اس فانی دنیا کے آغاز سے ہی فساد بحر وبر کی ابتدا بھی ہوگئی تھی۔دنیا کے پہلے انسان آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل میں حسد کی بنا پر ایک بھائی کے ہاتھوں دوسرے بھائی کا خون بہا ۔اور اس دن سے آج تک اللہ کی اس زمین کو انسانوں کے خون سے رنگا جارہا ہے۔اور احوال و ظروف سے اندازہ ہوتا ہے کہ قتل و غارت کا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔ابلیس اپنے ہتھکنڈوں،اپنی مکاریوں اور فریب کاریوں سے انسانوں کو آگ و خون میں نہلاتا رہے گا۔کسی کو دولت و جائداد، کسی کو منصب و اقتدار کا فریب دے کر ، کسی کو حسن و جمال کی رعنائیوں میں مدہوش کر کے اور کسی کو اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کے گھمنڈ میں مبتلا کر کے انسانیت کے اصولوں کو پامال کرواتا رہے گا۔ خود پسندی، خود نمائی، ظلم و نا انصافی، خاندانی تفاخر ، بدگمانی کا زہر،نسلی امتیا ز ؛ انا کی تسکین ،بے حیائی، عریانیت اور نفسانی خواہشات سے مغلوب ہو کر انسان اخلاق و پاکیزگی کو ملیا میٹ کرتے رہیں گے۔اور یہ دنیا تباہی ، بربادی،جسمانی اور روحانی کجروی کا شکار رہے گی اور بے حسی ، مفاد پرستی ، اپنے خالق و مالک سے بے وفائی اور اس کی مخلوق سے بغض و عداوت کی یہ سفلانہ سوچ پروان چڑھتی رہے گی۔

بحرو بر میں فساد انسان کی بداعمالیوں کا ہی منطقی نتیجہ ہے۔ورنہ دنیا کی ہر شے اپنی فطرت کے اعتبارسے توازن و اعتدال پر قائم ہے۔اور یہ نعمت اللہ کی جانب سے ودیعت کی گئی ہے۔امام راغب اصفہانی «مفردات القرآن» میں لفظ ظَهَرَ کا مفہوم بیان فرماتے ہیں کہ «اضافہ ہواا ور پھیل گیا۔» اور لفظ «فساد» کی تشریح کرتے ہوئے امام صاحب لکھتے ہیں:

فساد خروج ہے حدّ اعتدال سے خواہ یہ خروج تھوڑا ہو یا زیادہ۔اور فساد مخا لف ہے الصلاح کا۔اس کا اطلاق ہر اس بات پر ہوتا ہے جس کا تعلق انسانی جان ،بدن اور خارجی اشیا سے ہے۔گویا ظَهَرَ الْفَسَادُ سے مراد مخلوق کا فطرت، سنت الٰہی اور حد اعتدال سے انحراف اور باہر نکل جانا ہے۔

زمین پر فساد کا ظہور مختلف حیثیتوں اور متعدد راستوں سے ہوتا ہے مثلاً:

1۔فضا، کرہ ارض، کرہ آب، جمادات و نباتات، حیوانات اور انسان کے فطری توازن میں بگاڑ پیدا ہوجانے سے۔

2۔ انسانی خُلق اور عادات میں غیر فطری تبدیلی ہوجانے یا ان کا غیر فطری استعما ل کرنے یا انھیں ضائع کرنے سے۔

3۔انسانی معاشرے اور معاشرت کےآداب و اطوار کو ربانی ہدایات سے بے نیاز کر نے یا اس کے بر خلاف استوار کرنے سے۔

4۔زمین پر ربانی ہدایات سے بے نیاز سیاسی ، معاشرتی، معاشی ، عمرانی اور روحانی نظام برپا کرنے سے وغیرہ۔

انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں جو فساد برپا ہوتا ہے اسے قرآن حکیم میں ان الفاظ میں واضح کیا گیا ہے:

وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَادْعُوْهُ خَوْفًا وَّطَمَعًا اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ (الاعراف: 56)

’’اور زمین میں اصلاح کے بعد فساد پید ا نہ کرو اور اللہ کو خوف اور امید سے پکارو یقیناً اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے۔‘‘

فساد فی لارض کی ہلاکتیں دو اعتبارات سےظاہر ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس روئے ارض پر نسل انسانی کی بقا کو ناقابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دو سرے اس سرزمین پر نسل انسانی فلاح اور اس کی کردار سازی سے محروم ہوجاتی ہے۔نسلِ انسانی کی بقا و سلامتی کے اعتبار سے دیکھیں تو اندیشہ ہے کہ اگر انسانوں کی انتشار و افتراق اور فساد کی یہ روش برقرار رہی اور اس کے آگے کوئی بند نہ باندھا گیا تو اس طوفانی ریلے میں سب کچھ خس و خاشاک کی مانند بہہ جائے گا۔نسلِ انسانی کی بقا ،تعمیر اور اس کی افزائش کے امکانات معدوم ہوجائیں گے۔کیونکہ جب طوفان آتا ہے تو دریا کے کنارے پر بیٹھے ریت کے گھروندے بناتے معصوم بچوں کو بھی بہا لے جاتاہے۔اس حوالے سے دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ اگرنسلِ انسانی کی فلاح کے پہلو سے غور کریں تو انسانوں کی موجودہ غیر فطری اور غیر مہذب طرزِ زندگی کے رخ کا ’’اِمالہ ‘‘ نہیں کیا گیا تو آئندہ آنے والے ماہ وسال میں روحانی ، طبعی، سیاسی،معاشی ،معاشرتی ، تہذیبی اور اخلاقی قدریں دنیا کے جابروں اور فرعونوں کی غلام بن کر رہ جائے گی۔کیونکہ لالچ، خود غرضی اور ھل من مزید اور انسان کی شحّ نفسی اس کی عزت نفس اور خودداری کو زمین بوس کر دیتی ہے۔

عالمی سطح پر بھی اس گمبھیر مسئلے کو بڑی سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔1977 میں امریکا کے سابقہ صدر جمی کارٹر کی ہدایت پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے 1980 میں یہ رپورٹ پیش کی۔اس رپورٹ میں روئے ارضی پر نسلِ انسانی کی بقا کے تعلق سے کہا گیا:

If present trends continue , the world in 2000 will be more crowded, more polluted , less stable ecologically and more vulnerable to disruption than the world we live in now

’’اگر حالیہ روش اسی طرح برقرار رہی تو 2000 میں دنیا پر ہجوم، زیادہ آلودہ، موحولیاتی اعتبار سے کم مستحکم اور با آسانی تباہ ہوجانے کے قابل ہوجائے گی اس دنیا کے مقابلے میں جس میں ہم بھی سانس لے رہے ہیں۔‘‘

اور یہ رپورٹ روئے ارض پر انسانی فلاح (Prosperity) کے تعلق سے کہتی ہے:

Though there would be greater material output including production of food , « The worlds people will be as poorer in many ways that it is today

’’اگرچہ (آئندہ صدی میں) زیادہ مادی پیداوار ہوگی بشمول غذائی پیداوار کے، دنیا کے لوگ مختلف حیثیتوںسے زیادہ غریب ہوں گے جتنا کہ وہ آج ہیں۔‘‘

حقیقت یہ ہے کہ سابق صدر امریکا کے بیان کے موافق آج یہ دنیا اپنی بقا اور فلاح دونوں کے اعتبار سے وہیں پہنچ چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ ہوا کیسے؟ اس سلسلے میں یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ دین سے دوری، توحید و رسالت سے انکار اور آخرت کے یقین میں شبہات پیدا کرنے کانتیجہ ہے۔جب ہدایت الٰہی کو چھوڑ کر انسانی عقل اس کی فکر و عمل پر غالب آجاتی ہے اور وہ اپنی خواہشِ نفس کا غلام ہوجاتا ہے تو وہ ہدایت کی راہیں خود اپنے لیے بند کر لیتاہے۔

میں اپنی راہ میں دیوار بن کے بیٹھا ہوں

اگر وہ آیا تو کس رستے سے آئے گا

اس سچائی کا اظہار مغرب کے حقیقت پسند دانشوروں نے بھی کیا ہے۔اصل میں جب نظریہ حیات کی صحیح تعبیر کھوجائے تو پھر اس کی تعبیر ایک نہیں رہتی بلکہ بہت سی تعبیرات کی صورت اختیار کرجاتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حق ایک ہے اور غیر حق کی بے شمار شکلیں ہیں۔جس طرح نور ہدایت ازل سے ایک ہی ہے جبکہ ظلمات کی کئی شکلیں اور روپ ہیں۔اسلام کے ساتھ اس وقت یہی ماجرا پیش آیا ہے کہ اس کی صحیح تعبیر کھو دینے کے بعد ہم اس کی گونا گوں تعبیرات کر رہے ہیں اور یہ کہنا مشکل ہوگیا ہے کہ اسلام کی صحیح تعبیر کون سی ہے اور کیوں ہے؟

باطل مذہب جب اسلام کی مخالفت کرتا تھا تو ہماری غیرت دینی جوش میں آتی تھی، ہمارا جائز غصہ بھڑکتا تھا اور ہمارے دل میں اس کی مخالفت اور اس کے مقابلے میں اسلام کی مدافعت او ر محافظت کا جذبہ ابھرتا تھا ۔لیکن جب باطل فلسفہ اسلام کی مخالفت کرتا ہے تو ہماری غیرت دین کا جوش کم ہوتا ہے، ہمارا جائز غصہ بھی ٹھنڈا پڑ جاتا ہے اور ہمارے دل میں اس کی جوابی مخالفت اور اس کے مقابلے میں اسلام کی مدافعت اور حمایت کا جذبہ کمزور ہوتا ہے۔ جب ہم اس کے فریب میں پھنستے ہیں تو بے علمی اور جہالت قبول کرتے ہیں لیکن اسے علم کا نام دیتے ہیں اور بے عقلی اور نادانی اختیار کرتے ہیں لیکن اسے ہم عقل اور زِیرکی سمجھتے ہیں۔ہم اپنے دشمن کو ہی دوست سمجھتے ہیں اور اس سے تعاون بھی کرتے ہیں ، حالانکہ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری بربادی کی جن کوششوں میں وہ مصروف ہے وہ ہمارے ہی ہاتھوں سے زیادہ موثراور زیادہ کامیاب ہوجاتی ہے۔اور اسی اندوہناک حادثے نے ہمیں چاروں خانے چت کردیا ہے۔

علامہ بیضاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «بحر بر میں فساد کا ظہور مثلاً خشک سالی، بحری اور آبی اشیا کی پیداوار میں کمی، برکتوں کا ختم ہوجانا اور نقصانات کی کثرت ، گمراہی اور ظلم کا بڑھ جانا…..یہ سب انسان کے اپنےہاتھوں کی کمائی ہے جو اس کے گناہوں اور بد اعمالیوں کے نتیجے میں ہوتا ہے۔»(أنوار التنزیل للبیضاوی، ج:3،ص:161) اور اسی ضمن میں علامہ زمخشری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«جیسے خشک سالی، قحط ، زراعتی پیداوار میں کمی، تجارتی منافعوں میں نقصانات، انسانوں اور مویشی کی اموات کا زیادہ واقع ہونا، آتش زنی اور غرقابی کی زیاد تی، خشکی اور تری کے شکار اور دوسری پیداوار میں کمی اور نقصانات کا اضافہ۔»(الکشاف ج 3 صفحہ 224)

یہ خرابیاں اور نقصانات اور ان کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں لازمی نتیجہ ہیں اللہ اور اس کےاحکام کی اطاعت سے روگردانی کا۔علامہ ابنِ کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«زراعتی پیداوار اور پھلوں میں کمی گناہوں کے سبب ہوتی ہے اس لیے کہ زمین اور آسمان کی صلاح اطاعتِ الٰہی پر موقوف ہے۔(مختصر ابنِ کثیر 57)

عقیدہ توحید ایک ایسی متوازن شخصیت تشکیل کرتا ہے جس کا قبلۂ زندگی ممتاز ہوتا ہے۔اس کا مقصد زندگی ایک ہوتا ہے اور اس کا طرزِ زندگی متعین ہوتا ہے۔اس کا ایک معبود ہوتا ہے جس کی طرف وہ خلوت وجلوت میں رجوع کرتا ہے۔وہ تنگی اور تکلیف میں اسی کو پکارتا ہے ،وہ چھوٹا بڑا عمل وہی انجام دیتا ہے جو اس معبود واحد کی رضا مندی کا باعث ہو۔عقیدتِ توحید سے دوری اور اپنے خود ساختہ معبودوں کی پرستش ہی اصل میں تمام برائیوں، خرابیوں اور فتنہ و فساد کی جڑ اور بنیاد ہے۔

اس کے علاوہ اس دنیا میں رہنے اس کو برتنے کے بھی کچھ اہم تقاضے ہیں اس کو بھی ہر فرد کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔کیونکہ یہ اصول زندگی کی سمت کو درست رکھتے ہیں اور راستے ہموار ہوجاتے ہیں۔عقیدہ توحید پر یقین کامل کے ساتھ احترام ِ انسانیت کے تحفظ کو ملحوظِ خاطر رکھنا بھی انسانیت کے لیے راحت و سکون کی علامت ہے۔اس میں اتحاد و اتفاق کا فروغ ، وحدتِ فکر اور وحدتِ عمل ناگزیر ہے ۔اتحاد عالم کا مکمل قیام اس وقت ہی ممکن ہے جبکہ ظاہری وحدت اور باطنی وحدت حاصل ہو۔ذہنی وحدت ہی وہ مضبوط بنیاد ہے جس پر عالمی اتحاد کی پر شکوہ عمارت اٹھائی جاسکتی ہے۔اس مقصد کے لیے کلمہ شہادت عطا کیا گیا اور ذہنی تربیت کے لیے مزید تفصیلات سے واقفیت بہم پہنچائی گئی تاکہ ذہن میں پریشان خیالی نہ رہے۔اور تمام افعال ایک ہی قوتِ عاملہ کے تحت تسلسل کے ساتھ ادا ہوتے رہیں۔ایک آقا اور ایک قادر مطلق کے سوا ذہن میں کوئی تصور ہی داخل نہ ہونے پائے۔ورنہ تخیل کی وحدت پراگندہ اور فکری جمیعت منتشر ہوجائے گی۔

توحید انسانیت کا سنگِ بنیاد ہے۔یہاں سب چیزیں انسانی فکر انگیزی کے لیے ہیں اور ان کا مخصوص وجود انسان کی خاطر ہے۔شرک میں بد امنی کی عفونت پائی جاتی ہے۔زنا کو بھی مشرکین کا فعل قرار دیا گیا ہے۔اس لیے کہ کسی کے حقوق کی پامالی ہوتی ہے۔اور اس طرح اتحاد کی فضا پارہ پارہ ہوجاتی ہے۔اسلام نے جہاں انفرادیت پر زور دیا ہے وہاں ملت یا معاشرہ کا پابند بھی ٹھیرایا ہے ،اطاعت امیر اور پابندئی شریعت سے مسلمانِ ملت سے وابستہ رہ کر اس کے استحکام اور قوت کا باعث بنتا ہے۔ارشاد فرمایا:

اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، وَإِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ، كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ (صحيح البخاري: 7142)

’’اگر تم پر کوئی ایسا حبشی غلام بھی جس کا سر منقیٰ کی طرح چھوٹا ہو امیر بنادیا جائے تو جب تک وہ حکومت کتاب اللہ کے مطابق چلائے اس کی سمع و طاعت کرتے رہو۔‘‘

اسلام جب انسانوں کے فکر و عمل پر نافذ و غالب رہتا ہے تو سارا انسانی معاشرہ پرسکون اور مطمئن ہوتا ہے، لیکن جب وہ غالب و نافذ نہیں رہتا تو انسانی معاشرے میں رب سے انحراف و بغاوت کا چلن رواج پا جاتاہے۔اور یہ بغاوت اور انحراف کی روش اس کائنات کے کسی گوشے، کسی مخلوق میں بھی نہیں پائی جاتی۔جب انسان اس صحیح ڈگر سے ہٹ کر اپنے لیے کوئی اور راہ منتخب کرلیتا ہے تو باہمی تصادم ،حادثات و سانحات کا سلسلہ دراز ہوجاتا ہے۔کائنات کی ہر اطاعت گزار مخلوق اس باغی و سرکش مخلوق سے ٹکراتی ہے اور یوں فتنہ و فساد کا دور دورہ ہوجاتا ہے۔اور اس طرح فساد فی الارض دنیا کے باسیوں کی زندگیوں کو ناقابل برداشت بنا دیتا ہے۔انسانیت سسکنے لگتی ہے۔جسم گھائل اور روح اپنی نورانیت سے محروم ہونے لگتی ہے۔پھر انسان کی حیثیت ایک زندہ لاش سے زیادہ نہیں رہتی۔

مسلمان اپنے وجود میں ایک اکائی ہے۔ایک کا دکھ دوسرے کا دکھ ہونا چاہئے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا:

’’مومنوں کی مثال ایک جسم کی طرح ہےکہ اگر ایک عضو کو تکلیف پہنچے تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔‘‘(صحیح البخاری:6011)

آج کی دنیاجن ہولناک مسائل کا شکار ہے۔اس کی وجہ سے ہی بحر و بر میں فساد اپنا دائرہ بڑھاتا ہی جارہا ہے۔کہیں فرقہ واریت دلوں میں نفرتوں کا بیج بو رہی ہے، کہیں غربت و امارت نے ناقابل عبور کھائیاں پیدا کردی ہیں، کہیں ذات برادری انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب نہیں آنے دیتی۔اقبال نے کہا تھا:

کہیں فرقے ہیں کہیں ذاتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

جبکہ ساری کائنات کو تخلیق کرنے والے کے نزدیک تو افضل اور عزت و اکرام والا تو وہ ہے جس کے اندر تقویٰ کا مادہ زیادہ ہے۔یہ انسانوں کے اپنے وضع کیے ہوئے پیمانے ہیں جن کی اللہ کی نظر میں پرِ کاہ کے برابر بھی حیثیت نہیں ہے۔اللہ یہ کب چاہے گا کہ اس کی بنائی ہوئی دنیا میں فساد، انتشار، انارکی اور خشکی و تری میں ہلاکت آمیز طوفان برپا ہوں۔اور اس کے اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے انسانوں کی زندگیاں انسان کی بد اعمالیوں کے تیز و تند تھپیڑوں میں اُتھل پُتھل ہوتی رہیں۔اصل میں ہم خود ہی اپنے شامتِ اعمال کو دعوت دیتے ہیں۔اور نت نئے مسائل کے عفریت ہر سمت سے ہم پرحملہ آور ہونے لگتے ہیں۔ستم بالا ئے ستم یہ کہ ہم ان مسائل کو حل کرنے کےلیے بھی زندگی کے فطری طریق کا سہار الینے کےبجائے غیر فطری انداز ہی اختیار کرتے ہیں۔نتیجہ کے طور پر پے در پے ہمیں ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔لیکن بدقسمتی سے ہم کائنات میں تجربات و مشاہدات سے بھی سبق حاصل نہیں کرتے۔کیونکہ ہم ہمیشہ ناک کی سیدھ میں چلناپسند کرتے ہیں اور اس قسم کے رویے کے عادی زندگی بسر نہیں کرتے بلکہ زندگی انہیں بیچ منجھدار میں چھوڑ کر آگے بڑھ جاتی ہے۔اور یہ حیران و پریشان کھڑے رہ جاتے ہیں۔پھر جب ناکامی و نامرادی انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے توپھر اس کے اندر ایک انتقامی جذبہ ابھرتا ہے اور اپنے سے بہتر اور آسودہ حال لوگوں کو دیکھ کر فتنہ و فساد پربا کرنے کے منفی جذبات کو مہمیز ملتی ہے اور وہ سوچتا ہے کہ «ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے»۔

جب انسان زوال پذیر مادی اقدار کے حصول میں اپنی عمر فنا کرتا ہے وہ در حقیقت اپنی ذات کو برباد اور اپنی روح کی گہرائیوں میں موجود اعلیٰ احساسات کو ضائع کرتا ہے۔ایسے انسان کے ذہنی افق پر ایمانی وسعت، علمی ثروت ومحبت ، اور روحانی ذوق کے رنگ کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔وہ ہر کام کے نتیجے کی قدر و منزلت کا تعین اخرویات اور لدنیات کو پس ِ پشت ڈال کر مادی مفاد، جسمانی راحت اور بدنی لذتوں کی بنیاد پر کرتا ہے اور اس کے ذہن پر صرف کمانے اور چھیننے، لینے دینے، خرید و فروخت اور لہو و لعب کی فکر سوار رہتی ہے۔اگر اس کی خواہشات کی تکمیل کے لیے جائز وسائل کی کمائی ناکافی ہوجائے تو وہ جائز ذرائع اپناتا اور گمراہ کن تصورات و خیالات کا شکار ہوجاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ موجودہ انسان، انسانیت کو سنگین قسم کی مشکلات کی طرف دھکیل رہا ہے۔

مغربی ڈاکٹر الیکسس کیرل (Alexis Carrel)اپنی کتاب ( The unknown man)میں لکھتے ہیں:

«موجودہ زندگی انسان کو ترغیب دیتی ہے کہ وہ دولت ہر ممکن ذریعہ سے حاصل کرے۔لیکن یہ ذرائع انسان کودولت کے مقصد تک نہیں پہنچاتے ، یہ انسان میں ایک دائمی ہیجان اور جنسی خواہشات کی تسکین کا ایک سطحی جذبہ پیدا کرتے ہیں ، ان کے اثر سے انسان صبر و ضبط سے خالی ہوجاتا ہے اور ہر ایسے کام سے گریز کرتا ہے جو ذرا دشواراور صبر آزما ہوتا ہے ۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تہذیب جدید ایسے انسان پیدا ہی نہیں کر سکتی جن میں فنی تخلیق ،ذکاوت،جرات و ہمت ہو۔ہر ملک کے صاحبِ اقتدار طبقے میں جس کے ہاتھ میں ملک کی ڈور ہے وہ ذہنی اور اخلاقی قابلیت میںنمایاں انحطاط پذیر نظر آتا ہے۔ہم یہ محسوس کر رہے ہیں کہ تہذیب جدید نے اُن بڑی بڑی امیدوں کو پورا نہیں کیا جو انساینت نے اس سے وابستہ کر رکھی تھیں اور وہ ایسے لوگ پیدا کرنے میں ناکام رہی ہیں جو ذہانت و جرات کے مالک ہوں اور تہذیب کو اس دشورا گزار راستے پر سلامتی کے ساتھ لے جاسکیں جس پرآج وہ ٹھوکریں کھارہی ہے۔»

حقیقت تو یہ ہے کہ مسلمانوں کااسلام کی اصل بنیاد پر یقین کامل نہیں رہا ہے اسی لیے اس پر کوئی عمل بھی نہیں ہورہا اور یہی وہ المناک سانحہ ہے جس کے سبب مسلمان دنیا کے کینوس سے مٹتے جارہے ہیں ،آج ان کی صفوں میں نہ توحید باقی ہے نہ اتحاد ، نہ اطاعت و فرمانبردار ی کے جذبات، نہ کو ئی طاقتور امیر ہے نہ جہاد بالسیف کے ولولے، نہ ایثار ِ مال ،نہ امت کی زبوںحالی کاکو ئی درد اور نہ ایمان بالآخرہ کا کوئی ٹھوس تصور۔اِ ن کی زندگیوں میں نہ مکارم اخلاق کا کوئی نمایاں رنگ ہے، نہ خوفِ الٰہی، نہ شوق اصلاح اور نہ ذوق ایمان! انسان کی زندگی کے دو رنگ ہوتے ہیں ، ایک تو صرف محض حیات….یہ زندگی جانوروں کو بھی حاصل ہے اور پودوں کو بھی اور پتھروں کو بھی۔دوسری چیز کو «زیست» کہتے ہیں ،یعنی زندہ رہنے کے عمل کا شعور، اس کے بغیر انسان، انسان نہیں کہلاسکتا۔حیات تو انسان کو فطرت کی طرف سے ملی ہے۔اب اس کا کام ہے کہ اس حیات کو زیست میں تبدیل کرے۔اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے انسان پہلے زندگی کی حقیقت تسلیم کرے۔انسان کئی اعتبار سے مجبور بھی ہوتا ہے مگر قدرت کی طرف سے اُسے یہ اختیار دیا گیاہےکہ وہ اپنی زندگی کو با معنی بنائے اور یہ انسان کی ہمت ا ور جد وجہد پر منحصر ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کس حد تک با معنی بناتا ہے۔اور کیا لائحہ عمل اختیار کرتا ہے کہ جس میں اُس کے لیے خیر و بھلائی ہو اور دیگر انسانوں کے لیے بھی سکون و راحت والی زندگی کا حصول ممکن ہو۔اور فساد بحر و بر کی ہلاکتوں سے بنی نوع انساں محفوظ و مامون ہوجائے، کیونکہ جب حالات بدلتے ہیں تو قدریں بھی بدل جاتی ہیں ، معیارات بدل جاتے ہیں ۔ایک اچھا عمل دوسرے اچھے عمل کا پیش خیمہ ہوتا ہے اور یوں چراغ سے چراغ جلتا چلا جاتا ہے۔

جو آنا چاہو ہزار رستے، نہ آنا چاہو تو عذر لاکھوں

مزاج برہم، طویل رستہ ، برستی بارش ،خراب موسم

حوالہ جات:

(الف) اسلام اور اکیسویں صدی کا چیلنج……اَسرار عالم

(ب) قرآن اور علم جدید……ڈاکٹر رفیع الدین

(ج)تحریک اسلامی……سید منور حسن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے