رمضان المبارک اپنی رحمتوں،برکتوں کے ساتھ امت مسلمہ پر سایہ فگن ہے اور دن ہیں کہ گویا ان کو پَر لگ گئے ہیں۔ ایاما معدودات کے مصداق بہت تیزی سے ماہ مبارک اپنا سفر طے کر رہا ہے گویا مہینہ وصل کا گھڑیوں کی صورت اُڑتا جاتاہے۔

مالک کائنات کی رحمت جوش میں ہے جنت کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں، جہنم کے دروازے بند ہوچکے ہیں بہت سارے کم نصیب تھے جو ہر رات خوش نصیبوں میں بدل رہے ہیں کہ جب ان کو جہنم سے آزادی کا پروانہ مل رہا ہوتاہے۔

وَلِلهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ، وَذَلِكَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ (سنن الترمذي:682، سنن ابن ماجه: 1642)

’’اور آگ سے اللہ کے بہت سے آزاد کئے ہوئے بندے ہیں (تو ہو سکتا ہے کہ تو بھی انہیں میں سے ہو) اور ایسا (رمضان کی) ہر رات کو ہوتا ہے۔‘‘

جو رخصت ہوچکے ہیں ان کا حساب شروع ہے عمل کا سلسلہ ٹوٹ چکا ہے مگر ان خوش نصیبوں کا عمل اب بھی جاری ہے جن کے عملی ابر کرم سے لوگ فیض یاب ہورہے ہیں یا جو صدقہ جاریہ چھوڑ کر گئے جن کی اولاد ان کے لیے دعا گو ہے جو یہاں موجود ہیں یہ ان کی خوش بختی ہے کہ انہیں رمضان میسر آگیا ہے کہ ایک سال پہلے شہید ہونے والے کا داخلہ جنت میں بعد میں ہورہا ہے کیونکہ اس کا ساتھی ایک سال بعد زندہ رہا اور رمضان نصیب ہوا سال بھر کی نمازیں اور نیکیاں اسے جنت میں داخلے کے لیے سبقت دلا گئیں سبحان اللہ عمر عزیز بھی رب کریم کا ایک انمول تحفہ ہے اگر یہ نیکیوں سے معمور ہو ۔

وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ المِسْكِ (صحيح البخاري:5927)

روزہ دار کے منہ سے اٹھنے والی بُو اللہ کے ہاں کستوری جیسی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔

تو بچا بچا کہ نہ رکھ اسے، تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ

جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

شہداء کی بڑی شان اورمرتبہ ہے کہ خون کا قطرہ زمین پر بعد میں گرتاہے معافی پہلے ہوجاتی ہے ان کے خون کی خوشبو کستوری جیسی اور روزہ دار کے منہ کی بُو کستوری سے بھی اچھی۔ نصیبوں والے اس مبارک ماہ کی برکات سمیٹ رہے ہیں کچھ کم نصیب ہیں جو نیکیوں کے موسم بہار میں بھی محروم ہیں وہ ماہ مبارک جسے امام الانبیاء فرمائیں شہر مبارک اس کی برکت کا کیا عالم ہوسکتا ہے جب اس کی عطربیزیاں فضاؤں کو معطر کر رہی ہوں اور ضیا پاشیاں چہاردانگ عالم نور پھیلا رہی ہو اس میں ایک ایسی رات ہو جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو لیلۃ القدر ہے پھر بھی کوئی محروم رہ جائے تو پھر فرمان رسول اکرم ﷺ:

إِنَّ هَذَا الشَّهْرَ قَدْ حَضَرَكُمْ، وَفِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَهَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَيْرَ كُلَّهُ، وَلَا يُحْرَمُ خَيْرَهَا إِلَّا مَحْرُومٌ (سنن ابن ماجه:1644)

اس جود وسخا کے موسم میں بھی کوئی محروم رہ گیا تو وہ ہر خیر سے محروم رہ گیا۔جہاں رمضان کی برکات سے محروم رہنے والے پر جبرئیل امین علیہ السلام بددعا کر رہے ہیں اور نبی مکرم ﷺ آمین کہہ رہے ہیں وہاں والدین کی خدمت کرکے جنت نہ لینے والا ، نبی مکرم علیہ الصلاۃ والسلام پر درود بھیج کر مغفرت حاصل نہ کرنے والے پر بھی بددعا کی جارہی ہے کہ جب مغفرت کے اسباب موجود ہوں اور انسان محروم رہ جائے اس سے بڑی کم نصیبی کیا ہوگی۔ ترکی اورشام میں زلزے عالم اسلام کو ہلا کر رکھ گئے ہم اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہے تھے۔ مگر رمضان المبارک سے ایک دن پہلے زلزلے کی لہر پاکستان کے مختلف علاقوں کو متنبہ کر گئی۔ اللہ پاک آفات اور آزمائشوں سے محفوظ فرمائے یہ ماہ مبارک اپنے رب کی محبت اورتقویٰ کا پیغام دے کر جارہاہے ۔ انسانی نفس کی کمزوری اورناتوانی ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر کی ناک خاک آلود کر رہا ہے، ہمدردی اور غم خواری اخوت اسلامی کا عالمی پیغام دے رہا ہے تمام عبادات کی تہہ میں مقصد تقویٰ کا حصول ہے اور صف بندی ، اتحاد واتفاق کا مظہر باجماعت نماز ہے،حج عالمی مساوات کا اظہار ہے، روزہ عالمی اخوت ویگانگت کا مظہر ہے مگر اس ماہ مبارک میں بھی وطن عزیز میں پھیلی ہوئی افتراق، انتشار کی فضا میں کوئی کمی نہیں ہورہی۔

ارباب اقتدار اوراحزاب اختلاف باہم دست وگریباں ہیں۔ ملک کی اکثریت غربت کی چکی میں پس رہی ہے عجب حسن اتفاق ہے کہ امسال ماہ مبارک  اس روز شروع ہوا جس روز اہل وطن قرار داد پاکستان کی یاد منا رہے تھے۔ تئیس مارچ 1940ء جب لاہور میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک کی قرار داد مولوی فضل الحق نے مسلم لیگ کی طرف سے پیش کی نعرہ کیا تھا۔ مسلمانوں کی الگ ریاست جہاں اسلام کا نفاذ ہو جہاں دین دستور کی صورت میں ظاہر ہو پھر سات سال بعد یہ قرار داد عملی صورت کے ساتھ پاکستان کی شکل میں منصہ شہود پر ظہور پذیر ہوئی مگر وہ خواب جو ہندوستان کے لاکھوں مسلمانوں نے دیکھا اس کی تعبیر ابھی باقی ہے۔ اب ملک میں روٹی، کپڑے اورمکان کا جھگڑا ہے معیشت کی خرابی اورغربت وبدحالی کا چرچہ ہے، بدامنی اورافتراق کا دور دورہ ہے جس کا ایک ہی حل ہے کہ اس ماہ مبارک میں جب یہ ملک معرض وجود میں آیا تھا آج اپنے رب کی طرف رجوع کریں اس سے کیے ہوئے وعدے کو نبھانے کا عہد کریں بحیثیت مسلمان ہمارا یقین ہے کہ قرآن پاک اللہ کی سچی کتاب ہے اس کتاب میں اللہ ہم سے وعدہ فرما رہا ہے ۔

وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ

’’اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا۔‘‘(الأعراف:96)

اگر معیشت کا سدھار چاہتے ہیں ،بدامنی سے نجات مقصود ہے تو ایمان کے ساتھ تقویٰ اختیار کرنا ہوگا، تقویٰ کیا ہے؟ توحید باری تعالیٰ، اخلاق حسنہ، صلہ رحمی، اتباع رسول ، ظلم اور حقوق کی پامالی سے اجتناب، آخرت کی فکر اور اس کی تیاری بھی رمضان المبارک کا پیغام ہے ۔جس نے یہ مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی کامیاب ہوا ورنہ پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام متنبہ فرماگئے ہیں کتنے روزے دار ایسے ہیں جنہیں بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ باری تعالیٰ مقاصد صیام سمجھ کر ان کا حصول آسان فرمائے۔ وطن عزیز کی حفاظت فرمائے اور اس کی حفاظت میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں کی قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے