رمضان المبارک اور بالخصوص اس کے آخری عشرہ کے اعمال میں سے ایک عمل اعتکاف بھی ہے ، رسول اللہ ﷺہر سال رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تھے ۔

اعتکاف کا معنی :

لغوی اعتبار سے اعتکاف کا معنی ٹھہرنا ،جمے رہنا اور کسی مقام پر اپنے آپ کو روکے رکھنا ہے ، شرعی اعتبار سے بھی اسی معنی میں ہے کہ اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کے لیےخصوصی طریقے پر مسجد میں ٹھہرنا ۔

اعتکاف کی حکمت :

 اعتکاف کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ ہر طرف سے یکسو اور سب سے منقطع ہوکر بس اللہ تعالی سے لو لگا کے اس کے درپے یعنی مسجد کے کسی کونے میں پڑجائے ، سب سے الگ تنہائی میں اس کی عبادت اور اس کے ذکر وفکر میں مشغول رہے اس کو دھیان میں رکھے ، اس کی تسبیح و تہلیل وتقدیس میں مشغول رہے ، اس کے حضور توبہ و استغفار کرے ، اپنے گناہوں اور کوتاہیوں پر روئے ، اس کی رضا اور قرب چاہے اور اس حال میں اس کے دن گزریں اور اس کی راتیں بسر ہوں ، ظاہر ہے اس کام کے لئے رمضان المبارک اور خاص کر اس کے آخری عشرہ سے بہتر اور کون سا وقت ہوسکتا ہے ، اس لئے اعتکاف کے لئے اس کا انتخاب کیا گیا ۔

اعتکاف کا حکم :

 اعتکاف کی مشروعیت قرآن وحدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے، چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے :

وَعَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّآىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ

اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل [علیہما السلام ] کو تاکید کی کہ وہ میرے گھر کو طواف ، اعتکاف اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے صاف ستھرا رکھیں ۔(البقرہ:125)

روزے کے احکام کے ضمن میں فرمایا :

وَلَا تُبَاشِرُوْهُنَّ۠ وَاَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ فِي الْمَسٰجِدِ

’’ اور اگر تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو پھر اپنی بیویوں سے مباشرت نہ کرو ۔‘‘(البقرة:187)

متعدد حدیثیں اس سلسلے میں وارد ہیں کہ نبی کریم ﷺرمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تھے ، چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺاپنی وفات تک رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے رہے اور آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا ۔( صحیح البخاری : 2026)

حتی کہ امام زہری aنے فرمایا کہ یہ بڑا عجیب معاملہ ہے کہ مسلمانوں نے اعتکاف کی سنت کو چھوڑ دیا ہے حالانکہ اللہ کے رسول ﷺجب سے مدینہ منورہ تشریف لائے آپ نے اعتکاف کبھی نہیں چھوڑا ۔

حتی کہ اپنی عمر عزیز کے آخری سال آپ ﷺنے رمضان المبارک کے دو عشروں کا اعتکاف کیا ، چنانچہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تھے البتہ جس سال آپ کا انتقال ہوا اس سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا ۔ ( صحیح بخاری : 2044)

ان آیتوں اور حدیثوں اور اسی طرح کی دیگر نصوص کی روشنی میں اہل سنت و جماعت کے نزدیک مرد وزن ہر ایک کے لئے اعتکاف سنت ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ رمضان کے آخری عشرہ کی یہ ایک تاکیدی سنت ہے تو شاید بے جانہ ہوگا کیونکہ رسول اکرمﷺ نے برابر اعتکاف کیا ہے حتی کہ اگر کبھی کسی وجہ سے یہ اعتکاف چھوٹ گیا تو آپ نے اس کی قضا کی ہے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺنے اعتکاف کا ارادہ فرمایا تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ اعتکاف کی اجازت چاہی آپ نے مجھے اجازت دے دی تو میں نے اپنے لئے گنبد نما ایک خیمہ مسجد میں نصب کرلیا پھر جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سنا تو انہوں نے بھی اپنے لئے ایک خیمہ نصب کرلیا اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے سنا تو انہوں نے بھی اپنے لئے ایک خیمہ نصب کرلیا ، چنانچہ نبی کریم ﷺنے جب چار خیموں کو دیکھا تو پوچھا یہ کیا ہے ؟ آپ کو حقیقت حال سے آگاہ کردیا گیا تو آپ نے فرمایا انہیں اس امر پر کس چیز نے اُبھارا ہے ؟ کیا نیکی نے ؟ ( ہرگز نہیں، اس کاسبب تو محض غیرت ہے )۔ لہٰذا انہیں اکھاڑ پھینکو ، میں انہیں نہ دیکھوں ، چنانچہ خیمے اکھاڑ دیئے گئے (جن میں آپ کا بھی خیمہ تھا ) آپ ﷺنے اس رمضان میں اعتکاف نہیں کیا اور شوال کے آخری عشرے میں اس اعتکاف کی قضا کی ۔ (صحیح بخاری :2040)

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ ہر سال رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تھے لیکن ایک سال کسی سفر کی وجہ سے اعتکاف نہ کرسکے تو آئندہ رمضان کے بیس دن کا اعتکاف کیا ۔ ( سنن الترمذی :803)

غیر رمضان میں اعتکاف :

اللہ کے رسول ﷺسے صرف رمضان کا اعتکاف ثابت ہے بغیر کسی عذر کے آپ نے غیر رمضان میں اعتکاف نہیں کیا لیکن ایک بار سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا : اپنی نذر پوری کرو ۔ ( صحیح بخاری : 2032،صحیح مسلم :1656)

اس لئے غیر رمضان میں بھی اعتکاف مستحب اور سنت ہے البتہ رمضان اور خصوصا رمضان کے آخری عشرہ میں اس کی تاکید ہے ۔

اعتکاف کی مدت :

نبی کریم ﷺنے رمضان میں کم ازکم ایک عشرے کا اعتکاف کیا ا س لئے افضل و بہتر یہی ہے کہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا جائے لیکن اگر کسی کے حالات ساتھ نہ دیتے ہوں تو وہ سات دن ، پانچ دن یا صرف طاق راتوں کا اعتکاف کرے چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نے رمضان کی سات درمیانی راتوں کا اعتکاف کیا تو جو شخص شب قدر کو تلاش کرنا چاہتا ہے وہ آخری سات راتوں میں تلاش کرے ۔( صحیح ابن خزیمہ : 2222)

نیز عبد اللہ انیس الجہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ!میں صحر ا میں رہائش پذیر ہوں اور الحمد للہ وہاں نماز (تراویح ) کا اہتمام کرتا ہوں [البتہ میں یہ چاہتا ہوں کہ شب قدر کے حصول کے لئے اعتکاف کروں تو ]آپ مجھے کسی ایسی رات کے بارے میں بتلائیے جس رات میں عبادت کروں (اعتکاف کروں) تو آپ ﷺنے فرمایا : تیئس کی شب کو آجانا۔

راوی حدیث محمد بن ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن انیس کے بیٹے سے سوال کیا کہ تمہارے والد کس طرح کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ عصر کی نماز کے بعد مسجد نبوی میں داخل ہوجاتے اور کسی بھی غیر ضروری کام کے لئے مسجد سے باہر نہ نکلتے یہاں تک کہ جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی سواری مسجد کے دروازے پر موجود پاتے اور اس پر سوار ہوکر پھر صحرا میں چلے جاتے ۔ ( سنن ابو داود :1380)

اعتکاف کی شرطیں :

1) مسلمان ہو : کافر ومشرک کا اعتکاف صحیح نہیں ہے ۔

2) عاقل ہو : مجنون و پاگل کا اعتکاف صحیح نہیں ہے ۔

3) نیت کی جائے : بغیر نیت کے اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔

4) تمیز ہو : غیر ممیز بچوں کا اعتکاف صحیح نہیں ہے ۔

5) مسجد میں ہو: مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔ یہ حکم مرد وعورت دونوں کے لئے ہے ۔

6) طہارت: حیض ونفاس اور جنابت کی حالت میں اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔

7) شوہر کی اجازت : بغیر شوہر کی اجازت کے اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔

8) روزہ: بعض علماء کے نزدیک بغیر روزہ کے اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔

اعتکاف کا وقت :

 اعتکاف کے لئے ضروری ہے کہ جس دن کا اعتکاف کرنا چاہتا ہے اس دن کی رات آنے سے قبل مسجد میں داخل ہوجائے مثلا اگر رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرنا چاہتا ہے تو بیسویں رمضان کا سورج غروب ہونے سے قبل مسجد میں داخل ہوجائے، البتہ اپنے معتکف یعنی جائے اقامت میں اکیسویں کی صبح کو داخل ہو ، نبی کریمﷺکا یہی معمول رہا ہے ، چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے ، میں آپ کے لئے ایک خیمہ نصب کردیتی جس میں آپ صبح کی نماز کے بعد داخل ہوتے ۔ ( صحیح البخاری : 2032)

اعتکاف سے نکلنے کا وقت :

اعتکاف سے باہرآنے کا ایک وقت جواز کا اور دوسرا استحباب کا ، جواز کا وقت یہ ہے کہ مثال کے طور پر اگر رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کیا ہے تو شوال کا چاند نکلتے ہی اپنا اعتکاف ختم کردے اور گھر واپس آجائے کیونکہ شوال کا چاند دکھائی دیتے ہی رمضان کا مہینہ ختم ہوجاتا ہے اور مستحب وقت یہ ہے کہ عید کی صبح اپنی جائے اعتکاف سے باہر آئے او ر سیدھے عیدگاہ جائے ، بعض صحابہ و تابعین کا عمل یہی رہا ہے چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ  بیان کرتے ہیں کہ ہم نے بعض اہل علم کو دیکھا ہے کہ جب وہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تو اپنے گھر عید کی نماز پڑھ لینے کے بعد آتے۔ ( موطا :1/315 کتاب الاعتکاف )

مَنِ اعْتَكَفَ مَعَنَا فَلْيَعْتَكِفْ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ

امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اس مسلک کو اختیار کیا ہے اور بطور دلیل یہ حدیث پیش کی ہے کہ اللہ کے رسولﷺنے رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف کیا اور جب اکیسویں کی صبح ہوئی جس صبح کو اپنے اعتکاف سے باہر آئے تھے فرمایا :

جس نے ہمارے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ آخری عشرے کا بھی اعتکاف کرے۔ ( صحیح ابن خزیمہ 3/352-354 نیز دیکھئے صحیح البخاری :2027)

اعتکاف والی مسجد :

 اعتکاف ہر اس مسجد میں کیا جاسکتا ہے جس میں جماعت کا اہتمام ہوتا ہو ، ارشاد باری تعالی ہے :

وَلَا تُبَاشِرُوْهُنَّ۠ وَاَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ فِي الْمَسٰجِدِ

آیت مذکورہ میں اللہ تعالی نے مسجد کو عام رکھا ہے ، کسی خاص قسم کی مسجد سے مقید نہیں کیا ہے نیز سیدہ عائشہرضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ اعتکاف کرنے والے کے لئے سنت کا طریقہ یہ ہے کہ وہ مریض کی زیارت کونہ جائے، نہ جنازے میں شریک ہو ، نہ عورت سے صحبت کرے اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے اور نہ ہی کسی غیر ضروری کام کے لئے باہر نکلے اور اعتکاف بغیر روزہ کے نہیں ہے اور اعتکاف اس میں کیا جائے گا جس میں جماعت کا اہتما م ہو۔ (سنن ابو داود : 2473)

اس لئے اعتکاف کے لئے تین مسجدوں کو خاص کرنا جیسا کہ عصر حاضر کے بعض اہل علم کا خیال ہے صحیح نہیں ہے کیونکہ اس سلسلے میں سیدنا حذیفہ tکی جو حدیث نقل کی جاتی ہے وہ ضعیف اور شاذ ہے ، اور یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر امت کے کسی امام یا عالم نے عمل نہیں کیا ہے ، اس موضوع پر ایک مختصر اور جامع بحث مختصر قیام رمضان از علامہ البانی کے ترجمے میں دیکھی جاسکتی ہے ۔

اعتکاف کے منافی کام :

1۔ضرورت کے بغیر مسجد سے باہر نکلنا ۔

2۔عورت سے صحبت کرنا ۔

3۔قصدا منی خارج کرنا

ان تمام امور سے اعتکاف باطل ہوجائے گا ، اسی طرح عورت کو حیض ونفاس کا خون آجائے تو اعتکاف باطل ہوجائے گا ، نیز اسلام سے ارتداد سے بھی اعتکاف باطل ہوجاتا ہے ، اور اگر کوئی شخص اعتکاف کی نیت توڑدے یہ بھی اعتکاف کے بطلان کا موجب ہے ۔

4۔ہر وہ کام جو شرع کی نظر میں منع ہے وہ اعتکاف کی حالت میں بھی منع ہے۔

5۔ ہروہ کام جو عبادت کے منافی ہے جیسے خرید وفروخت میں مشغولیت بلاوجہ کی گپ شپ یہ بھی حالت اعتکاف کے منافی ہے ان امور سے اعتکاف باطل تو نہیں ہوتا البتہ اعتکاف کا مقصد فوت ہوجاتا ہے ۔

6۔بعض وہ عبادتیں جو فرض عین نہیں ہیں جیسے مریض کی زیارت ، نماز جنازہ اور دفن وغیرہ کے لئے بھی نکلنا جائز نہیں ہے البتہ راہ چلتے کسی مریض کی خیریت پوچھ لینا جائز ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺچلتے ہوئے بیمار پرسی کرلیتے تھے اسکے لئے ٹھہرتے نہیں تھے ۔ (سنن ابوداود : 2472)

اعتکاف کی حالت میں جائز کام :

ہر وہ کام جو انسان کی فطری ضرورت ہے جیسے قضائے حاجت ، کھانا پینا،نہانا اگر کوئی مددگار نہیں ہےتو کھانے کی چیزیں باہر سے خریدنا وغیرہ ہے ۔

۱۔ مسجد میں کھا نا پینا ۔

۲۔ اچھے کپڑے پہنا اور خوشبو لگانا ۔

۳۔ ناخن تراشنا اور حجامت بنوانا ۔

۴۔جمعہ کے لئے جانابلکہ جمعہ کے لئے جاناواجب ہے ۔

۵۔اگر جنازہ کی نماز مسجد میں پڑھی جارہی ہے تو اس میں شریک ہونا ۔

۶۔کسی مریض کا گھر مسجد سے متصل ہے تو مسجد میں رہ کر بیمار پرسی کرنا ۔

۷۔ بالوں پر تیل کنگھی کرنا ، بلکہ عورت بھی اپنے شوہر کے بالوں پر کنگھی کرسکتی ہے خواہ اس کے لئے اعتکاف کرنے والے کو اپنا سر مسجد سے باہرنکالناپڑے ۔ ( صحیح بخاری : 2029، صحیح مسلم : 297)

۸۔ اپنے اہل خانہ سے بات کرنا اور بعض گھریلو مسائل پر گفتگو کرنا ۔ (صحیح بخاری : 2038)

۹۔ بغیر شہوت کے اپنی بیوی کو چھونا ۔

۱۰۔ خرید و فروخت سے متعلق بعض ضروری ہدایات دینا۔

۱۱۔ زیارت کرنے والوں سے خیر خیریت پوچھنا ، البتہ دیر تک گپ شپ میں مشغول ہونا مناسب نہیں ہے ۔

اعتکاف کے فوائد

1۔معتکف کیلئے لیلۃ القدر کو تلاش کرنا آسان ہوتاہے۔

2۔معتکف کے قلب وذہن پر صرف ذکر الٰہی جاری ہوتاہے ۔

3۔معتکف آدمی ساری خواہشات اور گناہوں سے بچا رہتاہے۔

4۔معتکف آدمی کو مسجد کیساتھ ایک خاص انس اور پیار ہوجاتاہے۔

5۔معتکف کو تنہائی میسر ہوتی ہے جس میں اپنی گذشتہ خطاؤں پر ندامت کے آنسو بہا سکتاہے اور توبہ کرکے نئے سرے سے اپنی زندگی کو احکام الٰہی کے مطابق بسر کرسکتاہے۔

6۔اعتکاف سے آدمی کو آخرت کی فکر لاحق ہوتی ہے۔

7۔حالت اعتکاف میں معتکف کو فضول گوئی اور فضول کلام کی بری عادت سے نجات ملتی ہے اور وہ کم گوئی کی عادت حسنہ کا عادی ہوجاتاہے۔

آخری بات

محترم قارئین ! اعتکاف کے متعلق آخری اور اہم بات اس کی حفاظت ہے اگر معتکف اعتکاف کے بعد بھی تلاوت قرآن ، ذکر الٰہی میں مشغول رہتاہے اور فضول گفتگو ، گالی گلوچ ، عبث کلام سے دور رہتاہے تو اس نے اعتکاف کی حفاظت بھی کی ہے اور اعتکاف سے اس کو فائدہ بھی ہوا ہے۔ اعتکاف کے بعد ہر قسم کے گناہوں سے بچناہی ہماری اصل ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بعد از اعتکاف بھی گناہوں سے بچائے۔آمین

By editor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے