پہلا خطبہ

دوسروں کی غیبت کرنا زبان کی آفتوں میں سے سب سے خطرناک اور انسان کی نیکیوں کو سب سے زیادہ تباہ کرنے والی چیزوں میں سے ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

وَ لَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ۠

’’اور نہ تم میں سے کوئی دوسرے کی غیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے سو اس کو تو تم ناپسند کرتے ہو۔‘‘(الحجرات:12)

اللہ تعالی مزید فرماتا ہے:

وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ (الھمزة:1)

” ہر غیبت کرنے والے طعنہ دینے والے کے لیے ہلاکت ہے۔

اس آیت کی تفسیر کے ضمن میں کہا گیا ہے کہ (ھُمزة) وہ ہے جو لوگوں کی غیبت کرتا ہے اور (لُمزة) وہ ہے جو ان میں عیب نکالتا اور طعنہ زنی کرتا ہے جیسا کہ بہت سے سلف سے مروی ہے۔

ایک عالم کا قول ہے کہ : غیبت وہ شعلہ برق ہے جو نیکیوں کے خرمن کو خاکستر کر دیتا ہے ۔ اسی لیے ابن مبارک رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: اگر میں کسی کی غیبت کرتا تو اپنے والدین کی کرتا کیوں کہ وہ میری نیکیوں کے زیادہ مستحق ہیں۔

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا گزر ایک مردہ خچر کے پاس سے ہوا تو انہوں نے اپنے بعض ساتھیوں سے کہا: کسی شخص کا اس مردہ خچر کا گوشت پیٹ بھر کر کھالینا ایک مسلمان کی غیبت کرنے سے بہتر ہے۔

اسلامی بھائیو!مسلمانوں کی عزت و آبرو ویسے ہی حرام ہے جیسے ان کے خون اور مال حرام ہیں ، جیسا کہ رسول اکرم ﷺ نے حجۃ الوادع کے خطبے میں اس امر کا اعلان کر دیا تھا۔

لہذا اے مسلمانو !اللہ کا تقوی اختیار کرو، اور اپنی زبان کی تباہ کاریوں اور دیگر اعضاء جسمانی کی آفتوں سے بچو، کیوں کہ اس کا معاملہ بڑا خطرناک ہے ، اور گناہ بڑا عظیم ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:کامل مسلمان وہی ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔ ( بخاری و مسلم)

غیبت یہ ہے کہ آپ کسی شخص میں پائے جانے والی کسی بھی ایسی چیز کا تذکرہ کریں جسے وہ ناپسند کرتا ہو، خواہ وہ اس کے دین ،دنیا یا جسم سے متعلق ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہوتی ہے ؟ ، صحابہ کرام نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: (غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر اس انداز میں کرو جسے وہ ناپسند کرتا ہو ۔ ( امام مسلم نے اسے روایت کیا ہے)

میرے اسلامی بھائیو!یہ معاملہ انتہائی خطرناک اور بہت سنگین ہے۔ لہذا اپنی زبان کو مسلمانوں کی عزت و آبرو پر حملہ کرنے سے محفوظ رکھو، نیز ان کی غیبت کرنے ، اور ان کی عزتوں کو پامال کرنے سے حد درجہ بچو۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَيْهِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌ

وہ کوئی بات منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک مستعد نگران موجود ہو تا ہے۔ (ق:18)

اور ہمارے پیارے پیغمبر ﷺ نے غیبت کے انجام بد سے ڈراتے ہوئے فرمایا ہے : ” جب مجھے معراج کرائی گئی، میں ایسی قوم کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے جن سے وہ اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے ، میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ جناب جبریل علیہ السلام نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے اور ان کی عزتوں کو پامال کرتے تھے ۔ ( اس حدیث کو امام احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے ، اور اس کی سند حسن ہے)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ : میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا: آپ ﷺ کے لئے صفیہ کا ایسا ایسا ہوناہی کافی ہے۔ بعض راویوں نے کیا کہ ان کی مراد یہ تھی کہ وہ کوتاہ قد ہیں ، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر وہ سمندر کے پانی میں گھول دی جائے تو وہ اس کا ذائقہ بدل ڈالے، وہ کہتی ہیں: میں نے آپ ﷺ کے سامنے ایک شخص کی نقل اتاری تو آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں کسی انسان کی نقل اتاروں چاہے اس کے بدلے مجھے اتنا اتنا مال ملے۔ (اسے ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے ، اور ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے )

امام نووی کہتے ہیں: یہ حدیث غیبت کی سنگینی سے ڈرانے کے لیے کافی ہے۔

اس بری خصلت سے ڈرانے والی یہ اور اس طرح کی بے شمار نصوص کی بنا پر جمہور اہل علم نے غیبت کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔ اس لیے ایک مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت کرے اور دوسروں کے عیب تلاش کرنے کی بجائے اپنے عیبوں پر نظر رکھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ اپنی زبانوں کے بڑ بڑ ہی کی وجہ سے تو اوندھے منہ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔“ اور آپ ﷺ کی وصیتوں میں سے ایک آپ کا یہ بھی فرمان ہے کہ : ”جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے یا تو خیر و بھلائی کی بات کرنی چاہیے ، یا خاموش رہنا چاہیے ۔ “ ( بخاری و مسلم)

دوسرا خطبہ

جو آدمی کسی کو کسی مسلمان بھائی کی غیبت کرتے ہوئے سنے تو اس پر یہ واجب ہے کہ وہ اس کا جواب دے اور غیبت کرنے والے کو روکے، اگر اسے روک نہ پائے یا وہ اس کی بات نہ سنے تو اس پر یہ واجب ہے کہ اس مجلس سے کنارہ کش ہو جائے۔

ارشاد باری تعالی ہے :

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ (القصص:55)

’’اور جب انہوں نے لغو باتیں سنیں تو انہوں نے ان سے اعراض کیا۔‘‘

اور حدیث میں آیا ہے: جو شخص اپنے بھائی کی عزت کا ( اس کی غیر موجودگی میں ) دفاع کرے، اللہ تعالی قیامت کے دن اس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے دور کر دے گا۔ (اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے حسن قرار دیا ہے )

By editor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے