مسیحی احباب بارہا یہ موقف پیش کرتے نظر آتے ہیں کہ قرآن مجید نے سابقہ آسمانی کتب میں تحریف کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ قرآن حکیم تو ان کتب کی تصدیق کرنے والا ہے، لہذا تحریف کا نظریہ اہل اسلام کا خود ساختہ ہے۔

اول یہ بات ذہن میں ہو کہ بائبل میں تحریف کا اقرار خود مسیحیوں نے اپنی تحریروں میں کیا ہے اور یہ ان تحریروں سے مسیحی احباب کی جان چھڑائے نہیں چھوٹتی ۔ اصل نفس مضمون کی بات کریں تو قرآن حکیم نےسابقہ آسمانی کتب میں تحریف کا جابجا ذکر فرمایا ہے اور یہ تحریف مختلف انداز میں وقوع پذیر ہوئی ہے ۔

1۔ مطلقاً تحریف:

 اللہ رب العالمین نے مطلقاً اس فعل مذموم کیا ذکر کیا ہے کہ اہل کتاب اپنی کتب میں تحریف کیا کرتے تھے۔

فرمان الہیٰ ہے کہ

وَقَدْ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ يَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ يُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ(البقره:75)

’’اور حال یہ ہے کہ ان میں سے ایک گروہ اللہ کے کلام کو سنتا رہا ہے اور اس کو سمجھ چکنے کے بعد اس کی تحریف کرتا رہا ہے اور وہ جانتے ہیں ۔‘‘

ایک اور مقام پر اللہ رب العالمین کا فرمان ہےکہ

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِيَةً يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚوَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآىِٕنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ (المائدة:13)

’’پھر ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر اپنی لعنت نازل فرما دی اور ان کے دل سخت کر دیئے کہ وہ کلام کو اسکی جگہ سے بدل ڈالتے ہیں اور جو کچھ نصیحت انہیں کی گئی تھی اس کا بہت بڑا حصہ بھلا بیٹھے۔

یہ دونوں آیات میں واضح طور پر اہل کتاب کی تحریفات کا ذکر ہے کہ انہوں نے کلام الہی کو سننے کے بعد اس میں رددو بدل کردیا ۔

2۔ کتمان علم

 اہل کتاب کی تحریف کا ایک انداز یہ بھی تھا کہ وہ علم رکھنے کے باوجود بھی باتوں کو چھپایا کرتے تھے جس کا ذکر اللہ رب العالمین نے قرآن حکیم میں اس انداز سے فرمایا ہے کہ

 قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَهُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِيْسَ تُبْدُوْنَهَا وَتُخْفُوْنَ كَثِيْرًا (الأنعام:91)

’’آپ فرمادیجیے کہ وہ کتاب کس نے نازل کی ہے جس کو موسیٰ لائے تھے جس کی کیفیت یہ ہے کہ وہ نور ہے اور لوگوں کے لئے وہ ہدایت ہے جس کو تم نے ان متفرق اوراق میں رکھ چھوڑا ہے جن کو ظاہر کرتے ہو اور بہت سی باتوں کو چھپاتے ہو ۔‘‘

دوسرے مقام پر اہل کتاب کا یہ مذموم فعل ان الفاظ سے مذکورہے کہ

اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ(البقرۃ:146)

’’جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ تو اسے ایسا پہچانتے ہیں جیسے کوئی اپنے بچوں کو پہچانے ، ان کی ایک جماعت حق کو پہچان کر پھر چھپاتی ہے ۔ ‘‘

3۔ اپنی تحریر کو کلام الہی بنانا

 اہل کتاب کا تحریف کا ایک انداز یہ بھی تھا کہ وہ کوئی بات اپنی طرف سے لکھتے پھر اس کے بارہ میں کہتے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ ان کے اس انداز تحریف کو قرآن حکیم نے ان الفاظوں سے ذکر کیا ہے کہ

وَاِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيْقًا يَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَمَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ١ۚ وَيَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ يَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ (آل عمران :78)

’’یقیناً ان میں ایسا گروہ بھی ہے جو کتاب پڑھتے ہوئے اپنی زبان مروڑتا ہے تاکہ تم اسے کتاب ہی کی عبارت خیال کرو حالانکہ دراصل وہ کتاب میں سے نہیں اور یہ کہتے بھی ہیں کہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے حالانکہ دراصل وہ اللہ کی طرف سے نہیں وہ تو دانستہ اللہ تعالی ٰپر جھوٹ بولتے ہیں ۔‘‘

اسی طرح ایک اور مقام پر ذکر ہے کہ

فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ يَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَيْدِيْهِمْ١ۗ ثُمَّ يَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِيَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا١ؕ فَوَيْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَيْدِيْهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا يَكْسِبُوْنَ (البقرۃ:79)

’’تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے بدلے میں وہ تھوڑی سی قیمت وصول کریں پس اُن کے لئے تباہی ہے اس چیز کی وجہ سے جواُن کے ہاتھوں نے لکھاہے اورہلاکت ہے اُن کے لیے اس کی وجہ سے جووہ کماتے ہیں۔‘‘

بائبل میں موجود عہد نامہ جدید جسے عالم مسیحیت انجیل مقدس کہتی ہے وہ انسانی خطوط سے بھرا ہوا ہے اور ان انسانی خطوط کو عالم مسیحیت کلام الہی کا درجہ دیتے ہیں۔ اسی طرح عالم مسیحیت میں ان کتب کی ایک طویل فہرست ہے جن کو کلیسیا ایک وقت تک کلام الہی مانتی رہی ۔ چند نام بطور نمونہ «کرنتھیوں کے نام روم کے کلیمنٹ کا پہلا خط» ، « برنباس کا خط»، « ہرمس کا چروایا» اور دِدخے (تعلیم الرسل) یہ وہ تصانیف ہیں جنہیں مستند تصانیف کا درجہ دیا تھا اور ان کو مستند کلیسیا کی جانب سے ہی مانا گیا تھا جن کو بعد ازاں خارج کردیا گیا تھا۔ (معتد بہ کلام مقدس ، ص : ۱۶۸)

عجب بات تو یہ ہے کہ ان کتب کے قبول و رد کا پیمانہ کیا تھا اس کی بابت مسیحیوں کا کہنا ہے کہ یہ سوچے سمجھے بغیر کیے جانے والے فیصلے کے نتیجے میں حاصل ہوئی۔ ( معتد بہ کلام مقدس ، ص: ۱۷۵)

قرآن مجید کے بیانیے کے مطابق متعدد انداز تحریف اہل کتاب میں واقع ہوئے ہیں۔قرآن مجید اس امر میں واضح ہے کہ اہل کتاب نے اپنی کتب میں تحریفات کی ہیں لہذا یہ کہنا کہ یہ اہل اسلام کا خود ساختہ بیانیہ ہے سراسر لا علمی ہے۔

یہاں ایک دوسرا سوال بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن حکیم تو سابقہ کتب کی تصدیق بھی فرماتا ہے تو کیا یہ تضاد بیانی نہیں؟

تو یہاں ہم یہ بات واضح طور پر سمجھ لیں کہ قرآن حکیم نے یقیناً سابقہ کتب کی تصدیق فرمائی ہے لیکن وہ کتب جو منز ل من اللہ تھی ۔ اس کے برعکس جو اضافے بعد میں شامل ہوئے اور اپنی تحریروں کو اللہ تعالیٰ کا کلام ٹھہرایا جانے لگا قرآن حکیم قطعاً ان کی تصدیق کرنے والا نہیں ہے۔ خود مسیحی بھی بائبل کی موجوہ فہرست و متون کے متعلق تشکیک کا شکار نظر آتے ہیں ۔ ( معتد بہ کلام مقدس ، ص : ۱۷۶)

 اب جن کتب پر خود مسیحی متفقہ نہ ہو اس کی تصدیق پر قرآن کا سہارا لینا تعجب خیز ہے۔

By editor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے