الحمد ﷲ وحده والصلاۃ والسلام علیٰ من لا نبي بعده۔ أما بعد:

قرآنِ مجید کائنات میں سب سے پرعظمت کتاب مقدس ہونے کے ساتھ ساتھ فصاحت و بلاغت اور باریک بینی میں اپنا ثانی نہ رکھتے ہوئے نہایت ہی سہل، منفرد اور عام فہم بھی ہے۔ قرآنِ مجید امت مسلمہ کی عظیم ترین متاع ہے، جسے براہِ راست سمجھنا اور پھر اس کے احکامات و ارشادات پر عمل کرنا امت مسلمہ کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ قرآنِ مجید کے نزول کا مقصد بیان کرتے ہوئے مالک کائنات ارشاد فرماتے ہیں:

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَصَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِي الَّذِيْنَ يَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰيٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يَصْدِفُوْنَ  (الأنعام: ۱۵۷)

’’یا یہ کہو کہ اگر واقعی ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم ان سے زیادہ ہدایت والے ہوتے۔ پس بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل اور ہدایت اور رحمت آچکی، پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے کنارا کرے۔ عنقریب ہم ان لوگوں کو جو ہماری آیات سے کنارا کرتے ہیں، برے عذاب کی جزا دیں گے، اس کے بدلے جو وہ کنارا کرتے تھے۔‘‘

نیز فرمایا:

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِيُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِيَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِيَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ (إبراهيم:52)

’’یہ لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے اور تاکہ انھیں اس کے ساتھ ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ حقیقت یہی ہے کہ وہ ایک ہی معبود ہے اور تاکہ عقلوں والے نصیحت حاصل کریں۔‘‘

نیز فرمایا:

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْۤا اٰيٰتِهٖ وَ لِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(ص:29)

’’یہ ایک کتاب ہے، ہم نے اسے تیری طرف نازل کیا ہے، بہت بابرکت ہے، تاکہ وہ اس کی آیات میں غور وفکر کریں اور تاکہ عقلوں والے نصیحت حاصل کریں۔‘‘

لیکن یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم نے قرآنِ مجید کو سمجھا نہیں، اس کے کلام پر غور نہیں کیا، انگلش، اردو وغیرہ دیگر زبانیں سیکھتے ہیں مگر قرآن کو مشکل کتاب قرار دے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآنِ مجید کو سمجھنا بے حد آسان ہے، اس کے 80% سے زائد الفاظ تو ایسے ہیں جو ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں دورانِ گفتگو استعمال کر جاتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے:

فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِيْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا(مريم:97)

’’سو اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم نے اسے تیری زبان میں آسان کر دیا ہے، تاکہ تو اس کے ساتھ متقی لوگوں کو خوشخبری دے اور اس کے ساتھ ان لوگوں کو ڈرائے جو سخت جھگڑالو ہیں۔‘‘

معنوی خزائن کا کشاف:

قرآنِ مجید صراطِ مستقیم کا پاسبان، علم و حکمت کا خزینہ، ہدایت کا سفینہ، کائنات میں منفرد، معنوی خزائن کا کشاف، شکستہ حوصلوں کو جولانیاں عطا کرنے والا، دل کی دنیا بدلنے والا، ذلت کو عزت، شکست کو فتح، بدحالی کو خوشحالی، انتشار کو وحدت میں تبدیل کرنے والا ہے۔ اگر ان تمام فوائد کو حاصل کرنا ہے تو قرآنِ مجید کی تعلیمات پر خلوصِ دل اور پختہ عزم سے عمل کرنا ہوگا، اپنے ذہنوں سے یہ بات نکال دیں کہ قرآن ایک مشکل کتاب ہے اور اسی بنیاد پر ہم اس میں غور و فکر اور تدبر نہیں کرتے۔ آپ غور کیوں نہیں کرتے کہ صحابہ کرامy جو کھیتی باڑی کرتے اور بکریاں چراتے تھے، جب قرآنِ مجید پر تدبر کیا تو ان کی زندگیوں میں ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ دینِ اسلام کے عالم اور مفسرین بنے:

وَ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ (القصص:53)

’’اور جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، یقینا یہی ہمارے رب کی طرف سے حق ہے، بے شک ہم اس سے پہلے فرماں بردار تھے۔‘‘

نیز فرمایا:

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ(الزمر:23)

’’اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی، ایسی کتاب جو آپس میں ملتی جلتی ہے، (ایسی آیات) جو بار بار دہرائی جانے والی ہیں، اس سے ان لوگوں کی کھالوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے، جس کے ساتھ وہ جسے چاہتا ہے راہ پر لے آتا ہے اور جسے اللہ گمراہ کر دے تو اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں۔‘‘

قرآنِ مجید کو ترجمہ و تفسیر کے ساتھ پڑھنا:

قرآن کو بغیر ترجمہ کے ساتھ پڑھنا بھی نہایت درجے کا ثواب ہے، لیکن اس کو ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھنا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ہمارے بزرگانِ دین، علمائے کرام اپنے خطابات اور تقاریر میں لچھے دار باتیں کرنے کے بجائے اگر قرآنِ مجید کا ترجمہ و تشریح بیان کرنا شروع کر دیں تو اس سے نہ صرف فرقہ پرستی کا دروازہ بند ہو جائے گا بلکہ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ امت مرحومہ کا قرآن و سنت سے ٹوٹا ہوا رشتہ دوبارہ جڑ جائے گا۔ کیونکہ قرآن مجید دنیا اور آخرت کے بارے مفید علم کی تائید فرماتا ہے، عقیدہ سکھاتا ہے جو علم و عقیدہ دنیا و آخرت کے لحاظ سے غیر مفید ہو، اس کو چھوڑنے کی تلقین کرتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا:

مَثَلُ الَّذِيْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ(الجمعة:5)

’’ان لوگوں کی مثال جن پر تورات کا بوجھ رکھا گیا، پھر انھوں نے اسے نہیں اٹھایا، گدھے کی مثال کی سی ہے جو کئی کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، ان لوگوں کی مثال بری ہے جنھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلادیا اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘

نیز فرمایا:

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْۤ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ (الأعراف:175)

’’اور انھیں اس شخص کی خبر پڑھ کر سنا جسے ہم نے اپنی آیات عطا کیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا، پھر شیطان نے اسے پیچھے لگا لیا تو وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔‘‘

قرآنِ مجید نفع بخش علم ہے، جبکہ اس کے برخلاف غیر نفع بخش علم سے رسول اﷲe نے پناہ مانگی ہے۔ سیدنا عبداﷲ بن عمروw بیان کرتے ہیں کہ اﷲ کے رسولe دعا کرتے تھے:

اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ (رواه الترمذي، باب ما جاء في فضل التسبیح والتكبیر)           

’’اے اﷲ میں ایسے دل سے پناہ مانگتا ہوں جس میں تیرا خوف نہ ہو اور ایسی دعا سے پناہ چاہتا ہوں جو تیری بارگاہ میں مستجاب نہ ہو اور ایسے نفس سے پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو، اور ایسے علم سے پناہ مانگتا ہوں جو نفع بخش نہ ہو۔‘‘

امت مسلمہ کی اصلاح و تربیت:

امت مسلمہ کی اصلاح و تربیت کے لیے قرآنِ مجید سے کارگر کوئی چیز نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی مساجد میں ترجمہ قرآن کی کلاسیں شروع کریں اور عام پڑھنے کے لیے قرآنِ مجید کے تراجم رکھیں، تاکہ اردو خواں طبقہ خاطر خواہ استفادہ کر سکے۔ ہمارے دین کو جہاں بہت سی خود ساختہ رسومات نے گھیرا ہوا ہے وہاں ایک رسم یہ بھی ہے کہ مُردوں کو بخشوانے کے لیے گھر گھر قرآنِ مجید کے سپارے تقسیم کیے جاتے ہیں، قرآن و سنت سے اس کا کوئی وجود نہیں۔ اگر ہم کتاب و سنت کا علم رکھیں تو ایسی اور ان جیسی دیگر رسوم پیدا ہی نہ ہوں، کیونکہ دین کے اندر کسی بھی قسم کا اضافہ قطعاً ناجائز اور حرام ہے۔ اس لیے کہ دین میں من پسند چیزیں شامل کرنا بدعت ہے، جس چیز پر پیغمبر اسلام محمدﷺ کا حکم نہیں، وہ جائز نہیں۔ سورۃ الحدید میں فرمایا:

ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّيْنَا بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَ اٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِيَّةَ ا۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا١ۚ فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ(الحدید:27)

’’پھر ہم نے ان کے نقش قدم پر پے درپے اپنے رسول بھیجے اور ان کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور اسے انجیل دی اور ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں جنھوں نے اس کی پیروی کی نرمی اور مہربانی رکھ دی اور دنیا سے کنارہ کشی تو انھوں نے خود ہی ایجاد کر لی، ہم نے اسے ان پر نہیں لکھا تھا مگر اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے (انھوں نے یہ کام کیا) پھر انھوں نے اس کا خیال نہ رکھا جیسے اس کا خیال رکھنے کا حق تھا، تو ہم نے ان لوگوں کو جو ان میں سے ایمان لائے ان کا اجر دے دیا اور ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں۔‘‘

قرآنِ مجید میں بنی اسرائیل کے ان علماء کی شدید مذمت کی گئی، جو قول و عمل میں تضاد کا شکار تھے، وہ لوگوں کو تو اچھوتے اور دلکش انداز میں تقاریر کرتے تھے، لیکن ان کا اپنا عمل اس دعوت کے برعکس ہوتا۔ اس پر اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:

اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ  اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ (البقرۃ:44)

’’کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟‘‘

محمدﷺکی ذات میں اکملیت و جامعیت:

نبیوں اور رسولوں میں صرف حضرت خاتم النبیین محمدe کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کی ولادت با سعادت سے وفات تک کی سیرت کا ایک ایک پہلو اور گوشہ احادیث مبارکہ اور تاریخ کی معتبر کتب میں محفوظ کیا گیا ہے اور اس پر طرۂ امتیاز یہ کہ اﷲ تعالیٰ نے محمدﷺکی شخصیت میں جو امتیاز و انفرادیت اور جامعیت و اکملیت رکھی تھی، وہ انسانی تاریخ کے کسی زمانے اور دور میں کسی اور شخصیت کے حصے میں نہیں آئی۔ ہمارے پیارے نبی محترمﷺ کی ذات طیبہ میں جو کاملیت اور تنوع ہے، وہ صرف اور صرف آپﷺ کا ہی خاصا ہے، اسی لیے قرآنِ مجید نے واضح اعلان فرما دیا:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الأحزاب: ۲۱)

’’بلاشبہ یقینا تمھارے لیے اللہ کے رسول میں ہمیشہ سے اچھا نمونہ ہے۔‘‘

بندگی کی اصل معراج یہ ہے کہ بندہ خود کو اﷲ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات کو حرزِ جاں بنا لے اور ان کا سچا محب بن جائے۔ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک ایسے بندے کا مقام کیا ہے؟ ارشاد ہوتا ہے کہ ایسے بندے کو رب تعالیٰ اپنی محبوبیت میں لے لیتا ہے، یعنی ایسا صاحبِ ایمان جو رسول اﷲﷺکی اطاعت و اتباع کی پیروی میں زندگی کے شب و روز گزارے، اسے خوش خبری دیتے ہوئے فرمایا:

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (آل عمران: ۳۱)

’’کہہ دے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔‘‘

لہٰذا اسلام میں نجات و کامیابی اور فلاح کا ایک ہی طریقہ اور راستہ ہے کہ قرآن مقدس کے بتائے ہوئے راستے اتباعِ سنت اور سیرت محمد مصطفیﷺ کو اپنا لے۔ اس کے برخلاف جو بھی راستہ ہوگا، چاہے وہ کتنا ہی پرکشش کیوں نہ ہو، قطعاً قبول نہیں کیا جائے گا۔ اﷲ تعالیٰ کی بندگی اور رسول اﷲﷺکی اطاعت کا جو بھی خود ساختہ معیار و میزان اپنایا جائے گا۔ چاہے اس میں کتنی ہی خیر خواہی اور نیک نیتی شامل ہو، قابلِ قبول نہیں ہوگا۔

ادارہ تفہیم الاسلام کی قرآنی خدمات:

ادارہ تفہیم الاسلام احمد پور شرقیہ (ضلع بہاول پور) نے فتنے کے اس دور میں قرآنِ مجید کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے ہمیشہ ترجمہ قرآن اور فہم قرآن پر زور دیا ہے۔ اسی دعوت کے پیشِ نظر ’’فیضانِ قرآن‘‘ شائع کی جا رہی ہے۔ اس سے قبل قرآنِ مجید کے موضوع پر خاک ساری کی ایک دعوتی کتاب: ’’موضوعات القرآن فی توحید الرحمان‘‘ بھی شائع کر کے تقسیم کی جا چکی ہے۔ جب کہ اس سلسلے کی مزید ایک درجن قرآنی کتب مکمل ہیں اور طباعت کی منتظر ہیں:

1پیامِ قرآن کی کرنیں۔

2موسیقی سے قرآن تک۔

3قرآنِ مجید کے متعلق مستشرقین کے اعترافات۔

4قرآنِ مجید اور جدید سائنسی اکتشافات۔

5تعارف قرآنِ مجید۔

6فہم قرآن اور اس کے اہداف و مقاصد۔

7قرآنِ مجید غیر مسلموں کی نظر میں۔

8مقالاتِ قرآن۔

9مضامین قرآن۔

10قرآنی قصص و واقعات۔

11قرآنی دعائیں۔

12 قرآنِ مجید کی سورتیں اور ان کے فضائل۔

ان درجن بھر کتب کی تصنیف و تالیف کا اصل مقصد یہی ہے کہ قرآنِ مجید کی ہدایات اور تعلیمات سے مکمل آگاہی حاصل ہو سکے۔ ’’فیضانِ قرآن‘‘ میں بھی قرآن فہمی کو اجاگر کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے، اس میں قرآنِ مجید کے مضامین کو درج ذیل آٹھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے:

1۔قرآن مجید، ایک کامل ضابطہ حیات۔

2۔سابقہ قوموں کے زوال کی داستان، قرآنِ مجید کی زبانی۔

3۔قرآنِ مجید کے چار حقوق۔

4۔قرآنِ مجید میں دعوت و تبلیغ کا حکم۔

5۔قرآن اور حاملین قرآن۔

6۔چند قرآنی سورتوں کی فضیلت ،احادیث کی روشنی میں۔

7۔قرآنِ مجید کی اثر انگیزی، اسلاف کی زندگیوں میں۔

8۔متنازعہ مسائل اور قرآنی احکام۔

یہ تمام ابواب عام فہم ترجمہ و تشریح کے ساتھ نیز موضوع کے مطابق بحوالہ احادیث بھی ذکر کی گئیں ہیں، تاکہ علماء و خطباء اور مطالعہ قرآن کا شوق رکھنے والے احباب برابر استفادہ کر سکیں۔

آیات کے ترجمہ کے لیے زیادہ تر استاذ العلماء شیخ الحدیث مولانا عبدالسلام بھٹویd کے ترجمہ قرآنِ مجید سے استفادہ کیا گیا ہے، تاکہ اس مختصر کتاب میں آیاتِ قرآنی کا سہل مفہوم ہمارے قلوب و اذہان میں راسخ ہوسکے۔ اس کتاب کی تیاری میں ادارہ تفہیم الاسلام کے اراکین و ذمہ داران کا خصوصی تعاون حاصل رہا، جس پر میں ان کے لیے دعا گو ہوں کہ اﷲ تعالیٰ انھیں اپنی رحمت خاص سے نواز دے۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں ریا کاری اور نمود و نمائش سمیت ہر قسم کی ظاہری و باطنی برائیوں سے محفوظ و مامون رکھے۔

’’فیضانِ قرآن‘‘ کو میرے والدین کریمین، برادران، اولاد و احفاد اور تمام معاونین کے لیے صدقہ جاریہ نافعہ بنا دے۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو دنیا و آخرت کی اعلیٰ ترین کامیابیاں عطا فرمائے اور تمام قسم کی ناکامیوں اور محرومیوں سے محفوظ فرمائے اور ہماری بشری تقاضے کے تحت ہونے والی غلطیوں کو معاف فرمائے۔ آمین

ادارہ تفہیم الاسلام اور اس کے معاونین اور مددگاروں کو بھی اپنی خصوصی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

ایں دعا از من و جملہ جہاں آمین باد

وصلی اﷲ وبارك علیٰ نبینا محمد وآله وأصحابه

By editor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے