اس چھوٹے سے سہ حرفی لفظ»مَیں» میں ایک قیامت چھپی ہوئی ہے۔یہ لفظ جب منفی کیفیت کے ساتھ انسان کے فکر و عمل میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے تو بعض اوقات اس کی جڑیں اتنی مضبوط اور گہری ہوجاتی ہیں کہ ان کو جنبش دینا بھی محال ہوتا ہے۔اس لفظ نے دنیا کے عروج و زوال میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔اس کی قوت و تاثیر کی وجہ سے پوری پوری قومیں عرش سے فرش پر آگئیں ۔ ہنستے بستے گھر اس «مَیں» کی نفرت و عداوت کی آگ میں جھلس کر راکھ ہوگئے۔یہ لفظ اپنے وجود میں خود سری، غرور، حقارت و نخوت اور رویوں میں پتھروں کی خاصیت رکھتا ہے اور پتھر میں کبھی جونک نہیں لگا کرتی۔اس کا زہر اتنا مہلک اور دیرپا ہوتا ہے جو انسانوں کے رگ و پے میں سرایت کر کے انہیں مرنے دیتا ہے اور نہ جینے۔اس کی تپش اور اس کی ہولناکی انسانوں کی نسلوں کو ریزہ ریزہ کر دیتی ہے۔

ابلیس نے بھی تو «مَیں» ہی بولا تھا ناں! آدام کو سجدہ کرنے کے حوالے سے،اللہ تعالیٰ اور ابلیس لعین کے مابین مکالمہ قرآن حکیم میں بیان ہوا ہے: اللہ نے فرمایا:

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَهٗ مِنْ طِيْنٍ

«جب میں نے تجھ کو حکم دیا تھا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا؟ اُس نے کہا : «مَیں» اس سے افضل ہوں ، مجھے تونے آگ سے پیدا کیا ہےاور اِسے مٹی سے بنا یاہے۔» (الأعراف)

ابلیس کو تو اس سرکشی اور اللہ کی نافرمانی پر قیامت تک کے لیے دھتکار کر آسمانوں سے نکال دیا گیا اور وہ راندۂ درگاہ ہوگیا۔مگر اس نے «میں» کے رویے کو اولادِ آدام کے قلب و ذہن میں پیوست کردیا تاکہ وہ اللہ کی نظر میں مجرم ٹھہرائے جائیں اور یہی اس کا اصل مشن ہے۔انسان کے ہر عمل میں ابلیس کوشش کرتا ہے کہ «مَیں» کا غلبہ کم نہ ہونے پائے اور وہ قدم قدم ہر انسان کو اکساتا رہتا ہے۔

بڑوں اور بزرگوں کا احترام اور ان کا ادب بلاشبہ اسلام کی اخلاقی تعلیم کا ایک حصہ ہے۔رفق و ملاطفت مہذب اور شریفانہ اخلاق ہیں جبکہ چھوٹوں کے بارے میں اہم فیصلے کرتے وقت بڑوں کو ان کے جذبات و احساسات کا خیال رکھنا بھی ماحول کو تناؤ سے بچانے کا ایک بہتر طریقہ ہے۔افہام و تفہیم کی روش بہت سے متنازعہ معاملات کو حل کرنے میں معاون ثا بت ہوتی ہے۔ جبکہ «مَیں» اور میرا فیصلہ حرف آخر ہے کا رجحان اکثر چپقلش اور بدمزگی کا ماحول پیدا کردیتا ہے۔جبکہ نرمی اور مصلحت اندیشی بدمزگی کو بھی مٹھاس میں بدل دیتی ہے۔ بقول آتش،

جو اعلیٰ ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کے ملتے ہیں

صراحی سر نِگوں ہو کر بھرا کرتی ہےپیمانہ

ہٹ دھرمی اور انا کا مسئلہ کبھی بھی سود مند ثابت نہیں ہوتا۔آئینہ ہمیشہ سچ بولتا ہے، جو اس کے سامنے ہوتا ہے اسی کو وہ منعکس کرتا ہے ،لیکن ہماری «مَیں» یہاں بھی اپنا رنگ دکھاتی ہے۔میرے جیسا کوئی اور ہے ہی نہیں ۔»ہم سا ہو تو سامنے آئے» اندر سے دل شقاوت سے بھرا ہوا ہے آنکھیں ہر سامنے والے شخص کو چھوٹا دیکھتی ہیں، ہر آدمی کا قد اپنے سے چھوٹا نظر آتا ہے۔سماجی لحاظ سے میرا اسٹیٹس سب سےبلند ہے۔میں تو لوگوں کےدلوں میں دھڑکتا ہوں، ایک بار جو مجھے دیکھ لیتا یا مجھ سے مل لیتا ہے وہ میرا ہی ہوجاتاہے۔گویا :

یہ اعجاز ہے حسنِ آوارگی کا

جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے

 یہ وہ خود ساختہ خوش فہمیاں ہیں جو انسانوں کے اس سمندر میں لاکھوں کروڑوں کے دل میں جھوٹی انا اور شان و شوکت کے برگ و بار پھیلاتی رہتی ہیں اور وہ یہ تلخ حقیقت کو بھلائے رکھتا ہے کہ اسے حقیر پانی کی ایک بوند سے تخلیق کیا گیا ہے ۔اگر اس کی کوئی حیثیت ہے تو وہ اس روحِ ربانی کے سبب ہے جس کو کچلنے کی وہ ہمیشہ جانے اَنجانے میں کوشش کرتا رہتاہے۔انسان کا اندازِ فکر بدلنا معاشی نظام کے بدلنے سے بھی زیادہ مشکل ہوتا ہے۔سماج اگر بدل بھی جائے تو بھی انسانوں کی سوچ کا انداز عرصے بعد تک حاوی رہتاہے۔جس طرح کسی کی غلامی سے نجات ملنے کے بعد بھی بوئے غلامی انسان کے اندر سے نہیں نکلتی۔ہر انسان روحانیت اور مادیت کے رشتوں میں بیک وقت منسلک ہوتا ہے۔اس کی اس ڈور کا ایک سرا اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ جڑا ہوتا ہے تو دوسرا سرا اس جہانِ آب و گِل کے ساتھ ہے۔ان دوگونہ تعلق میں توازن قائم کرنا ہر ذی فہم انسان کی ذمہ داری ہے اور اسی راہ سے ان دونوں میں ہم آہنگی ، زندگی یا انسانی تہذیب کی میزان برابر ہوسکتی ہے۔وگرنہ کوئی ایک پلڑا بھی زیادہ جھکے گا تو نتیجہ فساد اور معاشرے میں بگاڑ کی صورت میں سامنے آئے گا۔انتہا پسند رجحانات کی کسی معاشرے میں گنجائش نہیں ہوتی، اسلام اپنی بنیادی اساس میں خود ایک سیکولر دین ہے جس میں تما م انسانوں کو مادی، سیاسی اور سماجی حقوق دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔بحیثیت انسان کسی کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ، اگر کوئی ہے تو وہ صرف تقویٰ اور للہیت ہے۔ بڑائی اور بزرگی صرف تقویٰ، پرہیزگاری ، حسنِ عمل اور فضیلتِ اخلاق پر منحصر ہے۔یہ اوصاف انسان کے ظاہر و باطن سے خارج ہوگئے تو پھر وہ مٹی کا ایک ڈھیر ہے جو روح نکل جانے کے بعد حشرات الارض کی غذا بن جاتا ہے۔

اسلامی تہذیب و تمدن کے اعتبار سے ہر فرد اجتماعیت کا حصہ ہے۔کیونکہ وہ مدنی الطبع ہے وہ چاہے بھی تو اس اجتماعیت سے دور ہو کر دنیا کی زندگی کی تمام نعمتوں سے مستفید نہیں ہوسکتا۔یہاں ہر فرد ایک دوسرے سے ارادی یا غیر ارادی طور پر جڑا ہوا ہے۔اگر ہمارا جوتا نہ ٹوٹے تو ہم موچی کو منہ بھی نہ لگائیں،اگر ہمارا سیوریج کا نظام خراب نہ ہو ہم کسی خاکروب کے قریب سے بھی نہ گزریں۔اسی طرح دنیا کے دیگر معاملات میں انسان ایک دوسرے کا محتاج ہے اور اس کے بغیر اس کے بہت سے کام ہو ہی نہیں سکتے۔البتہ ایک گورکن ایسا شخص ہے کہ جس کے پاس ہم مر کر ہی جاتے ہیں، لیکن اس کی ضرورت بھی چار و ناچار پڑ ہی جاتی ہے خواہ مرنے کے بعد ہی ہو!

قرآن حکیم نے انسانی زندگی کے مختلف ادوار بیان کیے ہیں : ارشاد ہے:

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِيْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ (الحدید 20)

« خوب سمجھ لو زندگی کی حقیقت بس یہ ہے کہ وہ نام ہے کھیل کود کا، ظاہری سجاوٹ کا، تمہارے ایک دوسرےپر فخر کرنا، اور اولاد میں ایک دو سرے سے بڑھنے کی کوشش کرنے کا۔»

ان آیات کے بین السطور انسان کا بچپن ، اس کی جوانی اور پھر بڑھاپا، تینوں ادوار کو بیان کر دیا گیا ہے۔اب ان تمام مراحل میں انسان کی «میں» جلوہ افروز ہے۔ بچپن اگرچہ معصومیت کا زمانہ ہوتا ہے مگر اس میں بھی بچوں میں اپنی چیزوں اور اپنے کھلونوں پر ایک قسم کی حاکمیت ظاہر ہوتی ہے۔بچوں میں معصومیت کی فطرت اپنے آپ کو ظاہر کرتی رہتی ہے۔پھر اگلا مرحلہ جوانی کا ہوتا ہے۔اس میں بننے سنورنے، کسی کو چاہنے اور چاہے جانے کے جذبات دل میں ہلچل برپا کیے رہتے ہیں اور ایک ہیجانی کیفیت طاری رہتی ہے۔یہاں بھی «میں» کی خود سری اور سر کشی نمایاں ہوتی ہے۔اپنا سراپا اور خود نمائی کا جنون دل و دماغ کو کسی اور ہی دنیا میں پہنچا دیتا ہے۔»میں» کی خلش کسی پل چین نہیں لینے دیتی۔

اسی دیوانگی اور خود ستائی میں انسان کی جوانی مٹھی میں دبی ریت کی طرح پھسلتی چلی جاتی ہے اور سر پر چاندی کے تار اتر آتے ہیں ۔اعضائے رئیسہ مضمحل ہونے لگتے ہیں۔لیکن مال و دولت کی ہوس، ھل من مزید کی خواہش دل کو جوان رکھتی ہے اور بڑھاپے کو ذہنی طور پر قبول ہی نہیں کرنے دیتی۔بقول غالب:

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے

رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

در اصل اس «میں» میں کچھ ایسی کشش ہے کہ وہ انسان کو خود کو پہچاننے ، جاننے اور سمجھنے کا فہم و داراک ہی نہیں ہونے دیتی۔ایک عجیب سی سرور و بےخودی اس پر سوار رہتی ہے۔اور سیدھی سی بات ہے کہ جس نے خود کونہ پہچانا وہ اپنے رب کو بھلا کیونکر پہچانے گا، کیونکہ خود شناسی میں ہی خدا شناسی ہے۔اس «میں» کی بدترین صورت وہ ہے جسےعرف عام میں سیاست کہتے ہیں۔ سیاست دانوں کا اپنا ہی ایک فلسفہ ہے ، ان کی «میں» تو وہ طوفان لاتی ہے کہ انسانوں کے لیے سکھ کا سانس لینا ہی دوبھر ہوجاتا ہے۔یہ اپنی «میں» کے سبب اپنے سامنے کی ہر رکاوٹ کو ایک ٹھوکر سے زیادہ نہیں سمجھتے۔ کرسی کی طاقت ان کی «میں» کو اور مہمیز دیتی ہے۔اپنے مخالفین پر غلبہ ان کا فرضِ منصبی بن جاتا ہے۔ فرعونیت ان کے لہجے، ان کے اطوار اور ان کے طرزِ عمل سے آشکار ہوتی ہے۔ملک کے وسائل کا بے دردی سے استعمال ، اپنے مفادات کا حصول اور شہانہ زندگی انہیں اپنا پشتینی حق لگتی ہے۔جو لوگ ان کو اپنی کوششوں اور جدوجہد سے مسند ِ اقتدار تک پہنچاتے ہیں ، وہی ان کو اپنا دشمن لگنے لگتے ہیں ۔کیونکہ اقتدار کی کرسی تمام انسانی جذبوں کو مٹا دیتی ہے۔اور ان کے ہر فیصلے میں ان کی «میں» حاوی رہتی ہے۔

اسلام کے اخلاقی نظام کی ابتدا انسان کی انفرادی زندگی سے ہوتی ہے۔ معاشرہ کے ایک فرد کے بطور ایک انسان کی اخلاقی ذمہ داری کیا ہے، اسے اسلام نے اپنی جامع اخلاقی تعلیمات میں سمیٹ دیا ہے۔ جھوٹ وبہتان طرازی، کبر و نخوت، ظلم و ستم، بدسلوکی و بے رحمی، فریب و دھوکہ دہی، شراب نوشی و جوا بازی ، زناکاری و بے حیائی، جنگ و جدال وغیرہ امور کو برا ئی قرار دیا گیا؛ جب کہ اس کے برعکس عمدہ اخلاق کی ہمت افزائی کی گئی۔ انفرادی دائرہ کے بعد گھریلو سطح پر والدین کے ساتھ حسنِ سلوک و خدمت گزاری کی تعلیم دی گئی۔ بھائی بہنوں اور رشتہ داروں کے ساتھ احسان و صلہ رحمی ، بیوی بچوں کے ساتھ محبت وشفقت کی تعلیم دی گئی۔ پھر گھریلو سطح سے اٹھ کر معاشرتی سطح پر پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ اور لوگوں کے ساتھ انسانی سلوک اور احترام کا درس دیا گیا۔ تمام مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی و خیر خواہی اور تمام انسانوں کے ساتھ ہر حال میں عدل و انصاف، رواداری اور مساوات کا برتاؤ۔ اسلام کے نظامِ اخلاق کا حاصل یہ ہے کہ انسانی زندگی کے ہر پہلو اور ہر مرحلہ میں اعلیٰ کردار کو اپنایا جائے۔اسلام نے باہمی معاملات کو مطلب پرستی اور خود غرضی نہیں بلکہ ہمدردی و خیر خواہی کے جذبہ سے انجام دینے کی تعلیم دی۔ اسلام کی اخلاقی تعلیمات کی روح ہمدردی و خیر خواہی، عدل و انصاف اور مساوات و احترامِ نفس ہے۔ اسلام کی خصوصیت یہ ہے اس نے یہ اعلیٰ اخلاقی اصول وضع کیے اور معاشرے میں اسے صد فی صد لاگو کرکے دکھا بھی دیا۔اس سلسلے میں اسلام کی آواز اتنی موٴثر تھی کہ محض قرآن کے اس اعلان سے کہ شراب گندگی اور شیطانی عمل ہے (سورة المائدة ، ۹۰) مدینہ میں گلیوں میں شراب بہنے لگی؛ حالاں کہ نشہ چھڑانا اور وہ بھی شراب کا !کتنا مشکل ہے۔ آج ساری دنیا اس بارے میں پریشان ہے کہ قوم سے نشے کی لت کیسے ختم کی جائے، مگر اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ قرآن نے اسے مسلمانوں کی زندگی میں جڑ سے ختم کردیا۔

نبی اکرم ﷺ نے تاریخ انسانی کے سب سے اعلیٰ اخلاقی معیار قائم کیے ۔ آپ ﷺ کی صدق گوئی اور سچائی کا یہ عالم تھا کہ کفار مکہ کے سردار ابو سفیان کو ہرقل کے دربار میں اس کے اس سوال پر کہ کیا تم نے کبھی محمد سے کچھ جھوٹ سنا ہے، یہ گواہی دینی پڑی کہ نہیں۔ (صحیح بخاری، باب بدء الوحی) آپ ﷺ کی امانت و دیانت کا یہ حال کہ پورا مکہ آپ کا دشمن ، آپ کی دعوت سے ان کو انکار؛ لیکن امانتوں کے لیے اگر کوئی محفوظ جگہ تھی تو اسی نبی ہاشمی ﷺ کا مکان۔ آپ ﷺ کے صبر و تحمل کی انتہا یہ تھی کہ طائف کی خوں چکاں شام اور آپ کا لہو لہان جسم، ایسا دن جس کے بارے میں آپ نے سيده عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ وہ میری زندگی کا سخت ترین دن تھا، اس دن جب پہاڑوں کا فرشتہ اللہ کے حکم سے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکر عرض کرتا ہے کہ اگر آپ اجازت دیں تو طائف کے دونوں پہاڑوں کو ٹکرادوں اور یہ گستاخ قوم پس جائے، اس وقت رحمة للعالمین کا جواب تھا کہ نہیں، میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ ان کی نسل میں ایسے لوگ پیدا فرمائیں گے جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔(صحیح البخاری، باب ذكر الملائكة)

اسی طرح فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے جس عفو و درگذر اور تواضع و شفقت کا ثبوت دیا ، کیا اس کی نظیر کسی تاریخ میں ملناممکن ہے؟

غرض آپ ﷺ کی پوری زندگی اعلیٰ ترین اخلاق و اوصاف کا ایسا نمونہ ہے کہ اس سے بہتر نمونہ پیش نہیں کیا جاسکتا اور ایسا جامع اخلاقی دستور العمل کہ اس سے بہتر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ نبی اکرم ﷺ کے عمدہ اخلاق کا فیضان تھا کہ آپ کی دعوت نہایت تیزی کے ساتھ عربوں میں پھیلتی چلی گئی۔ آپ اپنے بلند انسانی کردار سے دشمن کے دل کو فتح کر لیتے اور اس کی روح کو اسیر کرلیتے۔ صحیح مسلم کی روایت ہے کہ ایک مہم کے دوران صحابہ نے یمامہ کے سردار ثُمامہ ابن آثال کو زندہ پکڑ لیا اور خدمتِ اقدس میں پیش کیا۔ آپ نے ان کا حال پوچھا تو انھوں نے کہا: اگر آپ چاہیں تو قتل کردیں، اگر آپ معاف کردیں تو آپ کا احسان مند ہوں گا اور اگر مال کی خواہش ہے تو وہ بھی پیش کردوں گا۔ آپ ﷺ نے ان کو بالآخر رہا کردیا؛ جب کہ دشمنوں کے سردار کو رہا کرنے کا تصور بڑا ہی عجیب تھا؛ مگر ہوتا کیا ہے کہ وہی شخص جس کو آپ قید سے نکال رہے ہیں، وہ بخوشی آپ کی غلامی میں آرہا ہےچنانچہ ثمامہ ایک قریبی باغ میں جاکر غسل کرنے کے بعد دوبارہ واپس آتے ہیں اور اپنے اسلام کا اعلان کرتے ہیں۔(مسلم ، حدیث ۳۳۱۰)

آپ ﷺ کی پوری زندگی ایسے بے شمار واقعات سے بھری ہوئی ہے۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھےکہ

إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ أَخْلاَقًا

« تم میں سب سے بہتر آدمی وہ ہے جس کا اخلاق سب سے بہتر ہو۔»(بخاری و مسلم)

سیدنا ابو الدردا ءرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ المُؤْمِنِ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ، وَإِنَّ اللهَ لَيُبْغِضُ الفَاحِشَ البَذِيءَ (سنن الترمذی:2002)

’’ قیامت کے دن مومن کے ترازو میں حسنِ خُلق سے زیادہ وزنی اور کوئی چیز نہیں ہوگی اور وہ فحش گو اور بے ہودہ گو سے نفرت کرتا ہے۔‘‘

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الجَنَّةَ، فَقَالَ: «تَقْوَى اللهِ وَحُسْنُ الخُلُقِ» (سنن الترمذي:2004)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سےسوال کیا گیا، وہ کون سی چیز ہے جو سب سے زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرے گی؟ آپﷺ نے فرمایا: «اللہ کا تقویٰ اور حُسن خُلق۔»

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت کے دن تم میں سے وہی شخص مجھے سب سے زیادہ محبوب اور مجھ سے سب سے زیادہ قریب ہوگا جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں گے اور مجھے سب سے زیادہ مبغوض اور مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو بہ تکلف بکواس کرنے والے ، اپنی چرب زبانی سے دوسروں پرچھا جانے والے اور نکبت و تبختر کے ساتھ گفتگو کرنے والے ہوں گے۔»(سنن ترمذی)

انسان جسم اور روح سے مرکب ہے ،جسم کا ادراک بَصر سے ہوتا ہے اور روح کا بصیرت سے، اور ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک مخصوص ہیئت اور صورت ہے خواہ وہ قبیح ہو یا جمیل۔اسی طرح خلقِ نفس ایک ایسی ہیئت راسخہ کو کہتے ہیں جس سے افعال بہ سہولت ، بلا تکلف صادر ہوتے ہیں تو اس ہیئت کا نام خُلقِ حسن ہے اور برے اور قابلِ مذمت افعال صادر ہوتے ہیں تو اسے خُلقِ قبیح کہتے ہیں۔ہیئتِ راسخہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص سے کوئی اچھا یا برا فعل اتفاقاً کسی خاص سبب سے صادر ہوگیا ہو تو اس کو اس شخص کا اخلاق نہیں کہیں گے، مثلاً اگر کوئی شخص کسی عارضی ضرورت سے اپنا مال خرچ کردے تو یہ نہیں کہا جائے گاکہ وہ سخی ہے اور اس کا خُلق سخاوت ہے یا کوئی شخص کبھی اتفاق سے جھوٹ بول دے تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ جھوٹ اس کا اخلاق بن گیا ہے۔اگر یہ ہیئتِ راسخہ تمام صفاتِ حسنہ کی جامع ہے تو ایسا شخص مطلقاً صاحبِ خُلق حسن ہوگا، ورنہ جزوی طور پر جو صفت بھی اس کا اخلاق بن گئی ہوگی وہ اسی کی طرف منسوب ہوگا۔قرآنِ حکیم میں اور احادیث میں حسنِ خُلق کی جو تعریفیں اور فضیلتیں آئی ہیں وہ اسی شخص کے لیے ہیں جو تمام صفاتِ مذمومہ سے پاک اور تمام ٖصفاتِ محمودہ سے آراستہ ہو اور یہ مقام کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔

تکبر اور بڑا پن صرف عہدہ، مال، پر آسائش زندگی، حسن اور شہرت کا ہی نہیں ہوتابلکہ یہ سادگی پہ، اپنے ہنر و فن پہ ،علم و عمل پہ غرض کہ عبادت تک پہ ہوتا ہے ، یہی فخر اور غرورو تکبر خود پسندی سے ہوتا ہوا خود پرستی تک لے جاتا ہے ۔ تکبر کے حوالے سے رسول کریمﷺ کا راشاد ہے:

سيدنا ابو ہریرہ رضي الله عنه کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:

الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي، وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي، فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا، قَذَفْتُهُ فِي النَّارِ

«بڑائی( کبریائی) میری چادر ہے اور عظمت میرا تہ بند ، تو جو کوئی ان دونوں چیزوں میں کسی کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔۔» ( سنن ابی داؤد:4090)

تحریر کے اس سلسلے کو اگر ابتدا سے جوڑا جائے تو اس کا حاصل یہ ہے کہ مذکورہ لفظ «میں» کی چاشنی اتنی لذیذ ہوتی ہے کہ زبان اسے چھوڑتی ہی نہیںاس کا ذائقہ تو اس وقت زائل ہوتا ہے جب انسان موت کا ذائقہ چکھتا ہے۔یہ ذائقہ ہر قسم کی چاشنی اور مٹھاس کو کڑواہٹ میں بدل دیتا ہے ۔اس موقع پر اس کی «میں» اس کا ساتھ چھوڑ کر جارہی ہوتی ہے اور وہ اپنی کھلی آنکھوں سے اسے حسرت سے جاتا ہوا دیکھتا رہتا ہے اور پھر سانس کی ڈور ٹوٹتے ہی اس کی آنکھیں بند کردی جاتی ہیں۔ یہ ہے ہر انسان کا انجام جس کو وہ اپنی «میں» ، اپنی نادانی اور غفلت میں ڈوبی زندگی کے حصار میں قید ہو کر موت کی حاضری تک فراموش کردیتا ہے۔

حوالہ جات:

1۔اسلام کا اخلاقی انقلاب۔۔۔مولانا محمد االلہ خلیلی قاسمی

2۔اخلاق اور فلسفہ اخلاق۔۔۔مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی

3۔احیاء العلوم۔۔۔امام غزالی

4۔ ریاض الصالحین ۔۔۔امام نووی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے