ابتدائی تعارف
نام:مقبول احمد بن سید محمد بن علم دین بن موہنا بن سوہنا بن گل شیر۔
پیدائش: 4 ستمبر 1967ء موجودہ ضلع اوکاڑہ کی تحصیل رینالہ خورد کے گاؤں2/ 1۔ایل میں ہوئی۔
ابتدائی تعلیم اور جامعہ کا رخ
ابتدائی تعلیم گاؤں میں حاصل کی اور پانچویں جماعت کے امتحانات میں اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔ناظرہ قرآن کریم گاؤںمیں موجود نیک سیرت استاد بابا قیم رحمہ اللہ سے پڑھا۔اسکے بعد رینالہ خورد میں گورنمنٹ ہائی اسکول سے مڈل اور اسکے بعد وہیں سے میٹرک سائنس کے ساتھ مکمل کیا۔
میٹرک کے بعد کافی مراحل طے کئے شروع میں لاہور سے تعلیمی سلسلے کو مزید آگے بڑھانے کا ارادہ کیا اور اپنے پاؤں پر خودکھڑا ہونے کیلئے ایک جگہ سیلز مین کی نوکری کی ۔ لاہور کے مشہور ادارے علی انڈسٹریل ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لینے کا سوچ رکھا تھا مگر پھر کچھ مشکلات سامنے آ نے کی وجہ سے ایک بار پھر مونا انٹرنیشنل فیکٹری میں نوکری کرنی پڑی ۔نوکری اس لئے کر رہا تھا تاکہ ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لے سکوں مگر اللہ کا کرناایسا ہواکہ میرا وہاں داخلہ نہ ہوسکا ۔اور عید کی تعطیلات پر اپنے گاؤں گیا اور وہاں مولانا بشیر احمد صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے جامعہ کے بارے میں بتایا ۔
جامعہ کی امتیازی خصوصیات، دینی و عصری علوم ،عربی میں تدریس اور ساتھ میں ماہانہ وظیفہ کا سن کر مجھےا پنے خوابوں کی تکمیل ہوتی نظر آئی اور میں نے جامعہ جانے کاپختہ ارادہ کرلیا ۔
لیکن جب میں نے اس ارادے کے بارے میں والدمحترم کو آگاہ کیا تو انہوں نے سختی سے منع کر دیا۔
یہاں ایک بات ذکر کرتا چلوں کہ میری عمر صرف چار سال تھی جب میری والدہ محترمہ وفات پا گئیں اور یوں میرے والد صاحب کو ایک بہن اور تین بھائیوں میں آخری بیٹے یعنی مجھ سے کچھ زیادہ ہی لگاؤ ہو گیاتھا ۔۔۔اسلئے وہ مجھے دور نہیں بھیجنا چاہتے تھے اور دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ کچھ گاؤں والے میرے والد محترم کو یہ کہہ رہے تھے کہ یہ وہابیوں کے مدرسے جائے گا تو وہابی بن جائے گا اور اس بات نے انکے انکار میں مزیدشدت پیدا کر دی تھی۔
میں نے والد محترم سے عرض کی کہ میں اپنے پاؤں پر تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہوں اور یہ ایک سنہری موقع ہے آپ مجھے خوشی سے رخصت فرما دیں یہ میرے لئے بڑی خوشی کی بات ہوگی۔
میں نے بڑی مشکل سے انہیں منایا اور انہوں مجھے شیخ ابو نعمان بشیر اور مہر محمد الیاس کی معیت میں خودکراچی کیلئے روانہ کیا۔۔۔یوں میں 1984ء میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں داخل ہو گیا۔
آزمائش
لیکن یہاں میری ایک اور آزمائش شروع ہوئی۔۔۔ہوا کچھ یوں کہ جس انسٹیٹیوٹ میں میں داخلہ لینا چاہتا تھا اور میرا داخلہ نہیں ہو رہا تھا وہاں سے مجھے لیٹر آیا اور اس میں میرے داخلے کی چٹھی موجود تھی میں فورا لاہور چلا گیا کالج والوں نے رسمی کاروائی مکمل کی اور تاریخ دے دی کہ اس تاریخ تک فیس جمع کروا دو۔۔۔میرا داخلہ دوپہر کی شفٹ میں ہوا تھاحالانکہ میں چاہتا تھا کہ صبح کی شفٹ میں ہو اور شام کو کہیں کام کر لوں تاکہ گھر والوں پر بوجھ نہ بنوں اور اپنا خرچ خوداٹھا سکوں۔
اس تمام صورتحال میں مجھے گھر کی یاد آئی جہاں مجھے کالج میں پڑھنے پر ترغیب دلائی گئی اور پھر وہی مسئلہ کہ میں کراچی جانا چاہتا تھا اور گھر والے کالج بھیجنے پر مصر تھے ۔۔۔۔آخر کار میں نےکراچی کیلئے سفر شروع کردیا۔
ریل میں بیٹھنا تھا کہ میں ایک کشمکش کا شکار ہو گیا اور دل و دماغ کی جنگ شروع ہوگئی۔
ایک طاقت مجھے کالج کی طرف کھینچ رہی تھی مستقبل کے سبز باغ دکھا رہی تھی کہ کوئی ہنر سیکھ کر دنیا کماؤں آخر اتنے بڑےاور مشہور ادارے میں ہر کسی کا داخلہ تھوڑی ہوتا ہے۔۔۔۔
دوسری طاقت مجھے جامعہ ابی بکر کی طرف دھکیل رہی تھی جس کی اصل وجہ جامعہ کی مسجد میں ادا کی جانے والی نمازیں اور ان سے حاصل ہونے والی لذت ،روحانی سکون اور چاشنی تھی ۔
ریل گاڑی جب بھی کسی اسٹیشن پر رکتی تو میرے دل و دماغ کی جنگ عروج پر ہوتی اور واپس لاہور جانے والی قوت میں شدت پائی جاتی بہرحال اسی کشمکش میں اللہ تعالیٰ نے مجھے کراچی پہنچادیا۔جیسے ہی دوبارہ جامعہ پہنچا تو میرے ساتھیوں نے بھی خصوصی طور پر ابو نعمان بشیر احمد صاحب نے خوشی کا اظہار کیا ۔اساتذہ کرام کی دعاؤں کی وجہ سے میرا جامعہ میں دل بھی لگ گیا ۔خاص طور پر والدی و مربی پروفیسر شیخ محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ کے اخلاص کی تو کیا ہی بات تھی۔اور مولانا عائش محمد حفظہ اللہ کی دعوت و تبلیغ کا انداز آج تک نہیں بھول پایا ۔اساتذہ کرام کی انتھک محنت ،طلباء کرام سے محبت بھرا انداز والدین کی کمی پوری کردیتا تھا ۔چاچا عبدالرحمن وارڈن صاحب کا طلبہ کی ضروریات کا بھرپور خیال رکھنا وہ اپنی مثال آپ تھا یہاں میں اپنے ایک ساتھی محترم محمد علیم مجاھد کا تذکرہ کرنا چاہوں گا جو کہ میرے دوست بھائی ،ہمدرد اور خیر خواہ تھے اور ابھی بھی ہیں مجھے ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا اللہ تعالیٰ ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے ۔اس طرح محترم بھائی ابو نعمان بشیر احمد اور محترم شیخ محمد یوسف ضیاء صاحب جن کی کوششوں کی بدولت مسلک حقہ تک رسائی ہوئی اور جناب والد محترم انس محمد صاحب اور ان کی اہلیہ رحمۃ اللہ علیھا ان کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ اگر ان کا ساتھ نہ ہوتاتو میں کراچی میں نہ رہ پاتا ۔
اعلی ٰتعلیم
جہاں دین حنیف کی اعلی ٰتعلیم کی ابتدا ہوئی وہیں دنیاوی تعلیم میں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ سر اٹھانے لگا اور یوں 1986ءمیں کراچی انٹر بورڈ سے انٹر پاس کیا اسکے بعد 1990ء میں نیشنل کالج سے بی اے مکمل کیا ساتھ ساتھ فاضل عربی ، فاضل اردو کی اسنادبھی حاصل کیں ۔
اسکے بعد اردو کالج میں ایل ایل بی میں داخلہ لیاجس کا پارٹ ون مکمل کرلیا تھا اور ساتھ ساتھ کراچی یونیورسٹی سے پرائیوٹ ایم اے اسلامیات حصہ اول کا امتحان دیا ۔
ابھی دونوں یونیورسٹیز میں ایک ایک سال ہی مکمل ہوا تھا کہ 1992ءکے اواخر اور 1993ءکی ابتدا میں جامعہ ام القری (مکہ مکرمہ) میں داخلہ ہو گیا جہاں کی خوشخبری عنایت اللہ مغل بھائی نے دی تھی ابتدائی ڈیڑھ سال معھد اللغۃ میں پڑھائی کی اسکے بعد ’’كلية الشريعة قسم القضاء‘‘میں چار سال کا دورانیہ مکمل کیا۔
فراغت سے ایک سال قبل 1998ءمیں ڈاکٹر راشد راندھاوا رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی جنہوں نے مجھے حکما ًتلقین فرمائی کہ جامعہ ابی بکر آکر تدریسی ذمہ داری سنبھالوں۔
سن 1999ءمیں جامعہ کی حرمین کمپلیکس سپر ہائی وے والی جگہ پر شعبہ تحفیظ القرآن واسکول کی ذمے داری سونپی گئی جو میں نے ڈیڑھ سال بعد کچھ ناگزیر حالات کے پیش نظر چھوڑ دی اور جامعہ منتقل ہو گیا۔
اور پھر جامعہ میں مستقل استاد کے طور پر تدریس شروع کی۔
دوسری طرف تعلیمی سلسلہ بھی جاری رہا اسی دوران میں نے ایم اے اسلامیات مکمل کیا البتہ ایل ایل بی کی تعلیم جاری نہ رکھ سکاپھر محترم ڈاکٹر نصیر احمد اختر صاحب حفظہ اللہ کی توجہ پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کا بھی پروگرام بنایا مگر گو نا گوں مصروفیات(مجلہ کا اجرا ، ادارت،طویل بیماری اور دیگر مصروفیات) کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوتا رہا بالآخر اللہ کی توفیق سے ’’رباعیات إمام البخاری من خلال کتابه الجامع الصحیح‘‘کے عنوان سے 2011ءمیں پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا اور ڈگری حاصل کی۔2012ء سے 2016ء تک Full timeجبکہ 2017ء سےتا حال کراچی یونیورسٹی میں Visiting Faculty member کے طور پر تدریسی سرگرمیاں جاری وساری ہیں۔
مجلہ اسوۂ حسنہ کی ابتداء
2003ء میں مکتبہ نور حرم کی چند مشہور کتابوں (مثلا: گھروں کی اصلاح کیوں اور کیسے ، عقیقہ کے مسائل ،قرض کی شرعی حیثیت وغیرہ) کی نظر ثانی کا موقع ملا ۔جب نائب مدیر الجامعہ مولانا عائش محمد حفظہ اللہ کی نظر سے یہ کتابیں گزریں تو انہوں نے کافی مسرت کا اظہار کیا اور مدیر الجامعہ محترم جناب ڈاکٹر محمد راشد رندھاوا رحمہ اللہ سے مؤسس الجامعہ پروفیسر ظفر اللہ رحمہ اللہ کی ایک دیرینہ خواہش کا ذکر فرمایا کہ: پروفیسر صاحب کی ایک دلی خواہش تھی کہ جامعہ کی طرف سے ایک مجلے کا اجرا کیا جائےجو کہ جامعہ کا نمائندہ ہو مگر افسوس کہ آپکی زندگی میں یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔
موسس ومدیر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ پروفیسر محمد ظفراللہ رحمہ اللہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ جامعہ کا کوئی نمائندہ مجلہ ہو، مگر رب تعالی کو کچھ اور منظور تھا وہ اپنی زندگی میں اس کا اجراء نہ کر سکے ان کے بعد مولانا عائش محمد صاحب حفظہ اللہ نے ان کی اس خواہش کو پورا کرنے کا عزم کیا اور اللہ کے فضل سے مجلہ کی باقاعدہ اشاعت اکتوبر 2004ء سے شروع ہوئی جب اس نام پر حکومت سے ڈیکلریشن لینا چاہی تو اس نام سے نہ ملی اس بنا پر نام تبدیل کرنا پڑا اس کے لیے ڈاکٹر محمد راشد رندھاوا ، مدیر الجامعہ نے ’’اسوہ حسنہ‘‘ نام تجویز کیا،جنوری 2009ءسے اسی نام سے شائع ہورہا ہے۔بانی ومدیر مجلہ اسوہ حسنہ الشیخ ڈاکٹر مقبول احمد مکی ہیں جوکہ 1999ءسےتاحال جامعہ ابی بکر اور 2012سے اب تک جامعہ کراچی میں بھی تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اساتذہ کرام
ہمارا خون بھی شامل ہے تزئین گلستان میں
ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے
اس شعر کے مصداق میں اپنے تمام اساتذہ کرام کی یاد تازہ کرنا چاہوں گا اگر چہ ان کی فہرست کچھ طویل ہورہی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ اپنے تمام اساتذہ کرام کا ذکر کروں جن سے میں نے کہیں بھی اور کچھ بھی فیض حاصل کیا ۔
میرے پرائمری اسکول کے اساتذہ کرام کے اسماء گرامی
محترم ماسٹر مشتاق احمد صاحب رحمہ اللہ ،محترم عبدالعزیز صاحب رحمہ اللہ،محترم ظفر اقبال صاحب حفظہ اللہ ،محترم عبدالستار حفظہ اللہ۔
مڈل اور ہائی اسکول کے اساتذہ کرام
محترم مرزا محمد شریف آزاد صاحب رحمہ اللہ،محترم قاضی حبیب الرحمن رحمہ اللہ ،محترم حاجی اقبال احمد صاحب رحمہ اللہ ،محترم سید شبیر حسین شاہ صاحب حفظہ اللہ
جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے اساتذہ کرام
فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ تعالیٰ،فضیلۃ الشیخ عبدالغفار المدنی حفظہ اللہ تعالیٰ،فضیلۃ الشیخ حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ تعالیٰ،فضیلۃ الشیخ حافظ محمد شریف حفظہ اللہ تعالیٰ،فضیلۃ الشیخ عطاء اللہ ساجد حفظہ اللہ تعالیٰ،فضیلۃ الشیخ خلیل الرحمن لکھوی حفظہ اللہ تعالیٰ،فضیلۃ الشیخ شبیر احمد نورانی حفظہ اللہ تعالیٰ، فضیلۃ الشیخ عمر فاروق السعیدی حفظہ اللہ ، فضیلۃ الشیخ ابو عبدالمجید محمد حسین صاحب حفظہ اللہ ، فضیلۃ الشیخ العلامہ محمد یعقوب طاہر رحمہ اللہ ،فضیلۃ الشیخ قاری عبدالرحیم طور رحمہ اللہ، فضیلۃ الشیخ قاری محمد ادریس رحمہ اللہ ،فضیلۃ الشیخ عبدالجواد خلف المصری رحمہ اللہ، فضیلۃ الشیخ بشیر احمد صلاد الصومالی،فضیلۃ الشیخ محمد ھادی الشامی حفظہ اللہ، فضیلۃ الشیخ قاری بشیر احمد بلتی حفظہ اللہ ۔
جامعہ ام القری مکہ مکرمہ کے اساتذہ کرام
فضیلۃ الشیخ عبدالرحمن السدیس حفظہ اللہ تعالیٰ،فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز الخلاف حفظہ اللہ تعالیٰ،فضیلۃ الشیخ محمد یاسین عراقی حفظہ اللہ تعالیٰ۔
یہاں میں اپنےچند ہم مکتب ساتھیوں کا تذکرہ کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں ۔
محمد علیم مجاھد ،ڈاکٹر قدرۃ اللہ ،علامہ محمد ابراہیم طارق،ضیاءاللہ ،عنایت اللہ مغل،حافظ محمودالحسن،حافظ عبدالوحید ،چوہدری محمد یعقوب،محمد الیف تھائی لینڈ،محمد سالم تھائی لینڈ،عبدالقادر صومالیہ،سلیمان کسولی یوگنڈا۔
منصوبہ جات
سب سے اولین منصوبہ یہ ہے کہ مجلہ کی خدمات اور مقام کو مزید بڑھاتے ہوئے اس کو جدید طرز کا مجلہ بنانے کا خواہش مند ہوں،جس میں نہ صرف علمی ، تحقیقی اور اصلاحی مضامین ہوں بلکہ حالات حاضرہ کے حوالے سے عربی ، اردو اور انگریزی زبانوں میں بھی مضامین شائع ہوں تاکہ یہ مجلہ کم از کم قومی و ملکی سطح پر مقبول عام ہو۔
اسکے علاوہ اگر رب العالمین نے موقع دیا تو ایک ایسا ادارہ قائم کرنے کا بھی خواہش مند ہوں جس میں دینی علوم جیسی اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونے والے طلبہ کو دنیاوی علوم میں بھی اُس اعلیٰ مقام تک پہنچایا جائے کہ انہیں کسی بھی قومی و ملکی ادارے کی اچھی پوسٹ تک پہنچنے میں کسی قسم کی دقت نہ ہوتاکہ اللہ کی مخلوق ہر میدان دینی اور دنیاوی خدمات سرانجام دی جاسکیں۔
تجاویز و آراء
میں خصوصی طور پر اپنے جامعہ کے اساتذہ اور عمومی طور پر ہر استاد سے یہ درد مندانہ اپیل کروں گا کہ طلباء کرام کی تعلیم کے ساتھ اسلامی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائےاور بذات خود اپنے شاگردوں کیلئے بہترین قدوہ بنا جائے اور ایک معلم خیرکا اصل سرمایہ اسکے شاگرد ہی ہوتے ہیں اس لیےان کو چاہیے کہ وہ اپنی عملی زندگی میں حقوق اللہ و حقوق العباد کا خاص خیال رکھ کر اپنے طلبہ کیلئے ایک عملی نمونہ (رول ماڈل )بنے ۔
آخر میں مجلہ اسوہ حسنہ کے حوالے سے اساتذہ جامعہ و ابناء الجامعہ کو خصوصی توجہ دلاؤں گا کہ آپ ہی کے تعاون سے یہ مجلہ بہت سی منازل طے کر سکا ہے اور اب مزید آگے بڑھنے کیلئے بھی آپکے تعاون کا منتظر ہے تاکہ آپ اپنی علمی و تحقیقی کاوشوں سے اسکو مزید تقویت بخشیں اور اسکی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر یں۔
امید ہے اساتذہ کرام اور ابناء الجامعہ اس طرف خصوصی توجہ فرمائیں گے۔
تصانیف
1 مجلہ اسوہ حسنہ کا اداریہ اور مختلف اہم موضوعات پر مضامین (جن کی تعداد تقریبا200 کے قریب ہے)
2 سیرت مجتبٰی ﷺ (سوالا ً جواباً :350 صفحات)
3 ماہ رمضان مخلوق پر الہی انعام
