تاریخ اسلام میں ماہِ صیام کو خصوصی مرتبت حاصل ہے۔ یہ ماہِ مبارک اطاعاتِ الٰہیہ کا مہینہ ہے، جس میں اہلِ ایمان روزہ، قیام اور تلاوت قرآن کے ذریعے جہنم سے پروانۂ آزادی حاصل کرکے جنت الفردوس میں ابدی ماویٰ کیلئے مصروفِ عمل ہوتے ہیں۔ روزے کے ذریعے اہل اسلام کو اپنی حقیقت کو جاننے میں مدد ملتی ہے۔ انسان کی اصل حقیقت عجز و انکساری ہے، نہ کہ غرور و تکبر۔ روزے کا اصل ہدف حصولِ تقویٰ ہے۔ اس اعتبار سے رمضان المبارک میں جو اعمال مشروع ہیں، ان کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔

 روزہ کی تعریف

روزہ لفظ صوم کا ترجمہ ہے جس کا لفظی معنی کسی چیز کو ترک کرنا یا کسی چیز سے رکنا ہے ۔

شرعی اعتبار سے اس سے مراد مخصوص شرائط کے ساتھ مخصوص ایام میں ، مخصوص اشیاء (یعنی کھانے پینے ، فسق وفجور اور شہوت کے کاموں سے ) طلوع فجرسے غروب آفتاب تک رک جانے کا نام روزہ ہے۔

روزہ کی فضیلت

روزہ ارکان اسلام میں غیر معمولی فضیلت واہمیت کا حامل رکن ہے۔اور جس ماہ مبارک میں روزے فرض ہوئے وہ ماہ مقدس رحمتوں، بخششوں اور برکتوں کا مہینہ قرار پایا ۔ اس کی فضیلت میں محمد عربی رحمت دو عالم ﷺ سے متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں۔جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں ۔

٭  رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم کا ہر عمل اس کیلئے ہے سوائے روزہ کے اس لیے کہ وہ میرے لیے ہے ۔ اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ (صحیح بخاری ، کتاب الصیام،حديث:1904)

٭نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے : ’’ جو بھی بندہ اللہ کی راہ میں روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے چہرے کو آگ سے ستر خریف ( یعنی 210میل) دور کردیتا ہے ۔‘‘ ( صحیح بخاری ،حديث:2840)

٭ رسول معظم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ روزہ اور قرآن پاک قیامت کے روز مومن بندے کی سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا اے رب ! میں نے اس کو دن بھر کھانا کھانے سے اوراپنی خواہشات پورا کرنے سے روکے رکھا اس لیے اس کے بارے میں  میر ی سفارش قبول فرما اور قرآن کہے گا اے میرے پرودگار!میںنے اس کو رات کے وقت نیند سے روکے رکھا ا س لیے اس کے معاملے میں میری سفارش قبول فرما۔ پھر دونوں کی سفارش قبول کر لی جائے گی۔‘‘( صحیح الترغیب،کتاب الترغیب فی الصوم،حديث:984)

٭ روزوں کی برکت سے رمضان المبارک میں ادا کیا جانے والا عمرہ ثواب میں حج کے برابر ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ آپ ﷺ نے ام سنان انصاریہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا:

فَإِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي، فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً (صحیح مسلم،كتاب الحج، الحدیث: 1256)

’’جب رمضان المبارک آئے تو عمرہ کرلینا  کیونکہ رمضان میں عمرہ (کا اجر وثواب ) حج کے برابر ہوتا ہے۔‘‘

رمضان المبارک کاچاند دیکھ کر روزہ رکھنا چاہیے

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :

صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ (صحیح البخاری،كتاب الصوم ، الحدیث: 1909)

’’ ماہ رمضان کاچاند دیکھ کر روزہ رکھو اور (ماہ شوال کا) چاند دیکھ کر روزہ چھوڑو۔‘‘

چاند دیکھنے کی دعا

نبی کریم ﷺ جب چاند دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔

اللهُ أَكْبَرُ، اللهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ، وَالتَّوْفِيقِ لِمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى، رَبُّنَا وَرَبُّكَ اللهُ (سنن الدارمی، كتاب الصوم، الحدیث: 1729 وصحيح ابن حبان، الحديث:888)

’’ اللہ سب سے بڑا اے اللہ ! تو اسے ہم پر امن اور سلامتی و اسلام کے ساتھ طلوع فرما اور اس چیزکی توفیق کے ساتھ جس کو تو پسند کرتا ہے ۔ اور جس سے تو راضی ہوتا (اے چاند)ہمارا اور تمہارا رب اللہ تعالیٰ ہے ۔‘‘

ماہ رمضان کے متعلق ایک یا دو دیانتدار مسلمان کی گواہی کافی ہے

سیدنا عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ 

تَرَائِى النَّاسُ الْهِلَالَ فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنِّي رَأَيْتُهُ فَصَامَهُ، وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ (سنن أبی داؤد ، كتاب الصوم ، الحدیث: 2342)

’’ لوگوں نے چاند دیکھنا شروع کیا تو میں نے نبی کریم ﷺ کواطلاع دی کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے ۔ پھر آپﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اورلوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔‘‘

حدیث نبوی ہے کہ :

وَإِنْ شَهِدَ شَاهِدَانِ مُسْلِمَانِ، فَصُومُوا وَأَفْطِرُوا (مسند أحمد ، الحدیث:18895)

’’ اگر دو مسلمان گواہ شہادت دیں تو روزہ رکھو (دو کی گواہی کے ساتھ) روزہ رکھنا چھوڑ دو ۔‘‘

٭اگر چاند نظر نہ آسکے تو ماہِ شعبان 30کے دن مکمل ہونے پر روزہ رکھنا چاہیے:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مر وی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلاَثِينَ (صحیح البخاری ، كتاب الصوم ، الحدیث: 1909)

’’ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اورچاند دیکھ کر افطار کرو لیکن اگر مطلع ابر آلود ہو نے کے باعث چاند چھپ جائے توپھر تم شعبان کے تیس دن پورے کرو ۔‘‘

مشکوک دن میں روزہ رکھنا ممنوع ہے

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ 

مَنْ صَامَ الْیَوْمَ الَّذِی یَشُكُّ فِیهِ النَّاسُ فَقَدْ عَصَی أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ( سنن الترمذی ، كتاب الصوم ، الحدیث: 622)

’’ جس نے مشکوک دن میں روزہ رکھا اس نے ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی ۔‘‘

مشکوک دن سے مراد ماہ شعبان کاانتیسواں روز ہے یعنی جب اس رات ابر آلودگی کے باعث چاند نظر نہ آئے اوریہ شک ہو جائے کہ آیا رمضان ہے یا نہیں؟

(سعودی مجلس افتاء )صحیح سنت مشکوک دن کے روزے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے ۔

 روزوں کے آداب

روزہ رکھنے والے کیلئے فجر سے پہلے نیت کرنا ضروری ہے ۔

سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

مَنْ لَمْ یُجْمِعِ الصِّیَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا صِیَامَ لَهُ

’’جس نے فجر (یعنی صبح صاد ق ) سے پہلے پختہ نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ۔‘‘( سنن الترمذی ، كتاب الصوم ، الحدیث: 662)

نوٹ : روزہ کی نیت کے الفاظ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

نفلی روزے کی نیت

واضح رہے کہ یہ فرض روزے کی بات ہے جبکہ نفلی روزے کیلئے نفلی روزے سے پہلے یعنی فجر کے بعد بھی نیت کی جاسکتی ہے جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ’’ ایک دن رسو ل اللہ ﷺ میرے پاس آئے اور فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ ہم نے کہا نہیں ؟ یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا : تب میں روزہ دار ہوں۔‘‘

سحری کھانے میں برکت ہے

خادم رسول انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 

تَسَحَّرُوا فَاِنَّ فِی السَّحُورِ بَرَكّةً  (صحیح البخاري، كتاب الصو م، الحدیث :1789)

’’سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کھانے میںبرکت ہے۔‘‘

سحری کی فضیلت

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ  نے فرمایا :

اِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ یُصَلُّونَ عَلَی الْمُتَسَحِّرِینَ  ( مسند أحمد ، الحدیث: 10664)

’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ سحر ی کھانے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں اور فر شتے ان کیلئے دعا کرتے ہیں ۔‘‘

کھجور کے ساتھ سحری کھانے کی فضلیت

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 

نِعْمَ سَحُورُ الْمُؤْمِنِ التَّمْرُ (سنن ابی داؤد، كتاب الصوم، الحدیث: 1998)

’’ مومن کی بہترین سحری کھجور ہے ۔‘‘

اگر سحری کھاتے وقت اذان ہو جائے

تو فوراً چھوڑ دینا ضروری نہیں بلکہ حسب عادت جلد از جلد کھا لینا جائز ومباح ہے ۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

اِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ النِّدَاءَ وَالْاِنَاءُ عَلَی یَدِهِ فَلَا یَضَعْهُ حَتَّی یَقْضِیَ حَاجَتَهُ مِنْهُ

’’ جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور (کھانے یا پینے ) کابرتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے رکھے مت بلکہ اس سے اپنی ضرورت پوری کر لے۔‘‘ ( سنن أبی داؤد ، كتاب الصو م ، الحدیث: 2003)

روزہ میں فضول اور لایعنی باتوں سے زبان کو روکے رکھنا

سیدنا  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : 

مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ (صحيح البخاري، كتاب الصوم، الحديث:1903)

’’جس شخص نے (روزہ رکھ کر بھی) جھوٹ بولنے اور اس پر عمل کرنے کوترک نہ کیا ،تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی حاجت نہیںہے کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے۔‘‘

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ الصِّيَامَ لَيْسَ مِنَ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ فَقَطْ، إِنَّمَا الصِّيَامُ مِنَ اللغْوِ وَالرَّفَثِ، فَإِنْ سَابَّكَ أَحَدٌ، أَوْ جَهِلَ عَلَيْكَ، فَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ

’’ روزہ کھانا اور پینا چھوڑنے کا نام نہیں ہے ۔بلکہ وہ فضول اور گندگی سے رکے رہنے کا نام ہے ۔اگر کوئی شخص تمہیں ( روزہ کی حالت میں )گالی دے ،یا تم سے جہالت کاسلوک کرے تو تم اس سے کہہ دو ’’بھئی میںروزے سے ہوں ۔‘‘ ( حاکم ، ابن خزیمہ ، ابن حبان)

صدقہ وخیرات ، تلاوت قرآن پاک ، ذکر الٰہی اورنبی کریم ﷺ پر درو د کی کثرت

سیدناعبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور آپ سب سے زیادہ سخی اس وقت ہوتے جب جبریل علیہ السلام آپ ﷺ کی ملاقات کیلئے آتے۔ وہ رمضان کی ہر رات آپ ﷺ کے پاس آتے اور آپ ﷺ کے ساتھ قرآن پاک کی مدارست ( باہمی تلاوت ) کرتے۔ اس وقت نبی کریم ﷺ تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوا کرتے تھے۔ (صحيح البخاري، كتاب بدء الوحي، الحديث:6)

رزوہ افطا ر کرنے میں جلدی کرنا مستحب ہے

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ  نے فرمایا:

 لَا یَزَالُ النَّاسُ بِخَیْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ  (صحیح البخاری ، كتاب الصو م ، الحدیث: 1957)

’’ لوگ جب تک افطار کرنے میں جلدی کریں گے ہمیشہ خیر و عافیت میں ر ہیں گے۔‘‘

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ، لِأَنَّ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ (سنن أبی داؤد، كتاب الصوم ، الحدیث:2353)

’’ لوگ روزہ افطار کرنے میںجب تک جلدی کرتے رہیں گے دین ہمیشہ غالب رہے گاکیونکہ یہود ونصاری تاخیرسے افطار کرتے ہیں۔‘‘

نوٹ : روزہ افطار کرنے میں جلد ی سے مراد وقت سے پہلے افطار کرنا ہر گز مراد نہیں بلکہ وقت ہونے پر جلدی کرنا مقصود ہے ۔

روزہ کس چیز سے افطار کیا جائے ؟

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ عَلَى رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ رُطَبَاتٌ، فَعَلَى تَمَرَاتٍ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍٍ (سنن أبی داؤد ، كتاب الصو م ، الحدیث: 2356)

’’ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ نماز مغرب سے پہلے تازہ کھجوروں سے روزہ افطار کرتے ، اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو چھواروں سے روزہ افطا ر کرتے ۔ اگر چھوارے بھی نہ ہوتے تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔‘‘

ایک صحیح روایت میں یہ بھی موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ستو گھول کر روزہ افطار کیا ۔

افطاری کی دعا

روزہ کھولتے وقت رسول اللہ ﷺ یہ کلمات کہتے تھے : 

اللهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَی رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ (سنن أبی داؤد، كتاب الصوم، الحديث:2358)

’’اے اللہ ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے ہی دیے ہوئے رزق پر افطار کیا ۔‘‘

اس مندرجہ بالاحدیث کو بھی بعض علماء ضعیف کہتے ہیں۔اس میں یہ الفاظ

(۔۔۔۔۔ وَبِكَ آمَنْتُ وَ عَلَیْكَ تَوَكَّلْتُ ۔۔۔۔۔)

کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہیں۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ جب روزہ افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے : 

ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللهُ

کہ پیاس بجھ گئی ، رگیں تر ہو گئیں اور روزے کااجر ان شاء اللہ ثابت ہوگیا۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الصوم، الحدیث: 2357، حدیث صحیح ہے )

روزہ دار کیلئے جو کام کرنے جائز ہیں

مبالغے کے بغیر کلی کرنا اورناک میںپانی چڑھانا

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

هَشَشْتُ، فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا قَبَّلْتُ، وَأَنَا صَائِمٌ، قَالَ: «أَرَأَيْتَ لَوْ مَضْمَضْتَ مِنَ الْمَاءِ، وَأَنْتَ صَائِمٌ»قُلْتُ: لَا بَأْسَ بِهِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، قَالَ: «فَمَهْ»

’’میرا دل چاہا اور میں نے روزے کی حالت میں (اپنی بیوی کا ) بوسہ لے لیا۔ میں نے کہا ، اے اللہ کے رسولﷺ! میں نے آج بہت بڑا (برا) کام کیا ہے ، میںنے روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے بتاؤ اگر تم دوران روزہ کلی کرلو تو؟ میں نے کہا، کلی میں توکوئی حرج نہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پھر کون سی چیز میں حرج ہے ؟ (مراد یہ ہے کہ جب کلی کرنے میںکوئی حرج نہیں تو بوسہ لینے میں بھی کوئی حر ج نہیں )۔‘‘ ( سنن ابی داؤد ، کتاب الصیام ، الحدیث: 2385)

(امام شوکانی رحمہ اللہ )حدیث کے ان الفاظ «أَرَأَيْتَ لَوْ مَضْمَضْتَ مِنَ الْمَاءِ»میںایک مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیںکہ’’ کلی کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔‘‘

تیل لگانا اور کنگھی کرنا

سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو اسے چاہیے کہ یوں صبح کرے کہ اس نے تیل لگایا ہوا ہو اور کنگھی کی ہو۔( صحیح بخاری ، کتاب الصو م )

گرمی کی وجہ سے غسل کرنا

ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ ’’ میں نے نبی کریم ﷺ کودیکھا کہ آپﷺ گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی بہارہے تھے اور آپﷺ روزہ دار تھے۔ ( صحیح ابی داؤد ، کتاب الصیام، الحدیث: 20272)

حالت جنابت میں روزہ رکھنا اور بعد میں غسل کرنا

حالت جنابت میں سحری کھا کر روزہ رکھ لینا اور بعد میں غسل کر لیناجائز ہے ۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ

أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يُدْرِكُهُ الفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ، وَيَصُومُ» (صحیح البخاری،كتاب الصیام، الحدیث: 1926)

’ ’رسول اللہ ﷺ کو (بعض اوقات ) اس حالت میں فجر ہوجاتی کہ آپ مباشرت کرنے کی وجہ سے جنبی ہوتے (ایسے ہی آپ ﷺ سحری کھا لیتے ) پھر غسل کر کے روزہ رکھ لیتے۔‘‘

سرمہ لگانا

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ

اكْتَحَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ (سنن ابن ماجه ، كتاب الصیام ، الحدیث: 1678)

’’نبی کریم نے ماہ رمضان میں روزے کی حالت میں سرمہ لگایا ۔‘‘

 اگر مذکورہ حدیث صحیح ہے تو واضح طور پر اس سے دوران روزہ سرمہ لگانے کا جواز نکلتا ہے اوربالفرض اگر اس میں ضعف بھی ہے تب بھی اصل براء ت ہی ہے لہٰذا سرمہ لگانا جائز ہے اور کسی صحیح حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سرمہ لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔

دوران روزہ ٹوتھ پیسٹ کے استعمال کا حکم

اگر ٹوتھ پیسٹ حلق میں نہ جائے توروزہ نہیں ٹوٹتا لیکن افضل یہ ہے کہ ٹوتھ پیسٹ رات کو استعمال کی جائے۔ اوردن کومسواک استعمال کریں کیونکہ یہی سنت نبوی ہے ۔

ہنڈیا کا ذائقہ چکھنا

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: « لاَ بَأْسَ أَنْ يَتَطَعَّمَ القِدْرَ أَوِ الشَّيْءَ 

’’سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہنڈیا یا کسی چیز کا ذائقہ معلوم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘( صحیح البخاری ، کتاب الصوم )

روزہ دار کو جو کام کرنے حرام ہیں

جھوٹ بولنا ،غیبت کرنا اور لڑائی جھگڑا کرنا

سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ  ( صحیح البخاری ، كتاب الصیام ، الحدیث: 1903)

’’جس شخص نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں کہ ایسا شخص اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔‘‘

لغو ، رفث اور جہالت کی باتیں کرنا

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَجْهَلْْ( صحیح البخاری، كتاب الصیام ، الحدیث: 1894)

’’روزہ (گناہوں سے بچاؤ کی ) ایک ڈھال ہے لہٰذا(روزہ دار ) نہ فحش باتیں کرے اورنہ جہالت کی باتیںکرے۔‘‘

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : 

لَيْسَ الصِّيَامُ مِنَ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ، إِنَّمَا الصِّيَامُ مِنَ اللغْوِ وَالرَّفَثِ، فَإِنْ سَابَّكَ أَحَدٌ أَوْ جَهِلَ عَلَيْكَ فَلْتَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ، إِنِّي صَائِمٌ  (صحیح ابن خزيمة، الحدیث :1996)

’’روزہ صرف کھانا پینا چھوڑنے کا نام نہیں ہے بلکہ روزہ تو لغو ( ہر بے فائدہ بے ہودہ کام) اور رفث (جنسی خواہشات پر مبنی کلام ) سے بچنے کا نام ہے ۔ لہذا اگر کوئی تمہیں (دوران روزہ ) گالی دے یا جہالت کی باتیںکرے تو اسے دو دفعہ کہہ دو کہ میں تور وزہ دار ہوں۔‘‘

مبالغے سے ناک میں پانی چڑھانا

سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : 

أَسْبِغِ الْوُضُوءَ، وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا(سنن النسائی ، كتاب الصیام ، الحدیث:87)

’’ وضو اچھی طرح پورا کرو اور ناک میں اچھی طرح پانی چڑھایا کرو مگر روزے کی حالت میں (ایسا نہ کیا کرو)۔‘‘

جو ضبطِ نفس کی طاقت نہ رکھتا ہواسے احتیاط کرنی چاہیے

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ

كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ» ( صحیح البخاري، كتاب الصیام ،الحدیث: 1927)

’’ نبی کریم ﷺ روزہ دار ہوتے لیکن (اپنی ازواج مطہرات کا ) بوسہ لیتے اور ان کے ساتھ مباشرت کرتے (یعنی ان کے صرف جسم کے ساتھ جسم ملاتے ) اور آپ ﷺ تم سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔‘‘

روزہ کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے 

جان بوجھ کر کھانے ،پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے :

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

وَكُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ

’’ تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے (یعنی صبح صادق رات سے ) ظاہر ہوجائے۔ پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔‘‘ (البقرۃ:187)

اگر کوئی بھول کر کھاپی لے

تو اس پر نہ کفارہ ہے نہ قضا کیونکہ اس کا روزہ برقرار ہے ۔

مباشرت کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے

اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآىِٕكُمْ (البقرۃ:187)

’’ روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا۔‘‘

معلوم ہوا کہ دن میں یہ حرام ہے ۔

عمداً قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے :

اگر خود بخود قے آجائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

مَنْ ذَرَعَهُ القَيْءُ، فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ، وَمَنْ اسْتَقَاءَ عَمْدًا فَلْيَقْضِ(سنن الترمذی، كتاب الصیام، الحدیث:720)

’’ جسے روزے کی حالت میں قے آجائے اس پر قضا نہیں ، اگر جا ن بوجھ کر قے کرے تو قضا دے۔‘‘

جان بوجھ کر روزہ توڑنے والے پر ظہار کے کفارے کی طرح کفارہ لازم ہے۔

دوران روزہ احتلام اور مذی کا حکم

حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے دوران روزہ اپنی بیوی سے حقیقی مباشرت کرلی تونبی کریم ﷺ نے اسے اس طرح کفارہ ادا کرنے کوکہا ۔ایک گردن آزاد کرو، اگر اس کی طاقت نہیں تو دو ماہ کے پے درپے روزے رکھو اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں تو ساٹھ مساکین کوکھاناکھلاؤ۔‘‘(سنن أبی داؤد، کتاب الصوم ، حدیث : 2390)

روزے کی حالت میںاگر احتلام ہوجائے یا مذی وغیرہ خارج ہوجائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ روزہ ان اشیاء سے ٹوٹتا ہے جو اند رجاتی ہیں ۔ ان سے نہیں ٹوٹتا جو باہر آتی ہیںإلا یہ کہ اس میں قصد شامل ہو۔

مخصوص ایام یا نفاس شروع ہونے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے

امام بخاری رحمہ اللہ نے باب قائم کیا ہے  بَابٌ: الحَائِضُ تَتْرُكُ الصَّوْمَ وَالصَّلاَةَ’’حیض والی عورت نہ نماز پڑھے اور نہ روزے رکھے۔

کیا بچے کو دودھ پلانے سے روزہ باطل ہوجاتا ہے

شریعت اسلامیہ نے بچے کو دودھ پلانا روزہ توڑنے والی اشیاء میں شمار نہیں کیا لہٰذا اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ فقہائے کرام کا اختلاف ہے کہ دودھ پلانے والی عورت کا روزہ دودھ پلانے کے باوجود جائز ہے اس سے اُس پرکچھ اثر نہیںپڑتا۔

کیانکسیر پھوٹنےسے روزہ فاسد ہوجاتا ہے ؟

(سعودی مجلس افتاء)کے مطابق اگر آپ کو نکسیر آجائے تو آپ کا روزہ صحیح ہے ۔کیونکہ نکسیر کے آنے پر آپ کو کوئی اختیار نہیں۔ اس بنا ءپر اس کے آنے سے آپ کے روزے کو کوئی نقصان نہیں اور نہ ہی وہ فاسد ہے ۔اس کے دلائل میں سے مندرجہ ذیل ارشاد باری تعالی ہے: 

لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا (البقرة :286)

’’ اللہ تعالیٰ کسی کو بھی اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔‘‘

کیا دانتوں سے نکلنے والا خون روزہ توڑ دیتا ہے ؟

(سعودی مجلس افتاء ) کے مطابق وہ خون جو دانتوں سے نکلتا ہے روزہ نہیں توڑتا خواہ خود بخود نکل آئے یا کسی انسان کے مارنے سے نکلے۔‘‘

کیا آنکھوں یا کانوں میں قطر ے ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟

علامہ ابن باز رحمہ اللہ نے فرمایا اگرچہ اس مسئلے میں اختلاف ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ مطلق طورپر( آنکھوں  میں ڈالنے والے ) قطروں سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔‘‘

(سعودی مجلس افتاء ) صحیح بات یہ ہے کہ جس نے اپنی دونوں آنکھوں یا اپنے کانوں میں بطور دواء قطرے ڈالے تو اس کا روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہم سب کو قرآن وسنت کے مطابق روزہ رکھنے اور اس ماہ مقدس کے فیوض وبرکات سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے