گذشتہ دنوں مؤرخہ 31 اکتوبر 2021 جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں ایک عظیم الشان فقید المثال اجتماع منعقد ہوا جس میں سن 1980 تا 1995 تک جامعہ میں تعلیم پانے والے فرزندانِ جامعہ نے شرکت فرمائی ۔ یہ پروقار اور پر رونق تقریب تھی ۔ اس میں شرکت کرکے راقم کو احساس ہوا کہ جامعہ محض جامعہ نہیں بلکہ یہ ایک انقلابی ادارہ ہے جس کے متخرجین اور متعلمین دنیا جہاں میں مینار علم کو روشن کیے ہوئے ہیں۔لوگوں کی دینی رہنمائی کر رہے ہیں ۔ مذکورہ پروگرام میں شرکت کرنے والے احباب کی مساعی جمیلہ سن کردل باغ باغ ہوگیا ۔ اس موقع پر ادارے کی طرف سے ان احباب سے گزارش کی گئی کہ وہ اپنی سرگزشت تحریر کردیں تاکہ مجلہ اسوہ حسنہ کی ایک خصوصی اشاعت کا اسے حصہ بنایا جاسکے ۔ اس پر بہت سے اہل علم نےحامی بھری یہ خصوصی اشاعت جو آپ کے ہاتھوں میں ہے اسی کا نتیجہ ہے ۔جہاں اہل علم واہل قلم اپنی حیات وخدمات کے بارے میں لکھ رہے تھے وہیں چند طلباء کے ذہنوں میں یہ سوال بھی ابھرا کہ اس سب کا کیا فائدہ ہوگا ؟ امت اس سے کیسے مستفید ہوگی ۔ جب ان خیالات کو سنا تو مجھ ناچیز کے دل میں یہ خیال موجزن ہوا کہ کیوں نہ ایک تحریر تیار کی جائے جس میں تراجم کی اہمیت اور سرگزشت کی افادیت پر ذرا روشنی ڈالی جائے کہ ایک طالب علم ایک عالم دین اور ایک انقلابی اداری شخص اگر اپنی آپ بیتی اور اپنے تجربات اپنے ہاتھ سے تحریر فرمادے تو بعد میں ان کی حیات پر کام کرنے والوں کے کتنے عقدے حل ہوتے چلے جاتے ہیں اور تاریخی حقائق کی ترتیب کتنی ہی موثوقہ انداز میں ممکن ہوجاتی چلی جاتی ہے ۔ اور اگر بنظرِ افادہ عامہ اور النصح والتذکیر سے دیکھا جائے تو یہ کوئی ریا کاری یا دکھلاوا نہیں ہے بلکہ اس مختصر سی کاوش سے بہت لوگ مستفید ہوتے ہیں اس لئے ہر اس طالب علم وشیخ فاضل ایک انقلابی اداری شخص کو چاہیے کہ کم ازکم وہ اپنی خدمات اور ان کی راہ میں پیش آنے والے مسائل کو انہوں نے کیسے حل کیا ۔مختصرا تحریر فرمادیں کیونکہ کچھ پتہ نہیں یہ جسدِ خاکی کب رب کی ندا پر لبیک کہہ جائے ۔ تاکہ ان کی خدمات سے بعد کے لوگ مستفید ہوسکیں ۔

عالم عرب کے ممتاز عالم دین بکر ابو زید اپنی کتاب ’’النظائر‘‘میں فرمان باری تعالیٰ : وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا کے تحت لکھتے ہیں کہ :

ومن ھنا انتزع أولو النھیٰ شرف العلم بأسماء الرجال ومصاحبة أنفاسھم بذکر سیرھم وأخبارھم للاقتداء بصالح أعمالھم (النظائر لبکر أبو زید ، ص 21)

اہل عقل ودانش نے علم اسماء الرجال کی فضیلت اور ان کے حالات وواقعات کی تدوین اور ان جیسے اعمال صالحہ کرنے کا آیت مذکورہ سے استنباط کیا ہے۔

تراجم کی تدوین کے کئی ایک طریقے ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ بیٹا اپنے والد ، یا کوئی نسبی یا سببی رشتہ دار وقریب اپنے قریب کے تراجم تحریر کردیتا ہے ۔ یا شاگرد اپنے شیخ یا اخلاف اپنے اسلاف کے کارنامے حیات وخدمات کو بطون کتب سے چھان کر جمع کر دیتے ہیں ۔ان ہی طرز ہائے تألیف ِتراجم میں ایک طرز اور طریقہ آپ بیتی یا خوردو نوشت کا بھی ہے جس میں ایک عالم دین یا کوئی منتظم اپنی زندگی کے اہم واقعات وكٹھن تجربات بدست خود تحریر فرماتا ہے۔ جس کا مقصد ریا کاری نہیں بلکہ اپنے تجربے کا نچوڑ اپنے اخلاف واقران کو دینا ہوتا ہے ۔ یہ ایک بیش بہا خزانہ ہے جس کی افادیت سے انکار ممکن نہیں ۔ اور جب صاحب واقعہ اپنا واقعہ یا اپنے عصر کا کوئی واقعہ بقلم خود محفوظ کرتا ہے تو اس کےوثوق کا عالم کچھ اور ہی ہوتا ہے ۔ لہٰذا کسی بھی تحریکی ، علمی ، اور انتظامی امور سے متعلق اہم شخصیت کو چاہیے کہ وہ سچائی وامانت صراحت وتثبت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنے اور اپنے عصر کے اجمالی حالات خود تحریر فرمادے تاکہ ان کی زندگی سے فائدہ اٹھایا جا سکے ۔

بعض اہل علم تراجم کے بارے میں کہتے ہیں کہ : یہ  ’’دفتر الحسنات والسیئآت’’ ہیں ۔

امام بخاری رحمہ اللہ اپنی صحیح میں ‘‘باب رفع العلم وظھور الجھل’’ میں ربیعہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ

 قال ربیعة : لا ینبغی لأحد عندہ شيء من العلم أن یضیع نفسه

ربیعہ فرماتے ہیں کہ : کسی بھی اس شخصیت کے لائق یا روا نہیں کہ جسے اللہ تعالیٰ نے علم کی دولت سے نوازا ہے وہ اپنے آپ کو ضائع کرے ۔

 حافظ ا بن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں اس قول کی مختلف توجیہات بیان کی ہیں جن میں ایک یہ بھی کہ :

أن یشھر نفسه ویتصدی للأخذ عنه لئلا یضیع علمه ) ( فتح الباری 1/ 178)

’’کہ اسے چاہیے کہ وہ خود سے متعلق لوگوں کو آگاہ کرے تاکہ اس کا علم ضائع نہ ہوجائے ۔ ‘‘

اپنی خدمات اور تجارب وتراجم بدست خود تحریر کرنے کے فوائد :

1 نئی نسل کو اپنے تجارب سے فائدہ پہنچانا ۔

2  بسا اوقات اگر اس علمی شخصیت کا تعلق مصنفین سے ہے اور کتاب کی نسبت محل نظر ہے تواگر کوئی شخصیت اپنی خودونوشت تحریر کرتی ہے اور اپنی چھوٹی بڑی تصنیفات کا ذکر کردیتی ہے تونسبۃ الکتاب الی المؤلف کا اشکا ل دور ہوجاتا ہے ۔

3 دیگر طلباء ومنتظمین اداروں سے متعلق لوگوں کو اس سیرت سے اسباق حاصل ہوتے ہیں ۔ کتنے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے انقلابی شخصیات سے متعلق پڑھا اور پھر اپنی زندگی کو مفید بنانے کیلئے کمر بستہ ہوگئے ۔

4 کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جن کا انسان عینی شاہد ہوتا ہے۔لیکن لوگ نسل در نسل ان واقعات کو غلط نقل کرتے آتے ہیں۔اگر وہ شخصیت یہ واقعہ اس کے اصل حقائق اپنے ہاتھ سے قلمبند کردے تو یہ چیز اس اہم واقعہ یا حادثے کی صحیح نوعیت کے ادراک میں ممد ومعاون ہوتی ہے ۔

5 انساب کی تصحیح : جیسا کہ ابن جوزی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’لفتة الکبد‘‘  میں اپنا نسب نامہ تحریر کیا ہے ۔

وغیر ذلك من الفوائد الکثیرة العظیمة

آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے بیشتر واقعات صحابہ سے بیان فرمائے ۔ جس میں اپنے پیشے سے متعلق اور اپنی زندگی سے متعلق چند اہم واقعات وتجربات کا ذکر کیا جیسا کہ آپ ﷺ نے اپنی تجارت ، بکریوں کا چرانا ۔ اپنے اوپر پتھروں کا سلام کہنا ودیگر اہم واقعات خود بیان فرمائے ۔ اور اپنا نسب اور اس کی شرف ومنزلت بیان فرمائی۔

ذیل میں چند بلند پایہ محدثین وفقہاء ومفسرین کے نام پیش کئے جاتے ہیں جنہوں نے اپنے تراجم خود تحریر فرمائے ۔

1 حافظ ابن حجر نے اپنا ترجمہ : اپنی کتاب ( الدرر الکامنة) (رفع الأصر ) (أنباء الغبر ) (المعجم المفهرس) وغیرہ میں ذکر کیا ہے ۔

2  ثعالبی : بڑے معروف مفسر ہیں ،مالکی المذھب ہیں ۔ انہوں نے اپنا ترجمہ اپنی کتاب ( الجامع ) میں تحریر کیا ہے ۔

3 برھان الدین البقاعی: معروف محدث ہیں ۔ انہوں نے اپنا ترجمہ اپنی کتاب ( عنوان الزمان فی تراجم المشائخ والأقران ) میں تحریر کیا ۔ لیکن یہ کتاب مخطوط ہے ابھی تک طبع نہیں ہوئی ۔

4  محمد بن عبدالرحمٰن السخاوی : معروف محدث ہیں ۔ انہوں نے اپنے حیات سے متعلق معلومات اپنی کتاب ( الضوء اللامع لأھل القرن التاسع) میں تحریر کی ہیں ۔

5 معروف محدث محمد بن محمد العوفی المزی :نے اپنے واقعات حیات ایک مستقل کتاب میں جمع کئے ہیں ۔

6  جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ: جنہوں نے اپنی حیات سے متعلق معلومات اپنی کتاب ( حسن المحاضرة فی أخبار مصر والقاھرة ) میں تحریر فرمائے ہیں ۔ بلکہ انہوں نے اپنی زندگی کے نشیب وفراز وحالات واقعات پر ایک مستقل رسالہ بھی تحریر فرمایا جس کانام ( التحدث بنعمة اللہ تعالی ) رکھا ۔ نیز آپ نے اپنی ایک اور کتاب ( طبقات النحاة الوسطی ) میں بھی اپنا ترجمہ ذکر کیا ہے ۔ اور ذکر کرتے وقت فرماتے ہیں :

وقد أردت أن یکون لأسمي ذکر فی ھذا لکتاب تبرکًا واقتداً بصنیع السلف ممن ذکر اسمه فی تألیفه…’’ الخ ( الفلك المشحون ، لابن طولون ص 6 )

میں نے ارادہ کیا کہ اس کتاب میں میرے نام کابھی ذکرآئے جوکہ تبرکا اور سلف صالح کے اس عمل کی اقتدا میں کیا گیا ہے جنہوں نے اپنا نام ( ترجمہ) اپنی تألیفات میں تذکرہ کیا ہے ۔

نیز اس کے علاوہ بھی نامور محدثین فقہاء ومفسرین رحمہم اللہ نے اپنی زندگی سے متعلق تراجم اپنی تصانیف کے ضمن میں ذکر کئے ہیں ۔ جن میں قابل ذکر ۔

امام ذھبی ۔ شوکانی ۔ آلوسی ۔ نواب صدیق حسن خان۔ غماری ۔ وغیرھم خلق کثیر رحمهم الله جميعا

الغرض یہ شواھد ذکر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ۔ اپنی حیات اور اپنے تجربات ، اپنی علمی خدمات کو عام کرنا بنية الأفادةکوئی محظور اور ممنوع نہیں بلکہ مستحسن اور مطلوب ہے تاکہ تاریخی ورثہ بھی محفوظ رہے۔ اور اخلاف اپنے اسلاف اور اقران اپنے احباب کی زندگی سے فائدہ بھی اٹھا سکیں ۔

مَثلُ القومِ نَسُوا تأریخھم
کَلَقِیط عيَّ في الناسِ انتساباً
أو کمغلوبٍ علی ذاکرةٍ
یشتکي من صِلة الماضي انقضابا

تاریخ کو بھلا دینے والی قوم معاشرے میں اپنی قدروقیمت کھو بیٹھی ہے اور اس کی پہچان ختم ہوجاتی ہے۔

وہ اس بَدحواس شخص کی مانند ہوتی ہے جو ماضی سے اپنے متعلق کے انقطاع پہ شکوہ کناں ہو۔

نیز محدثین وفقہاء نے مجلدات کثیرہ انہی تراجم پر لکھی ہیں جن میں سیرت النبی ﷺ ۔ حیات اصحاب النبی ﷺ ، حیات تابعین ومن بعدہم محدثین وفقہاء کےبڑی عرق ریزی سے حالات زندگی جمع کرکے تحریر کیے گئے اور ضخیم مجلدات وجود میں آگئیں جو اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ تراجم کا اہتمام عہد سلف سے جاری وساری ہے اور ہر زمانے میں یہ علم اہل علم کےہاں بڑی قدر ومنزلت والا علم شمار کیا جاتاہے جن کی چند ایک مثالیں ذیل میں ملاحظہ فرمائیں ۔

الاستيعاب لابن عبد البر
أسد الغابة لابن الأثير .
الإصابة في تمييز الصحابة لابن حجر
سير أعلام النبلاءللامام الذهبي ( 25 مجلد)
وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان(8 مجلد)
معرفة القراء الكبار(٤ مجلد)
غاية النهاية لابن الجزري
تذكرة الحفاظ لإلمام الذهبي
تهذيب الكمال للمزي،
تهذيب التهذيب للحافظ ابن حجر.
طبقات السنية في تراجم الحنفية
طبقات الشافعية للسبكي
طبقات الحنابلة لابن أبي يعلى
كتاب الذيل على طبقات الحنابلة لابن رجب
الأعلام لخير الدين الزركلي

كتاب معجم المؤلفين لعمر رضا كحالة یہ ضخیم مجلدات اس امر کی کھول کھول کر گواہی دے رہی ہیں کہ حالات زندگی ، سرگزشت ، آپ بیتی ، سیر وسوانح اہل اسلام کا ایک پسندیدہ اور عظیم ترین علم رہاہے ۔ لہذا طلباء اور اہل علم کو چاہیے کہ اپنے حالات وخدمات قلم بند کرتے رہا کریں تاکہ آئندہ امت تک یہ سرمایہ کماحقہ منتقل ہوتا رہے۔ واللہ ولی التوفیق

By editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *