوچھ ان فرقہ پوشوں کی ارادت ہو تو دیکھ ان کو

یہ بیضا لیے بیٹھے ہیں آستینوں میں

آپ کی صداقت ودیانت کا اس واقعہ سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ آپ نے جب شادی کی تو اپنے اہل خانہ کو حیدرآباد لے آئے۔ بچوں کے ساتھ ان کا ایک انتہائی قریبی عزیز محمدحسن ھنگورجہ کو بھی لائے جو ایک انتہائی ذہین، فہیم نوجوان تھا، آپ نے ان کو نہ صرف سروس دلائی بلکہ ان کو بھی اپنی دیانتداری کا سبق سکھایا، جب تک وہ ان کی نظروں کے سامنے تھے تو ہر ناجائز کام سے مجتنب رہے لیکن جب ان کا دوسری جگہ تبادلہ ہوا تو مولانا محمد ہارون کو معلوم ہوا کہ ان کے ہاں کرپشن اور رشوت بھی آنی شروع ہوئی جس وجہ سے مولانا محمد ہارون ان سے اس قدر ناراض ہوئے کہ ان کے گھر کا کھانا پینا اپنے اوپر مکمل بند کر دیا محمد حسن کی منت سماجت اور یقین دہانیوں کے باوجود تازیست ان کے گھر کا پانی تک بند کر دیا تاآنکہ ایک بار مولانا محمد ہارون کی بیماری نے شدت اختیار کی گاؤں میں کوئی گاڑی نہ مل سکی کہ ڈاکٹر تک پہنچاجائے ایسے میں محمد حسن اپنی گاڑی لے آئے مولانا محمد ہارون نے فرمایا اگر اس گاڑی میں سوار ہوکر ہسپتال جاؤں تو میرا رب ناراض ہوگا کیونکہ

تم ایسے لوگ کہاں سے لاؤ گے؟

ڈھونڈنے نکالو گے لیکن ہمیں نہ پاؤگے

ان کے دیگر احباب، اعزہ، اقرباء جن جن کی نوکریاں مشکوک تھیں اُن کے گھر کا کھانا تک ہمیشہ خود پر بند کر دیا تھا تاہم رشتہ داری، صلہ رحمی، قرابت، برادرانہ وسماجی تعلقات باقاعدہ ادا کرتے رہے تاہم ان کی کمائی سے خود کو ہمیشہ مجتنب رکھا باقی جائز کاموں میں ان کی بھی خوب مدد ومعاونت کرتے تھے آپ ھنگورجہ قوم سے تعلق رکھتے تھے، جن کی اکثریت تھرپارکر میں قیام پذیر ہے، صرف متعلقہ مٹھی تھرپارکر میں ان کے بڑے بڑے گاؤں چالیس سے متجاوز ہیں، ان کے گاؤں مولانا صاحب جاکر دعوت دین کے ساتھ حرام کمائی سے خوف خدا دلاتے، گفتگو میں ایسا سوزگداز تھا کہ خود بھی روتے اور سامعین کو بھی خوف الٰہی سے رُلاتے تھے، مولانا محمد ہارون نے سروس کا بڑا حصہ ڈویژنل ہیڈ کواٹر حیدرآباد میں گزاراجس میں پوری ڈویژن کے لوگ کاموں سے آیا کرتے تھے آپ نے بڑی محنت سے سب کی جائز خدمت کی اُن کو اپنے گھر سے کھانا کھلایا غرباء کو آنے جانے کا کرایہ دیا، بیماروں کا باقاعدہ علاج کرایا کرتے تھے۔

آپ کی خشیت الٰہی کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتاہے کہ ایک روز ان کے گاؤں کا کوئی بندہ ان کے گھر جارہا تھا وہ آئے کہ مولانا صاحب آپ اپنے گھر والوں کے نام کوئی خط دینا چائیں تو میں لیتا جاؤں چونکہ ان کے گاؤں میں نہ فون تھا نہ ڈاک خانہ۔ مولانا محمد ہارون نے کافی دیر تک کوئی کاغذ ڈھونڈنے میں لگے رہے، نہ ملنے پر کسی پرانے رسالہ میں ایک سفید صفحہ خالی نظر آیا آپ نے وہ صفحہ کاٹ کر اس پر خط لکھ دیا اس رشتہ دار نے کہا آخر اتنے بڑے آفس میں آپ کو کوئی سلیقہ کا کاغذ نظر نہ آیا کہ اس پرانے صفحہ پر خط لکھ دیا آپ نے غمناک آنکھوں سے جواب دیا بھائی۔ آفس کے کاغذات اور دوات میری ملکیت نہیں یہ چیزیں حکومت کی رکھی ہوئی امانت ہیں۔آپ نے اپنی زندگی میں اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ دیانت داری امانت اوررزق حلال کس چیز کا نام ہے انہوں نے اپنے رویہ سےیہ بھی ثابت کر دیا کہ حقوق اللہ وحقوق العباد کسے کہتے ہیں اپنی اولاد کی بہترین تربیت کرکے ان کو بھی عالم باعمل بنادیا۔ جس کی مثال ان کے فرزند مولانا عبد الرحمن اور مولانا عبد اللہ ہیں ۔

وہ علم اور وہ تواضع اور طرز خود فراموشی

خدابخشے جگر کو لاکھوں انسانوں کا انسان تھا

ب تک سروس میں تھے تک بھی حیدرآباد میں ان کا گزارہ بڑی مشکل سے ہوتا تھا جیسے ریٹائر ہوئے تو اپنے اصل گاؤں گولیو تشریف لائے پھر سب سے پہلے ایک مسجد اورمدرسہ بنایا جس میں کتاب وسنت کی تعلیم شروع فرمائی، ریٹائرمنٹ کے موقع پر آپ ٹرینرای آفس گئے اور پوری سروس کی پائی پائی کا حساب مانگاکہ میرا جتنا بھی جی پی فنڈ بنتاہے اس کی اصل رقم مجھے دی جائے باقی شرح سود میرے لیے حرام ہے۔ ٹریزری والوں نے کہا مولانا صاحب! ہم آپ کو جملہ رقم دیتے ہیں آپ خود جاکر اضافہ سود غرباء ومساکین میں تقسیم فرمادیں۔ مولانا صاحب نے جواب دیا جو رقم میرے لیے حرام ہے وہ کیسے خیرات کر سکتاہوں۔ اس طرح بیک وقت آپ نے کافی رقم سے دستبردار ہوکر واپس گر آئے آپ نے 1989ء میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل فرمائی وہ بظاہر دنیاوی نعمتوں سے محروم رہے لیکن دنیا والوں نے دیکھا کہ جب تک زندہ رہے باکردار،مخلص،قلبی سکون وقرار سے رہے۔

اہل دل شدت غم سے کہیں گھبراتے ہیں

اوس پڑتی ہے تو پھول اور نکھر جاتے ہیں

سچائی، سادگی، قناعت پسندی، ایثار وقربانی کا ساری حیات مجسمہ بنے رہے۔

مر گئے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا

اس طرح یہ پیکر علم واخلاص مختصر زندگی گزارنے کے بعد 2005ء میں اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اور ان کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین

اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه

خواب بن کر رہ گئی ہیں کیسی کیسی محفلیں

خیال بن کر رہے گئے ہیں کیسے کیسے آشنا!

By admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے