ارکان حج

1- احرام  

2-وقوف عرفہ(میدانِ عرفات میں قیام کرنا)

3-طواف زیارت

4-سعی

واجبات حج

1-میقات سے احرام باندھنا

2-مغرب تک عرفات میں وقوف کرنا

3-سورج طلوع ہونے سے تھوڑا پہلے تک رات مزدلفہ میں گزارنا

4-ایام تشریق کی راتیں منیٰ میں گزارنا

5-جمرات کو کنکریاں مارنا 

6-جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد حجامت بنوانا

7-طواف وداع کرنا۔

وضاحت  :

حج کا کوئی رکن ادا نہ کرنے سے حج نہیں ہوتا۔

حج کے واجبات میں سے کوئی واجب ادا نہ کرنے پر ایک قربانی لازم آتی ہے۔

حج کی سنتوں میں سے کوئی سنت ادا نہ کرنے پر کوئی فدیہ یا گناہ نہیں۔

حج کی شرائط

مردوں کے لئے

مسلمان ہونا

مالدار ہونا

آزاد ہونا

عاقل ہونا

بالغ ہونا

صحتمند ہونا

راستہ کا پر امن ہونا

حکومت کی طرف سے رکاوٹ نہ ہونا۔

عورتوں کے لئے

مذکورہ بالا آٹھ(8) شرائط کے علاوہ مزید دو شرطیں یہ ہیں۔1محرم کا ساتھ ہونا 2حالت عدت میں نہ ہونا۔

میقات

میقاتِ مکانی

1-آفاقی : یعنی میقات سے باہر مقیم لوگوں کے لئےحج اور عمرہ دونوں کے لئے میقات درج ذیل ہیں۔

ذی الحلیفۃ: برائے اہل مدینہ

  یلملم: برائے اہل یمن‘ ہندوستان و پاکستان وغیرہ

  جحفہ : برائے اہل مصر و شام

قرن المنازل یا سیل کبیر : برائے نجدوطائف

  ذات عرق: برائے اہل عراق۔

2-اہل حل: یعنی حدود حرم سے باہر اور میقات کے اندر رہنے والے لوگوں کے لئے‘ عمرہ اور حج دونوں کے لئے اپنی رہائش گاہ میقات ہے۔

3-اہل حرم:یعنی حدود حرم کے اندر مقیم لوگوں کے لئے عمرہ کے لئے حدود حرم سے باہر کوئی جگہ تنعیم یا جعرانہ اور حج کے لئے اپنی رہائش گاہ میقات ہے۔

میقات زمانی

عمرہ کے لئے سارا سال ۔

حج کے لئے شوال، ذی القعدہ اور ذی الحجہ۔ تین ماہ۔

احرام: (عمرہ یا حج ادا کرنے کا لباس)

اقسام احرام

 1-احرام عمرہ(صرف عمرہ کااحرام باندھنا)

2- احرام حج افراد(صرف حج کا احرام باندھنا)

3-احرام حج قران (عمرہ اور حج دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھنا)

4-احرام حج تمتع (پہلے عمرہ کا احرام باندھنا‘ پھر ایام حج میں مکہ سے ہی حج کا احرام باندھنا)

مسنون امور

1- غسل کرنا

2-مردوں کا احرام پہننے سے پہلے جسم پر خوشبو لگانا

3- دو بغیر سلی چادریں پہننا اور ٹخنوں سے نیچے تک جوتے پہننا

 4-عمرہ یا حج یا دونوں کی نیت کے الفاظ ادا کرنا

5- تلبیہ پکارنا

6-ممکن ہو تو نماز ظہر کے بعد احرام باندھنا۔

مباحات احرام

1-غسل کرنا 

2-سر اور بدن کھجلانا

3-مرہم پٹی کروانا‘ ادویات کھانا پینا

4-آنکھوں میں سرمہ یا دوا ڈالنا

5- موذی جانور کو مارنا

6-احرام کی چادریں بدلنا

7-انگوٹھی‘ گھڑی‘ عینک‘ پیٹی یا چھتری وغیرہ استعمال کرنا

8-بغیر خوشبو والا تیل یا صابن استعمال کرنا

9-سمندری شکار کرنا

10-بچوں یا ملازموں کو تعلیم و تربیت کے لئے مارنا۔

ممنوعات احرام مردوں اور عورتوں‘ دونوں کے لئے

جماع و متعلقات جماع لڑائی جھگڑا تمام گناہ اور نافرمانی کے کام خوشبو لگانا نکاح کرنا، کرانا یا پیغام بھجوانا  بال یا ناخن کاٹنا۔ خشکی کا شکار کرنا یاشکاری کی مدد کرنا،  شکار کیا ہوا جانور ذبح کرنا ۔

ممنوعات احرام، صرف مردوں کے لئے

مذکورہ بالا سات ممنوعات کے علاوہ درج ذیل تین امور صرف مردوں کے لئے ممنوع ہیں۔

سلا ہوا کپڑا پہننا سر پر ٹوپی یا پگڑی پہننا موزے یا جرابیں پہننا۔

ممنوعات احرام، صرف عورتوں کے لئے

مذکورہ بالا سات ممنوعات کے علاوہ درج ذیل دو امور صرف خواتین کے لئے منع ہیں۔

نقاب استعمال کرنا

دستانے پہننا۔
(تفہیم : غیر محارم سے اختلاط کی صورت میں نقاب کی اجازت ہے۔)

طواف:(بیت اللہ شریف کے گرد سات چکر لگانا)

اقسام طواف

طواف قدومطواف عمرہ طواف زیارت mطواف وداع نفلی طواف

حج میں واجب طواف کی تعداد

حج افراد میں دو عدد (طواف زیارت+طواف وداع)

 حج قران میں تین عدد

(طواف عمرہ +طواف زیارت+طواف وداع)

حج تمتع میں تین عدد

(طواف عمرہ +طواف زیارت+طواف وداع)

(تفہیم:طواف وداع ان حاجیوں کے لیے ہےجنہوں نے مکہ سے باہر جانا ہے)

احکام طواف

حالت احرام میں ہونا۔

باوضو ہونا۔

حالت اضطباع میں ہونا۔ (صرف طواف عمرہ کے لئے)

مردوں کا پہلے تین چکروں میں رمل کرنا ۔(صرف طواف عمرہ کے لئے)

 حجر اسود سے حجر اسود تک سات چکر لگانا۔

 حجر اسود کو بوسہ دینا یا ہاتھ سے چھو کر ہاتھ کو بوسہ دینا یا ہاتھ سے اشارہ کرنا اور ہاتھ کو بوسہ نہ دینا۔

حجر اسود کے استلام کے وقت’’بِسْمِ اللہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘‘ کہنا۔

 رکن یمانی کو چھونا اور ہاتھ کو بوسہ نہ دینا اگر چھونا ممکن نہ ہو تو اشارہ کئے بغیر گزر جانا۔

 سات چکر پورے کرنے کے بعد مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز ادا کرنا۔

  دو رکعت ادا کرنے کے بعد آب زمزم پینا اور کچھ سر پرڈالنا۔

 صفا اور مروہ پر سعی کے لئے جانے سے قبل حجر اسود کا استلام کرنا۔

مباحات طواف

بوقت ضرورت بات کرنا بوقت ضرورت سلسلہ طواف منقطع کرنا سواری پر طواف کرنا۔

سعی:(صفا و مروہ کے درمیان سات چکر لگانا)

حج میں سعی کی تعداد

حج افراد میں ایک عدد bحج قران میں دو عدد

حج تمتع میں دو عدد

احکام سعی

 صفا سے سعی کی ابتداء کرنا

صفا پہاڑی پر چڑھ کر قبلہ رخ کھڑے ہو کر دعائیں مانگنا

 مردوں کا سبز ستونوں کے درمیان تیز تیز چلنا(بیماروں اور بوڑھوں کے علاوہ)

 مروہ پہاڑی پر چڑھ کر قبلہ رخ کھڑے ہو کر دعائیں مانگنا

 صفا سے شروع کر کے مروہ پر سات چکر مکمل کرنا۔

مباحات سعی

 بلا وضو سعی کرنا۔z دوران سعی گفتگو کرنا۔

 بوقت ضرورت سعی کا سلسلہ منقطع کرنا

 سواری پر سعی کرنا۔

ایام الحج

8تا13 ذی الحجہ

8 ذی الحجہ……یوم الترویہ

1- سورج طلوع ہونے کے بعد اور نماز ظہر سے پہلے منیٰ پہنچنا ۔

2-منیٰ میں پانچ نمازیں (ظہر‘ عصر‘ مغرب‘ عشاء اور فجر) ادا کرنا۔

3-منیٰ میں تمام نمازیں قصر ادا کرنا۔

4- بکثرت اوربلند آواز سے تلبیہ کہنا۔

9 ذی الحجہ……یوم عرفہ

1-طلوع آفتاب کے بعد منیٰ سےمیدان عرفات روانہ ہونا۔

2- زوال آفتاب کے بعداگر ممکن ہوتو مسجد نمرہ میں خطبۂ حج سننا‘ ظہر اور عصر کی نماز باجماعت جمعاً وقصراًاداکر نا اگر مسجد نمرہ تک جانا ممکن نہ ہوتو میدان عرفات میں جہاں بھی جگہ ملے دونوں نمازیں جمع اور قصر کرکے ادا کرنا-

3- نمازوں کے بعد جبل رحمت کے قریب یا جہاں جگہ ملے‘ قبلہ رخ وقوف کرنا ۔

4- غروب آفتاب کے بعد مزدلفہ روانہ ہونا۔

5- دوران سفر بلند آواز سے تلبیہ پڑھنا۔

9 ذی الحجہ……مزدلفہ کی رات

1-نماز مغرب اور عشاء مزدلفہ میں باجماعت جمعاً وقصراً ادا کرنا ۔

2- رات سو کر گزارنا۔

3- نماز فجر مزدلفہ میں ادا کرنا۔معذور لوگ یا عورتیں نماز فجرسے پہلے یا فوراً بعد مزدلفہ سے منی کی طرف روانہ ہوسکتے ہیں-

4-نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب سے تھوڑا پہلے تک مشعر الحرام کے قریب یا جہاں جگہ ملے‘ قبلہ رخ وقوف کرنا ۔

5-طلوع آفتاب سے تھوڑا پہلے منیٰ روانہ ہونا۔

6- جمرات کو مارنے کے لیے کنکریاں مزدلفہ سے اکٹھی کی جاسکتی ہیں۔

7-دوران سفر تلبیہ کہنا۔

10 ذی الحجہ…یوم نحر

1-طلوع آفتاب کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنا(یعنی سات کنکریاں مارنا۔

2- رمی سے قبل تلبیہ کہنا بند کر دینا۔

3-قربانی کرنا۔

4-حلق یا تقصیر کرنا۔

5-مکہ جا کر طواف زیارت ادا کرنا۔

6- سعی ادا کرنا

7- مکہ مکرمہ سے منیٰ واپس آنا۔

11تا13 ذی الحجہ…  ایام تشریق

1-تمام راتیں منیٰ میں گزارنا۔

2-جمرہ اولیٰ‘ جمرہ وسطیٰ اور جمرہ عقبہ کی زوال آفتاب کے بعد رمی کرنا ۔یعنی سات ‘سات کنکریاں مارنا۔

3-بکثرت تکبیر و تہلیل‘ تقدیس و تحمید اور اذکارو وظائف کرنا۔

4- 12ذی الحجہ کو واپس آنا ہو تو غروب آفتاب سے قبل منیٰ سے نکلنا۔

5-مکہ واپس آکر اپنے شہر یا ملک رخصت ہونے سے قبل طواف وداع کرنا۔

عمرہ کا مسنون طریقہ

 میقات پر پہنچ کر احرام باندھنا

 احرام سے قبل غسل کرنا اور جسم پر خوشبو لگانا۔

احرام باندھنے سے قبل ’’لَبَّیْکَ عُمْرَۃً ‘‘ کے الفاظ سے عمرہ کی نیت کرنا

احرام باندھنے کے بعد بلند آواز سے تلبیہ پکارنا۔

 بیت اللہ شریف کا طواف شروع کرنے سے پہلے تلبیہ کہنا بند کر دینا۔

 طواف شروع کرنے سے پہلے کندھوں والی چادر کا ایک حصہ دائیں کندھے کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال لینا (یعنی حالت اضطباع اختیار کرنا)

 حجر اسود کے استلام (چھونے)سے طواف کا آغاز کرنااگر ممکن ہو۔

ˆ حجر اسود کے استلام کے لئے حجر اسود کو بوسہ دینا اور اگر ممکن ہو تو اس پر پیشانی بھی رکھنا یا ہاتھ سے چھو کر بوسہ دینا یا ہاتھ سے اشارہ کر کے ہاتھ کو بوسہ نہ دینا اور اشارہ کرتے وقت رفع یدین کی طرح دونوں ہاتھ بلند نہ کرنا۔

 استلام کے وقت’’ بِسْمِ اللہِ  اَللہُ اَکْبَرُ کہنا۔

طواف کے ہر چکر میں حجر اسود کا استلام کرنا۔

طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل (تیز چال چلنا) کرنا اور باقی چار چکروں میں عام چال چلنا۔

رکن یمانی کو چھو کر بوسہ نہ دینا اگر چھونا ممکن نہ ہو تو پھر اشارہ کئے بغیر گزر جانا۔

رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان

رَبَّنَا اٰتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِیْ الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ

پڑھنا اور باقی طواف میں جو بھی قرآنی یا نبوی دعائیں یاد ہوں وہ پڑھنا۔

ایک طواف کے لئے سات چکر پورے کرنا۔

سات چکر پورے کرنے کے بعد

وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاہِیْمَ مُصَلًّی

 پڑھتے ہوئے مقام ابراہیم کی طرف آنا اور وہاں (یا جہاں بھی جگہ ملے) دو رکعت نماز ادا کرنا، پہلی رکعت میں قُلْ یٰٓا اَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ اور دوسری میں قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ پڑھنا۔

 نماز کے بعد آب زمزم پینا اور کچھ سر پر ڈالنا۔

 زمزم پینے کے بعد سعی کے لئے صفا پہاڑی کی طرف جانا۔

 صفا پہاڑی پر چڑھتے ہوئے :

اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللہ ِفَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَاِنَّ اللہَ شِاکِرٌ عَلِیْمٌ

 پڑھنا اور پھر یہ الفاظ کہنا: 

اَبْدَئُ بِمَا بَدَئَ اللہُ بِہ

( صفا پہاڑی کے اوپر چڑھ کر قبلہ رخ کھڑے ہونا اور تین مرتبہ یہ کلمات کہنا :

اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہٗ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَحْدَہٗ اَنْجَزَ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ

اور درمیان میں دعائیں مانگنا۔

صفا سے سعی کا آغاز کر کے مروہ پہاڑی پر جانا قبلہ رخ ہوکر ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنا۔

سبز ستونوں کے درمیان (مردوں کا) تیز تیز چلنا۔

دوران سعی جو بھی قرآنی یا نبوی دعائیں یاد ہوں وہ پڑھنا۔

صفا سے مروہ تک ایک چکر شمار کر کے سات چکر پورے کرنا۔

سعی کے بعد مردوں کا سارے سر سے بال کٹوانا یا سر منڈوانا اور خواتین کا صرف ایک یا دو پور بال کاٹنا۔ـــــــــــــــــ

احرام کی چادریں اتار کر عام لباس پہننا۔

حج تمتع کا مسنون طریقہ

 میقات سے عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ مکرمہ آنا اور عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام اتار دینا۔

  8ذی الحجہ (یوم الترویہ) کو مکہ مکرمہ میں اپنی قیام گاہ سے حج کے لئے احرام باندھنا۔

احرام باندھنے سے قبل لَبَّیْکَ حَجًّا کہہ کر حج کی نیت کرنا۔

 احرام باندھنے سے قبل غسل کرنا اور جسم پر خوشبو لگانا۔

بیمار آدمی کا احرام باندھتے وقت:

اَللّٰھُمَّ مَحَلِّی حَیْثُ حَبَسْتَنِیْ

(اے اللہ! میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو نے مجھے روک لیا) کہنا۔

احرام باندھنے کے بعد بلند آواز سے تلبیہ کہنا اور ایک بار یہ الفاظ ادا کرنا ۔

اَللّٰھُمَّ ھٰذِہٖ حَجَۃٌ لاَ رِیَائَ فِیْھَا وَلاَ سُمْعَۃَ

(یا اللہ! میرے اس حج سے نہ دکھاوا مقصود ہے نہ شہرت مطلوب ہے۔)

8 ذی الحجہ کو احرام باندھنے کے بعد ظہر سے قبل تلبیہ کہتے ہوئے منیٰ پہنچنا اور وہاں ظہر‘ عصر‘ مغرب‘ عشاء اور فجر کی (پانچ) نمازیں قصر کر کے اپنے اپنے وقت پر باجماعت ادا کرنا۔

  9ذی الحجہ (یوم عرفہ) کو طلوع آفتاب کے بعد تکبیرو تہلیل اور تلبیہ کہتے ہوئے منیٰ سے عرفات روانہ ہونا۔

    عرفات کے دن روزہ نہ رکھنا۔

  عرفات میں داخل ہونے سے قبل وادی نمرہ میں قیام کرنا ظہر کے وقت عرفات میں امام حج کا خطبہ سننا، اس کے بعد ظہر اور عصر کی دونوں نمازیں ایک اذان‘ دو اقامت کے ساتھ با جماعت قصر کر کے ادا کرنا۔

وضاحت : ہجوم کے باعث اگر وادی نمرہ میں جگہ نہ ملے اور حاجی سیدھا عرفات چلا جائے تو کوئی حرج نہیں۔

  ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کرنے کے بعد عرفات میں داخل ہونا اور جبل رحمت کے دامن میں (یا جہاں کہیں بھی جگہ میسر آئے) وقوف کرنا‘ قبلہ رخ کھڑے ہو کر ہاتھ بلند کر کے قرآنی و نبوی دعائیں مانگنا اور درمیان میں تکبیر و تہلیل اور تلبیہ بھی کہنا۔

غروب آفتاب کے بعد‘ نماز مغرب ادا کئے بغیر سکون اور وقار کے ساتھ تلبیہ کہتے ہوئے مزدلفہ روانہ ہونا۔

 مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشا کی نمازیں‘ ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ قصر کر کے اکٹھی ادا کرنا۔

رات سو کر گزارنا اور10 ذی الحجہ کی نماز فجر معمول کے وقت سے تھوڑا پہلے ادا کرنا۔

نماز فجر باجماعت ادا کرنے کے بعد مشعر الحرام پہاڑی کے دامن میں (یا جہاں کہیں بھی جگہ ملے) قبلہ رخ کھڑے ہو کر ہاتھ بلند کرکے سورج طلوع ہونے سے قبل خوب روشنی پھیلنے تک تکبیر و تہلیل کہنا‘ توبہ استغفار کرنا اور دعائیں مانگنا۔

 طلوع آفتاب سے قبل سکون اور وقار کے ساتھ تلبیہ کہتے ہوئے منیٰ روانہ ہونا اور راستہ میں وادی محسر سے تیزی سے گزرنا۔

 منیٰ پہنچ کر طلوع آفتاب کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنا اور رمی سے قبل تلبیہ کہنا بند کر دینا۔

 جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد قربانی کرنا اور اس سے کچھ پکا کر کھانا۔

وضاحت : یاد رہےکہ حج افراد والوں پر قربانی کرنا واجب نہیں۔

 قربانی کے بعد حلق یا تقصیر کروانا اور احرام کی چادریں اتار کر عام لباس پہننا۔

 منیٰ سے مکہ مکرمہ جا کر طواف افاضہ(طواف زیارت) کرنا‘ زمزم پینا اور کچھ حصہ سر پر بہانا

صفا و مروہ کی سعی کرنا اور مکہ مکرمہ سے منیٰ واپس آنا۔

 ایام تشریق (11تا13) ذی الحجہ کی راتیں منیٰ میں گزارنا اور روزانہ زوال آفتاب کے بعد جمرہ اولیٰ‘ جمرہ وسطیٰ اور جمرہ عقبہ کی بالترتیب رمی کرنا۔

 جمرہ اولیٰ‘ جمرہ وسطیٰ کی رمی کے بعد قبلہ رخ کھڑے ہو کر دعائیں مانگنا لیکن جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد دعائیں مانگے بغیر واپس پلٹنا۔

 قیام منیٰ کے دوران ممکن ہو تو روزانہ طواف کرنا‘ مسجد خیف میں با جماعت نمازیں ادا کرنا‘ بکثرت تہلیل و تکبیر‘ حمدوثنا‘ توبہ استغفار اور دعائیں مانگنا۔

12 ذی الحجہ کو منیٰ سے واپس آنا ہو تو غروب آفتاب سے قبل منیٰ سے نکلنا۔

وضاحت  :  اگر سورج منیٰ میں ہی غروب ہو جائے تو پھر13 ذی الحجہ کو زوال کے بعد رمی کر کے منیٰ سے واپس آنا چاہئے۔

مکہ معظمہ پہنچ کر گھر رخصت ہونے سے قبل طواف وداع ادا کرنا۔

حج افراد کا مسنون طریقہ

میقات سے حج کی نیت سے احرام باندھنا۔

احرام باندھنے سے قبل غسل کرنا اور جسم پر خوشبو لگانا۔

لَبَّیْکَ حَجًّا

کہہ کر حج کی نیت کرنا

ممکن ہو تو نماز ظہر ادا کرنے کے بعد احرام باندھنا۔

احرام باندھنے کے بعد بلند آواز سے تلبیہ کہنا اور ایک بار یہ الفاظ ادا کرنا اَللّٰھُمَّ ھٰذِہٖ حَجَّۃٌ لاَ رِیَاءَ فِیْھَا وَلاَ سُمْعَۃَ (اے اللہ! میرے اس حج سے نہ دکھاوا مقصود ہے نہ شہرت مطلوب ہے)

اگر وقت ہو تو مکہ مکرمہ پہنچ کر طواف تحیہ کرنا اگر وقت نہ ہو تو سیدھے منیٰ چلے جانا۔

 حج افراد کرنے والے شخص (مفرد) کے ذمہ دو طواف واجب ہیں۔

1-طواف افاضہ(طواف زیارت)

2-طواف وداع۔

 حج افراد ادا کرنے والوں پر صرف ایک سعی واجب ہے جو قربانی کے دن طواف زیارت کے بعد ادا کی جائے گی۔

سہولت کے لئے حج سعی 8 ذی الحجہ کو منیٰ میں جانے سے قبل کرنا جائز ہے۔

حج قران کا مسنون طریقہ

 میقات سے عمرہ اور حج دونوں کی نیت سے احرام باندھنا۔

وضاحت  :  احرام باندھنے کی تفصیل حج افراد کے مسنون طریقہ کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔

مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ ادا کرنا لیکن عمرہ کی سعی کے بعد حجامت نہ بنوانا نہ ہی احرام کھولنا بلکہ حالت احرام میں ہی ایام حج کا انتظار کرنا۔

  8ذی الحجہ کو ظہر کی نماز سے قبل تلبیہ کہتے کہتے منیٰ پہنچنا اور وہاں ظہر‘ عصر‘ مغرب‘ عشاء اور 9 ذی الحجہ کو نماز فجر قصر کر کے اپنے اپنے وقت پر با جماعت ادا کرنا۔

وضاحت : اس کے بعد ایام حج کے تمام افعال وہی ہیں جو حج تمتع کے ہیں۔

 حج قران کرنے والوں پر قربانی ادا کرنا واجب ہے۔

جو شخص قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو اس کو دس دن کے روزے رکھنے چاہئیں۔

 حج قران کا احرام باندھنے کے لئے قربانی کا جانور ساتھ لے جانا مسنون ہے۔

حج قران ادا کرنے والے شخص (قارن) کے ذمہ تین طواف واجب ہیں ایک عمرہ کا‘ دوسرا حج کا اور تیسرا طواف وداع۔

حج قران ادا کرنے والوں پر دو سعی واجب ہیں۔ ایک سعی عمرہ کی اور دوسری حج کی۔

(ملاحظہ:مندرجہ بالا مضمون، فضیلۃ الشیخ محمد اقبال کیلانی، حفظہ اللہ کی کتاب مسائل حج و عمرہ سے ماخوذ ہے، جو کہ قرآن و صحیح احادیث کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔مزید مسائل و تفصیلات کے لئےمذکورہ بالا کتاب انتہائی مفید رہے گی۔ادارہ)

۔۔۔

By editor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے