اے عزیزانِ گرامی! وقت درحقیقت عمر رواں ہے۔ وقت کو سستی اور غفلت میں ضائع کرنا، اپنی عمر کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ باشعور اور باحکمت لوگ اپنے وقت کی حفاظت کرتے ہیں۔ فضول گفتگو اور لایعنی کاموں میں وقت کو ضائع نہیں کرتے بلکہ اپنی زندگی کے قیمتی اوقات کو غنیمت جانتے ہوئے اچھے اور نیک کام کرتے ہیں۔ ایسے کام جن سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔ عوام الناس کو فائدہ پہنچے۔ آپ کی عمر کا ہر منٹ، ہر لمحہ اس قدر قیمتی ہے کہ آپ اس ایک منٹ میں اپنی زندگی، عمر، قابلیت، سعادت اور عمل صالحہ میں اضافے اور سربلندی کا سنگ میل عبور کر سکتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اپنی عمر سے ایک قیمتی منٹ صَرف کر کے خیر کثیر حاصل کریں تو آپ درج ذیل اعمال کی محافظت کریں۔

1۔ ایک منٹ میں سورۃ اخلاص چھ مرتبہ پڑھی جا سکتی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ایک مرتبہ سورۃاخلاص پڑھنے کا اجر و ثواب ایک تہائی قرآن ہے ۔(بخاری)

اس طرح چھ مرتبہ پڑھنے پر دو قرآن مجید پڑھنے کا ثواب حاصل ہو سکتا ہے۔ ایک یہ عمل تسلسل سے جاری رکھا جائے تو ایک مہینے میں ساٹھ قرآن پڑھنے کا ثواب مل سکتا ہے۔

2۔ ایک منٹ میں قرآن شریف کی متعدد آیات دیکھ کر پڑھی جا سکتی ہیں۔

3۔ ایک منٹ میں کوئی نہ کوئی ایک آیت حفظ کی جا سکتی ہے۔

4۔لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِیْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰی كُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ

یہ تسبیح ایک منٹ میں ہم تین سے پانچ مرتبہ پڑھ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس تسبیح کو دس مرتبہ پڑھنے کا اجر و ثواب اولادِ اسماعیل علیہ السلام میں سے آٹھ غلاموں کو فی سبیل اﷲآزاد کرنے کے اجر کے برابر ہے۔

5۔ ایک منٹ میں

’’سُبْحَانَ اللهِ وَ بِحَمْدِهٖ‘ ‘

بیس سے زیادہ مرتبہ پڑھا جا سکتا ہے۔ اور جو شخص اس تسبیح کو ایک سو مرتبہ پڑھتا ہے تو اس کے تمام (صغیرہ) گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں ۔(بخاری)

6۔ ہم ایک منٹ میں

’’سُبْحَانَ اﷲِ وَبِحَمْدِهٖ سُبْحَانَ الْعَظِیْم‘‘

تقریبا دس مرتبہ پڑھ سکتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ان کلمات کو پڑھنا رحمن کو بڑا محبوب ہے۔ زبان پر بہت آسان اور ترازو میں بہت بھاری ہیں۔

7۔ سُبْحَانَ اﷲ وَالْحَمْدُ ﷲ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ

یہ کلمہ ایک منٹ میں متعدد مرتبہ پڑھا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺکو ان کلمات سے بہت محبت تھی۔ یہ افضل الکلام ہیں۔ میزانِ قیامت میں ان کا وزن بہت بھاری ہو گا۔

8۔ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲ

ایک منٹ میں تقریباً بیس مرتبہ پڑھا جا سکتا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کی روایت کے مطابق یہ جملہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔

9۔ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ

ایک منٹ میں بیس سے پچیس مرتبہ پڑھا جا سکتا ہے۔ یہ کلمہ توحید ہے جس شخص کا آخری کلام یہ کلمہ بن جائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔

10۔ سُبْحَانَ الله وَ بِحَمْدِهٖ عَدَدِ خَلْقِهٖ وَ رِضَا نَفْسِهٖ وَ زِنَةَ عَرْشِهٖ وَ مِدَادَ كَلِمَاتِهٖ

ایک منٹ میں کئی مرتبہ پڑھا جا سکتا ہے۔ ان کلمات کے پڑھنے سے بے شمار تسبیحات کا اجر و ثواب ملتا ہے۔

11۔ اللہ تعالیٰ سے معافی و بخشش طلب کرنا ہر مسلمان کا شعارِ زندگی ہونا چاہیے۔ ایک منٹ میں مکمل فہم و فراست اور قلبی احساس کے ساتھ

’’اَسْتَغْفِرُاﷲ‘‘

پڑھنا چاہیں تو بیسیوں مرتبہ پڑھ سکتے ہیں۔ استغفار کی فضیلت کسی سے مخفی نہیں ہے۔ یہ بخشش و مغفرت، دخولِ جنت  اور حصول برکت و رزق کا عظیم ترین سبب ہے۔

12۔ ایک منٹ میں ہم دو تین بار مکمل درود شریف پڑھ سکتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ رسول کریم ﷺپر ایک بار درود و سلام بھیجنے سے اللہ تعالیٰ کی دس رحمتیں حاصل ہوتی ہیں۔

13۔خالق کائنات کی اس عظیم ترین کائنات پر غور و فکر اور عبرت اقوام گذشتہ ایک منٹ میں کی جا سکتی ہے۔

14۔ اللہ سے محبت، شکر گزاری، خوف و تقویٰ، بندگی کا احساس، ان تمام جذبات کو ایک منٹ میں اُبھارا جا سکتا ہے۔

15۔ سیرت النبی، اخلاقیات، احادیث رسول ﷺپر مبنی کوئی کتاب کا ایک قیمتی صفحہ، ایک منٹ میں پڑھا جا سکتا ہے۔

16۔ ایک منٹ میں ٹیلی فون کے ذریعے کسی رشتہ دار کے ساتھ صلہ رحمی بھی کر سکتے ہو۔

17۔ ایک منٹ میں اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے، اہل و عیال کے لیےکوئی بھی دعا مانگ سکتے ہو۔

18۔ کئی مسلمان بھائیوں کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہہ سکتے ہو۔

19۔ کسی کو برائی سے روکنا یا نیکی کا حکم دینا، ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ یہ عمل بھی ہو سکتا ہے۔

20۔ کسی مسلمان بھائی کے حق میں جائز سفارش کی جا سکتی ہے۔

21۔ راستے میں چلتے چلتے کوئی تکلیف دہ چیز ہٹائی جا سکتی ہے۔

کم و بیش ایک سو دفعہ سُبْحَانَ اﷲ پڑھا جا سکتا ہے جس سے ایک ہزار نیکیاں ملیں گی یا ایک ہزار (صغیرہ) گناہ معاف ہوں گے۔ ان شاء اللہ۔ (صحیح مسلم)

۲۲۔ رسول اللہ ﷺ پر درود پڑھا جاسکتاہے۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى الله عَلَيْهِ عَشْرًا.

جس نے مجھ پر ایک بار درود بھیجا اللہ اس پر دس بار رحمت نازل فرمائے گا ۔(صحيح مسلم: 408)

ایک روایت کے لفظ ہیں:  

إنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلَاةً.

قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو مجھ پر زیادہ درود پڑھتا ہوگا۔(صحیح الترغيب والترهيب: 1668)

۲۳۔ نیکی کی نیت کرسکتے ہیں۔سيدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ جو آدمی بستر پر لیٹتے وقت نیت رکھتا ہو کہ رات کو ( قیام کے لیے ) اٹھے گا لیکن اسے گہری نیند آ گئی اور وہ صبح تک سویا رہا تو اس کے لیے اس نماز کا ثواب لکھ دیا جائے گا جس کی اس نے نیت کی اور اس کی نیند اس کے رب عزوجل کی طرف سے اس پر نوازش ہو گی ۔ (سنن نسائی: 1788)

۲۴۔ وضو کی دعا پڑھی جاسکتی ہے۔ سيدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: تم میں سے جو شخص وضو کرے اور اپنے وضو کو پورا کرے یا خوب اچھی طرح وضو کرے پھر یہ کہے :

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ،

تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، جس سے چاہے داخل ہو جائے ۔(صحيح مسلم: 234)

۲۵۔ اذان کے اختتام پر دعا مسنون پڑھی جاسکتی ہے۔ سيدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اذان سن کر یہ کہے:

اللهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَه

اسے قیامت کے دن میری شفاعت حاصل ہوگی۔(صحيح بخاری: 614)

۲۶۔ سورت فاتحہ کے اختتام پر آمین کہی جاسکتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.

جب امام آمين کہے تو تم بھی آمين کہو۔ کیونکہ جس کی آمين ملائکہ کے آمین کے ساتھ مل گئی اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔(صحيح بخاري: 780)

۲۷۔ نماز کے بعد کی کوئی ایک دعا پڑھی جاسکتی ہے۔ سیدنا معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے معاذ! اللہ کی قسم! میں تم سے محبت کرتا ہوں، اللہ کی قسم! میں تم سے محبت کرتا ہوں ، پھر فرمایا: اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں: ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا:

اللهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ.

اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما۔(سنن ابی داود: 1522)

۲۸۔ بازار میں داخل ہونے کی دعا پڑھی جاسکتی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جس نے بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھی:

لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

تواللہ تعالی اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور اس کی دس لاکھ برائیاں مٹادیتا ہے اور اس کے دس لاکھ درجے بلند فرماتا ہے۔(سنن ترمذي: 3428)

۲۹۔ مسلمان کو سلام کر سکتے ہیں۔سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ.

تم آپس میں سلام کو عام کرو۔(سنن ترمذی: 2688)

ایک روایت کے مطابق کامل سلام کرنے میں تیس نیکیاں ملتی ہے۔ سيدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ایک شخص نبی ﷺکے پاس آیا اور اس نے السلام علیکم کہا، آپ نے اسے سلام کا جواب دیا، پھر وہ بیٹھ گیا، تو نبی ﷺنے فرمایا: اس کو دس نیکیاں ملی ہیں۔ پھر ایک اور شخص آیا، اس نے السلام علیکم ورحمتہ اﷲ کہا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر وہ شخص بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: اس کو بیس نیکیاں ملی ہیں۔ پھر ایک اور شخص آیا اس نے السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ کہا، آپ نے اسے بھی جواب دیا، پھر وہ بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: اسے تیس نیکیاں ملیں ۔(سنن ابی داود: 5195)

عزیزانِ گرامی! آپ نے پڑھا کہ ہم ایک منٹ کو کس قدر عظیم اور قیمتی بنا سکتے ہیں۔ بے شمار نیکیاں کر سکتے ہیں۔ ہمارے اخلاص کی وجہ سے ان نیکیوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ان اعمال پر عمل پیرا ہونے کے لیےکوئی بہت بڑی مشقت، کوئی بہت بڑا چلہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ بغیر تھکاوٹ، مشقت اور بغیر رقم خرچ کیےعظیم ترین اجر کا مستحق ہوا جا سکتا ہے۔ یہ عمل چلتے پھرتے، دورانِ سفر گاڑی یا بس یا ٹرین و ہوائی جہاز میں بیٹھے بیٹھے کیا جا سکتا ہے۔

یہ اعمال خوش قسمتی، سعادت، انشراح صدر کا سبب بنتے ہیں۔ ان اعمال کو اپنا تکیہ کلام بنائیے، حرزجاں سمجھ کر محفوظ رکھیے۔ اپنے بھائی بہنوں کو تلقین کیجیے۔ نیکی کو کبھی بھی حقیر نہ سمجھیے بلکہ ہر عمل وقت آنے پر بڑا گراں قدر بن جاتا ہے۔

By editor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے