نام: اشفاق الرحمن بن کلیم اللہ

ولادت: اپریل 1963ء 18/1Lرینالہ خورد میںہوئی۔

گاؤں کے اسکول سے پرائمری کرنے کے بعد میٹرک رینالہ خورد سے کیا۔

دینی تعلیم کا آغاز جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے کیا ۔کچھ وجوہات کی بناء پر وہاں سے گوجرانوالہ جامعہ محمدیہ جی ٹی روڈ میں دو سال تک تعلیم حاصل کی ، جب کل پاکستان اہل حدیث کانفرنس کا انعقاد ہوا۔اور اس کانفرنس میں علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ نے مسلک اہل حدیث کے موضوع پر خطاب فرمایا تو بندۂ ناچیز اس خطاب سے متأثر ہوا اور ان جیسا بننے کی خواہش دل میں لے کر گوجرانوالہ سے لاہور چینیاں والی مسجد (رنگ محل) میں داخلہ لے لیا۔

میرے ہمراہ میرے ہم مکتب ، ہم سفر دوست شیخ محمد طاہر باغ حفظہ اللہ تھے۔ جن کے ساتھ دوستی اور ہم آہنگی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی گئی۔ اللہ تعالیٰ ان کو صحت وایمان والی زندگی دے۔

لاہور میں مولانا زکریا صاحب، مولانا اسماعیل علوی اور مولانا عبید اللہ عفیف رحمہ اللہ سے مستفید ہوئے۔

اسی دوران کراچی میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ گلشن اقبال 1980ء میں شروع ہوا۔ جس کے ابتدائی سال میں جناب شیخ محمد حسین لکھوی صاحب حفظہ اللہ اور حافظ وحید الزمان لکھوی صاحب داخل ہوئے۔

اس کے اگلے سال 14 اگست 1981ء میں جامعہ ابی بکر میں جناب فضیلۃ الشیخ خلیل الرحمن لکھوی حفظہ اللہ کی رفاقت،قیادت وراہنمائی میں پہنچے پھر کچھ دنوں کے بعد داخلہ ہوگیا اور تعلیمی سفر شروع ہوگیا جو 1988 تک محیط رہا۔

فارغ ہونے کے بعد مکتبہ صوت الاسلام کے ڈائریکٹر نذیر احمد جوکہ لائبریرین تھے ان کی رفاقت وہمراہی میں دورہ پاکستان کیا۔ مکتبہ صوت الاسلام کے زیر اہتمام کوئٹہ روانگی ہوئی وہاں سے قندھار کا سفر کیا ٹریننگ کی ۔ غازی عبد الکریم رحمہ اللہ کے ساتھ رہے کچھ عرصہ کے بعد واپسی ہوئی، واپسی پر مجھے میرے مربی ومحسن فضیلۃ الشیخ محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ نے بلایا اور فرمایا کہ سعودی ایمبسی میں کچھ آسامیاں آئی ہیں جاؤ اور اپلائی کرو۔ انٹرویو دیا اور جاب مل گئی۔

1993ء تک کراچی سعودی قونصلیٹ میں کام کرتارہا۔

اللہ کی مرضی کہ والدہ کی وفات پر پنجاب چلا آیا اور واپسی پر مدیر جامعہ نے مجھے مشرف کے عہدے پر فائز کر دیا تقریباً ایک سال کے بعد مرکز اللغۃ العربیہ میں مادۃ ’’الإملاء‘‘ کا سبق بھی پڑھایا جب تک شیخ محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ مدیر جامعہ حیات تھے تو میں جامعہ میں ہی رہا۔ شیخ صاحب کی شہادت کے بعد رئیس جامعہ ابی بکر غازی عبد الکریم صاحب کے حکم پر ڈاکٹر محمد راشد رندھاوا صاحب رحمہ اللہ نے مجھے دفتر جماعت مجاہدین اور قرآن انسٹی ٹیوٹ لاہور کی ذمہ داری سونپ دی۔

1996ء کے درمیان میں ڈاکٹر صاحب کے حکم پر فیڈرل گورنمنٹ کا ادارہ ’’پیٹرومن ‘‘کو جوائن کر لیا۔

2004ء تک وہاں اسلامیات اور عربی کا لیکچرار رہا اسی دوران رینالہ خورد میں معہد القرآن للایتام کی نگرانی، انتظام وانصرام کا موقع ملا اور اب تک اسی ادارہ کی خدمت کررہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ قبول ومنظور فرمائے۔ آمین

معہد القرآن الکریم کی ذمہ داری لیتے ہی ڈاکٹر راشد رندھاوا کی مشاورت سے 2005ء میں ادارے کی مسجد کی تعمیر کروائی جبکہ ادارے کی باقی جگہ خالی تھی۔ پھر معہد القرآن کی عمارت کی کوشش شروع کر دی جو کہ 2012ء کے آخر میں سید عبد الحنان شاہ صاحب رحمہ اللہ کے توسط سے یہ خوبصورت عمارت تعمیر ہوئی۔2015ء جنوری میں افتتاحی تقریب کا انعقاد ہوا، اور اسی سال ہی باقاعدہ عصری تعلیم بھی شروع ہوگئی۔ تحدیث نعمت کے طور پر ذکر کرتاجاؤں کہ مسجد اور عمارت کی تعمیر یہ سب جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کی وابستگی سے ہی ممکن ہوا ہے۔ الحمد للہ علی ذلک

معہد القرآن الکریم سے الحمد للہ جامعہ ہذا سے فراغت حاصل کرنے والے طلباء دعوت دین کا کام کر رہے ہیں، جن میں سے چند طلباء کا ذکر کرتا چلوں۔

حافظ سہیل احمد شاکر چک نمبر 24/ 2۔ ایل کا رہائشی پنجابی زبان کے بہترین خطیب ہیں اور اوکاڑہ شہر بدر مسجد میں خطیب ہیں۔

حافظ محمد علی یزدانی چک نمبر 31/ 2 ۔ایل اوکاڑہ کےرہائشی اور ایک ادارے کے بانی ہیں اور اسی مسجد میں خطیب ہیں۔

حافظ محمد زمان پتوکی کے رہائشی ہیںاور معہد القرآن میں حفظ کی کلاس کے مدرس ہیں۔

حافظ عثمان غنی پتوکی کے رہائشی اور چک نمبر 18/ 1۔ ایل میں مرکزی مسجد کے امام رہے ہیں۔

ملک حافظ ذیشان رینالہ خورد، حافظ عمران رینالہ خورد، حافظ یحییٰ چک نمبر 14/1۔اے ایل رینالہ ، حافظ عبد الرؤوف ڈوگر الہ آباد، حافظ عرفان یوسف فوجی 2/1۔ ایل رینالہ خورد حافظ محمد رضوان ۔ان کے علاوہ اور بھی حفاظ جو کہ گم نام ہیں۔

آج کل تقریباً 45 بچے زیر تعلیم ہیں جن کے خاندان کو حسب توفیق امدادی پروگرام میں یاد رکھا جاتاہے۔ وما توفیقی إلا باللہ

By editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *